ادھو کو معافی مانگنی چاہیے کہ پہلے’چوکیدار چور ہے‘کہا، پھر چور کے ساتھ ہو لئے: سنجےنروپم

02:34 PM Mar 13, 2019 | پرشانت کنوجیا

انٹرویو: آئندہ لوک سبھا انتخاب، مہاراشٹر کانگریس کےاندرونی تنازعے اور ریاست میں مختلف جماعتوں کے ساتھ اتحاد کے امکان پر ممبئی کانگریس کے ریاستی صدر سنجے نروپم سے پرشانت کنوجیا کی بات چیت۔

سنجے نروپم (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک پروفائل)

نئی دہلی: مہاراشٹر میں2014 کانگریس کے لئے ایک ناکام سال رہا کیونکہ اسی سال مرکز اور ریاست کا اقتدار ہاتھ سے پھسل‌کر این ڈی اے کے پاس چلاگیا۔ پچھلے لوک سبھا انتخاب میں کانگریس کا یہ مظاہرہ آزادی کے بعد سے اس کا سب سے خراب مظاہرہ رہا کیونکہ ریاست میں پارٹی 17 سیٹوں سے سیدھے دو سیٹوں پر سمٹ گئی، اسمبلی میں بھی کانگریس کو 82 سیٹوں میں سے صرف 40 سیٹیں ملیں۔اتر پردیش کے بعد سب سے زیادہ لوک سبھا سیٹ والا مہاراشٹر آئندہ لوک سبھا انتخاب میں مرکزی حکومت بنانے میں اہم کردار نبھانے والا ہے۔ 48 لوک سبھا سیٹوں میں سے 41 سیٹیں بی جے پی-شیوسینا کے پاس ہے، جبکہ چار نیشنل کانگریس پارٹی(این سی پی) اور دو کانگریس کے پاس ہے۔

ملک کی اقتصادی راجدھانی ممبئی اس لئے بھی اہم ہے کیونکہ مہاراشٹر کے ہر ضلع سے لوگ ممبئی میں موجود ہیں، وہیں شمالی ہندوستان کے ساتھ جنوبی ہندوستان کے لوگ بھی بڑی تعداد میں یہاں موجود ہیں۔ فی الحال ممبئی کی تمام چھے لوک سبھا سیٹوں پر بی جے پی-شیوسینا کا قبضہ ہے، جبکہ 2009 لوک سبھا انتخاب میں چھے میں سے پانچ سیٹ کانگریس کو وہیں ایک این سی پی کو ملی تھی۔

ممبئی میں شمالی ہندوستانیوں کا ووٹ بی جے پی خیمے میں جانے سے پریشان کانگریس نے بنیادی طور پر بہار کے رہنے والے سنجے نروپم کو 31 مارچ، 2017 کو ممبئی کانگریس کی کمان سونپی تھی، جس کے بعد سے پارٹی کے اندر نروپم کے ‘باہری’ہونے کو لےکر مخالفت بھی ہوئی  کہ اتنے سینئر رہنماؤں کی موجود گی  کے باوجود شیوسینا سے آئے ایک رہنما کو ممبئی کانگریس کی ذمہ داری کیوں دی گئی۔ممبئی صدر کو ریاستی صدر بولا جاتا ہے کیونکہ ممبئی صدر پر مہاراشٹر ریاستی صدر کا اختیار نہیں ہوسکتا، اسی لحاظ سے ممبئی ریاستی صدر کو بڑےکردار میں دیکھا جاتا ہے۔

شیوسینا کے ہندی ماؤتھ پیس  دوپہر کے سامنا کے سابق مدیر نروپم 2005 میں شیوسینا اور راجیہ سبھا سے استعفیٰ دےکرکانگریس میں شامل ہو گئے اور 2009 لوک سبھا انتخاب کے دوران ان کو ممبئی کے شمالی ممبئی کی سیٹ سے میدان میں اتارا گیا۔ تب انہوں نے اتر پردیش کے موجودہ گورنر اور سابق بی جے پی رہنما رام نائک کو تقریباً 6000 ووٹ سے ہرایا تھا۔ حالانکہ 2014 لوک سبھا انتخاب میں وہ بی جے پی کے گوپال شیٹی سے ساڑھے چار لاکھ ووٹ سے ہار گئے۔

ممبئی میں کانگریسی ایم ایل اے اور سابق ایم ایل اے کا ایک طبقہ پارٹی اعلیٰ کمان سے نروپم کو ہٹانے کی شکایت کرتا رہا ہے۔ حال ہی میں کانگریس سینئر رہنما ملکارجن کھڑگے کے ممبئی دورے پر ایم ایل اے نسیم خان، ایم ایل اے امین پٹیل، سابق ایم ایل اے بابا صدیقی اور کرپاشنکر سنگھ نے نروپم کو ہٹانے کی مانگ کی تھی۔ حالانکہ پارٹی نے کوئی فیصلہ نہیں لیا۔ممبئی کانگریس کے ریاستی صدر سنجے نروپم نے 2019 عام انتخاب، اس کے اہم  مدعوں، پرکاش امبیڈکر کی ونچت بہوجن اگھاڑی(بھارپ بہوجن مہاسنگھ، اے آئی ایم آئی ایم اور دیگر چھوٹی جماعتوں کا اتحاد) کے ساتھ اتحاد، شیوسینا اور بی جے پی کے دوبارہ ساتھ آنے کے ساتھ-ساتھ ممبئی کانگریس کے اندر اندرونی گٹ بازی پر پرشانت کنوجیا سے بات چیت کی۔

2019 لوک سبھا انتخاب کے لئے کانگریس کے سب سے اہم مدعے کیا ہیں؟

دیکھیے کانگریس ہمیشہ عوام کے مدعوں کو اٹھاتی رہی ہے اور جب سے میرے ہاتھ میں ممبئی کی کمان سونپی گئی ہے، ہم نے عوام کے ہر مدعے پر تحریک کی ہے۔ ہماری پارٹی نے ابھی ایک آزاد سروے کروایا، جس سے معلوم پڑتا ہے کہ عوام اب بھی سڑک، بجلی اور پانی کے مدعوں کو لےکر نمائندے سے امید کرتی ہے۔ اس سروے میں ہم نے پایا کہ بد عنوانی جیسے مدعے ابھی بھی 6-7 نمبر پر ہے۔ممبئی میں رہائش سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ ممبئی میں 57 فیصد لوگ ایک کمرے میں رہتے ہیں اور ہماری اسکیم ہے کہ کم از کم 500 مربع فٹ کا مکان ہونا چاہیے، جو ہمارا سب سے بڑا مدعا ہے۔ آپ یقین مانیے کہ ممبئی میں غذائی قلت کے شکار بچےبھی ہیں، لیکن لوگوں کو پتہ نہیں ہے۔

ممبئی میں ایک بڑی آبادی جھگی جھونپڑی میں رہتی ہیں، جہاں نالے کا پانی کھلے میں بہتا ہے اور آپ پائیں‌گے کہ لاکھوں لوگ پانی سے پھیلنے والی بیماریوں سے متاثر ہیں۔ حکومت میڈیا کا سہارا لےکر کچھ بھی ایجنڈا چلائے، لیکن عوام پروپیگنڈہ سے ایک بار تو پرجوش ہوتے ہیں، لیکن آخر میں اس کو سڑک، بیت الخلا، روزگار، بجلی اور پانی سے مطلب ہے۔

 رافیل، پلواما اور پاکستان سے تعلقات پر گفتگو ہوگی لیکن عوام کی جو بنیادی مانگ ہے اس پر بھی کام کرنا ہوگا۔ مجھے معلوم ہے کہ یہ سب کام رکن پارلیامان کے نہیں ہیں کہ وہ نالہ صاف کروائے، لیکن عوام جو چاہتی ہے وہ اس کو بطور نمائندہ کے طور پر دینا ہوگا اور جو قومی مدعے ہیں اس میں بھی شراکت دینی ہوگی۔مودی حکومت کا حساب لیا جائے‌گا کہ ان کی حکومت‌کے دوران سب سے زیادہ جوان کیوں شہید ہوئے۔

کانگریس نے 1993 ممبئی فسادات کے بعد بنی شری کرشنا کمیشن کی سفارشوں کو نافذ کرنے کا وعدہ کیا تھا، حالانکہ مرکز میں 10 سال اور ریاست میں 15 سال رہنے کے باوجود سفارشیں آج تک نافذ نہیں ہوئیں۔ فساد متاثرین آج بھی انصاف کی امید میں ہیں، جبکہ کئی ملزم پولیس افسروں کو کانگریس-این سی پی حکومت میں پرموشن ملا اور کسی بھی رہنما کو سزا نہیں ہوئی۔ آج جب کانگریس فرقہ پرستی کے مدعے پر لگاتار جارحانہ ہے ایسے میں کیا یہ مانا جائے کہ مستقبل میں اگر کانگریس کی حکومت بنتی ہے، تو وہ شری کرشنا کمیشن کی سفارشوں کو نافذ کرے‌گی؟

مجھے نہیں لگتا ہے کہ 2019 کے انتخاب میں شری کرشنا کمیشن کی رپورٹ اب بامعنی  ہے۔ ہر فساد ملک کے لئے سیاہ  باب کے طور پرتاریخ میں  درج ہے۔ ممبئی فساد کے جو اہم چہرے تھے وہ اب دنیا میں نہیں ہیں۔میں بتا دوں کہ فسادات سے صرف عام آدمی کا نقصان ہے کیونکہ فسادات میں کبھی رہنما نہیں مرتا نہ ان کا کبھی نقصان ہوتا ہے۔ بابری کے بعد ممبئی میں جو فسادات ہوئے وہ یقیناً ممبئی پر ایک دھبے کی طرح ہے۔ فسادات کا اثر صرف عوام پر ہے بشرطیکہ عوام یہ سمجھ جائیں کہ فساد مسئلے کا حل نہیں بلکہ انسانیت کی بربادی کا ایک آلہ ہے۔

مجھے لگتا ہے کہ 1993 کے فسادات سے ممبئی کے لوگوں نے سیکھا اور اب دونوں کمیونٹی کے درمیان کشیدگی نہیں کے برابر ہے۔ کچھ لوگ اور بی جے پی فساد بھڑکانا چاہتے ہیں کیونکہ ان کی روٹی اسی سے آتی ہے، لیکن اب وہ کامیاب نہیں ہوں‌گے۔ اتنے سال بعد واپس اس مدعے کو چھیڑنا سماجی دوستی بگاڑنے جیسا ہے۔

شیوسینا کے بی جے پی کے ساتھ آنے کو کانگریس کس طرح  دیکھتی ہے؟ کیا 2014 کا جیسا نتیجہ دوہرایا جا سکتا ہے؟

بی جے پی اور شیوسینا دونوں ہی جماعت پریشانی  اور مجبوری میں ایک ساتھ آئے ہیں۔ بی جے پی کو پتہ تھا کہ وہ اکیلے ہار جائے‌گی اور شیوسینا کو بھی یہی لگتا تھا کہ ایسا ہوگا اس لئے یہ دونوں اپنا اقتدار بچانے کے لئے ساتھ آئے ہیں۔انتخاب کا نتیجہ بعد میں آتا ہے پہلے اخلاقی ہار ہو جاتی ہے، تو مجھے لگتا ہے کہ یہ دونوں کی اخلاقی ہار ہے۔ زیرو اور زیرو مل‌کر زیرو ہی ہوتا ہے۔

شیوسینا نے پورے پانچ سال بی جے پی کو پانی پی‌کر گالی دی اور ادھو ٹھاکرے پنڈھرپور کی ریلی میں کہتے ہیں کہ چوکیدار چور ہے اور اس کے باوجود ان کے ساتھ اتحاد کر لیا، تو مطلب چور کے ساتھ چلے گئے۔میں تو ادھو سے کہنا چاہوں‌گا کہ ان کو اپنے تمام بیان اور تنقیدوں کے لئے معافی مانگنی چاہیے۔ ایک بار تو مراٹھی مانس  کو کہا کہ یہ چور ہے اور پھر ساتھ ہو لئے، تو ادھو کو مہاراشٹر کی عوام سے معافی مانگنی چاہیے کہ پہلے انہوں نے چور کہا پھر چور کے ساتھ ہو لئے۔

امت شاہ نے کہا کہ پٹک پٹک کے ماروں‌گا اور فڈنویس نے کہا کہ شیر کی دم دباکر رکھوں‌گا اس پورے سلسلے میں شیر لاچار ہے مجھے لگتا ہے کہ شیوسینا نے خودکشی کی ہے اور اس پورے انتخاب میں سب سے زیادہ نقصان میں شیوسینا دکھتی ہے۔

کانگریس صدر راہل گاندھی کے ساتھ سنجے نروپم ،فوٹو بہ شکریہ:ٹوئٹر

 پرکاش امبیڈکر اور اے آئی ایم آئی ایم اور دیگر چھوٹی جماعتوں کے اتحاد ونچت بہوجن اگھاڑی کو کیسے دیکھتے ہیں؟ اگھاڑی نے 12 سیٹ مانگی، لیکن کانگریس ا بتک متفق نہیں ہوئی ہے۔

 اے آئی ایم آئی ایم اور پرکاش امبیڈکر کا جو اتحاد ہے اگر وہ صحیح معنوں میں بی جے پی اور شیوسینا جیسی پارٹیوں کو اقتدار سے ہٹانا چاہتا ہے، تو اس کو تیسرا مورچہ بن‌کر انتخاب نہیں لڑنا چاہیے۔ اگر یہ اتحاد تیسرا مورچہ بن‌کرکام کرتا ہے، تو اس کا سیدھا فائدہ بی جے پی کو ملے‌گا کیونکہ سیکولر ووٹ  تقسیم ہو جائے‌گا۔

کانگریس نے بہت کوشش کی کہ اس اتحاد کو بھی ساتھ لیا جائے۔ کانگریس کے بڑے رہنما اشوک چوہان، مانک راو ٹھاکرے اور این سی پی کے چھگن بھجبل گئے ان کے گھر پر گئے، لیکن وہ خود دیر سے آئے۔ چلو بابا صاحب کے پوتے ہیں، تو ان کی عزت ہے۔ پر انہوں نے 12 سیٹوں کی مانگ کی، اب بتائیے، ہمارے پاس 20 سیٹ ہے اور 12 ان کو دیں‌گے تو ہم کیا کریں‌گے؟

انہوں نے کہا کہ کانگریس کو آر ایس ایس کے خلاف اسٹینڈ لینا ہوگا، تو میں کہنا چاہتا ہوں کہ اس ملک میں آر ایس ایس کے خلاف راہل گاندھی سے زیادہ کون بولتا ہے۔ یہ ہمیں سیکھا رہے ہیں۔ اگر یہ خود آر ایس ایس مخالف ہیں، تو آر ایس ایس مخالف ووٹ کو بانٹنے کا کام کیونکر رہے ہیں۔

اگر بانٹنا ہی ہے، تو سب بھاشن بازی اور دکھاوا ہے۔ ونچت بہوجن اگھاڑی نے 23 فروری کو دادر کے شیواجی میدان میں جو ریلی کی، اس میں سب سے زیادہ حملے کانگریس پر ہوئے۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ ان کی پوری مہم بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کی ہے اور مہاراشٹر کی عوام کو ان کے ارادوں کو باریکی سے دیکھنا اور سمجھنا چاہیے۔

ہم نے چار سیٹ کی پیشکش کی اور ان کو لے لینی چاہیے کیونکہ اکیلے تو وہ ایک بھی نہیں جیت پائیں‌گے۔ ہم مقامی پارٹیوں کے ساتھ ساتھ ایس پی کو بھی ساتھ لینا چاہتے ہیں اور یہ ضروری نہیں کہ ہرکوئی لوک سبھا انتخاب لڑے۔ کچھ ابھی لڑیں‌گے اور کچھ اسمبلی میں۔

ہم تو تمام سیکولر طاقتوں کو ساتھ لانا چاہتے ہیں، لیکن ان کی طاقت اور صلاحیت کی بنیاد پر ان کو سیٹیں دی جا سکتی ہیں۔ 12 سیٹ غیر متوقع ہے کیونکہ آپ کی طاقت کیا ہے اور عوام میں آپ کی گرفت  کتنی  ہے؟امبیڈکر صاحب اکولا سے لڑے تھے، تو تیسرے یا چوتھے نمبر پر رہے تھے۔ تو مجھے لگتا ہے کہ پہلے یہ اپنا ایجنڈہ صاف کریں کہ کرنا کیا چاہتے ہیں؟ ہم خود چاہتے ہیں کہ امبیڈکر صاحب لوک سبھا پہنچیں اور ہم مدد کریں‌گے۔ کانگریس نے کبھی ان کا نقصان نہیں کیا اور نہ کبھی کچھ کہا، لیکن سلوک  دونوں طرف سے ہوتا ہے۔

ممبئی میں کانگریس میں آپ کے خلاف غصہ ہے اور دو بڑے رہنماؤں نے انتخاب لڑنے سے بھی انکار کر دیا ہے۔

دیکھیے پریہ دت جی انتخاب نہیں لڑیں‌گی اور انہوں نے اس کا اعلان کیا اور جنوبی ممبئی سے سابق رکن پارلیامان ملند دیورا نے بھی کچھ ٹوئٹ کیا تھا۔ مجھے یہ بھی جانکاری ہے کہ کچھ لوگ مجھے ہٹانے کی مانگ کو لےکر پارٹی کے مختلف فورم پر جاتے رہتے ہیں۔میں ذاتی طور پر تنقید کا استقبال کرتا ہوں اور کرنا بھی چاہیے۔ ہم مشینوں کے ساتھ کام نہیں کر رہے ہیں اور پارٹی کے اندر عدم اتفاق ہونا فطری ہے، لیکن مجھے لگتا ہے ٹوئٹر پر اپنا غصہ ظاہر کرنا ٹھیک نہیں ہے۔

مجھے راہل گاندھی جی نے ممبئی کانگریس کی کمان سونپی ہے اور اس کو مضبوط کرنے کے لئے ہر کوشش کروں‌گا۔ میں کسی خاص آدمی کو خوش کرنے کا کام نہیں کر سکتا۔ مجھے جو ذمہ داری ملی ہے میں اس کو پورا کروں‌گا۔جب تک پارٹی قیادت کو مجھ پر بھروسہ ہے تب تک دی ہوئی ذمہ داری کو پورا کروں‌گا۔ پارٹی مفاد سب سے اوپر ہے، ذاتی مفادات کے لئے پارٹی کو مشکل میں ڈالنے کا حق کسی کو نہیں ہے، مجھے بھی نہیں۔

ممبئی میں تمام چھے سیٹیں بی جے پی-شیوسینا کے پاس ہیں، آج کی تاریخ میں کانگریس اپنے لئے کتنی سیٹوں پر امکان دیکھ رہا ہے؟

ممبئی میں کانگریس پانچ سیٹ تو این سی پی ایک سیٹ پر لڑتی آئی ہے۔ ہمارا ابھی جو اندازہ ہے اس کے مطابق ہم تین سیٹوں پر تو یقیناً جیت درج کرنے والے ہیں۔یہ میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ بی جے پی-شیوسینا نے پانچ سالوں میں عوام کو جو دکھ دیا ہے، اس سے وہ دہشت زدہ ہیں اور اب ان کی حکومت سے آزادی چاہتے ہیں۔ مودی نے روزگار کے نام پر لوگوں کو دھوکہ دیا اور ممبئی اقتصادی راجدھانی ہونے کے ناطے نوٹ بندی میں سب سے زیادہ متاثر ہوئی تھی۔ عوام کو ایک بار موقع ملتا ہے، تو وہ سبق سکھائیں گے۔

پھر ہماری تنظیم بھی مضبوط ہوئی ہے اور کانگریس اب خیمہ  بازی سے باہر آ رہی ہے۔ راہل گاندھی کے احکام اور ان کے ذریعے بنائے گئے ڈھانچے کے مطابق اب کام ہو رہا ہے اس کا نتیجہ ابھی تین ریاستوں کے انتخاب میں دکھا اور مجھے امید ہے کہ 2019 لوک سبھا میں بھی کانگریس کا ایسا ہی مظاہرہ ہوگا۔