جامعہ تشدد: ایس پی پی کو فائل سونپنے میں تاخیر پر عدالت نے دہلی پولیس سے وضاحت طلب کی

دسمبر 2019 کو شہریت قانون کے خلاف ہوئے مظاہرہ کے بعد دہلی پولیس نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کیمپس میں گھس کر لاٹھی چارج کیا تھا، جس میں تقریباً 100 لوگ زخمی ہوئے تھے۔ وہیں، ایک اسٹوڈنٹ کے ایک آنکھ کی روشنی چلی گئی تھی۔

دسمبر 2019 کو شہریت قانون کے خلاف ہوئے مظاہرہ کے بعد دہلی پولیس نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کیمپس  میں گھس کر لاٹھی چارج کیا تھا، جس میں تقریباً 100 لوگ زخمی ہوئے تھے۔ وہیں، ایک اسٹوڈنٹ کے ایک آنکھ کی روشنی چلی گئی تھی۔

(فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

(فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

نئی دہلی: دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی میں دسمبر 2019 میں تشدد کے واقعات سے متعلق ایک معاملے کی سماعت کرنے والی ایک عدالت نے معاملے کی  فائل اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر (ایس پی پی) کے نوٹس میں نہ لانے پر دہلی پولیس سے وضاحت طلب کی ہے۔

دہلی پولیس نے متعلقہ فائل کو ایس پی پی کو پیش کرنے کے لیے عدالت سے وقت مانگا تھا۔

عدالت انڈین پینل کوڈ (آئی پی سی) کی مختلف دفعات کے تحت جامعہ نگر پولیس اسٹیشن کے ذریعہ درج مقدمہ میں الزامات طے کرنے پر دلائل سن رہی تھی، جس میں فسادات، غیر ارادتاً قتل کرنے کوشش اورمجرمانہ سازش شامل ہے۔

اس معاملے کے ملزمین میں شرجیل امام، صفورہ  زرگر، آصف اقبال تنہا، محمد الیاس، بلال ندیم، شہزر رضا خان، محمد انور، محمد قاسم، عمیر احمد، محمد شعیب، چندا یادو اور ابوذر شامل ہیں۔

اسسٹنٹ سیشن جج ارول ورما نے سنیچر (26 نومبر) کو جاری کردہ ایک فیصلے میں کہا، اس فیصلے  کی ایک کاپی متعلقہ ڈپٹی کمشنر آف پولیس (ڈی سی پی)، کرائم برانچ کو یہ وضاحت پیش کرنے کےبھیجی جائےکہ اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر کی تقرری کے باوجود فائل ان کے نوٹس میں کیوں نہیں لائی گئی۔ شنوائی کی اگلی  تاریخ کو رپورٹ داخل کی جائے۔

عدالت نے کہاکہ اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر مدھوکر پانڈے اس کیس میں پہلی بار پیش ہو رہے ہیں اور چونکہ کیس کی فائل حال ہی میں ان کے حوالے کی گئی ہے، اس لیے انہوں نے اپنے دلائل تیار کرنے کے لیے التوا کا مطالبہ کیا۔

عدالت نے کہا، ‘یہ بات قابل غور ہے کہ یہ معاملہ 2019 سے زیر التوا ہے اور 26 جون 2021 سے اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر کا تقرر کیا گیا ہے، لیکن تفتیشی افسر یا اسسٹنٹ پولیس کمشنر اور ڈپٹی کمشنر آف پولیس نے نے اس معاملے کو ان کے نوٹس میں نہیں لایا ہے۔جس کی وجہ یہ بتائی کہ انہوں نے بحث کے لیے کچھ وقت مانگا ہے۔

عدالت نے ڈی سی پی راجندر پرساد مینا کو 13 دسمبر کو اگلی سماعت میں بھی اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر کی مدد کے لیے حاضر رہنے کے لیے بھی نوٹس جاری کیا۔

 بتا دیں کہ دسمبر 2019 کو شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبااحتجاج کر رہے تھے۔ اس دوران  جھڑپ کے بعد دہلی پولیس نے یونیورسٹی کیمپس میں گھس کر لاٹھی چارج کیا تھا، جس میں تقریباً 100 لوگ زخمی ہوئے تھے۔وہیں،  ایک طالبعلم کی ایک آنکھ کی روشنی چلی گئی تھی۔

ایک طرف پولیس نے دعویٰ کیا تھاکہ وہ فسادیوں کا پیچھا کر رہے تھے تو دوسری طرف طلبا نے الزام لگایا تھاکہ لائبریری کے اندر پولیس نے ان پر حملہ کیا تھا۔

اس واقعے کے سلسلے میں کئی ویڈیوز منظر عام پر آنے کے بعد جانچ شروع کی گئی تھی، جس میں جامعہ کی لائبریری کے اندر مبینہ طور پر پولیس کولوگوں پر حملہ کرتے ہوئے، ایک سی سی ٹی وی کیمرہ اور فرنیچر کو توڑتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا۔

(خبر رساں ایجنسی بھاشا کے ان پٹ کے ساتھ)