انٹرویو:فلم ’ستلج‘ کو او ٹی ٹی پلیٹ فارم سے ہٹائے جانے کے بعد پہلی بار بات کرتے ہوئے فلمساز ہنی تریہن نے کہا کہ ’ستلج‘ پر پابندی لگائی جا سکتی ہے، لیکن جسونت سنگھ کھالڑا کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ تریہن کہتے ہیں کہ ’ستلج‘ پنجاب کے زخموں پر مرہم کی طرح ہے، لیکن اسے بین کیا گیا کیونکہ یہ پھوٹ ڈالو اورراج کرو کی سیاست کو بڑھاوا نہیں دیتی۔
فلم کا پوسٹر (بائیں) شوٹ کے دوران اداکاروں کے ساتھ ہنی تریہن (دائیں)۔(تصویر بہ شکریہ:آئی ایم ڈی بی اور ہنی تریہن)
آخرکار اس بات کی تصدیق ہو چکی ہے کہ ’ستلج‘ پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ تاہم، اس پابندی کے باوجود یہ فلم پنجاب کے گاؤں دیہات تک پہنچ چکی ہے اورلگاتار کہیں نہ کہیں سے اس کی عوامی نمائش کی خبریں موصول ہورہی ہیں۔ فلمساز ہنی تریہن جب یہ فلم بنا رہے تھے تو ان کی عمر 42 سال تھی، تقریباً اتنی ہی جتنی فلم کے مرکزی کردار جسونت سنگھ کھالڑا کی تھی، جب انہوں نے صوبے میں ہونے والی اغوا کی وارداتوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے قتل کو درج کرنے کی شروعات کی تھی۔
مختلف مرکزی وزارتوں کے ارکان پر مشتمل ایک بین وزارتی کمیٹی کی جانب سے فلم پر پابندی لگائے جانے کے بعد، پہلی بار سینئر صحافی ہریندر باویجہ سے بات کرتے ہوئے تریہن نے فلم کے حوالے سے سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفیکیشن (سی بی ایف سی) کے ساتھ چار سال تک جاری کھینچ تان کے بارے میں بتایا۔ اس بات چیت کے ترمیم شدہ اقتباس-
’ستلج‘ فلم پر آخرکار ملک میں اور بین الاقوامی سطح پر پابندی لگا دی گئی۔ آپ کو مایوسی تو ہوئی ہوگی۔ کیا آپ اس بارے میں اپنے جذبات کا اظہار کرنا چاہیں گے؟
سچ کہوں تو میں پرجوش ہوں۔ کم از کم فلم باضابطہ طور پر ریلیز تو ہوئی اور ڈھائی دن تک دستیاب بھی رہی، اور لوگ اسے دیکھ سکے۔ کسی بھی فلمساز کے لیے سب سے اہم بات یہی ہوتی ہے کہ اس کے کام کو دیکھا جائے۔ اور پھر فلم کے بعد آنے والے ردعمل… میں جذبات سے مغلوب ہوں۔ مجھے اس طرح کے ردعمل کی توقع نہیں تھی، اگرچہ مجھے یقین تھا کہ فلم اور اس کا پیغام بے حد ضروری ہے، لیکن مجھے جو محبت اور پذیرائی ملی وہ میری توقعات سے کہیں زیادہ تھی۔
میں اس کا مستقبل کسی ’ممنوعہ‘ فلم کے طور پر نہیں دیکھتاہوں، کیونکہ یہ اظہار رائے کی آزادی اور جمہوریت کے خلاف ہے۔ ہاں، یہ بات مجھے ضرور مایوس کرتی ہے کہ اس کے پائریٹیڈ ورژن دیکھے جا رہے ہیں۔ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ’ستلج‘ اتنی جلدی ایک تحریک کی شکل اختیار کر لے گی اور لوگ اسے ڈاؤن لوڈ کرنے لگیں گے۔ اتنی محبت، تعریفیں اور حوصلہ افزائی مسحور کن ہے۔
مرکزی وزارت داخلہ، قانون، دفاع اور خواتین و اطفال کی ترقی کی وزارتوں کے افسران پر مشتمل بین وزارتی کمیٹی کے مطابق یہ فلم ملکی مفاد کے خلاف ہے اور ہندوستان کی خودمختاری کے لیے خطرہ ہے۔ کیا کہیں گے اس بارے میں ؟
میں اس بات کو نہیں مانتا۔ میرا یقین ہے کہ ہم ایک مضبوط قوم ہیں، اور میں یہ بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میری فلم کو قانونی منظوری حاصل ہوئی ہے۔ یہ سمجھنا ہوگا کہ جب کوئی فلمساز کسی پروڈیوسر کے پاس اسکرپٹ لے کر جاتا ہے تو پروڈیوسر پہلے کہانی سنتا ہے۔ رونی اسکریو والا کو اسکرپٹ بہت پسند آئی تھی، اور پھر انہوں نے اسے قانونی اداروں کو بھیجا۔ اس کے بعد وکیلوں نے اسے منظوری دی۔ پروڈیوسر اسی لیے سرمایہ کاری کے لیے تیار ہوئے کیونکہ اسکرپٹ کو قانونی طور پر منظور کیا گیا تھا۔
لیکن وہ پرائیویٹ لا فرمز رہے ہوں گے؟
ہاں، لیکن وہ بڑی فرمیں ہیں، اور ان کی منظوری کا مطلب یہ ہے کہ پروڈیوسر اطمینان کے ساتھ سرمایہ کاری کر سکتے ہیں، کیونکہ فلم بنانے میں کافی پیسہ لگتا ہے۔ اور میں آپ کو بتاتا ہوں کہ جب ہم (سی بی ایف سی کی جانب سے ’کٹ‘ لگانے کی صلاح کے بعد) فلم کولے کر بامبے ہائی کورٹ تب کیا ہوا تھا۔آخری سے پہلی شنوائی میں جج صاحب نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ فلم میں کسی کٹ کی ضرورت ہے۔
صرف ایک سماعت باقی تھی اور جج چاہتے تھے کہ اگلے ہی دن معاملہ ختم کر دیا جائے۔ لیکن سی بی ایف سی نے درخواست کی کہ اسے کچھ دنوں کے لیے ٹال دیا جائے۔ جج صاحب کے ردعمل سے انہیں اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ یہ مقدمہ ہار رہے ہیں۔
اس کے بعد سارا دباؤ رونی اسکریو والا پر آ گیا۔ انہیں دہلی بلایا گیا، جہاں ان سے عدالت کے باہر سمجھوتہ کرنے اور ہائی کورٹ سے مقدمہ واپس لینے کے لیے کہا گیا۔
اقتدار سے لڑنا آسان نہیں ہوتا۔ اس کے ساتھ ہی رونی کو ٹورنٹو فلم فیسٹیول سے بھی فلم واپس لینے کے لیے کہا گیا۔
رونی کو کس نے بلایا تھا؟
انہوں نے یہ کبھی نہیں بتایا۔
’پنجاب 95‘کا پوسٹر(بہ شکریہ: آئی ایم ڈی بی)
واضح طور پر حکومت کے اندر سے ہی کسی نے ایسا کیا ہوگا؟
ہاں، یقیناً۔ اور پھر چونکہ اس وقت سی بی ایف سی نے فلم میں 21 کٹس بتائے تھے، تو میں نے سوچا کہ ٹھیک ہے، چلوہم وہ کٹس لگا دیں گے، لیکن فلم کو ٹورنٹو انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں تو ریلیز ہونے دیں، کیونکہ اس کے لیے تو کسی سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں تھی۔
لیکن رونی نے کہا، ’نہیں، ہنی، تم سمجھ نہیں رہے، بہت زیادہ دباؤ ہے۔‘ انہوں نے کہا،’تم نے بہت پیاری فلم بنائی ہے، ہم کچھ ایڈجسٹ کر تے ہیں۔‘ پھر ہم نے فلم کو 21 کٹس کے ساتھ دوبارہ سینسر بورڈ کے پاس جمع کرا دیا۔ رونی کو لگا تھا کہ ہمیں منظوری مل جائے گی، لیکن بورڈ مزید کٹس کی تجویز دیتا رہا۔شروعات 21 سے ہوئی اور آخر تک پہنچتے پہنچتے یہ تعداد 127 تک جا پہنچی۔ میں بس یہی سوچ رہا تھا کہ آخر ہو کیا رہا ہے؟ اور کیسے میں اپنی فلم کو بچالوں؟
اسی دوران کسی نے رونی سے وعدہ کیا کہ فلم کو منظوری مل جائے گی کیونکہ چیئرمین صاحب (سی بی ایف سی کے صدر) خود اسے دیکھیں گے۔
لیکن دوسری طرف سے جھٹکے ملتے رہے- 65 کٹ، پھر 85 کٹ۔ ریوائزنگ کمیٹی نے سات بار فلم دیکھی، جبکہ سینماٹوگراف قانون کے حساب سے کمیٹی کسی فلم کو صرف دو بار دیکھ سکتی ہے۔
پچاسی (85)کٹ لگائے جانے کے بعد مجھے یہ بات سمجھ آ گئی تھی کہ میری فلم بری طرح سےکٹ جانے والی ہے، اور مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اس کے نیریٹو کو کیسے بچاؤں۔ یہی سب چل رہا تھا۔ چیئرمین صاحب کو فلم دیکھنی تھی، مگر ایک ماہ تک ایسا کچھ نہیں ہوا۔ اور مہینہ گزرنے کے بعد سی بی ایف سی کے وکیل نے ایک خط بھیجا… جس میں 127 کٹ بتائے گئے تھے۔
میرا ردعمل یہی تھا کہ یہ تو نہیں پائے گا۔ رونی نے کہا، ’ہنی، مجھے فلم ریلیز کرنی ہے۔‘ میں نے کہا،’رونی، اگر تمہارا ضمیر اجازت دے تو تم اسے کسی اور سے ایڈٹ کروا سکتے ہو؛ تم فلم ریلیز کر سکتے ہو… مجھے پتہ ہے کہ فلم میں تمہارا پیسہ لگا ہے۔‘
اس وقت سی بی ایف سی کے چیئرمین کون تھے؟
پرسون جوشی۔
وہ خود فلم انڈسٹری کا حصہ ہیں۔ یہی مانا جاتا ہے کہ انہیں تو فلم بنانے والوں کے حق میں ہونا چاہیے تھا…
سب ایسا چاہتے ہیں، لیکن وہ [پرسون جوشی] [ایک ماہ کے لیے] غائب ہو گئے اور رونی پوری طرح ہل گئے تھے۔ ہم نے اسی امید کے ساتھ 85 کٹ لگا دیے تھے کہ اب تو ہمیں سرٹیفکیٹ مل جائے گا۔
اچھامیں ایک بات کے بارے میں میں بالکل واضح تھا… کہ اگر عدالت یہ کہہ رہی ہوتی تو میں ڈیڑھ سو کٹ لگا دیتا۔ لیکن اگر یہ کام کرنے کے لیے کوئی ایسا شخص کہہ رہا ہے جس کے ذہن میں اپنی سیاست اور اپنا ایجنڈا چل رہا ہے، تو میں تبدیلیاں نہیں کرنے والا۔ میں اس سب کے لیے بنا ہی نہیں ہوں۔
ان سب کے باوجود رونی، جنہیں خود فلم بہت پسند ہے، ایک سال تک لوگوں تک پہنچنے کی کوشش کرتے رہے، لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔
جب آپ لوگوں کی سی بی ایف سی کے ساتھ کھینچ تان چل رہی تھی، اس وقت دلجیت دوسانجھ بھی وزیر اعظم نریندر مودی سے ملے تھے…
میں نے ان سے اس بارے میں کبھی نہیں پوچھا۔ آپ وزیر اعظم سے مل کر یہ نہیں کہہ سکتے نہ کہ، سر، پلیز میری فلم ریلیز کروانے میں مدد کر دیں۔میں تو ایسا نہیں کروں گا۔
وہ کون سے حصے کٹوانا چاہتے تھے؟ سی بی ایف سی کو کن باتوں سے پرہیز تھا؟ ان کے اعتراض کیا تھے؟ اور کٹ کی تعداد بڑھانے کے پیچھے کیا ایجنڈا لگ رہا تھا؟
میں یہ سمجھ نہیں پایا، کیونکہ مجھے ان تبدیلیوں کی کوئی مناسب وجہ نظر نہیں آئی۔ وہ ’پنجاب‘لفظ ہٹانا چاہتے تھے۔ سی بی ایف سی نے کہا کہ پنجاب کہنے کے بجائے آپ یہاں اور وہاں کیوں نہیں کہتے۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ ہم’پنجاب پولیس‘کہیں۔
لیکن پولیس والے سکھ ہیں اور بنیادی بات یہ ہے کہ فلم جسونت سنگھ کھالڑا پر مبنی ہے…
ٹھیک یہی بات میں نے کہی تھی۔ دوسرے کس صوبے میں سردار [سکھ] پولیس والے ہیں؟ میں نے ان سے کہا، مجھے اس ریاست کا نام بتائیں، میں وہی لکھ دوں گا۔
ہمیں بتایا گیا کہ ہم دلی، دیش، سسٹم، اسٹیٹ نہیں کہہ سکتے… انہوں نے کہا کہ ایکسٹرا جوڈیشل (ماورائے عدالت)، جوڈیشری (عدلیہ)، قانون جیسے الفاظ کا استعمال نہ کریں… یہاں تک کہا گیا کہ اندرا گاندھی کا نام نہ لیں۔
فلم میں ایک لائن ہے کہ اندرا گاندھی کو مرے 11 سال ہو چکے ہیں اور پنجاب حکومت کو بنے تین …
یہ ایک فیکٹ ہے، ہے نا؟ اندرا گاندھی کا قتل 1984 میں ہوا اور ’ستلج‘، جس کا نام اس وقت پنجاب 95 تھا، سال 1995 کے حوالے سے ہے، وہی سال جب کھالڑا کو اغوا کیا گیا اور قتل کر دیا گیا۔
پھر مجھے یہ بھی خیال آیا کہ یہاں اندرا گاندھی کے بارے میں ایک پوری فلم بن چکی ہے جس کا نام ’ایمرجنسی‘ ہے، اور یہاں میں ایک لائن میں بھی ان کا ذکر نہیں کر سکتا… یہ تکلیف دہ تھا۔ اور تو اور، انہوں نے ہم سے پوری فلم سے گُربانی ہٹانے کے لیے بھی کہا۔
لیکن گُربانی تو امن اور سکون کا پیغام ہے…
جب بھی میں وجہ پوچھتا تو وہ کہتے کہ سوال مت پوچھو، جو ہم کہہ رہے ہیں وہ کرو۔ انہیں غائب ہوئے لوگوں کے پچیس ہزار کے اعداد و شمار سے بھی مسئلہ تھا۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ آپ شمشان گھاٹ کا نام نہیں لے سکتے، کسی بھی شمشان گھاٹ کے بارے میں بات نہیں کر سکتے، چاہے وہ درگیانا ہو، پٹی ہو یا ترن تارن۔
لیکن ستلج ایک حقیقی انسان کی کہانی پر مبنی ہے، جنہیں اغوا کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔ یہ سی بی آئی کا کیس تھا اور پولیس اہلکاروں کو مجرم قرار دیا گیا تھا، معاملہ سپریم کورٹ تک گیا تھا…
میں نے انہیں یہی بات بتائی، جس پر انہوں نے کہا، ’آپ 30 سال پہلے ہوئی کسی بات کو دوبارہ کیوں لانا چاہتے ہیں؟‘ اس کے جواب میں کوئی کیا کہہ سکتا ہے؟ وہ نہیں چاہتے تھے کہ ہم ہندوستانی ترنگا یا کینیڈا کا جھنڈا دکھائیں!
لیکن ترنگا پنجاب کا بھی اتنا ہی ہے جتنا کسی دوسرے صوبے کا؟
میں نے بھی یہی کہا کہ آپ پنجاب کو ہندوستان کا حصہ نہیں مانتے! انہوں نے کہا، یہ سب باتیں مجھ سے مت پوچھو یا مجھے مت بتاؤ۔ پھر میں نے اس وقت کے سی ای او سے پوچھا، ’سر، کیا آپ نے فلم دیکھی ہے؟‘ انہوں نے کہا، ’نہیں، لیکن دیکھنے کی سوچ رہا ہوں۔‘ میں نے کہا، ’سر، پلیز اوریجنل والی دیکھیں۔‘ اس پر انہوں نے کہا، ’نہیں، اگر مجھے فلم پسند آ گئی تو… ‘
ایسے وقت میں فلمساز ہونا کتنا مشکل ہے، جب پروپیگنڈا فلموں کو سیاسی شخصیات کی حمایت مل رہی ہے اور ستلج جیسی حقیقی واقعات پر مبنی فلم، جو ماورائے عدالتی قتل اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بات کرتی ہے، اور جس پر پابندی لگا دی جاتی ہے۔
میری فلم حکومت کے حق میں کچھ بھی نہیں کرتی ہے۔ مجھے ایک میٹنگ میں واضح طور پر کہا گیا تھا- ’بہت اچھی فلم ہے، لیکن اس میں ہمارے لیے کیا ہے؟‘ پہلے وہ [سی بی ایف سی] یہ ماننے کو تیار نہیں تھے کہ یہ فلم ایک سچی کہانی پر مبنی ہے۔ میں نے کہا، مجھے ایک ہفتے کا وقت دیں، پھر میں امرتسر واپس آیا اور 1,800 صفحات کی تحقیق کر کے انہیں دی۔ انہوں نے تب فلم دیکھی، پھر میں نے کہا، ’تو اب آپ جانتے ہیں کہ یہ ایک سچی کہانی ہے؟‘
ترمیمی کمیٹی کے سربراہ نے کہا، ’ہاں، یہ ایک سچی کہانی ہے، تریہن جی۔ میں مانتا ہوں، لیکن کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ آج کے وقت میں اتنی زور سے کون سچ بولتا ہے؟‘
ایک اور بات بتاتا ہوں، میرے ساتھ کٹ کے لیے بات چیت کرنے والے افسران میں سے ایک چاہتے تھے کہ ترلوک پوری [دہلی کا وہ علاقہ جہاں اندرا گاندھی کے قتل کے بعد 1984 کے فسادات میں سکھوں کو زندہ جلا دیا گیا تھا] کا نام بدل کر ’خان پوری‘ کر دیا جائے۔ میں نے ان سے کہا کہ یہی فلم کا مرکز ہے، تو انہوں نے کہا، ’کیا فرق پڑتا ہے، خان پوری کر دیں نہ۔‘ [مسلم] مخالف ایجنڈا آگے بڑھایا جا رہا تھا۔ ان کے لیے یہ ایک عام سی بات تھی۔
میڈیا سمیت فلم کے ناقدین پوچھ رہے ہیں کہ آپ 25,000 ہلاکتوں کے اعداد و شمار تک کیسے پہنچے؟
یہ سوال درست ہے اور یہ بات کئی عوامی دستاویزوں میں موجود ہے! یہ تعداد عوامی ریکارڈ کا حصہ ہے۔ کھالڑا کی تقریر، جسے کوئی بھی دیکھ سکتا ہے، یوٹیوب پر موجود ہے، اس میں ان کا دیا ہوا عدد تقریباً 25,000 ہے۔ میں نے اسی کو مدنظر رکھا کیونکہ یہ کھالڑا پر بنی فلم ہے اور ان کی کہی ہوئی یہ بات برسوں سے پبلک ڈومین میں ہے۔
لیکن سی بی آئی نے اپنی جانچ میں یہ تعداد 2,000 سے زیادہ نہیں بتائی تھی؟
نہیں، نہیں، نہیں، میرے پاس اس کی جانکاری تو نہیں ہے۔ بس ایک بات اور جوڑنا چاہوں گا، کھالڑا ہمیشہ کہتے تھے کہ یہ تعداد تقریباً 25,000 تھی۔ ٹھیک ہے؟ یہاں تک کہ وکیل راجویندر سنگھ بینس نے بھی یہ تعداد 17,000 سے 18,000 سے زیادہ بتائی تھی۔
شوٹنگ کے دوران ہنی تریہن اور اداکار دلجیت دوسانجھ۔ (بہ شکریہ: ہنی تریہن)
دوسری تنقید یہ کی جا رہی ہے کہ کھالڑا شدت پسند خالصتانی رہنما جرنیل سنگھ بھنڈراں والے، جو شورش کے سیاہ دور کے مرکز میں رہا، کے حامی تھے، اور کھالڑا نے اندرا گاندھی کے قاتلوں کی تعریف کی تھی۔ آپ کی فلم میں ان دونوں باتوں کا کوئی ذکر نہیں ہے…
یہ بہت سبجیکٹیو بات ہے۔ میری فلم کوئی سیاسی فلم نہیں ہے؛ یہ کسی کے کردار کا تجزیہ نہیں کر رہی۔ میری فلم صرف انسانی حقوق کے بارے میں ہے۔ ایک عام آدمی کس کے لیے کھڑا تھا، اور اس کی لڑائی کیا تھی، اور اس انسان کے ساتھ کیا ہوا۔
پوری فلم میں میں کسی سیاسی جماعت کا نام نہیں لے رہا ہوں۔ مجھے اچھی طرح پتہ تھا کہ وہ [کھالڑا] اکالی دل کی انسانی حقوق یونٹ کے جنرل سکریٹری تھے، لیکن میں نے کبھی اس کا ذکر نہیں کیا۔ ان کے وزٹنگ کارڈ میں یہ لکھا تھا، لیکن میں نے اسے ہٹا دیا کیونکہ میں فلم کو سیاسی رنگ نہیں دینا چاہتا تھا۔
اگرکھالڑا مجرم تھے، یا اگر وہ خالصتانی تھے، تو چلیے دیکھتے ہیں کہ پنجاب پولیس نے اپنی گواہی میں کیا کہا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس کھالڑا کے خلاف ایک بھی شکایت نہیں تھی: کوئی ایف آئی آر نہیں، ان کے خلاف کوئی فوجداری مقدمہ درج نہیں کیا گیا تھا۔
میرے لیے کھالڑا ایک ایسے شخص ہیں جو سرکاری ریکارڈ میں بے داغ تھے، ایک ایسا انسان جو سسٹم کے خلاف کھڑا ہوا۔ سی بی آئی نے پایا تھا کہ ان کا اغوا کیا گیا اور قتل کر دیا گیا۔ ایجنسی نے پایا کہ ان کے اپنے لوگ [پولیس اہلکار] اس جرم کے ذمہ دار تھے۔ مجھے لگتا ہے کہ میری فلم ہندوستانی آئین کو بھی ایک اچھی روشنی میں دکھاتی ہے۔
لیکن کیا آپ ذاتی طور پر اس بات سے مضطرب نہیں ہیں کہ انہوں نے اندرا گاندھی کے قاتلوں کی تعریف کی؟
نہیں، مجھے نہیں لگتا کہ انہوں نے ان کی تعریف کی۔ میں نے بہت تحقیق کی ہے۔ اور اگر وہ بھنڈراں والے کو سنت کہہ رہے تھے، تو کیا یہ جرم ہے؟ پنجاب کے اسی فیصد لوگ بھنڈراں والے کو سنت کہتے ہیں۔
میرا کام ان کی لڑائی کو دکھانا تھا، اور ماورائے عدالتی ہلاکتوں کے (متاثرین) کے لیے انہوں نے کتنی محنت کی یہ بتاناتھا۔ میں نے اس کہانی کو عزت اور وقار کے ساتھ بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔
یہ تنقید بھی کی جا رہی ہے کہ میں نے دوسرے فریق کے بارے میں بات نہیں کی۔ جو بھی دوسرے پہلو پر فلم بنانا چاہتا ہے، وہ مکمل طور پر آزاد ہے۔ یہ ایک آزاد ملک ہے، بولنے کی آزادی ہے۔ آپ مجھے کیوں بتا رہے ہیں؟ اور صاف کہوں تو، میرے مرکزی کردار ہی دوسری طرف کے بارے میں بات کرتے ہیں۔
اگر آپ کو یاد ہو، جب ارجن رام پال کا کردار پوچھ گچھ کے لیے سگا کے پاس آتا ہے تو سگا اس سے کہتا ہے،ہماری ایک گولی کتنی گولیوں کے جواب میں چلتی ہے، وہ تجھے باہر سے پتہ نہیں چلے گا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو پکڑے نہیں جاتے، جن کے لیے ہمیں آرمی بلانی پڑتی ہے، توپیں بھی کم پڑ جاتی ہیں… ‘
کے پی ایس گل کے کردار میں اداکار کنول جیت سنگھ۔بہ شکریہ: آئی ایم ڈی بی
جو لیڈر کہتے ہیں کہ پنجاب کے ہندو کب جاگیں گے، وہ خود بہرے اور گونگے ہیں۔ انہیں بار بار ستلج دیکھنے کی ضرورت ہے۔ فلم میں جب نئے وزیر اعلیٰ آتے ہیں تو بٹا (کے پی ایس گل) ان سے کہتے ہیں کہ پنجاب میں شورش ختم ہو گئی ہے اور یہ سب انہوں نے ہی کیا ہے۔
اس پر وزیر اعلیٰ جواب دیتے ہیں،’ آپ نے صحیح کیا، لیکن اب نوکر شاہی کو سنبھالنے دو کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ یہ ریاست اب پولیس اسٹیٹ بنا رہے۔‘
سب کچھ صاف صاف طور پر کہا جا رہا ہے، لیکن میں ایسا فلمساز نہیں ہوں جو ڈھنڈورا پیٹتا ہو۔ اپنی کہانیاں بیان کرنے کا میرا ایک اپنا وقار ہے، میں کہانی اسی طرح سناؤں گا جس طرح مجھے اچھا لگے گا۔ ایک فلمساز کے طور پر یہی میرا طریقہ ہے۔
چلیے زی فائیو پر آتے ہیں، یہ پلیٹ فارم فلم دکھانے کے لیے کیسے راضی ہوا؟ ان کا سیاسی جھکاؤ تو کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔
ایمانداری سے کہوں تو مجھے اس بارے میں اطلاع دی گئی تھی۔ پہلی بار جب فلم کا نام ‘گھلوگھارا’ (نسل کشی کے لیے پنجابی لفظ) رکھا گیا تھا، تب میرے ذہن میں دو اور نام تھے- ’پنجاب 95 ‘ اور’ستلج‘۔ او ٹی ٹی کو سی بی ایف سی کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ مجھے شروع سے ہی ’ستلج‘ ٹائٹل بہت خوبصورت لگ رہا تھا۔ میں نے صرف یہ کہا تھا کہ میں فلم میں کسی بھی طرح کے کٹ کے خلاف ہوں، تب مجھے بتایا گیا کہ زی فائیو کو اس بار اس سے کوئی پریشانی نہیں ہے۔
ایک ایسی فلم جو ایسے سیاسی وقت کی کہانی بیان کرتی ہے جس میں بی جے پی نہیں ہے، اسے کیوں روکا جا رہا ہے؟ آپ اس بارے میں کیا سوچتے ہیں؟ فلم دیکھنے والے تو یہی کہہ رہے ہیں کہ وہ سیاہ دور دوبارہ واپس نہیں آنا چاہیے۔
اس بات سے میری سمجھ بھی بنی ہے اور مجھے سبق بھی ملا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ فلم نے پنجاب کو ایک ساتھ لا دیا ہے۔ سی بی ایف سی امن و امان کے جن مسائل کی بات کر رہا تھا، وہ کہاں ہیں؟ جب ہزاروں لوگ اسکریننگ میں بیٹھ کر فلم دیکھ رہے ہوتے ہیں تو وہاں نہ کوئی ذات پات ہوتا ہے، نہ اونچ نیچ، نہ امیر غریب ۔ ہندو اور سکھ ایک ساتھ فلم دیکھ رہے ہیں۔
پورا پنجاب اس فلم کو دیکھنے کے لیے ساتھ آ رہا ہے کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ کوئی ان کے درد کے بارے میں بول رہا ہے۔ ستلج ان کے زخموں پر مرہم کی طرح ہے، لیکن اسے بین کر دیا گیا ہے کیونکہ ان کی سیاست پھوٹ ڈالو اور راج کروکے اصول پر مرکوز ہے۔ شاید وہ اتحاد سے خوفزدہ ہیں، کیونکہ پھر یہ سوال پیدا ہو جاتا ہے کہ ہم اپنی سیاست کو کیسے قائم رکھیں …
پنجاب کے موگا میں گوردوارہ بی بی کہن کور میں ستلج کی اسکریننگ۔ (فوٹو: دمنجیت کور)
ان عوامی اسکریننگ کے پیچھے بھی سیاسی پہلو ہیں کیونکہ ان میں سے زیادہ تر کا انعقاد اکالی دل کروا رہا ہے۔
کانگریس نے بھی وہ جگہیں بتائی ہیں جہاں وہ اسکریننگ کر رہے ہیں۔ اتنے سارے لوگ ہیں، بی جے پی بھی اسکریننگ کر رہی ہے۔
سچ میں؟ بی جے پی اسکریننگ کر رہی ہے؟
کئی بی جے پی رہنماؤں نے کہا ہے کہ انہیں فلم سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ بی جے پی کارکن شاید فلم کی اسکریننگ دیکھ رہے ہوں گے۔
’ستلج‘آپ کے لیے ایک بہت جذباتی فلم تھی۔ کھالڑا کے خاندان نے اپنی کہانی، اپنی فائلیں، دستاویزات وغیرہ شیئر کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ فلم پر پابندی لگنے کے بعد آپ کو ان سے معافی مانگنی چاہیے؟
معافی؟ اس کے برعکس کھالڑا کے خاندان نے مجھے فون کیا اور کہا، ہنی، مایوس مت ہونا۔ فلم شروع کرنے سے پہلے ہی انہوں نے مجھ سے کہا تھا کہ یہ آسان نہیں ہونے والا، اور ملک کی سیاست کو دیکھتے ہوئے یہ امکان ہے کہ فلم کبھی ریلیز ہی نہ ہو سکے۔
کچھ ناقدین نے میری فلم کو پروپیگنڈا فلم کہا ہے۔ اگر آپ کہہ رہے ہیں کہ یہ ایک پروپیگنڈا فلم ہے تو اسے ریلیز ہونے دیں۔ کیا ہم دوسری پروپیگنڈا فلمیں ریلیز نہیں کرتے؟ اگر وہ فلمیں ریلیز ہو سکتی ہیں تو یہ کیوں نہیں؟ یہ باتناظرین طے کرنے دیں نا؟
فلم پر پابندی لگ جانا ایک بڑا پیغام ہے۔ فلم انڈسٹری میں آپ کے دوستوں اور ساتھیوں کا اس بارے میں کیا کہنا ہے؟
مجھے پوری برادری سے حمایت مل رہی ہے۔ فلم نے واقعی انہیں متاثر کیا ہے، انہیں جذباتی کیا ہے۔ جن فلمسازوں کی میں قدر کرتا تھا لیکن کبھی ان سے ملا نہیں تھا، وہ مجھے فون کر رہے ہیں۔ ان کے جذبات ہی میرے لیے انعام ہیں۔
میں نے امتیاز علی، رام گوپال ورما، انوراگ باسو، سعید مرزا اور کچھ دوسرے لوگوں سے سنا ہے… آپ کے توسط سے میں سچ میں حکومت سے درخواست کرنا چاہتا ہوں اور کہنا چاہتا ہوں کہ 31 سال پہلے مرکزی حکومت نے جسونت سنگھ کھالڑا کو انصاف دلانے میں اہم کردار ادا کیا تھا، اور 31 سال بعد ہم پھر اسی مقام پر آ کھڑے ہوئے ہیں۔ میری گزارش ہے کہ فلم اور کھالڑا کے ساتھ انصاف کریں۔
کیا کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کھالڑا کو دوسری بار مار دیا گیا ہے؟
بالکل، لیکن ستلج کو بہنے سے روکا نہیں جا سکتا۔ کھالڑا کو ستلج سے زندہ باہر آنے میں 31 سال لگ گئے۔ کھالڑا کو دوبارہ کڈنیپ کیا گیا ہے، لیکن انہیں کبھی مارانہیں کیا جا سکتا۔ یہ صرف انسانی جسم کی بات نہیں ہے، یہ سوچ کی بات ہے۔
مستقبل کا کیا منصوبہ ہے؟ کیا آپ اس مایوسی سے نکل پائے ہیں؟
میں شیو کمار بٹالوی کی بایوپک پر کام کر رہا ہوں۔
میں مایوسی کو ٹھہرنے نہیں ہونے دیتا، کیونکہ مجھے بہترین استاد ملے ہیں، چاہے وہ وشال بھاردواج ہوں، رونی ہوں یا میرے استاد بیری جان، جنہوں نے مجھے ہدایت کاری کا راستہ دکھایا۔ چریویتی -چلتے رہنا ہی راستہ ہے۔ بشیر بدر نے کہا بھی تھا نا؛
ہم بھی دریا ہیں ہمیں اپنا ہنر معلوم ہے
جس طرف بھی چل پڑیں گے راستہ ہو جائے گا
آخری سوال: کیا سیاست میں آنے کا کوئی منصوبہ ہے؟
کیا مجھے پہلے ہی یہاں نہیں کھینچ لیا گیا ہے… میں اپنی فلموں پر توجہ مرکوز کرنا چاہتا ہوں اور ان کہانیوں کو لے کر بہت پرجوش ہوں جنہیں میں بیان کرنا چاہتا ہوں۔
(ہریندر باویجہ سینئر صحافی ہیں۔ حال ہی میں ان کی کتاب دے ول شوٹ یو میڈم: مائی لائف تھرو کانفلیکٹ شائع ہوئی ہے۔)
انگریزی میں پڑھنے کے لیے
یہاں کلک کریں۔