باتیں حبیب جالب کی : ایک ہمیں آوارہ کہنا کوئی بڑا الزام نہیں…

05:28 PM Mar 24, 2021 | حبیب جالب

 انٹرویو:’ہم اردو شاعری کے عہد جالب میں رہ رہے ہیں…‘خواتین کی جو آزادی ہے، وہ ہمیشہ بڑی عزیز رہی ہے۔ وہ چاہے ایک رقاصہ ہو یا کوئی بڑی خاتون، مغنیہ ہو یا دفتر کی خاتون ان کی ایک عزت ہے۔مشاعرے میں پڑھنے کے میں پیسے نہیں لیتا۔ مشاعرے میں جاتا ہوں اپنی مرضی سے نظمیں پڑھتا ہوں۔

فوٹو: فرائڈے ٹائمز

آج اس شہر میں کل نئے شہر میں بس اسی لہر میں

اڑتے پتوں کے پیچھے اڑاتا رہا شوق آوارگی

اس گلی کے بہت کم نظر لوگ تھے فتنہ گر لوگ تھے

زخم کھاتا رہا مسکراتا رہا شوق آوارگی

حبیب جالب کا شوق آوارگی کوئی پچیس تیس برس سے جاری ہے۔ ہر آنے والا دن اس شوق کی لو کو اور بڑھا دیتا ہے۔ اڑتے پتے ان کے خیالوں، خوابوں اور آدرشوں کا استعارہ ہیں۔ ان آدرشوں کے تعاقب میں وہ شہروں شہروں، قریوں قریوں پھرے ہیں۔ جہاں وہ خود نہیں پہنچ سکے ہیں وہاں ان کی آواز پہنچی ہے شوق آوارگی ایک پابجولاں شاعر کا نعرہ مستانہ ہی نہیں ایک نسل کی مسلک حیات بھی ہے۔

ہم اردو شاعری کے عہد جالب میں رہ رہے ہیں۔ حبیب جالب نے کہا تھا عجب اپنا سفر ہے فاصلے بھی ساتھ چلتے ہیں۔ فاصلوں اور جالب کے درمیان ایک مستقل کشمکش جاری ہے ایک دوسرے کوشکست دینے کی کشمکش اس سفر میں حبیب جالب کا پڑاؤ ہر اس جگہ پڑتا ہے جہاں سے انہیں کچھ رفیقان سفر ملنے کی توقع ہو کراچی میں ان کا پڑاؤ کئی بار ہوا۔ اس شہر میں ہزاروں دل ان کے لیے فرش راہ رہتے ہیں۔ یہاں ان کی لابی میں شہر کا روشن خیال ہر ترقی پسند ہر انسان دوست شخص شامل ہے۔

“معیار کے لیے حبیب جالب کا انٹرویو ہونا چاہیے۔”

حبیب جالب کے ہر دورہ کراچی پر یہ تجویز سامنے آتی مگر وہ کل پر ٹال دیتے۔ وہ کل برسوں سے ٹل رہی تھی۔

اس مرتبہ حبیب جالب کراچی آئے تو فیصلہ ہوا کہ انھیں کسی پیشگی اطلاع کے بغیر ہی بٹھا کر سوالات شروع کر دیئے جائیں گے۔ ہم سب بس اب اس کے  منتظر تھے کہ کس روز وہ معیار میں وارد ہوتے ہیں۔

ایک صبح مجاہد بریلوی گھیر گھار کر حبیب جالب کو لے آتے ہیں۔ نزہت شیریں اور میں پہلے سے تیار ہیں۔ حسب توقع  حبیب جالب معذرت کرتے ہیں۔ “بھئی کل کر لیں گے۔ ابھی شاید پوری بات نہ ہو سکے”۔ ہمیں بھی پتہ ہے کہ ابھی پوری بات نہ ہو سکے گی پچیس برس کی باتیں ایک  نشست میں ممکن بھی نہیں ہیں۔ اور پھر پوری بات کے لیے شاید ابھی وقت بھی نہیں آیا۔ ہم ان سے کہتے ہیں کہ آج کی نشست میں ہم آپ کے حوالے سے ایسے سوالات کرنا چاہتے ہیں اور ایسے موضوعات پر بات کرنا چاہتے ہیں جو عموما ًلوگوں کی نظروں سے اوجھل ہیں۔ لوگ آپ کی جدوجہد اور نظریات سے تو واقف ہیں مگر آپ کی ذات، زندگی کے تجربات جواں سال کے خوابوں اور ادبی سفر کے بارے میں شاید اتنا کچھ نہیں جانتے۔ وہ تھوڑی دیر مزاحمت جاری رکھنے کے بعد آمادہ ہوجاتے ہیں۔ ٹیپ ریکاڈر آن کردیا جاتا ہے۔

بات چیت کا آغاز نزہت شیریں کے سوال سے ہوتا ہے۔ وہ ابتدا ہی بالکل غیر متوقع سوال سے کرتی ہیں۔ جالب صاحب آپ کو لڑکیاں کس قسم کی پسند آتی ہیں؟ حبیب جالب پہلے مسکراتے ہیں۔ کچھ دیر سنجیدگی سے سوچتے ہیں۔ پھر سوچ کے پاتال سے ایک ایک لفظ نکلنا شروع ہوتا ہے۔

“بنگال کی لڑکیاں میرے ذہن میں آتی ہیں۔ ان کا کلچر مشرقیت، لمبے بال بڑی بڑی آنکھیں۔ گاتی بھی اچھا تھیں۔ ان دنوں میں بنگالی کوارٹرز میں رہتا تھا۔” حبیب جالب تھوڑی دیر کے لیے پھر رک جاتے ہیں۔ اب کے وقفہ زیادہ طویل ہوجاتا ہے۔ سگریٹ کے تین چار کش لگانے کے بعد وہ پھر بولنا شروع کرتے ہیں۔

“لڑکیاں، لڑکیاں ہوتی ہیں۔ وہ چاہے جس ملک میں بھی رہتی ہوں… ویسے بھی معاشقوں کا ذکر کرنا پسند نہیں کرتا۔ لوگ اظہار کر کے خوش ہوتے ہیں اپنے عشق کی داستانیں سناتے ہیں اٹھارہ عشق اور پندرہ عشق…. میں نے جس طرح کی زندگی گزاری اس میں دیکھنے کا تو گنہگار ہوا مگر اس سے آگے بڑھنے کا حوصلہ نہیں ہوا۔ اپنی تو مفلوک الحالی کی زندگی تھی….”

کیا آپ بزدل عاشق تھے؟ یاسمین چشتی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے پوچھتی ہیں۔

“ویسے سلگتے رہے۔ اچھا نہیں لگا کہ کسی سے کہتے پھریں۔ کسی سے کہا بھی ہوگا تو بہت آہستگی سے اشاروں میں۔”

“کیا آپ اپنے آپ کو ناکام عاشق کہیں گے؟”

“یہ ضروری تو نہیں کہ کامیاب عشق وہی ہو جس میں کہ شادی ہو۔ یعنی حصول کا نام ہی تو عشق نہیں۔ بات یہ ہے کہ میں تو چیک بک کے ہندسوں کو اپنا رقیب سمجھتا ہوں۔”

“آپ اپنی جوانی میں کس قسم کے نوجوان تھے۔” نزہت پوچھتی ہیں۔

“نوجوان جیسے ہوتے ہیں، جلدی عاشق ہوجانا، روٹھ جانا، پھر کسی اور پر عاشق ہوجانا بس ہم بھی ایسے ہی نوجوان تھے۔”

ہم حبیب جالب سے ان کی زندگی کے سب ہی ادوار کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔ مگر گفتگو کا آغاز ہی نوجوانی سے ہوجاتا ہے۔ ترتیب کو متاثر ہوتا دیکھ کر میں ان کے بچپن کا ذکر شروع کردیتا ہوں تاکہ بات شروع ہی سے سامنے آئے۔ میں پوچھتا ہوں کہ ان کی بالکل ابتدائی یادیں کون سی ہیں؟ برگ آوارہ کی بہت سی نظمیں ہجرت کے بعد کے کرب کی آئینہ دار ہیں۔ یہ سوال کرتے وقت میرے ذہن میں حبیب جالب کا یہی کرب ہے۔

حبیب جالب کہنا شروع کرتے ہیں۔ “گاؤں کی یادیں ہیں، وہی ابتدائی یادیں ہیں، ہوشیار پور ضلع کا ایک گاؤں تھا ، میانی افغانان وہاں رہتے تھے۔ چھوٹا سا قصبہ تھا۔ دریائے بیاس کے کنارے۔ بڑی سرسبز شاداب جگہ تھی۔ وہاں دل لگا ہوا تھا۔ پھر وہ گاؤں چھوڑا، ایک ذرا بڑے قصبے میں آئے۔ عام سی صورت حال تھی۔”

“کوئی غیر معمولی واقعہ بچپن کا”۔ میں اصرار جاری رکھتا ہوں۔

“بھئی ہم بہت غریب مفلوک الحال لوگوں میں سے تھے۔ باہر سے ہر چیز خود لاتے تھے عید کے دن ہم کو دو پیسے ملتے تھے۔ سارا سال اسی طرح سے گزارتے تھے۔ ایک بار میرے ایک دوست نے پکوڑوں کی دکان لگائی تھی۔ عید کے دوسرے دن کی بات ہے دوپہر کے دو تین بج گئے۔ میں صبح سے بھوکا تھا۔ پکوڑے بھی تھوڑے سے رہ گئے تو انھوں نے کہا کہ اب میلہ تو ختم ہو گیا۔ پکوڑے کھا لینے چاہئیں۔ تو میں نے فوراً کہا کہ ہاں بالکل کھا لینے چاہئیں۔ تو میں نے پکوڑے کھالیے۔

“اس وقت جاگیرداروں کا دور تھا گاؤں میں جاگیرداروں کے دیوان خانے ہوتے تھے۔ ان کو سلام نہ کیا جاتا تو ناراض ہوجاتے تھے۔ تھانے تو ہوتے نہیں تھے۔ وہ خود ہی فیصلے کرتے تھے۔ ان کے جبر کا نقش ذہن پر اب تک قائم ہے۔ وہ نفرت چلی آ رہی ہے اس قسم کی باتیں میرے ذہن میں تھیں۔ یہ ساری باتیں مل ملا کر شعرمیں ڈھل گئیں۔ میں اگر شاعری نہ کرتا تو کچھ اور کام کرتا اسی قسم کا کام جاگیرداری کے خلاف……

“ہمارے بھائی اور ہمارے والدین دوسری جنگ عظیم میں مجھے گاؤں چھوڑ کر دلی چلے گئے اور میں وہاں اپنی نانی کے ساتھ رہنے لگا۔ میری نانی نے انگریزوں کا عروج دیکھا تھا۔ وہ ہمیں کہانیاں سنایا کرتی تھی۔ وہ اندھی تھی مگر اندھے پن کے باوجود جرابیں بن لیتی تھی۔ ازار بند بن لیتی تھی۔ اس کو اس کی بڑی پریکٹس تھی۔ پھر ہم ان چیزوں کو بیچنے کے لیے جایا کرتے تھے۔ دو دو تین تین میل دور۔ وہ اندھی تھی لہٰذا لوگ خرید بھی لیتے تھے۔ جب دو ایک آنے لے کر ہم گھر آتے تھے تو وہ رات کو کہتی کہ صبح مچھلی پکائی جائے میں کہتا بہت اچھا خیال ہے۔ پھر وہ کہتی نہیں صبح پائے پکائے جائیں۔ میں کہتا یہ بھی اچھا ہے۔ صبح جب اٹھتے تو میں کہتا۔ نانی کیاپکانا ہے۔ تو کہتی تھی اپنے دادا کی طرف جا۔ یہاں کیوں رہتا ہے۔ پھر کہتی چلو چڑی میوہ ہی کر لیتے ہیں۔ چڑی میوہ اس کو کہتے ہیں کہ سوکھی مرچ اور نمک کو ملا کر پانی میں گھول لیتے ہیں۔ اس کو روٹی سے کھاتے ہیں۔ تو رات کو تو بڑے خواب دکھاتی تھی۔ جب دن ہوتا تھا تو کچھ نہیں ہوتا تھا۔ ایک شعر بہت پڑھا کرتی تھی۔ اور یہ ہے 1937ء کی بات       ؛

ہم نے دل صنم کو دیا پھر کسے کو کیا

دتا نہ دتا پھر کسے کو کیا

“میں بھی اس کو سنتا رہا۔ پھر میں کراچی آ یا۔ نانی بھی میرے ساتھ تھی۔ سو سال عمر ہو گئی تھی ایک دن میں کلیات نظیر پڑھ رہا تھا۔ تو اس میں سے یہ شعر نکل آیا۔ وہ یوں تھا  ؛

ہم نے تو دل صنم کو دیا پھر کسی کو کیا

اسلام چھوڑ کفر لیا پھر کسی کو کیا

“میں نے سوچا کہ دیکھو یہ شعر سو سال پہلے پیدل چل کر ہمارے گاؤں پہنچ گیا۔ وہ عوامی شاعر تھا۔ میں نے نانی سے کہا، اب یہ شعر غلط نہ پڑھنا۔ یہ کچھ واقعات ہیں بچپن کے جو یاد آتے ہیں۔”

“پڑھائی کا کیا سلسلہ رہا؟” حبیب جالب کے رکتے ہی میں اگلا سوال پوچھتاہوں۔

بہ شکریہ؛عالمی اردو ادب

“یہ سلسلہ رہا کہ گاؤں میں آدھا قرآن شریف پڑھا وہ غلام رسول تھے ایک جنہوں نے یوسف زلیخا کا پنجابی میں ترجمہ کیا۔ وہ سنایا کرتےتھے پیپل کے درخت کے نیچے بیٹھ کر گا کر سناتے تھے۔ تیرہ چودہ سال کی عمر میں دلی چلا گیا۔ عربک ہائی اسکول میں داخلہ لیا۔ وہاں زبان درست ہوگئی۔ دلی میں جو لڑکے ملے وہ بڑے رنگین مزاج تھے۔ میں چھوٹا تھا اس لیے مجھے بہت چھیڑتے تھے پہلے ایک سال تو وہ مجھے چھیڑتے رہے پھر میں انھیں چھیڑنے لگا پھر پاکستان بن گیا وہ سارے دلی سے پاکستان منتقل ہوگئے۔ کوئی کچھ ہوگیا، کوئی کچھ ہو گیا۔ کراچی میں، میں نے جیکب لائن اسکول میں داخلہ لیا۔ پڑھنے کے بجائے میں ماسٹروں کو شعر سناتا تھا۔ ایک دن ہیڈ ماسٹر نے بلوایا کہا کہ:…. تم کلاس میں آتے نہیں ہو اپنے والد کو لے کر آؤـــــ مصباح الحق ان کا نام تھا۔

میں نے کہا کہ جب میں ہی نہیں آؤں گا تو والد کیا آئیں گے میں چلا گیا پھر ایسا ہوا کہ کراچی ہی میں ایک ٹیچرز کنونشن ہوا۔ سندھ مدرسہ میں دوسرے دن مشاعرہ تھا۔ مشاعرہ میں مجھے بھی بلایا گیا میں نے غزل پڑھی تو مجھے بڑی داد ملی۔ میرے ہیڈ ماسٹر بھی وہاں بیٹھے تھے۔ مشاعرہ کے بعد بڑھ کر انھوں نے مجھے بلایا۔ ارے میاں یہاں آؤ بیٹا اور پھر ایک ایک سے تعارف کرانا شروع کردیا۔ یہ میرا شاگرد ہے۔ پھر مجھ سے کہنے لگے والد کو مت لانا مگر اسکول ضرور آنا۔ پھر میں لاہور چلا گیا اورینٹل کالج میں داخلہ لے لیا۔ آفاق اخبار میں پروف ریڈنگ کی نوکری کی تنخواہ بڑی کم تھی صرف 75 روپے ملتے تھے بارہ گھنٹے کام کرنا پڑتا تھا پھر میں نے لاہور بھی چھوڑ دیا اور دوبارہ کراچی آ گیا۔”

گفتگو کا ایک سماں بندھ چکا ہے۔ حبیب جالب کے ساتھ محفل آراء ہونے والوں کو اچھی طرح معلوم ہوگا کہ ان کے ساتھ بیٹھنا کتنا پرلطف اور پرکیف ہوتا ہے۔ اس کیف کو برقرار رکھنے کی خاطر میں فوراً ہی اگلا سوال پوچھتا ہوں کہ شاعری کے آغاز پر انھوں نے کسی استاد سے مدد بھی لی یا نہیں۔ حبیب جالب کہتے ہیں۔

“مشاعروں میں، میں نے جگر، بیخود، سائل کو سنا جنہوں نے داغ اور غالب کو سنا تھا سو سو سال کے تھے…..”

“کوئی استاد وغیرہ نہیں تھا آپ کا…؟”

“میں یہی کوئی ایک ایک سال، ڈیڑھ ڈیڑھ سال، کسی کے قریب رہے اور پھر چھوڑ دیا…. طبیعت نہیں لگتی تھی کہیں کراچی میں ایسا ہوتا تھا کہ اساتذہ وغیرہ لوگوں کو غزلیں لکھ کر دے دیتے تھے تو ہم نے فیصلہ کیا کہ ایسے لوگوں کے ساتھ بیٹھنا نہیں چاہیے۔ نہ ان کے قریب زیادہ رہنا چاہیے۔”

“ابتدائی دور میں آپ نے پڑھا کیا۔ کن کن شاعروں سے متاثر ہوئے؟ “میرا سوال ختم ہونے سے پہلے ہی حبیب جالب نام گنوانے شروع کر دیتے ہیں۔”

“میر، غالب، فراق، جگر، جوش، حسرت، اصغر اور پھر مخدوم، مجاز، جذبی…. ان سے تو ملاقاتیں بھی رہیں۔”

“کراچی آئے تو….”

“یہاں کراچی میں ہر ضلع، ہر جگہ کے استاد موجود تھے۔ ان کے شاگرد تھے۔ بڑے بڑے نام تھے…. سیماب اکبر آبادی، رسا چغتائی، زیبا ردولوی، رئیس امروہوی، راغب مرادآبادی، نہال سیوہاروی، فرید جاوید۔ فرید جاوید بہت اچھا شاعرتھا، دیوان بھی اس کا چھپا ‘سلسلہ تکلم کا’ اپنی طبیعت میں شروع ہی سے جدت پسندی تھی۔ کلاسیکی شاعر کو مانتے تھے مگر بالکل ہی روایتی شاعری جس کا زندگی سے تعلق نہ ہو۔ وہ ہمیں پسند نہ تھی۔ کچھ بزرگوں نے حوصلہ افزائی بھی کی…… کراچی میں بڑی حوصلہ افزائی ہوئی، عزت ملی۔”

“آپ کہہ رہے تھے کہ آپ کو جگہیں چھوڑنے کا بڑا افسوس رہا ہے۔ گاؤں چھوڑنے کا بھی آپ کو دکھ رہا۔ یہ کراچی کیوں چھوڑا آپ نے …… ؟” میں نے ان سے دریافت کیا۔

“عجیب بات ہے۔ کراچی چھوڑنے کا مجھے غم نہیں ہوا۔ یہ شہر ایسا شہر ہے جو چھٹنے کے بعد بھی میرا پیچھا نہیں چھوڑتا۔ جب میں کراچی میں تھا تو میں نے یہ شعر کہے تھے     ؛

جاگ اٹھے سوئے ہوئے درد تمناؤں کے

راستے ذہن میں لہرا گئے اس گاؤں کے

جانے کس حال میں ہیں کون بتائے جالب

ارض پنجاب میں پودے میری آشاؤں کے

“سیف الدین سیف جب یہاں  آیا تو اس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ یہ غزل کیسے ہوئی مگر پھر جب لاہور واپس آیا تو اس نے کہا کہ وہ غزل سناؤ۔”

“اب کراچی یاد آتا ہے؟”

“یہ جگہ ایسی ہے کہ یہ اپنے دوستوں کی وجہ سے یاد آتی ہے۔ خود شہر یاد  نہیں آتا یہ سارے دوست لاہور میں ہوں تو  مزا آئے۔ بس یہ جگہ ٹھیک نہیں ہے۔ لاہور کا یہ ہے کہ وہ جیسے مجاز نے کہا تھا نا کہ لاہور شہر تو خوبصورت ہے مگر پنجابی بہت ہیں۔”

“چائے آ جاتی ہے۔ گفتگو کا لطف بھی دوبالا ہوجاتا ہے۔ حبیب جالب کی شاعری پر کچھ لوگوں کا یہ پرانا اعتراض ہے کہ ان کی شاعری پروپیگنڈے کی شاعری ہے۔ میں اس کو موضوع کو چھیڑتا ہوں۔”

“آپ کی شاعری میں Loudnessجو کا عنصر ہے جسے  کچھ لوگ نعرے بازی کا نام دیتے ہیں تو یہ ہماری روایتی شاعری میں تو نہیں ہوتا تھا۔ اب جو آپ نے یہ……” میری بات ختم ہونے سے پہلے ہی حبیب جالب جواب دینا شروع کرتے ہیں۔

“میرا جی چاہتا ہے کہ میں بھی یہ کروں، میں لوٹوں گا غزل کی طرف، غزل آتی ہے، مصرعے آتے ہیں مگر اس میں دھیما انداز ہوتا ہے، اس میں کاٹ نہیں۔ لوگ کہیں گے تھک گیا، ہار گیا، بیٹھ گیا، اس لیے جب تک یہ عہد چل رہا ہے میرا یہ لہجہ بھی چلتا رہے گا۔ یہ نہیں کہ مجھے غزل پسند نہیں یا یہ کہ اس قسم کی شاعری میں نہیں کر سکتا۔”

“مگر برگ آوارہ میں رومانٹک شاعری کی خوبصورتی موجود ہیں….”

“بات یہ ہے کہ تجربات آدمی کوRepeat کرنے لگے تو  وہ ٹھیک نہیں۔ عشق و عاشقی کی معاملہ بندی اپنی جگہ ٹھیک ہے مگر اس کو مختلف انداز میں ڈھالنا چاہیے۔”

بخط جالب ؛بہ شکریہ عالمی اردو ادب

“آپ کو دن کا کون سا پہر اچھا لگتا ہے؟” یہ سوال کون پوچھ سکتا ہے۔ ظاہر ہے یہ سوال نزہت شیریں کا ہے۔

“جس پر دوست میسر ہوں۔ یکجا ہوں وہی پہر اچھا لگتا ہے۔” یہ جواب کس کا ہوسکتا ہے۔ ظاہر ہے یہ جواب حبیب جالب کا ہے۔

مجاہد بریلوی جو ابھی تک خاموش تھے۔ بات چیت میں شریک ہوتے ہوئے پوچھتے ہیں۔ “آپ نے اتنے ادوار دیکھے ایک مخصوص انداز کی زندگی گزاری۔ اتنا وقت گزارنے کے بعد اب کہیں افسوس تو نہیں ہوتا۔ ملامت کا احساس…”

“مجھ سے زیادہ میرے بچوں کو ہوتا ہے۔ ہمارے ساتھی دنیاوی طور پر کیا کیا ہوگئے مگر میں بچوں سے کہتا ہوں کہ عزت بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ اور وہ بہت بڑی چیز ہوتی ہے۔ میری ان باتوں کے بعد وہ اس وقت بہل جاتے ہیں اور میرا کام ہو جاتا ہے۔”

خاموشی کا ایک مختصر سا وقفہ در آتا ہے، سکوت یوں بھی اچھی چیز نہیں۔ حبیب جالب بزم آرا ہوں تو سکوت اور بھی کھلنے لگتا ہے۔ حبیب جالب چائے کا آخری جرعہ لیتے ہیں تو میں پوچھتا ہوں۔

“آپ کی شاعری، عوامی شاعری کہلاتی ہے۔ اردو شاعری میں شاید کسی شاعر کو اتنے آڈینس نہیں ملے ہوں گے جتنے آپ کو ملے ہیں۔ اس مقبولیت کا آپ کو کوئی مالی فائدہ بھی پہنچا، کچھ مالی منفعت بھی حاصل ہوئی؟”

“مالی منفعت مجھے کم ہوئی۔ پبلشر کو زیادہ ہوئی۔ سرمقتل کے ایک مہینے میں چار ایڈیشن چھپے، اب دو کتابیں اور چھپ رہی ہیں۔ یہ بھی نکل جائیں گی۔ مگر یہ ہے کہ میں شاعری کو کاروبار نہیں بناتا۔ مشاعرے میں پڑھنے کے میں پیسے نہیں لیتا۔ مشاعرے میں جاتا ہوں اپنی مرضی سے نظمیں پڑھتا ہوں۔ ایوب خاں کے دور میں مری کے ایک مشاعرے میں دستور کے نام سے ایک نظم پڑھی تو مری بدر کر دیا گیا۔ دس سال کے بعد یحییٰ کی تصویر تھی میں نے غزل سنائی۔ پھر اس کے بعد سے اب تک مجھے مری کے  مشاعرے میں نہیں بلایا گیا۔”

“جالب صاحب: آپ نے فلمی شاعری بھی تو کی۔ کچھ اس بارے میں بھی تو بتائیں اور یہ بھی کہ اب کیوں فلمی شاعری نہیں کرتے آپ؟”

“ہاں فلموں میں بھی کی وہاں بھی مشن جاری رہا جب فلموں میں گئے تو اس وقت ماحول تھا۔ اچھے لوگ تھے۔ علاؤالدین اورطالش میرے ساتھی تھے۔ بھوکے ننگے ہوتے تھے۔ ہم اکٹھے رہتے تھے۔ نیکریں پہنتے تھے پھر یہ بڑے ہوگئے۔ گلبرگوں میں منتقل ہو گئے۔ ہم وہیں کھڑے رہے۔ شعر و شاعری کا معاوضہ اتنا نہیں ملتا۔ ہم پھر بھی شاعری کرتے تھے۔ ہمارا مقصد اس سے پورا ہوتا۔ ہمارے خیال کی پبلسٹی ہوتی۔ لاکھوں کروڑوں تک ہماری بات پہنچ جاتی۔ ہم اینٹی امپریل بات کر لیتے تھے۔ جاگیرداروں کے خلاف شعر شامل کر لیتے تھے کبھی کبھی بات پروڈیوسروں کے سر کے اوپر سے گزر جاتی تھی بعض بڑے اچھے پروڈیوسر ملے جیسے ہمارے دوست ریاض شاہد تھے….

ریاض شاہد مجھ سے کہتا تھا کہ تم جتنی بڑی گالی اس معاشرے کو دے سکتے ہو دو میں اسے پکچرائز کروں گا وہ مجھے چار پانچ دن کے لیے ایک کمرے میں بند کردیتا تھا۔ میں، میوزک ڈائریکٹر اور  ریاض شاہد بیٹھ جاتے تھے ہم میں بڑی بے تکلفی تھی۔ میں شعر لکھتا، وہ کہتا یہ کیا ہے، میں کہتا تمہیں پتہ نہیں ہے شعر کیا ہوتا ہے۔ پھر سمجھوتہ ہوجاتا پھر مہدی حسن کو بلوا لیا کرتے تھے۔ چاروں مل کر بیٹھ جاتے اور گانا ہوجاتا۔ اب ایسے لوگ ہیں جو نہ سمجھتے ہیں اور نہ ہی انھیں سمجھایا جاسکتا ہے۔ اب خلیل قیصر بھی مر گیا، ریاض شاہد بھی مرگیا۔

فلم انڈسٹری کو آپ نے بہت قریب سے دیکھا ہے۔ پاکستانی فلموں کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟

“بات یہ ہے کہ اب تو انڈیا کی فلمیں چھائی ہوئی ہیں۔ وی سی آر چل رہے ہیں۔ اس وقت پاکستانی فلم تو پنپ نہیں رہی۔ ہماری فلموں کو چاروں صوبوں کا نمائندہ ہونا چاہیے، وہ جو آپ لکھنؤ اور یوپی وغیرہ پر کہانی بنا کر پیش کر دیتے ہیں۔ وہ بھی ٹھیک ہے مگر اب مزید ان موضوعات پر فلم چلے گی نہیں، بہت کچھ بن گیا ہے اردو میں اضافہ ہوا ہے…. علاقائی زبانوں کی وجہ سے، مسائل کی وجہ سے”

“فلم کو ٹی وی نے بھی نقصان پہنچایا ہے۔ زیادہ تر پڑھا لکھا ٹیلنٹ بھی  اس طرف چلا گیا ہے جو  رہ گئے ہیں وہ پنجابی فلمیں بناتے ہیں۔ اردو والے بھی پنجابی فلموں کی طرح کی فلمیں بنانے لگے ہیں۔ یہاں کے مسائل پر فلم بناتے ہوئے ڈرتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ تخلیق پر جب خوف طاری ہو تو وہ تخلیق نہیں رہتی۔ ریاض شاہد میں یہ بات تھی کہ وہ اصل مسائل پر فلم بناتا تھا۔ انڈین فلمیں دیکھتا ہوں تو ان میں بھی یہ ہے کہ سب تو اچھی نہیں ہوتیں مگر اچھی بھی ہوتی ہیں۔ ان میں کوئی نہ کوئی مسئلہ ضرور ہوتا ہے، پھر زبان بھی کیریکٹر کی استعمال کرتے ہیں۔ فلم کو اگر صحیح لوگ بنائیں تو یہ ایجوکیشن کا بہت بڑا ذریعہ ثابت ہوسکتی ہے۔”

“نئی شاعری جو ہو رہی ہے یا جو نئے اور نوجوان لکھنے والے سامنے آئے ہیں۔ ان کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟” فلم سے ایک مرتبہ پھر شاعری پر آتے ہوئے میں جالب صاحب سے پوچھتا ہوں۔

وہ کہتے ہیں….

“شاعری میں نئے نئے تجربے ہو رہے ہیں…. تازگی تو اچھی ہے لیکن جب تک خیال کی پختگی اور خیال کی Richnessنہ ہو اس وقت تک بڑی شاعری نہیں بنتی۔ فی الحال یہ پختگی نظر نہیں آ رہی ہے۔ شاید آگے چل کر ان میں کوئی بات بن جائے….”

“آپ کی شاعری کا آغاز کیونکر ہوا۔ پہلی نظم یا غزل کب کہی، کہاں چھپی؟”

“پہلی قابل ذکر چیز تو امروز میں چھپی، چراغ حسن حسرت کی ادارت میں وہاں غزل کا چھپ جانا بہت بڑی چیز تھی۔ وہ بہت سخت آدمی تھے، بڑے عالم تھے، بہت اچھے انسان تھے، کالم نگار بھی بہت معرکے کے تھے۔ آج کل تو کالم نگار ایک بات پر پورا کالم لکھتے ہیں۔ ان کے یہاں یہ نہیں تھا۔ وہاں تو ایک بات آئی اور چار لائنوں میں ختم ہوگئی، پھر دوسری بات آگئی، دس باتوں کا ایک کالم ہوتا تھا۔”

“جالب صاحب! موسیقی کا بھی کچھ شوق ہے آپ کو؟”

“ریاض شاہد کی فلم کے لیے میں نے وہ مشہور گیت لکھا تھا، رقص رنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے…. نظم ہی پراصل میں اس نے یہ فلم بنائی تھی (زرقا) پھر نظم کو گیت بنانے کا بڑا مرحلہ تھا۔ رشید عطرے جو میوزک ڈائریکٹر تھا، وہ قطعہ بند نظم کو گنگنائے جا رہا ہے، گائے جا رہا ہے۔ اس سے بن نہیں رہی، میں اس کی مصیبت کو سمجھ گیا میں نے کہا کہ جب تک لنکنگ لائن نیچے نہیں آئے گی اس وقت تک یہ مصرعہ ابھرے گا نہیں۔ تو پھر میں نے  اس میں لنکنگ لائن بھی رکھی۔ رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے تو پھر گیت ہو گیا  ؛

آج قاتل کی یہ مرضی ہے کہ سرکش لڑکی

سر مقتل تجھے کوڑوں سے نچایا جائے

موت کا رقص زمانے کو دکھایا جائے

اس طرح ظلم کو نذرانہ دیا جاتا ہے

رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے

“تو اس طرح یہ مصرع اٹھا، لرک ازم سے گیت بنتا ہے۔ اس میں ایک لنکنگ لائن ضروری ہے۔ وہ کیا ہو… یہ ہم کو پتہ ہے۔ پھر ہم نے اپنی سیاسی نظموں میں بھی یہ بات کی، ہماری نظمیں چلتی کیوں ہیں، پاپولر کیوں ہوتی ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم اس لرک ازم سے کام لیتے ہیں۔ یہ سارا کام ہم نے سیاست میں دکھایا، پہلے  ہوتا تھا نا… اسلام کی کشتی کو ہم پار لگادیں گے، ادھر موچی گیٹ پر ہوتا تھا۔ اب ہم نے یہ کہا اور موضوع زیر بحث ہے، جو مسائل ہیں ان پر نظم لکھی جائے چنانچہ تقریریں کم ہوگئیں نظمیں چل پڑیں….”

تقریروں کے مقابلے میں نظموں کو مقبولیت کا ذکر نکلتا ہے تو بات پھر اس کی طرف نکل جاتی ہے…. حبیب جالب کہتے ہیں۔ “سہروردی نے ایک بار کہا کہ ہم تو وہ بات نہیں کہہ سکا جو تم کہہ گیا، موچی دروازے میں جلسہ تھا۔ سہروردی اپوزیشن کے بڑے قدآور  رہنما تھے۔ کالا باغ کے آدمی جلسہ خراب کرنے پر تلے ہوئے تھے۔ اسٹیج کشتی کی طرح ڈول رہا تھا۔ میں مائیک پر آ گیا اور میں نے کہا کہ حضرات یہ لوگ جو شور مچا رہے ہیں۔ یہ لوگ لاہور کے لوگ نہیں ہیں یہ کالا باغ کے بھیجے ہوئے لوگ ہیں۔ لاہور کے لوگ مہذب اور متمدن لوگ ہیں وغیرہ وغیرہ…. پھر میں نے کہا کہ آج ایک نظم سناؤں گا دیکھتا ہوں کہ تم مجھے سنتے ہو یا نہیں۔ نظم شروع ہوئی، سناٹا چھا گیا۔ دستور نظم سنائی، جلسہ جم گیا۔ اس کے بعد سہروردی آئے اور لوگوں نے انھیں سنا۔ اگلے دن پاکستان ٹائمز نے لکھا کہ  حبیب جالب نے میٹنگ بحال کی۔”

“آج کل عورتوں کے حقوق پر بحث زوروں پر جاری ہے، آپ کا نقطہ نظر کیا ہے؟”

میں ایک اہم مسئلہ پر حبیب جالب کی رائے پوچھتا ہوں…

“ریاض شاہد کی فلم کو جو گیت تھا وہ بھی ایک ایسے واقعہ سے متاثر ہو کر لکھا تھا۔ قصہ یوں تھا کہ نیلو کو ایک بڑے فنکشن میں رقص پر مجبور کیا گیا۔ وہ جانا نہیں چاہتی  تھی زبردستی کی گئی۔ اس نے گولیاں کھالیں، ہسپتال میں وہ داخل ہوگئی۔ میں اور ریاض شاہد اسے دیکھنے جا رہے تھے۔ راستے میں نظم ہو گئی۔ نیلو سزاوار نظم ہوگئی۔ آٹھ دس سال کے بعد ایک اور اداکارہ کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ طارق عزیز نے کہا کہ کوئی ہوتا حبیب جالب تونظم لکھتا۔ میں “چٹان” کے دفتر میں بیٹھا تھا۔ کسی نے یہ بات مجھے بتائی تو میں نے کہا کہ اچھا تو لکھ دیتے ہیں نظم۔ خواتین کی جو آزادی ہے، وہ ہمیشہ بڑی عزیز رہی ہے۔ وہ چاہے ایک رقاصہ ہو یا کوئی بڑی خاتون، مغنیہ ہو یا دفتر کی خاتون ان کی ایک عزت ہے۔ ان کے حقوق کی میں بات کرتا ہوں۔ نیلو ہو یا ممتاز ہو ہر ایک کی عزت ہے۔ نیلو سے میں ملا ہوں، ممتاز سے نہیں ملا، نہ ملنے کا شوق ہے۔ خواتین الیکشن فورم والیوں نے کہا کہ عورتوں کا ترانہ لکھ دیں۔ میں نے لکھ کر دے دیا۔ خواتین کے جلسوں میں بھی مجھے بھی بلوایا جاتا ہے۔ میں تو خواتین کی ٹریڈ یونین کا سربراہ ہوں۔”

“مشاعروں میں لوگ آپ کو بڑے شوق سے سنتے ہیں۔ ہزاروں لوگ تو صرف آپ ہی کو سننے کے لیے دور دراز سے آتے ہیں۔ آپ کی شاعری کی مقبولیت کا راز کیا ہے؟”

بہ شکریہ ؛ حبیب جالب -گھر کی گواہی

“مشاعروں میں لوگ ہمیں اتنی تعداد میں جو سننے آتے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم وہ بات کہتے ہیں جولوگ سننا چاہتے ہیں۔” حبیب جالب مختصر سا جواب دے کر خاموش ہوجاتے ہیں۔ مگر اس مختصر سے جواب میں معنویت کے جہاں پنہاں ہیں۔

ایک مرتبہ پھر خاموشی طاری ہوجاتی ہے۔ اب کہ اس خاموشی کو مجاہد بریلوی توڑتے ہیں۔

“کسی خاص مشاعرے کی کوئی بات یاد ہو تو….”

“بڑے مشاعرے پڑھے۔ دلی میں، لکھنؤ میں۔ جگر صاحب کے ساتھ بہت پڑھے، جوش، حفیظ، فراق سب کے ساتھ پڑھے۔ گورکھپور میں ایک مشاعرہ تھا۔ وہ علاقہ بڑا ہی سرسبز شاداب علاقہ تھا۔ گنگا جمنا کا علاقہ رم جھم سی ہو رہی تھی۔ شام کا وقت تھا۔ میرا تانگا جا رہا تھا۔ پیچھے فراق صاحب کا تانگا آیا۔ میں فراق صاحب کے ساتھ بیٹھ گیا۔ فراق صاحب گھر لے گئے، ایک صحن میں تخت پوش پر بٹھا دیا۔ کہنے لگے میں ذرا اندر اپنے گھر  والوں سے ‘بھین دین’ کر لوں۔ وہاں سے آئے تو کہنے لگے کہ میں نے اپنے گھر والوں سے کہا ہے کہ میں دلی سے تمہارے لیے ایک تحفہ لایا ہوں۔ حبیب جالب اور پھر مجھ سے کہنے لگے کہ جالب! تمہارے لیے یہ تحفہ لایا ہوں، امردودوں کا خالص عرق، فراق اور امرودوں کا عرق…. تو گفتگو تو…. آتشہ ہوگئی نا….”

فراق ہی کا ذکر کرتے ہوئے حبیب جالب کہتے ہیں۔ “ان کا بڑا علم تھا۔ ذرے سے لے کر آفتاب تک باتیں کرتے تھے۔ ایک بار ان سے بڑی ناراضگی بھی ہو گئی تھی۔ دلی میں مشاعرہ تھا۔ میں نے فراق صاحب کو مخاطب کر کے ایک شعر پڑھ دیا؛

اپنے انداز میں بات اپنی کہو

میر کا شعر تو میر کا شعر ہے

“اب سردار جعفری، خواجہ احمد عباس داد دے رہے ہیں۔ واہ واہ…. بھئی جالب دوبارہ پڑھو۔ میں دوبارہ پڑھ رہا ہوں۔ اپنے انداز میں اپنی بات کہو… فراق صاحب کہہ رہے ہیں…. جی ہاں، جی ہاں…. میں شعر دوبارہ، سہ بارہ پڑھ رہا ہوں۔ میں تو داد طلب انداز میں شعر پڑھ رہا تھا۔ اب مجھے نہیں معلوم تھا کہ فراق کیوں اتنی سردمہری سے مجھے جی ہاں، جی ہاں کہہ رہے ہیں۔ جب میں کلکتہ گیا تو وہاں جس ہوٹل میں وہاں مجھے ٹھہرایا گیا اسی میں فراق صاحب بھی ٹھہرے ہوئے تھے۔ میں فراق صاحب کے کمرے میں گیا اور کہا فراق صاحب آداب! کہنے لگے، میاں آداب و ادب بعد میں۔ میں نے ادھر میر کی زمین میں پانچ چھ غزلیں کیا کہہ دیں کہ تم نے ہمیں شعر سنا دیا۔ میں نے کہا حضور کون سا شعر۔

صاحب میں تو آپ کو صاحب طرز شاعر کہتا ہوں اور بھی بہت کچھ کہا میں نے۔ ایک شاگرد بھی فراق صاحب کے بیٹھے تھے۔ کہنے لگے، فراق صاحب یہ تو آپ کو بہت بڑا شاعر مانتے ہیں۔ ان پر فراق صاحب کہنے لگے، اچھا تو یہ بات تھی۔ ہم نے تو جب ریڈیو پر نوجوان شاعروں کے بارے میں مضمون پڑھا تو اس میں ان کا بطور خاص ذکر کیا، میں نے کہا کہ جناب یہ شعر جو میں نے پڑھا، یہ تو اپنے ملک کے  ناصر کاظمی اور آپ کے خلیل الرحمان اعظمی وغیرہ کے بارے میں تھا۔ اس کے بعد ہم مشاعرے میں پہنچے۔ فراق صاحب نے ہمارے بارے میں مائک پر آن کر تعارف کراتے ہوئے کہا…. میرا بائی کا سوز اور سورداس کا نغمہ یکجا ہو جاتے ہیں تو اسے حبیب جالب کہتے ہیں۔ یہ مشاعرہ ہندوستان کا تھا۔ ہاں ایک اور مشاعرہ یاد آرہا ہے۔ لائل پور کے مشاعرے میں جگر صاحب نے کہا کہ جب تم پڑھتے ہو تو ہم سوچتے ہیں کہ ہمارا دور مئے کشی ہوتا تو ہم برسر مشاعرہ رقص کرنے لگتے۔”

“یہ تو بہت بڑا خراج تحسین ہے!”

فیض صاحب نے تو ہم کہ ٹھہرے اجنبی، میں مہربانی فرما کر یہ لکھا ہے کہ؛

پنجابی میں سلطان باہو، بلھے شاہ اور وارث شاہ عوامی شاعر ہیں اور اردو میں حبیب جالب ہے اور یہ بھی کہ ولی دکنی سے لے کر آج تک کسی شاعر کو اتنا آڈینس نہیں ملا۔

“آپ نے ماضی میں بھی مشاعرے پڑھے ہیں۔ اب بھی آپ پڑھتے ہیں۔ اس زمانے کے اور آج کے زمانے کے مشاعروں میں کچھ فرق محسوس کرتے ہیں آپ۔”

حبیب جالب، یاسمین چشتی کا سوال سنتے ہیں۔  اور پھر گویا ہوتے ہیں۔ “اب دلی اور لکھنؤ میں جو سنتے تھے وہ تو مطالعہ کرتے تھے۔ بڑے ذوق و شوق سے سنتے تھے۔ اب یہاں وہ ذوق و شوق کہاں۔ کراچی میں سامعین بہتر لگے۔”

“آپ کبھی ہوٹ بھی ہوئے۔” یاسمین چشتی ہی پوچھتی ہیں۔

“ہاں ایک بار کا مجھے یاد آیا۔ میں پھنس گیا تھا، لاہور میں ایک مشاعرہ تھا۔ میں لائل پور سے آیا تھا۔ زہرہ نگار بھی آئی تھی۔ وہ زہرہ نگار کا بڑے عروج کا دور تھا۔ اپنے مخصوص مترنم انداز سے وہ مشاعرہ لوٹ لیا کرتی تھی۔ اور پھر زہرہ کے بعد مشاعرے میں پڑھنا ناممکن ہوجاتا تھا۔ مجھے بس سے لاہور جانا تھا۔ بس نہیں ملی تو میں ٹرک میں بیٹھ کر آ گیا۔ سر پر بال وال بھی تھے اور وہ جو شاعروں کا ایک خاص حلیہ ہوتا تھا۔ وہ میرا بھی تھا، اس وقت مشاعرہ قتل گاہ بنا ہوا تھا۔ کئی شاعروں کی لاشیں تڑپ رہی تھیں۔ زہرہ نگار پڑھ کر جا چکی تھی۔ جو شاعر آتا وہ ڈھیر ہو جاتا تھا۔ میں ٹرک کے اڈے سے دیکھا مشاعرے میں داخل ہوا اور گردن نکال کر مجمع میں سے اسٹیج کی طرف بڑھا۔ شوکت تھانوی اسٹیج سکریٹری تھا۔ مجھے دیکھتے ہی اس نے سوچا چلو اسے کاٹیں۔ مجھے کاٹنے کے لیے اس نے آواز لگائی۔ حضرات اب حبیب جالب اپنا کلام سنائیں گے۔ میں مائیک پر آیا تو لوگوں نے کہا کہ نکالو اس کو کہاں سے آ گیا یہ فقیر، عجیب و غریب فضا بن گئی۔ میں کانپنے لگا اور سوچا کہ چلو بھئی چلے جاتے ہیں۔ مگر کہیں سے ذہن میں ایک لہر آ گئی کہ کہیں یہ حسرت نہ رہ جائے کہ بغیر پڑھے چلے گئے۔ تو یہ سوچ کر میں نے ایک تازہ غزل کا شعر پڑھا۔ وہ جو غزل تھی    ؛

دل کی بات لبوں پر لاکر اب تک ہم دکھ سہتے ہیں

ہم نے سنا تھا اس بستی میں دل والے بھی رہتے ہیں

یہ جو میں نے ترنم کے ساتھ پڑھنا شروع کی تو لوگ خاموش ہو نے لگے۔ پھر دوسرا شعر پڑھا، پھر تیسرا شعر پڑھا کہ   ؛

ایک  ہمیں آوارہ کہنا کوئی بڑا الزام نہیں

دنیا والے دل والوں کو اور بہت کچھ کہتے ہیں

“اس پر بے تحاشا داد ملی، بے پناہ داد ملی…. جگر صاحب صدارت کر رہے تھے۔ میں مائیک چھوڑ کر جگر صاحب کے پاس بیٹھ گیا۔ اس سے پہلے جب کراچی میں جگر صاحب آئے ہوئے تھے تو کچھ لوگوں نے کہا کہ بھئی جگر صاحب آئے ہوئے ہیں، چلو ان سے مل لو۔ تو میں نے کہا کہ بھئی تم مل  آؤ، ہماری کہیں ہوجائے گی ان سے ملاقات۔ اس پرلوگوں نے کہا کہ دیکھو اس لڑکے کو۔ جگر صاحب آئے ہوئے ہیں اور یہ کہتا ہے کہ ہوجائے گی کہیں ملاقات… تو اس مشاعرے میں ملاقات ہوگئی، جگر صاحب کے کہنے پر میں نے مقطع پڑھا اور آکر بیٹھ گیا۔” مقطع تھا      ؛

وہ جو ابھی اس راہ گزر سے چاک گریباں گزرا تھا

اس آوارہ دیوانے کو جالب جالب کہتے ہیں

“میں آن کر بیٹھ گیا تو لوگوں نے آوازیں لگانی شروع کردیں۔ اب ایک ڈراما ہوتا ہے تاکہ شاعر  بیٹھا رہتا ہے کہ اور چیخنے دو، اور اصرار کرنے دو۔ اس پر مشاعرے کے منتظمین کو تو یہی کہنا ہوتا ہے  ناکہ ابھی اور شاعر بھی آنے والے ہیں۔ اور وقت ہوا تو بعد میں ان کو پڑھوا دیں گے۔ شوکت تھانوی کو تو یہی کہہ دینا تھا، مگر لوگ کہاں ماننے والے تھے۔ مجھے بھی غصہ آ گیا اور میں نے کہا کہ اسے تو آج میں قتل کروں گا۔ میں مائیک پر آ گیا اور کہا… حضرات! کیا آپ مجھے سننا چاہتے ہیں تو میں سنانا چاہتا ہوں، پھر یہ ہمارے درمیان میں کون ہے۔ پھر میں نے اپنا کلام سنایا۔ اس کے بعد تو ایک ہی رات میں مقبولیت مل گئی۔ کالجوں میں لڑکے لڑکیوں نے مجھے بلوانا شروع کر دیا۔ مشاعروں میں اور مباحثوں کے وقفوں میں۔ ایک مرتبہ شورش کاشمیری نے اپنے رسالے میں لکھا کہ ایک دن کسی کالج کی دہلیز ہی پر اس کا دم نکلے گا۔”

“نوجوانوں کو آپ نے ہمیشہ متاثر کیا ہے!” میں کچھ کہنا ہی چاہتا ہوں کہ حبیب جالب خود بول اٹھتے ہیں۔

“میں جب کراچی میں تھا اس وقت بھی نوجوانوں میں اٹھتا، بیٹھا اسکول میں تھا۔ جس وقت تو زیادہ وقت ایس ایم کالج میں گزرتا تھا۔ خود بھی نوعمر تھا۔ لڑکیاں پکنک پر لے جاتی تھیں۔”

“پکنک پر ظاہر ہے نظمیں بھی سناتے ہوں گے۔”

“وہ اب یاد نہیں ہیں۔ بس ایسی ہی ہوتی تھیں، تباہ ہوگئے، برباد ہوگئے وغیرہ۔”

نزہت خاصی دیر خاموش رہنے کے بعد اب دوبارہ اپنے سوالات شروع کرتی ہیں۔

“یہ جو آپ ترنم سے پڑھتے ہیں تو اس میں کس سے متاثر…”

“میں نے کہا  نا کہ بنگالی کوارٹرز میں جب رہتے تھے تو وہاں رات کو گانے بجانے کی آواز آتی تھی۔ صبح ہوتی تو پھر گانے بجانے کی آواز آتی، بھائی طبلہ بجا رہا ہے، باپ  ہارمونیم لیے بیٹھا ہے۔ بہن رقص کر رہی ہے۔ میری آواز اچھی تھی۔ تو وہ مجھے بھی شامل کر لیا کرتے تھے۔ فنکشن میں ساتھ لے جاتے تھے۔”

“جالب صاحب لڑکیاں کس لباس میں بھلی معلوم ہوتی ہیں؟”

چند لمحوں کی خاموشی کے بعد جالب کہتے ہیں۔ بھئی کرتا پسند ہے، کرتا جس میں چاندی کے بٹن لگے ہوں اور چوڑی دار پاجامہ  تو ہوگا ہی….!

“کھانا کیا پسند ہے؟”

“شلجم اور لوکی تو میرے مزاج سے موافقت نہیں رکھتے۔ کریلے گوشت میری بیگم بناتی ہے۔ وہ بہت پسند ہے۔ ویسے آج کل تو پرہیزی کھانا کھاتا ہوں۔ بس ابلا ہوا قیمہ کھاتا ہوں۔”

“بھئی ختم ہوا یا کچھ رہ گیا ہے…” حبیب جالب پوچھتے ہیں۔ ہمارے پاس بہت سے سوال باقی ہیں۔ لیکن جالب تین گھنٹے کی مسلسل نشست کے بعد اب کچھ تھک گئے ہیں۔ وہ کل کا وعدہ کرتے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ یہ کل ایک سال بھی ہوسکتی ہے، دو سال بھی اور شاید اس سے بھی زیادہ لیکن ہم اصرار نہیں کرتے۔ ہمیں کل کا انتظار کیے بغیر پھر کسی دن حبیب جالب کو اسی طرح حبس بے جا میں رکھ کر ہی بات کرنی ہوگی۔ ان کے ہر انٹرویو کی طرح شاید یہ انٹرویو بھی تشنہ تکمیل ہے۔ مگر ان کا تو ہر انٹرویو تشنہ تکمیل ہی رہے گا۔ اس لیے کہ ان کا سفر ابھی جاری ہے، شوق آوارگی اب بھی جہاں کی گرد اڑا رہا ہے۔

(بہ شکریہ ؛  ہفت روزہ معیار کراچی،1985)

یہ مضمون 24مارچ2018کو شائع کیا گیا تھا۔