جھارکھنڈ لنچنگ: تبریز انصاری کے قتل معاملے کے سبھی  چھ ملزمین کو ضمانت

جھارکھنڈ کے سرائے کیلا کھرساواں ضلع‎ میں گزشتہ 18 جون کو چوری کے الزام میں تبریز انصاری نامی نو جوان کو بھیڑ نے ایک کھمبے سے باندھ‌کر بےرحمی سے کئی گھنٹوں تک پیٹا تھا، جس سے ان کی موت ہو گئی تھی۔

جھارکھنڈ کے سرائے کیلا کھرساواں ضلع‎ میں گزشتہ 18 جون کو چوری کے الزام میں تبریز انصاری نامی نو جوان کو بھیڑ نے ایک کھمبے سے باندھ‌کر بےرحمی سے کئی گھنٹوں تک پیٹا تھا، جس سے ان کی موت ہو گئی تھی۔

تبریز انصاری (فوٹو بہ شکریہ : فیس بک)

تبریز انصاری (فوٹو بہ شکریہ : فیس بک)

نئی دہلی: جھارکھنڈ کے  سرائے کیلا کھرساواں ضلع‎ میں چوری کے الزام میں بھیڑ کے ذریعے پیٹ-پیٹ‌کر مارےگئے تبریز انصاری کے قتل کے معاملے میں چھ ملزمین کو ہائی کورٹ نے ضمانت دے دی۔ جھارکھنڈ ہائی کورٹ کے جسٹس آر مکھوپادھیائے کی بنچ نے اس واقعہ کے چھ مہینے بعد ملزمین کو ضمانت دی۔ اس معاملے کی سماعت کے دوران ملزمین کے وکیل اے کے ساہنی نے بنچ کو بتایا کہ تبریز انصاری معاملے میں ان کا نام ایف آئی آر میں نہیں ہے اور نامزد ملزم پپو منڈل نے بھی پولیس کو دئے اپنے بیان میں ان کا نام نہیں لیا ہے۔

وکیل اےکے ساہنی نے دلیل دی کہ اس کے باوجود سبھی  ملزم بھیم سین منڈل، چامو نایک، مہیش مہلی، ستیہ نارائن نایک، مدن نایک، وکرم منڈل 25 جون سے جیل میں بند ہیں۔ ایک سینئر پولیس افسر نے اس وقت کہا تھا کہ سرائےکیلا-کھرساواں ضلع میں 17 جون کو تبریز انصاری اور اس کے دو ساتھیوں  نے مبینہ طور پر چوری کے ارادے سے ایک گھر میں گھسنے کی کوشش کی تھی، جس کے بعد انصاری کو پکڑکر بھیڑ نے بےرحمی سے پیٹا تھا۔

پولیس افسر نے کہا کہ پولیس اگلی صبح جائے واردات پر پہنچی اور گاؤں والوں  کی شکایت کی بنیاد پر انصاری کو جیل لے گئی۔ انہوں نے کہا کہ جیل میں انصاری کی طبیعت بگڑنے پر ان کو سرائےکیلا-کھرساواں  ضلع کے صدر ہاسپٹل لے جایا گیا، بعد میں طبیعت بگڑنے پر اس کو جمشیدپور کے ٹاٹا مین ہاسپٹل  لے جایا گیا، جہاں 22 جون کو انصاری کی موت ہو گئی۔

ملزمین کے وکیل نے بنچ کو بتایا کہ ایسے میں یہ حراست میں ہوئی موت کا معاملہ ہے۔ اس لئے ملزمین کو ضمانت ملنی چاہیے۔ اس دوران مدعا علیہ کی طرف سے ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے کہا گیا کہ مارپیٹ کے واقعہ میں سبھی لوگ شامل تھے۔ عدالت نے دونوں فریقوں کو سننے کے بعد سبھی چھ ملزمین کو ضمانت دے دی۔

معلوم ہو کہ بھیڑ کے تشدد کے اس معاملے میں تبریز کی بیوی نے ایف آئی آر درج کرائی، جس میں الزام ہے کہ تبریز کو بھیڑ نے ایک کھمبے سے باندھ‌کر اس کی پٹائی کی تھی۔ اس کی وجہ سے اس کی موت ہوئی۔ دی وائر کی جانچ‌کے مطابق، اس معاملے میں پولیس کا رول  شروعات سے ہی سوالوں کے گھیرےمیں رہا۔ جب انصاری کو حراست میں لیا گیا تو پولیس نے ان پر حملہ کرنے والے لوگوں کے خلاف معاملہ درج نہیں کیا۔

تبریز انصاری کی موت کا بعد ان کی بیوی کی شکایت کی بنیاد پر معاملہ درج کیا گیا۔ جھارکھنڈ جنادھیکار مہاسبھا کی فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے تفتیش میں پایا کہ پولیس نے انصاری کو مناسب علاج مہیا نہیں کرایا اور ان کی فیملی کو بھی دھمکی دی۔

بھیڑ کے ذریعے تبریز انصاری پر حملہ کئے جانے کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ضلع انتظامیہ کے ذریعے تشکیل دی گئی ایک جانچ کمیٹی نے اس معاملے میں پولیس کے رول  میں خامیاں اجاگر کرتے ہوئے کہا تھا کہ انصاری کو پہلے جس ہاسپٹل  میں داخل  کیا گیا تھا، انہوں نے انصاری کے سر میں سنگین چوٹ لگنے کے باوجود پولیس حراست کو لےکر اس کو کلین چٹ دے دی تھی۔

پولیس نے اس معاملے میں 11 لوگوں کے خلاف قتل کی دفعہ ہٹا دی تھی لیکن بعد میں اس کی  تنقید کے بعد پولیس نے واپس قتل کی دفعات لگائی تھیں۔

(خبر رساں ایجنسی بھاشا کے ان پٹ کے ساتھ)