ہندوستان میں مذہبی آزادی کی صورت حال تشویش ناک: امریکہ

امریکی انتظامیہ نے ہندوستان میں مذہبی آزادی پر قدغن لگانے کی مودی حکومت کے اقدامات اور اقلیتوں پر ہونے والے حملوں کی سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کویقینی بنانے پر زور دیا ہے۔

امریکی انتظامیہ نے ہندوستان میں مذہبی آزادی پر قدغن لگانے کی مودی حکومت کے اقدامات اور اقلیتوں پر ہونے والے حملوں کی سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کویقینی بنانے پر زور دیا ہے۔

(فوٹو : رائٹرس)

(فوٹو : رائٹرس)

نئی دہلی : ہندوستان کا کہنا ہے کہ دنیا ہندوستان کی شاندار جمہوری روایات سے اچھی طرح واقف ہے اورامریکہ کو ہندوستان کے داخلی معاملات پر تبصرہ کرنے کا ’کوئی حق نہیں‘ ہے۔ہندوستانی وزارت خارجہ کے ترجمان انوراگ سریواستوا نے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی طرف سے جاری کردہ ’بین الاقوامی مذہبی آزادی رپورٹ 2019‘ کے حوالے سے میڈیا کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ رپورٹ امریکی پارلیامنٹ کی قانونی ضرورتوں کے لیے شائع کی جانے والی داخلی دستاویز ہے اور ہندوستانی شہریوں کو آئین کی طرف سے حاصل اختیارات کے بارے میں کسی غیر ملکی ادارے کو بولنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

حقوق انسانی کی تنظیم ساؤتھ ایشین ہیومن رائٹس ڈاکیومنٹیشن کے صدر روی نائر نے اس حوالے سے ڈی ڈبلیو اردو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی اہم رپورٹ ہے اور ہندوستان نے اس کی جس طرح پرزور طریقے سے تردید کی ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس رپورٹ کو خود امریکی وزیر خارجہ نے جاری کیا ہے اور اب اسے کانگریس اور اس کی مختلف کمیٹیوں میں پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ اس رپورٹ پر کارروائی ہونے میں کچھ وقت لگے لیکن ہندوستان یہ جانتا ہے کہ اگر اس رپورٹ پر کارروائی ہوئی تو اس کے انتہائی دور رس مضمرات ہوں گے۔

ہندوستانی وزارت خارجہ کے ترجمان انوراگ سریواستو کا کہنا تھا؛ہندوستان کی زندہ جمہوری روایات اور طریقہ کار سے دنیا اچھی طرح واقف ہے۔ ہندوستان کی حکومت اور عوام ملک کے جمہوری روایات پر فخر کرتے ہیں۔ ہندوستان میں ہمارے یہاں باہمی تبادلہ خیال کی ایک ٹھوس روایت ہے اور آئینی ادارے اور قانون مذہبی آزادی کی حفاظت کی ضمانت دیتا ہے۔

حقوق انسانی کے علمبردار روی نائرکہتے ہیں کہ ہندوستان میں جمہوریت تو ہے لیکن اقلیتوں کے حالات ٹھیک نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ہندوستان نہیں ہے جہاں ادارے اور تنظیمیں سربراہ مملکت کے حکم کے آگے سربسجود ہوجائیں۔ امریکہ کے ادارے آزاد ہوتے ہیں اور ان کی رپورٹوں پر توجہ دی جاتی ہے۔ ہندوستان میں اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے سلوک کے مدنظر امریکی کمیٹیاں ہندوستان کے سرکاری اہلکاروں کو امریکی ویزے نہیں دینے اور ہندوستان کو مالی امداد دینے پر روک لگانے کی سفارش کرسکتی ہیں۔

لیکن کیا اس طرح کی رپورٹوں پر ہندوستان کان دھرے گا؟ اس سوال کے جواب میں روی نائر کا کہنا تھا ’موجودہ حکومت سے تو اس کی توقع نہیں ہے کیوں کہ یہ دونوں کان کی بہری ہے۔ اسے شاید کچھ سنائی نہیں دے گا۔  یہ سوجھ بوجھ کی سرکار نہیں بلکہ راہل گاندھی کے بقول ’سوٹ بوٹ کی سرکار‘ ہے۔ لیکن سال دو سال میں اس کے نتائج دیکھنے کو مل جائیں گے اس لیے بہتر ہے کہ وہ اس پر جلد از جلد کان دھرے۔

خیال رہے کہ امریکی انتظامیہ کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا کہ ہندوستان میں حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت ہندو اکثریتی جماعتوں کے ذمہ داروں نے اقلیتوں کے خلاف اشتعال انگیز بیانات دیے جبکہ سوشل میڈیا پر بھی مہم چلائی گئی۔ بی جے پی کے حوالے سے رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ انہوں نے گائے کے تحفظ کے نام پر تشدد کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ ان کارروائیوں میں قتل، ہجومی تشدد اور ڈرانے دھمکانے کے واقعات شامل ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تشدد برپا کرنے والوں کو قانونی کارروائی سے بچایا گیا جبکہ متاثرین کے خلاف ہی کارروائی کی گئی۔

رپورٹ میں جموں و کشمیر کو خصوصی آئینی حیثیت دینے والی دفعہ 370 کے خاتمے، پارلیامنٹ کے ذریعے شہریت ترمیم ایکٹ(سی اے اے)کی منظوری اوربابری مسجد تنازعہ کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے کا بطور خاص ذکر کیا گیا ہے۔

دفعہ 370 کو ختم کرنے کے حوالے سے رپورٹ میں تفصیلی ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے؛اس دفعہ کے خاتمے کے خلاف زبردست احتجاج ہوئے، مسلم رہنماوں نے اس پر نکتہ چینی اور اپوزیشن سیاسی جماعتوں،حقوق انسانی کے کارکنوں اور دیگر لوگوں نے سپریم کورٹ میں اس فیصلے کو چیلنج کیا۔ حکومت نے ہزاروں اضافی سیکورٹی فورسز علاقے میں بھیج دیے، انٹرنیٹ اور فون لائنیں کاٹ دیں اور اس سال کے اواخر تک مواصلاتی خدمات پوری طرح بحال نہیں کی گئیں۔ حکومت نے دسمبر کے وسط تک تمام مساجد بھی بند کردیے،سینکڑوں لوگوں کو جیلوں میں ڈال دیا اور مظاہروں کے دوران 17سویلین اور تین سیکورٹی اہلکار مارے گئے۔

رپورٹ میں گزشتہ دسمبر میں ہندوستانی پارلیامان سے منظور شہریت ترمیم قانون کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ قانون پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش سے آئے ہندو، سکھ، بودھ، جین، پارسی اور عیسائیوں کو شہریت دینے کی وکالت کرتا ہے لیکن مسلمانوں، یہودیوں، لامذہب اور دیگر مذاہب کے ماننے والوں کو ایسی سہولت دینے سے انکار کرتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس قانون کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے ہوئے، جن میں کم از کم 25 افراد ہلاک اور سینکڑوں دیگر زخمی ہوئے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل مذہبی آزادی سے متعلق امریکی کمیشن نے بھی ہندوستان میں اقلیتوں پر ہونے والے حملوں پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

دریں اثنا ہندوستان نے امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی(یو ایس سی آئی آر ایف) کی ملک میں اقلیت کو درپیش مسائل کا زمینی جائزہ لینے کی غرض سے دی گئی سفری درخواست مسترد کردی اور کہا کہ غیر ملکی پینل کو ہندوستانی شہریوں کے آئینی حقوق کا جائزہ لینے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ وزیر خارجہ سبرامنیم جئے شنکر نے حکمراں جماعت کے ایک رکن پارلیامان کو تحریرکردہ خط میں کہا ہے کہ؛ہم نے یو ایس سی آئی آر ایف ٹیموں کے ویزا سے انکار کردیا ہے جو مذہبی آزادی سے متعلق امور کے سلسلے میں ہندوستان آنے کے خواہاں تھے۔