مدھیہ پردیش کے بعد اب گجرات میں آلودہ پانی کا قہر، ٹائیفائیڈ کے 100 سے زیادہ معاملے رپورٹ ہوئے

گجرات کے گاندھی نگر کے سیکٹر 24، 28 اور آدیواڑہ علاقےمیں پینے کے آلودہ پانی کی وجہ سے ٹائیفائیڈ کے 100 سے زیادہ مشتبہ کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ مبینہ طور پر کم از کم سات مقامات پر لیک ہونے سے پینے کے پانی میں سیوریج کا پانی مل گیاہے۔

گجرات کے گاندھی نگر کے سیکٹر 24، 28 اور آدیواڑہ علاقےمیں پینے کے آلودہ پانی کی وجہ سے ٹائیفائیڈ کے 100 سے زیادہ مشتبہ کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ مبینہ طور پر کم از کم سات مقامات پر لیک ہونے سے پینے کے پانی میں سیوریج کا پانی مل گیاہے۔

علامتی تصویر : پکسابے

نئی دہلی: مدھیہ پردیش کے اندور میں آلودہ پانی پینے سے ہزاروں لوگوں کے بیمار پڑنے اورمتعدد ہلاکتوں کے بعد اب گجرات کے گاندھی نگرمیں آلودہ پانی کا قہر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ آلودہ پینے کے پانی کی وجہ سے سیکٹر 24، 28 اور آدیواڑہ کے علاقوں میں ٹائیفائیڈ کے 100 سے زیادہ مشتبہ کیس رپورٹ ہوئے ہیں ۔

ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق، کم از کم سات مقامات پر لیکیج کی وجہ سے سیوریج پینے کے پانی میں مل گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ واقعہ 257 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری سے شروع کیے گئے  24×7 واٹر سپلائی پروجیکٹ کے بعد پیش آیا ہے، جس کے تحت سیوریج لائنوں کے قریب پانی کی نئی پائپ لائنیں بچھائی گئی تھیں۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، جو گاندھی نگر سے لوک سبھا کے رکن بھی ہیں، نے فوری طور پر رساو کی مرمت اور آس پاس کے علاقوں میں پانی کے نیٹ ورکس کے تیز معائنے کی ہدایت دی۔

قابل ذکر ہے کہ 113 رپورٹ کیے گئے معاملات میں سے 19 کو علاج کے بعد چھٹی دے دی گئی ہے، جبکہ باقی کا علاج گاندھی نگر کے سول اسپتال اور سیکٹر 24 اور 29 کے صحت مراکز میں کیا جا رہا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں24×7 آؤٹ پیشنٹ ڈپارٹمنٹ (او پی ڈی) خدمات بھی قائم کی گئی ہیں۔

دریں اثنا، انڈین ایکسپریس کے مطابق ، سیکٹر 24، 26، 28 اور آدیواڑہ کا 75 صحت کی ٹیموں نے معائنہ کیا ہے، جس میں 20,800 مکانات اور 90,000 سے زیادہ کی آبادی شامل ہے۔

اخبار نے ایک سرکاری ریلیز کے حوالے سے کہا ہے کہ پانی کی سپر کلورینیشن میں تیزی لائی گئی ہے۔

اس سلسلے میں میونسپل کمشنر جے این واگھیلا نے کہا، ‘ہمیں امید ہے کہ سپر کلورینیشن کے ذریعے ایک یا دو دن میں اس پر قابو پالیا جائے گا۔’

دریں اثنا، احتیاطی تدابیر کے طور پر 30,000 کلورین کی گولیاں اور 20,600 او آر ایس پیکٹ تقسیم کیے گئے ہیں۔ حکومت نے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ صرف ابلا ہوا پانی استعمال کریں اور گھر کا پکا ہوا کھانا کھائیں۔

غور طلب ہے کہ گجرات میں یہ معاملہ مدھیہ پردیش کے اندور میں آلودہ پانی سے متعلق اسی طرح کے ایک واقعے کے چند دن بعد سامنے آیا ہے ، جہاں آلودہ پانی پینے سے 10 افراد کی موت ہو گئی تھی۔ فی الحال، 142 افراد ہسپتال میں داخل ہیں، جن میں سے 11 انتہائی نگہداشت یونٹ (آئی سی یو) میں ہیں۔