دہلی فسادات: عدالت نے پولیس کی جانچ کو ’مضحکہ خیز‘ قرار دے کر جرمانہ لگایا

پولیس نے مجسٹریٹ عدالت کے اس فیصلے کو چیلنج دیا تھا، جس میں فسادات کے دوران گولی لگنے سے اپنی ایک آنکھ گنوانے والے محمد ناصر نام کے شخص کی شکایت پر ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ عدالت نے پولیس کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی آئینی ذمہ داری نبھانے میں بری طرح سے ناکام رہے ہیں۔

پولیس نے مجسٹریٹ عدالت کے اس فیصلے کو چیلنج دیا تھا، جس میں فسادات کے دوران گولی لگنے سے اپنی ایک آنکھ گنوانے والے محمد ناصر نام کے شخص کی شکایت پر ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت  دی گئی  تھی۔ عدالت نے پولیس کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ وہ  اپنی  آئینی ذمہ داری  نبھانے میں بری طرح سے ناکام  رہے ہیں۔

(فوٹو: رائٹرس)

(فوٹو: رائٹرس)

نئی دہلی: دہلی فسادات کےمعاملے میں جانچ کو ‘مضحکہ خیز’ قرار دیتے ہوئے یہاں کی ایک عدالت نے دہلی پولیس پر 25 ہزار روپے کا جرمانہ عائد کیاہے۔ایڈیشنل سیشن جج ونود یادو نے ہدایت  دی کہ جرما نے کی رقم  بھجن پورہ تھانے کے انچارج اور معائنہ کرنے والے افسروں  سے وصول کی جائے کیونکہ وہ  اپنی  آئینی ذمہ داری  نبھانے میں بری طرح سے ناکام  رہے۔

پولیس نے مجسٹریٹ عدالت کے اس فیصلے کو چیلنج  دیا تھا جس میں فسادات  کے دوران گولی لگنے سے اپنی بائیں آنکھ گنوانے والے محمد ناصر نام کےشخص کی شکایت پر ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت  دی گئی تھی۔

تفتیش کاروں  نے کہا کہ الگ سے ایف آئی آر درج کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ پولیس نے قبل میں ہی ایف آئی آر درج کر لی تھی اور مبینہ طور پر گولی مارنے والے لوگوں کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہیں کیونکہ واقعہ  کے وقت  وہ دہلی میں نہیں تھے۔

جج  نے پولیس کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ جانچ  مؤثر اورمنصفانہ نہیں ہے کیونکہ یہ‘بہت ہی لاپرواہ، بےحس اور مضحکہ خیز طریقے سے کی گئی ہے۔’انہوں نے 13 جولائی کے اپنے فیصلے میں کہا کہ اس آرڈر کی ایک کاپی  دہلی پولیس کمشنر کو بھیجی گئی ہے تاکہ معاملے میں جانچ اور معائنے کے معیارکو نوٹس  میں لایا جا سکے اور مناسب  کارروائی کی جا سکے۔

جج نے کہا کہ محمد ناصر اپنی شکایت کےسلسلے میں ایف آئی آر درج کرانے کے لیے قانون کے مطابق  اپنے پاس دستیاب طریقوں کا سہارا لینے کو آزاد ہے۔

ناصر نے اپنی شکایت میں کہا تھا کہ دہلی دنگے کے دوران نریش تیاگی نام کے ایک شخص نے ان پر فائرنگ کی تھی، جس کی وجہ سے ایک گولی ان کی آنکھ میں لگی تھی۔ بعد میں انہیں جی ٹی بی اسپتال لے جایا گیا، جہاں آپریشن کرنے کے بعد 20 مارچ 2020 کو ڈسچارج کیا گیا تھا۔

انہوں نے 19 مارچ کو بھجن پورہ کے ایس ایچ او کو دی اپنی شکایت میں الزام  لگایا تھا کہ نریش تیاگی، سبھاش تیاگی، اتم تیاگی، سشیل، نریش گوراور دوسرے معاملے میں ملزم ہیں۔ حالانکہ پولیس نے اس سلسلے میں کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی۔

پولیس کے اس رویے سے مایوس  ہوکر میٹروپولیٹن مجسٹریٹ کورٹ کا رخ کیا اور اپنے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کی مانگ کی ہے۔اس بیچ دہلی پولیس نے اے ایس آئی اشوک کے بیان پر ناصر کے علاقے  میں ہوئے تشدد، جس میں چھ اور لوگوں کو گولی لگی تھی، کو لےکر ایک ایف آئی آر درج کیا۔

اسی کو بنیاد بناتے ہوئے پولیس نے کہا کہ چونکہ ایک ایف آئی آر پہلے ہی درج کی جا چکی ہے، اس لیے ناصر کی شکایت پر ایف آئی آر درج کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔پولیس نے یہ بھی کہا کہ چونکہ جانچ چل رہی ہے اور دوسرے لوگوں کی بھی پہچان کی گئی ہے، اس کے مطابق ضمنی چارج شیٹ فائل کی جائےگی۔

ان دلیلوں کو کورٹ نے خارج کر دیا اور کہا کہ متاثرہ شخص کی جانب سے03.07.2020 کو دائر کی گئی ایک اور شکایت پر ایف آئی آر نہیں دائر کی گئی ہے، جبکہ انہوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ ان کی پچھلی شکایت میں بطور ملزم جن کے نام لکھے گئے ہیں، ان سے انہیں خطرہ ہے۔

اس کے بعد کورٹ نے پولیس پر جرمانہ  لگایا اور کہا کہ ناصر اپنی شکایت کے سلسلے میں ایف آئی آردرج کرانے کے لیے قانون کے مطابق  اپنے پاس دستیاب طریقوں کا سہارا لے سکتے ہیں۔

(خبررساں  ایجنسی بھاشاکے ان پٹ کے ساتھ)