ہاتھرس گینگ ریپ: کیلاش وجے ورگیہ نے کہا-صبر رکھیے، یوگی کے پردیش میں گاڑی کبھی بھی پلٹ جاتی ہے

01:18 PM Oct 01, 2020 | دی وائر اسٹاف

اتر پردیش کے ہاتھرس ضلع میں14ستمبر کو مبینہ طور پر اشرافیہ کے چار نوجوانوں نے 19 سالہ دلت لڑکی کے ساتھ بےرحمی سے  مارپیٹ کی اور ریپ  کیا تھا۔ منگل کو علاج کے دوران دہلی کے ایک اسپتال میں لڑکی  نے دم توڑ دیا۔

کیلاش وجے ورگیہ۔ (فوٹو بہ شکریہ : اے این آئی)

نئی دہلی: اتر پردیش کے ہاتھرس ضلع میں میں19 سالہ دلت لڑکی  کے گینگ ریپ  کے معاملے کو لےکر ریاست کی یوگی سرکار نشانے پر ہے۔ متاثرہ فیملی کو انصاف  دلانے کی مانگ کو لےکرسیاسی پارٹی اورسماجی ادارےمختلف  شہروں میں مظاہرہ  کر رہے ہیں۔

اس معاملے کو لےکر جب بی جے پی  کے سینئر رہنما کیلاش وجےورگیہ سے کچھ صحافیوں  نے سوال کیا توانہوں نے کہا کہ تھوڑا صبر رکھیے، یوگی آدتیہ ناتھ کےاتر پردیش میں کبھی بھی گاڑی پلٹ جاتی ہے۔بدھ کو میڈیا سے بات چیت میں انہوں نے کہا، ‘دیکھیے!اس میں ملزمین کو گرفتار کر لیا ہے اور معاملہ فاسٹ ٹریک کورٹ میں جا رہا ہے اور مجھے لگتا ہے کہ تھوڑا صبر کرنا چاہیے۔’

وجےورگیہ نے آگے کہا، ‘تمام ملزم  جیل کی سلاخوں کے پیچھے جا ئیں گے، کیونکہ یوگی جی، جو وہاں کے وزیراعلیٰ  ہیں، میں جانتا ہوں کہ ان کے پردیش میں کبھی بھی گاڑی پلٹ جاتی ہے۔’

الزام  ہے کہ اتر پردیش کے ہاتھرس ضلع میں 14 ستمبر کو اشرافیہ  کے چار نوجوانوں نے 19 سالہ لت لڑکی  کے ساتھ بے رحمی سے مارپیٹ کرنے کے ساتھ ریپ  کیا تھا۔

ان کی ریڑھ کی ہڈی اور گردن میں شدید چوٹیں آئی تھیں۔ ملزمین نے ان کی زبان  بھی کاٹ دی تھی۔ ان کا علاج علی گڑھ کے ایک اسپتال میں چل رہا تھا۔تقریباً10 دن کے علاج کے بعد انہیں دہلی کے صفدرجنگ اسپتال میں بھرتی کرایا گیا تھا۔ منگل کو لڑکی  نے علاج کے دوران دم توڑ دیا۔

اب اہل خانہ  نے الزام  لگایا ہے کہ منگل دیر رات کو پولیس نے ان کی رضامندی  کے بنا آناًفاناً میں لڑکی  کے آخری رسومات کی ادائیگی  کر دی۔ حالانکہ، پولیس نے اس سے انکار کیا ہے۔

لڑکی  کے بھائی کی شکایت کی بنیاد پر چار ملزمین سندیپ (20)،اس کے چچا روی(35)اور دوست لوکش (23)اور رامو (26)کو گرفتار کیا گیا ہے۔ان کے خلاف گینگ ریپ اور قتل  کی کوشش کے علاوہ ایس سی/ایس ٹی ایکٹ کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔

واقعہ  کے بعد اپوزیشن کے نشانے پر آئی یوگی سرکار نے معاملے کی جانچ کے لیے تین رکنی  ایس آئی ٹی کی تشکیل  کی ہے۔