دہلی فسادات: دہلی سرکار نے سات ویڈیو سونپے، دنگائیوں کے ساتھ پتھراؤ کرتی نظر آئی پولیس

دہلی سرکار کےمحکمہ داخلہ نے پانچ اکتوبر کو ایسے سات ویڈیو کلپ دہلی پولیس کو سونپے ہیں، جس میں سے کچھ میں دہلی میں ہوئے فسادات کے دوران دو پولیس اہلکارمبینہ طور پر دنگائیوں کے ساتھ مل کر اینٹ اور انڈے پھینک رہے ہیں۔

دہلی سرکار کےمحکمہ داخلہ نے پانچ اکتوبر کو ایسے سات ویڈیو کلپ دہلی پولیس کو سونپے ہیں، جس میں سے کچھ میں دہلی میں ہوئے فسادات  کے دوران دو پولیس اہلکارمبینہ طور پر دنگائیوں کے ساتھ مل کر اینٹ اور انڈے پھینک رہے ہیں۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

(فوٹو: پی ٹی آئی)

نئی دہلی: دہلی سرکار کےمحکمہ داخلہ نے پانچ اکتوبر کو ایسے سات ویڈیو کلپ دہلی پولیس کو سونپے ہیں، جس میں دہلی فسادات  کے دوران دو پولیس اہلکار مبینہ دنگائیوں کے ساتھ مل کر اینٹ اور انڈے پھینک رہے ہیں۔انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، ایک ویڈیو میں پولیس اہلکارمبینہ طور پر پانچ زخمی لوگوں کو زمین پر لٹاکر ان کوقومی ترانہ  گانےکو مجبور کر رہے ہیں۔

شمال-مشرقی دہلی کے پولیس ڈپٹی کمشنر  نے دو دن بعد ہی جواب میں کہا تھا کہ ان تینوں ویڈیو پر کارروائی کی گئی ہے جبکہ باقی ویڈیو کاتجزیہ کیا جا رہا ہے اور صحیح جائے وقوع، تاریخ اور وقت کی تصدیق  کے بعد اس سلسلے میں رپورٹ دائر کی جائےگی۔

جس ویڈیو میں پولیس اہلکار زخمی لوگوں  سے قومی ترانہ گانے کے لیے مجبور کرتے دکھ رہے ہیں، اس ویڈیو پر دہلی پولیس نے کہا کہ کرائم برانچ کی اسپیشل  جانچ ٹیم کے ذریعے جانچ کی جا رہی ہے۔اس کے علاوہ ایک دیگر ویڈیو میں ہتھیاروں سے لیس کچھ پولیس اہلکار مبینہ دنگائیوں کے ساتھ اینٹ پھینکتے دیکھے جا سکتے ہیں۔

ویڈیو میں دنگائیوں اور پولیس اہلکاروں  کے چہرے بھی صاف دیکھے جا سکتے ہیں۔ ویڈیو میں پولیس کا آؤٹ پوسٹ بھی صاف دکھائی دے رہا ہے، جس سے جائے وقوع  کی تصدیق ہوتی ہے۔ پولیس اس معاملے کی بھی جانچ کر رہی ہے۔

ایک دیگر ویڈیو میں کچھ پولیس اہلکار مبینہ دنگائیوں کے ساتھ کھڑے دکھائی دے رہے ہیں۔ کچھ سیکنڈ بعد پولیس اہلکارمبینہ طور پر دنگائیوں کو دوسری طرف جانے کا حکم دیتے ہیں۔ اس کے بعد پولیس اہلکار اور وہ شہری اینٹیں پھینکنا شروع کر دیتے ہیں۔

ویڈیو میں کئی چہرے صاف نظر آ رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی کئی دکانوں کی ہورڈنگس بھی صاف دکھ رہی ہیں، جس سے جائے وقوع  کا پتہ چل رہا ہے۔ پولیس کے مطابق اس ویڈیو کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔ایک تیسرا ویڈیو ان زخمی  لوگوں کا ہے، جنہیں مبینہ طور پر قومی ترانہ  گانے کو مجبور کیا جا رہا ہے۔ ان میں سے ایک کی پہچان فیضان(24)کے طور پر کی گئی، جس کی بعد میں موت ہو گئی تھی۔

اس معاملے میں آئی پی سی کی دفعہ147، 148، 149 اور 302 کے تحت بھجن پورہ پولیس تھانے میں معاملہ درج کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ چار دیگر ویڈیو جو دہلی سرکار کے محکمہ داخلہ نے دہلی پولیس کو سونپے ہیں، ان میں کچھ لوگ کھلے طور پر دھمکی دے رہے ہیں اور ایک خاص کمیونٹی  کو نشانہ بنانے کے مقصد سے تشدد بھڑ کانے کی بات کر رہے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے ان ویڈیو میں سے دو کے خلاف کارروائی کی ہے اور باقی دو کی جانچ کر رہے ہیں۔