اندور آلودہ پانی: آڈٹ رپورٹ میں قے اور اسہال کے قہر سے 15 اموات کی تصدیق

اندور میں آلودہ پانی کی وجہ سے ہوئی اموات کے معاملے میں مہاتما گاندھی میموریل میڈیکل کالج کی کمیٹی نے 21 اموات پر اپنی رپورٹ سونپی ہے، جس میں 15 کی وجہ الٹی اور اسہال کو مانا گیا ہے۔ اندور انتظامیہ نے آلودہ پانی پینے سے ہونے والی الٹی اور اسہال کی وجہ سے چھ اموات کی تصدیق کی ہے۔ تاہم، مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ آلودہ پانی پینے سے پھیلی بیماری سے اب تک چھ ماہ کے ایک بچے سمیت 23 مریضوں کی موت ہو چکی ہے۔

اندور میں آلودہ پانی کی وجہ سے ہوئی اموات کے معاملے میں مہاتما گاندھی میموریل میڈیکل کالج کی کمیٹی نے 21 اموات پر اپنی رپورٹ سونپی ہے، جس میں 15 کی وجہ الٹی اور اسہال کو مانا گیا ہے۔ اندور انتظامیہ نے آلودہ پانی پینے سے ہونے والی الٹی اور اسہال کی وجہ سے چھ اموات کی تصدیق کی ہے۔ تاہم، مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ آلودہ پانی پینے سے پھیلی بیماری سے اب تک چھ ماہ کے ایک بچے سمیت 23 مریضوں کی موت ہو چکی ہے۔

اندور کے بھاگیرتھ پورہ میں پائپ لائن کی دیکھ بھال کا کام جاری ہے۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

نئی دہلی:  مدھیہ پردیش کے ایک سرکاری میڈیکل کالج کی ایک کمیٹی نے اندور انتظامیہ کو شہر کے بھاگیرتھ پورہ علاقے میں 21 لوگوں کی موت کے بارے میں ایک آڈٹ رپورٹ سونپی ہے ۔

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ آڈٹ رپورٹ کے مطابق، 15 اموات کا تعلق علاقے میں الٹی اور اسہال سے ہو سکتا ہے۔

مدھیہ پردیش کے محکمہ صحت کے ایک اہلکار نے بتایا کہ مہاتما گاندھی میموریل میڈیکل کالج کی کمیٹی نے ابھی اپنی رپورٹ پیش کی ہی تھی کہ بھاگیرتھ پورہ میں منگل (13 جنوری) کو آلودہ پانی پینے سے متعلق اسہال کے پانچ نئے کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔

اب تک اندور انتظامیہ نے آلودہ پانی پینے سے ہونے والی الٹی اور اسہال کی وجہ سے چھ لوگوں کی موت کی تصدیق کی ہے۔ تاہم مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ آلودہ پانی پینے سے پھیلی بیماری سے چھ ماہ کے ایک بچے سمیت 23 لوگوں کی جان گئی ہے۔

معلوم ہو کہ 24 دسمبر سے 6 جنوری کے درمیان اندور کے بھاگیرتھ پورہ میں شدید الٹی اور اسہال کی وجہ سے کئی لوگوں کی موت ہو گئی تھی، جبکہ کئی لوگوں کو ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔

ضلع مجسٹریٹ شوم ورما نے منگل کو کہا،’بھاگیرتھ پورہ میں ہونے والی اموات کی وجوہات کا تجزیہ کرنے کے لیے کالج کے سینئر ڈاکٹروں کی ایک کمیٹی بنائی گئی تھی۔ اس کمیٹی نے اپنی رپورٹ پیش کر دی ہے۔’

معلوم ہوکہ 29 دسمبر کو قے اور اسہال کے پھیلنے کے بعد سے اب تک کل 436 مریض اسپتالوں میں داخل ہوچکے ہیں۔

پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق، ان میں سے 403 مریضوں کو صحت یاب ہونے کے بعد ڈسچارج کر دیا گیا، جبکہ 33 مریض اب بھی اسپتال میں داخل ہیں جن میں سے 8 اسپتالوں کے آئی سی یو میں ہیں۔

غور طلب ہے کہ  اندور شہر کے بھاگیرتھ پورہ میں نرمدا ندی کی پائپ لائن میں ڈرینج لائن کا پانی مل جانے سے سپلائی کا پانی آلودہ ہو گیا تھا ۔ 3 جنوری کو میونسپل کارپوریشن نے بھاگیرتھ پورہ سے بیکٹیریا کی جانچ کے لیے 51 نمونے جمع کیے اور ان میں سے 35 میں فیکل کالیفارم بیکٹیریا کے نشانات پائے گئے۔

اخبار کے مطابق، ارتکاز 13 سے 360 فی ملی لیٹر تک ہے، جبکہ بھارتی معیارات کے مطابق، محفوظ حد صفر ہے۔ اندور میونسپل کارپوریشن کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ بھاگیرتھ پورہ میں پائی گئی آلودگی کی سطح محفوظ حد سے کہیں زیادہ ہے۔