دہلی فسادات کے بعد عام کی گئی فیک نیوز کا سچ

02:34 PM Mar 09, 2020 | محمد نوید اشرفی

فیک نیوز راؤنڈ اپ:ایک ویڈیوٹوئٹرپربہت وائرل ہواجس میں کچھ لوگ عورتوں اوربچوں کودفن کررہےتھے۔ ویڈیوکےساتھدعویٰ کیاگیاکہ یہ ویڈیودہلی کاہے جہاں مسلمانوں کواب زندہ دفن کرناپڑرہاہے۔

مصطفیٰ آباد میں تشدد کے دوران جلائی گئی گاڑی(فوٹو : پی ٹی آئی)

دہلی فسادات کےبعدشاہین باغ میں شہریت قانون کےخلاف احتجاج جاری ہے۔ گزشتہ ہفتےہندوسینانامی فسطائی تنظیم نےاس احتجاج کوختم کرنےکااعلان کیاتھالیکن جب شاہین باغ میں پولیس فورس کی کثیرتعدادمیں تعیناتی کی گئی توہندوسینانےاپناپروگرام ملتوی کردیا۔ اس کےعلاوہ بھی شاہین باغ کوبدنام کرنےکےلئےفسطائی کوششیں جاری رہیں اورسوشل میڈیامیں جھوٹی خبروں کاسہارالےکریہ کام انجام دیاگیا۔

سوشل میڈیامیں یہ ٹوئٹ بہت عام ہواکہ شاہین باغ میں ناظمہ بیگم نام کی خاتون کی کچھ دنوں سےطبیعت ناسازتھی۔ اب ڈاکٹرزنےاس کوکوروناوائرس پوزیٹوقراردیاہے، یعنی وہ کوروناوائرس سےبیمارہوگئی ہے۔ لیکن اس خاتون نےاپناعلاج کرانے سے انکار کردیا اور دوبارہ  احتجاج میں شریک ہوگئی ہے۔ اسی ٹوئٹ میں طنزیہ لہجےمیں کہاگیاکہ یہ شاہین باغ والےکیسےبیوقوف لوگ ہیں۔

بوم فیکٹ چیک نےان دعووں کی حقیقت جاننےکےلیےشاہین باغ احتجاجک ےمنتظمین سےرابطہ قائم کیاتوبوم کومعلوم ہواکہ شاہین باغ میں ایساکوئی معاملہ سامنےنہیں آیاہےاورنہ ہی وہاں سےکسی کوہسپتال میں داخل کرایاگیاہے۔ شاہین باغ کےمنتظمین نےبوم فیکٹ چیک کوبتایاکہ یہ تمام خبریں افواہ اورجھوٹ پرمبنی ہیں اوران کامقصدصرف مظاہرےاوراحتجاج کوکمزورکرناہے۔

بوم فیکٹ چیک نےڈاکٹررام منوہرلوہیا ہسپتال اورصفدرجنگ ہسپتال میں رابطہ قائم کیاجہاں دہلی میں کوروناوائرس کاعلاج کیاجارہاہے۔ ہسپتال کےافسران نےبوم کوبتایاکہ شاہین باغ کاایساکوئی مریض نہیں ہےجوکوروناوائرس پوزیٹوقراردیاگیاہو۔ لہٰذا، بوم فیکٹ چیک کےانکشاف سےواضح ہوجاتاہےکہ شاہین باغ کی خاتون ناظمہ بیگم کےکوروناوائرس سےبیمارہونےکی خبرجھوٹی تھی۔

اسی طرح، ٹوئٹراورفیس بک پرایک ویڈیوعام کیا گیاجس میں دکھایاگیاتھاکہ کچھ خواتین ایک قطارمیں موجودہیں جوایک شخص سےکرنسی نوٹ حاصل کررہی ہیں۔ اس ویڈیوکوسوشل میڈیاعام کرتےہوئےفسطائی ہینڈلوں سےدعوےکیےگئےکہ شاہین باغ کااحتجاج کسی ک ااسپانسر کیاگیااحتجاج ہےکیوں کہ یہاں بیٹھی تمام خواتین کویہاں بیٹھنےکی قیمت ملتی ہے۔ خودکوموٹویٹرکہنےوالےشخص راہل مہاجن نےاس ویڈیوکوٹوئٹ کرتےہوئےلکھا؛

500 روپےلےکرجومعاملےکی جانکاری کےبنادیش کےخلاف دھرنےپربیٹھ سکتاہے، وہ 5000 لےکردیش جلانےکی بات کرےتواس میں حیرانی کس بات کی ہے!

فیک نیوزکی دنیاکےمعروف نام طارق فتح نےبھی اپنےٹوئٹرپرویڈیوشیئرکرتےہوئےلکھاکہ شاہین باغ کی حقیقت اس تصویرسےخودبیان ہوجاتی ہے۔

شاہین باغ سےمتعلق اس جھوٹےپرچارکی حقیقت کوظاہرکرتےہوئےشاہین باغ کےآفیشل ٹوئٹرہینڈل سےایک ویڈیوشیئرکیاگیا۔ جس میں دکھایاگیاتھاکہ چنئی کےسماجی کارکن چندرموہن اس بات کاانکشاف کررہےہیں کہ جوویڈیوسوشل میڈیامیں شاہین باغ کےنام سےعام کیاجارہاہے، دراصل وہ بابونگردہلی کاہے۔ چندرموہن اس ویڈیومیں اُسی جگہ موجودہیں جووائرل ویڈیومیں دکھائی گئی ہےجس کی تصدیق وہاںموجودنشانات سےہوجاتی ہے۔ چندرموہن نےواضح کیاکہ فسادات کےبعدمتاثرین افراددوبارہ شیووہارلوٹ رہےہیں اوراُن کےپاس روزمرہ کی اشیاءکی کمی ہے۔ راشن ختم ہوگیاہے۔ اس لیےشہزادنامی شخص جووائرل ویڈیومیں کالی قمیض پہنےہوئےہیں، عوام کوکرنسی نوٹ تقسیم کررہےہیں۔

اس ویڈیومیں چندرموہن کےساتھ شہزادبھی موجودہیں۔ اوراسی کالی قمیض کوپہنےہیں۔ چندر موہن نےویڈیومیں واضح کیاکہ شہزادبہت اچھےانسان ہیں اوراُنہوں نے اس دن بابونگرکےمتاثرین کوتقریباً 70 ہزارروپےتقسیم کیےتھے۔

بوم فیکٹ چیک نےچندرموہن اورشہزادسےرابطہ قائم کیاتومعلومہواکہ وائرل کی گئی ویڈیوشاہین باغ کی نہیں ہے، بلکہ بابونگرکی ہے۔ بوم نےانکشاف کیاکہ اصل ویڈیوتقریباً 2 منٹ کی ہے، جبکہ سوشل میڈیامیں چندسیکنڈزکی ویڈیوکوعام کرکےشاہین باغ کےاحتجاج کوبدنام کیاجارہاہے۔

ہرش مندرمعروف سماجی کارکن ہیں۔ وہ حکومت ہندکی نیشنل ایڈوائزری کونسل کےرکن بھی رہ چکے ہیں اور ‘رائٹ ٹوفوڈ’ کمپین میں سپریم کورٹ آف انڈیاکےاسپیشل کمشنررتھے۔ دہلی فسادات کےبعدہرش مندرنےدہلی ہائی کورٹ میں عرضی داخل کی تھی جس میں یہ مطالبہ کیاگیاتھاکہ دہلی فسادات کی جانچ کی جائےاورجن سیاسی لیڈروں نےان فسادات کوبھڑکانے میں رول اداکیاہے، اُن کوسزادی جائے۔ ہائی کورٹ میں اس کی شنوائی 4 مارچ کوطے تھی لیکن شنوائی سےپہلےہی کورٹ کےسامنےایک اورمعاملہ آگیاجس میں یہ الزام لگایاگیاہےکہ ہرشمندرنے 16 دسمبرکوجامعہ ملیہ اسلامیہ کےاپنےخطاب میں سپریم کورٹ کی توہین کی تھی اور تشدد عام کرنے کی کوشش کی۔

ویب سائٹ لائیولاکےمطابق دہلی پولیس نےہائی کورٹ میں ایک حلف نامہ داخل کیاجس میں یہ دعویٰ کیاگیاہےکہ ہرش مندرنے 16 دسمبرکواپنےخطاب میں تشددعام کرنےکی کوشش کی اورسپریم کورٹ کی توہین کی۔دہلی پولیس نےاپنےدعویٰ کی بنیاداس ویڈیو کو بنایا ہے جو سوشل  میڈیامیں بغیرسیاق وسباق کےعام کی جارہی ہےاورجس کوبی جےپی کےآئی ٹی انچارج امت مالویہ نےبھی ٹوئٹ کیاہے۔

55 سیکنڈکے اس ویڈیومیں ہرش مندرکہہ رہےہیں؛

یہ لڑائی سپریم کورٹ میں بھی نہیں جیتی جائےگی…ہم نےسپریم کورٹ کودیکھاہےپچھلےکچھ وقت سے… این آرسی کےمعاملےمیں، ایودھیاکےمعاملےمیں، کشمیرکےمعاملےمیں، سپریم کورٹ نےانسانیت، مساوات اورسیکولرزم کی حفاظت نہیں کی ہے۔ وہاں کوشش ہم ضرورکریں گے، ہماراسپریم کورٹ ہے… لیکن فیصلہ نہ سنسدمیں ہوگا، نہ سپریم کورٹ میں ہوگا۔ اس دیش کاکیامستقبل ہوگا…آپ سب نوجوان لوگ ہیں… آپ اپنےبچوں کوکس طرح کادیش دیناچاہتےہیں؟ یہ فیصلہ کہاں ہوگا؟ ایک، سڑکوں پرہوگا…

اس کلپ کےاختتام پرہرش مندرکی بات کوکاٹ دیاگیاہے۔ دہلی پولیس نےاپنی پٹیشن میں مطالبہ کیاہےکہ ہرش مندرکی درخواست کوقبول نہ کیاجائے۔ جس کی بناپرہائی کورٹنےہرش مندرکی درخواست پرتوجہ نہیں دی۔

غورطلب یہ ہےکہ دہلی پولیس نےجس ویڈیوکلپ کواساس بناکرپٹیشن داخل کی تھی، اس کی حقیقت کچھ اورہے۔ مزیدیہ کہ ہرش مندرکی کلپ کوسیاق وسباق سےجداکرکے دیکھاجارہاہےاورہائی کورٹ کوگمراہ کیاجارہاہے۔

مکمل ویڈیومیں ہرش مندرکسی تشددکی بات نہیں کررہےہیں بلکہ وہ توسڑکوں پرنوجوانوں کی لڑائی میں محبت اورامن کی بات کررہےہیں، وہ اقلیتوں، دلتوں اورپسماندہ طبقات کوحقوق دلانےکی بات کررہےتھے۔ وہ کہہ رہےتھےکہ یہ لڑائی آئین کےتحفظ کی لڑائی ہے، محبت کی لڑائی ہے۔

اسی طرح، امت مالویہ نےدوسرےویڈیوسےبھی ایک کلپ ٹوئٹ کیا اوریہی الزام لگایاکہ ہرش مندرسپریم کورٹ کی توہین کررہےہیں:

اسی ویڈیوکواشوک پنڈت نےبھی ٹوئٹ کیا:

ان کلپس کی حقیقت کچھ اورہےجواس مکمل ویڈیومیں موجودہے۔

دہلی فسادات کےبعدسوشل میڈیامیں ایک تصویربہت وائرل ہوئی جسکےتعلق سےیہ دعویٰ کیاگیاتھاکہ اس تصویرسےواضح ہوتاہےکہ دہلی پولیس نےکونسلرطاہرحسین کےگھرکی چھت پرپٹرول بم رکھنےمیں دنگائیوں کی مددکی تھی۔ پولیس نےسیڑھیوں کی مددسےدنگائیوں کوچھت پربھیجاتھا۔

آلٹ نیوزنےانکشاف کیاکہ یہ جھوٹ ہے۔ عام آدمی پارٹی کےراجیہ سبھاایم پی سنجےسنگھ نےویڈیوشیئرکیاتھاجس میں دکھایاگیاتھاکہ دہلی میں ایک عمارت میں آگ لگ گئی تھی، جس میں موجودشہریوں کوپولیس نےسیڑھیوں کی مددسےبچایاتھا۔

ویڈیومیں واضح ہوجاتاہےکہ لوگ سیڑھیوں سےنیچےاتررہےہیں، وہ اُوپرنہیں جارہےہیں۔

دہلی فسادات کےبعدشہریوںمیں غم اورغصہ موجودہے، اورہرایک کےسینےمیں جذبات کاتلاطم ہے۔ انہی جذبات کی دھارمیں بعض افرادسےسوشل میڈیاپرفیک نیوزکی اشاعت ہوجاتی ہے۔ آلٹ نیوزنےباقاعدہ اس بات کودرج کیاہےکہ دہلی فسادات کےبعدسیریا، بنگلہ دیش اوردیگرممالک میں تشددکی تصویروں کوہندوستانی سوشل میڈیامیں عام کیاگیا۔

ایک تصویرعام کی گئی جس میں ایک پولیس سپاہی کسی دکان کےشٹرکےسائے میں کھڑےبچےپرظلم کررہاہے۔ تصویرکےساتھ دعویٰ کیاگیاکہ یہ تصویردہلی فسادات کی ہےجہاں دہلی پولیس مسلم بچوں کوبھی نہیں بخش رہی ہے۔ آلٹ نیوزنےانکشاف کیاکہ یہ تصویر 2010 کی ہےاوراس کا تعلق بنگلہ دیش سےہے۔ بنگلہ دیش کےڈھاکہ شہرمیں 30 جون 2010 کوتقریباً 15 ہزارمزدوراحتجاج کررہےتھےجن سےنجات پانےکےلیےپولیس نےاُن پرلاٹھی چارج کیاتھا۔ یہ تصویرگیٹی امیجزپردستیاب ہے۔

دوسری تصویرمیں دکھایاگیاتھاکہ ایک خاتون غمزدہ حالات میں ہیں اورکچھ بچےاُس سےلپٹےہوئےہیں۔ یہ بچےرورہےہیں۔ سوشل میڈیامیں دعویٰ کیاگیاکہ یہ منظردہلی کا ہے۔ آلٹ نیوزنےانکشاف کیاکہ یہ تصویرسیریایعنی ملک شام کی ہے۔ 2014 میں جب الیپوپرحملہ ہوا تھا تو خوفناک  منظرسیریامیں نمودارہوئےتھے۔ یہ تصویراُسی سیریاکی تصویرہےاورگیٹی امیجزپرموجودہے۔

اسی طرح ایک ویڈیوٹوئٹرپربہت وائرل ہواجس میں کچھ لوگ عورتوں اوربچوں کودفن کررہےتھے۔ ویڈیوکےساتھدعویٰ کیاگیاکہ یہ ویڈیودہلی کاہے جہاں مسلمانوں کواب زندہ دفن کرناپڑرہاہے۔

آلٹ نیوزنےانکشاف کیاکہ یہ اسی سال جنوری کی ویڈیوہے۔ اس کادہلی سےکوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ ویڈیوشمالی دیناجپورکاہےجہاں ایک شخص نےمبینہ طورپراپنی بیوی اوربچےکاقتل کردیاتھااوراُنکی لاشوں کوبغیرکفن کےدفن کررہاتھا۔ اس معاملےکونیوز 18 نےنشرکیاتھا۔