اولمپک میں ہندوستان کی جیت سے لاتعلق کیوں رہا کشمیر؟

جس دن اخباراور ٹی وی چینل جیولن تھرو میں نیرج چوپڑا کے اس کارنامے کی تفصیلات چھاپ رہے تھے،جس دن نیرج کے پہلے کوچ نسیم احمد کشور انہیں یاد کر رہے تھے، اسی دن دہلی میں سینکڑوں لوگ ہندوستان کے نسیم احمد جیسے نام والوں کو کاٹ ڈالنے کے نعرے لگا رہے تھےاورہندوؤں کو ان کا قتل عام کرنے کا اکساوا دے رہے تھے۔ یہ لوگ بھی، نسیم احمدجیسے نام ایک طرح سے ہندوستان کے کشمیر ہیں، پورے ہندوستان میں بکھرے ہوئے!

جس دن اخباراور ٹی وی چینل جیولن تھرو میں نیرج چوپڑا کے اس کارنامے کی تفصیلات  چھاپ رہے تھے،جس دن نیرج کے پہلے کوچ نسیم احمد کشور انہیں یاد کر رہے تھے، اسی دن دہلی میں سینکڑوں لوگ ہندوستان کے نسیم احمد جیسے نام والوں کو کاٹ ڈالنے کے نعرے لگا رہے تھےاورہندوؤں کو ان کا قتل عام کرنے کا اکساوا دے رہے تھے۔ یہ لوگ بھی، نسیم احمدجیسے نام  ایک طرح سے ہندوستان  کے کشمیر ہیں، پورے ہندوستان  میں بکھرے ہوئے!

(علامتی تصویر،فوٹو: پی ٹی آئی)

(علامتی تصویر،فوٹو: پی ٹی آئی)

(یہ مضمون دی وائر کے لیے نہیں لکھا گیا تھا۔مین اسٹریم  کے ایک معروف  میڈیاگروپ کی ایک ویب سائٹ نے اس مضمون نگار  سےپندرہ روزہ کالم لکھنے کو کہا۔اس کی پہلی قسط کے طور پر یہ تبصرہ لکھا گیا۔ لیکن مدیران  نے اس میں ایسےحصے نشان زد کیے جنہیں ہٹاکر ہی وہ اسے چھاپنا چاہتے تھے۔وہ حصےیہاں بولڈ کردیے گئےمیں ہیں۔ تبصرے میں کوئی بنیادی  بات نہیں کہی گئی ہے۔جن حصوں کو ہٹانے کی بات کہی گئی انہیں اس سے سخت انداز میں انگریزی میں کئی مضمون نگار لکھ چکے ہیں۔

لیکن ہندی کی‘مین اسٹریم’کی صحافت  اب طاقتور اداروں  کے خلاف طنزیا ناراضگی کوبرداشت نہیں کر سکتی۔ وہ نکتہ چینی کو بھی نرم  کرکے قابل قبول بنانا چاہتی ہے۔اکثر پوچھا جاتا ہے کہ ‘ہندی پٹی’ ہی کیوں اکثریتی سیاست کی بنیادہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کودانشورانہ غذا فراہم  کرنے کا وسیلہ  جن کے پاس ہے، انہوں نے طے کر لیا ہے کہ وہ اسے پانی ملا دودھ دیتے رہیں گےیانفرت  اور تعصب  کا اسٹیرائیڈ۔ اس سے ایک اشتعال تو اس سماج میں ہے، لیکن وہ اکثرسیاسی  اور سماجی  ناخواندگی کے ساتھ مل کر مہلک  ہو جاتی ہے۔ مضمون نگار نے تبصرہ  واپس لے لیا۔ اس تکلیف کے ساتھ کہ اب خود ہی ہم اپنی سینسرشپ یوں کرنے لگے ہیں کہ اقتدار کو اعتراض  کا موقع ہی نہ ملے۔ پھر کسی باضابطہ سینسر کی ضرورت ہی کہاں رہ جاتی ہے؟)

§§§

‘نیرج چوپڑا کے بھالے(جیولن)نے بہت لمبی دوری طے کی لیکن وہ کشمیر کے کافی پہلے ہی جا گرا۔’سنکرشن ٹھاکر نے ٹیلی گراف اخبار میں لکھا۔ ہندوستان کے لیےسونا لانے والے نیرج کے بھالے کی سنسنی کشمیر نے محسوس نہیں کی۔

جس دن ہندوستان  کےاخباروں کے پہلے صفحے نیرج چوپڑا کے بہانے ہندوستان کی فتح کے ترانے سے بھرے ہوئے تھے، کشمیر کے اخباروں کے پہلے صفحات  پر اس کے لیے جگہ نہیں تھی۔ کشمیر ہندوستان  کے اس اولمپین جوش وخروش سےلاتعلق  تھا۔ لیکن کیا صرف کشمیر؟

جس دن اخبار اور ٹی وی چینل نیرج چوپڑا کے اس کارنامے کی تفصیلات چھاپ رہے تھے، جس دن نیرج کے پہلے کوچ نسیم احمد کشور نیرج کو یاد کر رہے تھے، اسی دن دہلی کےقلب میں،پارلیامنٹ کے ٹھیک بغل میں،دہلی کے پولیس چیف  کے دفترکےعین سامنے سینکڑوں لوگ ہندوستان  کے نسیم احمد جیسے نام والوں کو کاٹ ڈالنے کے نعرے لگا رہے تھے اور ہندوؤں کو ان کا قتل عام کرنے کا اکساوا دے رہے تھے۔ یہ لوگ بھی، نسیم احمد جیسے نام  ایک طرح سے ہندوستان  کے کشمیر ہیں، پورے ہندوستان  میں بکھرے ہوئے!

ہندوستان  کےوزیر اعظم نے بھی اس کے لیےپس منظر تیارکر دیا تھا۔ہندوستان  کی جیت سے صرف کشمیر کو دورکرنے کی نہیں، مسلمانوں کو بھی۔

اتفاق سے 5 اگست کو ہندوستان کی ہاکی ٹیم نے برانز میڈل جیتا۔ ہندوستان  کے وزیر اعظم نے بنا وقت گنوائے 5 اگست کی ہاکی ٹیم کی اس جیت کو ہندوستان  کی عوام کے نام پر کی گئی دو دھوکہ دھڑی کے واقعات سے جوڑا۔

ان کے مطابق 5 اگست ہندوستان  کے لیےیادگار رہےگا، کیونکہ اسی دن آرٹیکل 370 کوغیرمؤثر بنا دیا گیا تھا اور اسی دن ایودھیا میں رام مندر کا سنگ بنیاد رکھاگیا تھا اور یہی دن ہے جو ہندوستان کی ہاکی کی جیت کے نام بھی ہے۔ ان کے مطابق تینوں منسلک ہیں اور تینوں پر ہندوستان  کو فخر ہونا چاہیے؟ کس ہندوستان کو؟

پانچ اگست2019 کو آرٹیکل 370کوعملی طور پرختم کر دیے جانے کے بعد جموں وکشمیر کے ٹکڑے کر دیے گئے اور اس کا آزادانہ اور مکمل صوبے کا درجہ چھین لیا گیا تھا۔ کشمیر کے سارے اہم سیاستدانوں،عوامی  شخصیات کو بھی غیر قانونی طریقے سےگرفتارکر لیا گیا تھا۔

سپریم کورٹ  نے اس سراسر جرم کی طرف سے آنکھ پھیر لی۔ پھر بھی وہ انصاف کا مندر بنا رہا!

ہندوستان میں اگلے سال پوری تالابندی ہونی تھی۔ لیکن کشمیر کو 4 اگست، 2019 سے ہی پوری طرح تالا بند کر دیا گیا تھا۔ انٹرنیٹ ٹھپ کر دیا گیا اور کشمیر کو اندھیرےخندق میں دھکیل دیا گیا۔ ناگارجن کے لفظ تھوڑا بدل کر کہیں تو ‘کھڑی ہو گئی چانپ کر کشمیر کی ہوک، نبھ میں وپل وشال سی بھارت کی بندوق۔’

اگست کا مہینہ جو نو اگست اور 15 اگست کی وجہ سےاکثرفخریہ  اور جوش وخروش  کا مہینہ تھا، اب ہندوستان کی ایک بڑی آبادی کے لیے بے عزتی،دھوکے کے احساس اور کشمیر کے لیےہندوستان  کےمظالم سے جڑا ہوا مہینہ ہے۔یہ جوش وخروش  کا نہیں سوگ  اور تکلیف کا مہینہ ہے۔ ہندوستان  کےمسلمان 5 اگست کے رام مندر کے سنگ بنیاد کو بھول نہیں سکتے۔

وہ مندر رام کےلیے جتنا نہیں اتنا بابری مسجد کی زمین پر رام کے‘سرپرستوں’کے جعلی قبضے میں سپریم کورٹ  کی عدالتی قلابازیوں کے لیےیاد رکھا جائےگا۔ پھر ناگارجن کے ہی لفظ یاد کریں،‘ستیہ سویں گھایل ہوا، گئی اہنسا چوک!’

ہندوستان میں انصاف کی تاریخ پڑھتے وقت سب کا دھیان اس بات پر جائےگا کہ سپریم کورٹ  کے اس ‘تاریخی ’فیصلے کے راقم  کے طور پر5رکنی عدالتی بنچ  میں کسی ممبر نے اپنا نام دینے کا حوصلہ نہیں کیا۔ اس طرح یہ مندر جو رام مندر کے طور پر جانا جانے والا ہے، ان کے نام کی قدروں یعنی وعدے کی پاسداری ،حوصلہ اور ترک کی جگہ فریب،بزدلی  اور تشدد کو زندہ رکھےگا۔

ویسے ہی جیسے5 اگست کبھی بھی یہ نہیں بھولنے دےگا کہ جو ہندوستان خود نوآبادیاتی تشدد سےسچ اورعدم تشددکی جدوجہد کرکے جمہوریہ بنا اس نے ایک آبادی کو اپنی کالونی بنانے کے لیےتشدد اورفریب، دونوں کا استعمال کیا۔

دو سال گزر نے پر اسی اگست کو کشمیر میں اعلان ہوا کہ اسکولوں کو اب ملک کے لیے کشمیر میں‘شہید’ ہوئے سیکیورٹی اہلکاروں کا نام دیا جائےگا۔ یہ کشمیریوں کے زخم پر نمک ہی نہیں تیزاب ڈالنے جیسا ہی ہے۔

کشمیری عوام میں ہندوستانی فوج  کی زیادتی کے قصےعام ہیں اورہندوستان  کے لوگ اسے جائزمانتے ہیں۔ اس قدم کے پہلے اس فرمان کے بارے میں سنا گیا کہ جن پر بھی پتھر چلانے کا الزام ہے انہیں نہ صرف سرکاری نوکری نہیں ملےگی بلکہ انہیں پاسپورٹ کے لیے پولیس کی طرف سے ہری جھنڈی بھی نہیں دی جائےگی۔

اس کے بھی پہلے یہ آرڈر جاری ہوا کہ ان سرکاری ملازمین کو بنا کسی جانچ کے برخاست کر دیا جائےگا جن پر ملک مخالف سرگرمی میں شامل ہونے کا شک ہے۔ اور درجنوں کشمیری اس کے بعد برخاست کر دیے گئے۔

کشمیر کی آبادی کی صورت بدل دینے کا ہندوستان کا ارادہ بہت صاف ہے۔اسمبلی  اور پارلیامنٹ کے لیےخطے کی حدبندی  کے کام کا اعلان  ہی نہیں کیا جا چکا ہے، اس پر کام شروع ہو گیا ہے۔سب کو اس کا مقصد پتہ ہے۔

انتخابی حلقوں  کی  ایسی  حدبندی کہ مسلمانوں کی تعدادانتخابات میں مؤثر نہ رہ جائے۔

اسی طرح کشمیر کی زمین سے متعلق قوانین میں جو تبدیلی کی گئی ہے وہ کشمیریوں کے مفادکے خلاف ہے۔ اب تک وہاں کھیتی یا جنگل کی زمین کو جو تحفظ ملا ہوا تھا، وہ ہٹایا جا رہا ہے۔ جس صوبے میں سب سے پہلے اور سب سے مؤثر اراضی اصلاحات ہوئے تھے، وہاں زمین سےمتعلق ترقی پذیرقانون کو بدل دینا اور وہ بھی ڈیولپمنٹ اور صنعت کاری کے نام پر کشمیر کے لوگوں کے ساتھ مذاق ہی ہے۔

پچھلے دو اگست کشمیر کے لیےتشدد اورمظالم کےاگست رہے ہیں۔ وہ کسی بھی طرح اس ذلت کو بھلا نہیں سکتے۔ ویسی حالت میں ان سے ہندوستان  کی خوشی میں، وہ جو بھی ہو، شامل ہونے کی امید بھی ایک تشدد ہے ان کے خلاف ۔

سنکرشن ٹھاکر کو کشمیر کے ایک سیاستداں  نے نام نہ چھاپنے کی شرط پر کہا، ‘آپ نے ہمارے حق چھین لیے، ہماری عزت چھین لی، آپ نے کسی اور جگہ سے اپنے کارکن چنے ہم پر راج کرنے کے لیے اور ہمیں یہ بتانے کے لیے کہ کیا کیا جانا ہے اور کیا نہیں، آپ ہماری زندگی کا طور طریقہ اور قاعدہ بدل دینا چاہتے ہیں، ہم آپ کی ریاست ہیں، ایک منصب؛ حکومت ہند کے ایک محکمہ کی طرح ہمیں چلایا جا رہا ہے۔ جمہوریت  کا ایک دکھاوا تھا وہ بھی آپ نے چھین لیا ہے۔ پھر آپ ہم سے کیا محسوس کرنے کی امید کرتے ہیں؟’

آج کی نسل تو شاید نہ طے کر پائے لیکن کسی نہ کسی نسل کو طے کرنا پڑےگا کہ 9 اور 15 اگست والے اگست پر جو 5 اگست کا کلنک ہے، وہ کیسے مٹےگا اور یہ مہینہ پھر سے سچ اور عدم تشدد کا مہینہ کیسے بن پائےگا، فریب ، جھوٹ  اور تشدد کا نہیں!

(اپوروانند دہلی یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں۔)