غزہ آج بھی وہاں کھڑا ہے جہاں کل تھا تنہا، زخمی اور سسکتا ہوا صرف اس فرق کے ساتھ کہ اب اس کی تکلیف عالمی سرخیوں میں نہیں، بلکہ صرف تاریخ کے خونی صفحات میں لکھی جا رہی ہے۔
اسی گھمبیر صورتحال کے ادراک کےلیے میں نے اسرائیل کے معروف اور نڈر انسانی حقوق کے ادارےبی ٹسلم کے ترجمان یائر دویرسےرابطہ کیا۔ ان کی گفتگو محض ایک انٹرویو نہیں بلکہ اس نسل پرست نظام کے
پردے چاک کرنے کی ایک کوشش ہے جو علاقائی جنگوں کی آڑ میں ایک پوری قوم کو مٹانے پر تلا ہوا ہے۔
دویر نے بڑے کرب سے بیان کیا کہ ایران اور لبنان کے محاذوں نے اسرائیل کو ایک توجہ ہٹانے کی حکمت عملی فراہم کر دی ہے۔ جب عالمی میڈیا کے کیمرے تہران کے میزائلوں اور بیروت پر گرنے والے بموں کی طرف مڑ گئے، تو اسرائیل نے مغربی کنارے میں آبادکار یہودی ملیشیاؤں کھلی چھوٹ دے دی۔
غزہ میں نسل کشی اور مکمل مسماری ہو رہی ہے، مغربی کنارے میں نسلی صفائی کا عمل تیز ہے، اور خود اسرائیل کے اندر فلسطینیوں کے خلاف امتیازی سلوک کی جڑیں گہری ہو رہی ہیں۔ دنیا یہ سمجھ رہی ہے کہ توجہ ہٹنے سے ظلم رک گیا ہے، لیکن حقیقت میں اسرائیل اس خاموشی کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
جنگ بندی کے معاہدے پر بات کرتے ہوئے دویر نے انکشاف کیا کہ اسرائیل نے اسے پہلے ہی دن سے پیروں تلے روند دیا تھا۔ اکتوبر 2025 کی جنگ بندی کے بعد سے اب تک 750 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں سے 400 شہادتیں فروری 2026 میں ایران پر ہونے والے اسرائیلی-امریکی حملے کے دوران ہوئیں۔ دویر نے سب سے ہولناک انکشاف ییلو یعنی پہلی لکیر کے حوالے سے کیا، جس کو اسرائیل نے کھینچ کر ایک بفر زون قائم کیا ہے۔ یہ وہ لکیر ہے جس نے غزہ کے جغرافیے کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا ہے۔ ٹرمپ کے منصوبے کے تحت بنائی گئی اس لکیر نے غزہ کا آدھے سے زیادہ رقبہ عارضی طور پر اسرائیلی کنٹرول میں دے دیا ہے۔
ہم دیکھ رہے ہیں کہ آبادکار اور اسرائیلی فوج مل کر روزانہ فلسطینیوں پر حملے کر رہے ہیں۔ جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک صرف آبادکاروں نےکئی فلسطینیوں کو شہید کیا، ان کے گھر جلائے اور ان کے مویشی لوٹ لیے۔ یہ وہ سچ ہے جو بڑی جنگوں کی سرخیوں میں دب گیا ہے۔
وہ بتاتے ہیں کہ تقریباًً 16 لاکھ لوگ شدید ترین فاقہ کشی کا شکار ہونے والے ہیں کیونکہ اسرائیل نے امداد میں 80 فیصد تک کمی کر دی ہے۔
سیٹلائٹ تصاویر بتاتی ہیں کہ اسرائیل نے اس لائن کے ساتھ سات نئی مستقل فوجی چوکیاں قائم کی ہیں اور کلومیٹر طویل زمینی باڑ لگا دی ہے۔ اب 21 لاکھ انسانوں کو غزہ کے آدھے سے بھی کم رقبے پر ٹھونس دیا گیا ہے۔
بی ٹسلم کی جانب سے غزہ مہم کو نسل کشی’ قرار دینے کے سوال پر دویر نے قانونی باریکیوں پر روشنی ڈالی۔ ان کے بقول، کسی بھی کارروائی کو نسل کشی ثابت کرنے کےلیے ارادہ سب سے اہم ہوتا ہے۔
مارچ میں صرف 16 مریضوں کو علاج کے لیے باہر جانے دیا گیا، جبکہ 18 ہزار سے زائد زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ یہ کوئی قدرتی آفت نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی انسانی تباہی ہے جو اسرائیل نے خود انجینئر کی ہے۔
مغربی کنارے کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے یائر دویر کی آواز میں غصہ اور دکھ صاف جھلکتا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ اب اسرائیلی فوج اور یہودی مسلح آبادکاروں کے درمیان فرق مٹ چکا ہے۔
آپ کو کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں، صرف اسرائیلی قیادت کے بیانات دیکھ لیں۔ جب وزراء کھلے عام کہتے ہیں کہ غزہ میں کوئی معصوم نہیں، جب وہ فاقہ کشی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کا اعلان کرتے ہیں اور جب وہ عبرانی میڈیا پر فخر سے کہتے ہیں کہ وہ پورے شہروں کو مٹا دیں گے، تو ارادہ واضح ہو جاتا ہے۔ 70 ہزار سے زائد ہلاکتیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے، ہسپتالوں کی تباہی اور صحافیوں کا قتل محض اتفاق نہیں ہے۔ یہ ایک پوری قوم کو مٹانے کا طے شدہ منصوبہ ہے۔
ان کا ماننا ہے کہ اسرائیل اس وقت مغربی کنارے کومکمل طور پر ضم کرنے کی دوڑ میں ہے تاکہ تیس لاکھ فلسطینیوں کو الگ تھلگ جزیروں میں قید کر دیا جائے اور پورے علاقے پر یہودی برتری کو قانونی شکل دے دی جائے۔ یہ سب کچھ اس لیے ممکن ہو رہا ہے کیونکہ دنیا کی نظریں ایران اور لبنان کے محاذ پر لگی ہیں۔ لبنان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے دویر نے ایک خطرناک حقیقت کی طرف اشارہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے وزیرِ دفاع نے خود تسلیم کیا ہے کہ وہ جنوبی لبنان میں رفح اور بیت حانون ماڈل دہرا رہے ہیں ۔ ’اس کا مطلب ہے؛ بے دریغ بمباری، آبادی کی جبری منتقلی اور دیہاتوں کو ملبے کے ڈھیر میں بدلنا۔ اسرائیل کو لگتا ہے کہ اسے ایک ایسا لائسنس مل گیا ہے جہاں وہ جو چاہے کر سکتا ہے کیونکہ عالمی برادری اسے روکنے میں ناکام رہی ہے۔‘ جنوبی لبنان کے کئی قدیم دیہات اب صرف تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔ جب ان سے عالمی اداروں اور آئی سی سی یعنی عالمی فوجداری عدالت کے بارے میں پوچھا گیا، تو دویر نے نہایت مایوسی کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں جس طرح اسرائیل کو استثنیٰ دی گئی ہے، اس نے عالمی احتسابی نظام کی بنیادیں ہلا دی ہیں۔
آج یہ پہچاننا مشکل ہے کہ کون آبادکار ہے اور کون فوجی۔ آبادکار اب فوجی وردیاں پہن کر اور ریاست کے دیے ہوئے ہتھیاروں سے فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کر رہے ہیں۔ اب تک 59 فلسطینی کمیونٹیز کو ان کی زمینوں سے صاف کیا جا چکا ہے۔
یائر دویر نے ہندوستان اورگلوبل ساؤتھ کے دیگر ممالک کے کردار پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ حکومتیں جو نسل کشی کے اتنے عرصے بعد بھی اسرائیلی پالیسیوں کی حمایت کر رہی ہیں، وہ اپنے ہی اخلاقی وجود کو کھو رہی ہیں۔
ہم انسانی حقوق کے عالمی اصولوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے دم توڑتے دیکھ رہے ہیں۔ یہ صرف فلسطینیوں پر حملہ نہیں ہے، بلکہ یہ اس عالمی قانون کے تصور پر حملہ ہے جس کے تحت ہم سب کو تحفظ ملنا تھا۔ اس کی قیمت آج فلسطینی چکا رہے ہیں، کل پوری انسانیت چکائے گی۔
گفتگو کے اختتام پر دویر نے اسرائیلی معاشرے کی نفسیاتی کیفیت کا نہایت گہرا تجزیہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی معاشرہ ایک ایسے نظام کے تحت پروان چڑھ رہا ہے جہاں بچپن سے ہی فوجی برتری اور فلسطینیوں کی تذلیل سکھائی جاتی ہے۔
گلوبل ساؤتھ کے عوام اب حقیقت جان چکے ہیں۔ انہیں اپنی حکومتوں پر دباؤ ڈالنا چاہیے کہ وہ اس ناانصافی کو ختم کرانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ اسرائیل وہ جمہوریت نہیں ہے جس کا وہ دعویٰ کرتا ہے، بلکہ ایک ظالم اپارتھائیڈ یعنی نسل پرست نظام ہے۔
ان کے اس بیان نےمجھے چونکا دیا کہ کہیں اس وقت ہندوستان میں ہندو فرقہ پرست کی طرف سے جس طرح مسلمانوں کو ایک باضابطہ پلان کے تحت لو جہاد، لینڈ جہاد وغیرہ مفروضوں کو لےکر ایک ویلن کے بطور اکثریتی فرقہ کے سامنے پیش کیا جار ہا ہے کہ کہیں یہ اسی ماڈل کی تیاری تو نہیں ہے؟ یائر دویر کی یہ گفتگو ایک ایسی یاد دہانی ہے کہ جب دنیا تزویراتی چالوں، تہران کے میزائلوں اور واشنگٹن کی ڈپلومیسی میں الجھی ہوتی ہے، تو کہیں دور، ایک محصور پٹی میں انسانیت سسک سسک کر دم توڑ رہی ہوتی ہے۔ بی ٹسلم کا یہ ترجمان ہمیں خبردار کر رہا ہے کہ غزہ کی خاموشی دراصل عالمی ضمیر کی موت ہے۔ اگر آج ہم نے ان چیخوں کو نہ سنا جو بڑی جنگوں کے شور میں دب گئی ہیں، تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ یہ انٹرویو صرف ایک صحافتی تحریر نہیں، بلکہ ایک ایسی حقیقت کا نوحہ ہے جسے دنیا نے اپنی سہولت کے لیے بھلادیا ہے۔غزہ آج بھی وہاں کھڑا ہے جہاں کل تھاتنہا، زخمی اور سسکتا ہواصرف اس فرق کے ساتھ کہ اب اس کی تکلیف عالمی سرخیوں میں نہیں، بلکہ صرف تاریخ کے خونی صفحات میں لکھی جا رہی ہے۔
غزہ میں نسل کشی اس لیے ممکن ہوئی کیونکہ ہم نے عشروں سے اپنے ذہنوں میں فلسطینیوں کو انسان ماننا چھوڑ دیا تھا۔ ریاست کی پروپیگنڈا مشینری نے لوگوں کو یہ یقین دلا دیا ہے کہ ان کی بقا دوسروں کی تباہی میں ہے۔