دہلی کے مالویہ نگر میں بدھ کی صبح فلورش بی اینڈ بی میں لگی آگ نے ہوٹل انتظامیہ اور قوانین کی خلاف ورزی اور حفاظتی لاپرواہی سے متعلق کئی سنگین سوال کھڑے کر دیے ہیں۔ خبروں میں بتایا گیا ہے کہ اول تو یہ عمارت ’ہوٹل‘ کے طور پر درج ہی نہیں تھی۔ وہیں عملے کی کمی کے باعث پاس کے فائر اسٹیشن سے مدد پہنچنے میں بھی تاخیر ہوئی۔

تصویر: پی ٹی آئی
نئی دہلی: جنوبی دہلی کے مالویہ نگر میں بدھ کی صبح فلورش بیڈ اینڈ بریک فاسٹ (بی اینڈ بی) ہوٹل میں لگی آگ میں کم از کم 21 افراد ہلاک ہو گئے، جن میں سے 11 غیر ملکی شہری ہیں۔ یہ سب اپنے اہل خانہ کے علاج کی غرض سے دہلی آئے تھے۔
اس واقعہ کے سلسلے میں بدھ کی شام دہلی پولیس نے اس ہوٹل کے مالک لوکش بجاج کو گرفتار کر لیا، جس کے بعد میڈیا رپورٹس میں ایک کے بعد ایک اس ہوٹل کی انتظامیہ اور حکام کی جانب سے قواعد کی خلاف ورزی اور حفاظتی لاپرواہی سے متعلق کئی سنگین سوال سامنے آئے۔
اول تو یہ بتایا گیا ہے کہ یہ عمارت جسے’ ہوٹل‘کہا جا رہا ہے، دستاویزوں میں ہوٹل کے طور پر درج نہیں ہے۔ اس کے علاوہ ہوٹل نےفائر سیفٹی نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی) نہیں لیا تھا۔ ہوٹل میں فائر سسٹم بھی نہیں تھا اور فائر ڈپارٹمنٹ سے کسی طرح کی اجازت نہیں لی گئی تھی۔
کئی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ اس ہوٹل کو دہلی کے محکمہ سیاحت نے بی اینڈ بی کا لائسنس دیا تھا، جس کی حادثے کے بعد جانچ کے آرڈر دیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی دہلی فائر سروس اور پولیس کی ابتدائی جانچ میں پتہ چلا ہے کہ اس جگہ کے مالک لوکیش بجاج کے پاس پوری طرح سے ریستوراں چلانے کا لائسنس نہیں تھا؛ ان کے پاس صرف ’چائے اور ناشتہ آؤٹ لیٹ‘کا لائسنس تھا، جس کے تحت کھانا پکانے یا بیٹھنے کی جگہ بنانے کی اجازت نہیں تھی۔
ہندوستان ٹائمز نے میونسپل کارپوریشن کے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ لوکیش کا یہ چائے ناشتہ والا لائسنس بھی اس سال 31 مارچ کو ختم ہو گیا تھا۔ اور انہوں نے آگ لگنے کی خبر ملنے کے چند گھنٹے بعد ہی بدھ کو اس کی تجدید کے لیے درخواست دی۔ تاہم، اس درخواست کو میونسپل کارپوریشن نے خارج کر دیا۔
مدد میں تاخیر
اس کے علاوہ آگ لگنے کے بعد مدد بھی دیر سے پہنچنے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ حکام نے بتایا کہ اس واقعہ کے دوران کارروائی میں تقریباً 20 بیش قیمتی منٹ ضائع ہو گئے۔ ایسا اس لیے ہوا کہ پاس کے فائر اسٹیشن عملے کی کمی اور ایک اور آگ بجھانے کے آپریشن میں مصروف ہونے کے باعث فائر ٹینڈر نہیں بھیج سکا۔
بتادیں کہ متاثرہ جگہ سے صرف 400–500 میٹر دور گیتانجلی فائر اسٹیشن واقع ہے، جو جائے وقوعہ کے سب سے پاس کا فائر اسٹیشن ہے۔ لیکن حکام کے مطابق، جب بدھ کی صبح آگ لگنے کی اطلاع دینے کے لیے فون آئے تو اسٹیشن کی دو فائر گاڑیوں میں سے ایک کو جونپور میں کچرے کی آگ بجھانے کے لیے بھیج دیا گیا تھا، جبکہ دوسری گاڑی اس لیے کھڑی رہی کیونکہ اسے چلانے کے لیے کوئی فائر فائٹر موجود نہیں تھا۔
چیف فائر آفیسر (سی ایف او) اے کے ملک نے بتایا کہ فائر کنٹرول روم کو بدھ کی صبح 7:34 بجے جنوبی دہلی کے منڈی گاؤں میں جواہر کالونی کے قریب جونپور میں کچرے کی آگ کے بارے میں فون آیا۔
ملک نے کہا،گیتانجلی فائر اسٹیشن سے ایک فائر گاڑی(ایس ڈبلیو ٹی-25)بھیجی گئی تھی، جو صبح 9:55 بجے واپس لوٹی۔ ‘
سی ایف او کے مطابق، گیتانجلی فائر اسٹیشن پر صرف ایک ہی فائر ٹینڈر تعینات ہے۔ تاہم، جب اخبار نے بدھ اور جمعرات کو وہاں کا دورہ کیا تو فائر اسٹیشن پر دو فائر ٹینڈر موجود پائے گئے۔ وہاں موجود فائر مین نے بھی دو فائر ٹینڈر کی تعیناتی کی تصدیق کی، جن میں ایک فائر واٹر باؤزر بھی شامل تھا۔
پاس کے فائر اسٹیشن سے مدد نہ ملنے کے باعث دور سے آگ بجھانے کے لیے مدد لینی پڑی، جس میں نہرو پلیس اور بھیکاجی کاما پلیس شامل تھے، جو واقعہ کی جگہ سے بالترتیب تقریباً 5 کلومیٹر اور 9 کلومیٹر دور ہیں۔ ان دونوں اسٹیشنوں سے چار فائر ٹینڈر بھیجے گئے۔
اخبار کو ملے دستاویزوں کے مطابق، ڈی ایف ایس میں ملازمین کی شدید کمی ہے – 9,123 ملازمین کے مقابلے یہاں 6,600 سے زائد ملازمین کی کمی ہے، جو 72.5 فیصد سے زیادہ کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔
افسران نے بتایا کہ مقامی لوگوں نے صبح تقریباً 8:48 بجے پولیس اور فائر ڈپارٹمنٹ کو آگ لگنے کی اطلاع دی۔ فائر بریگیڈ کی پہلی گاڑیاں صبح 9:10 سے 9:15 کے درمیان موقع پر پہنچیں، لیکن تب تک آگ عمارت کے بڑے حصے میں پھیل چکی تھی اور درجنوں مہمان اندر پھنسے ہوئے تھے۔
کئی رہائشیوں نے الزام لگایا کہ فائر سروس دیر سے پہنچی اور ایمرجنسی کے ابتدائی مرحلے میں قیمتی وقت ضائع ہوا۔
ریسکیو آپریشن میں شامل ایک مقامی رہائشی نے کہا،’جب فائر ٹرک پہنچے تو اس وقت تک عمارت شعلوں کی لپیٹ میں آ چکی تھی۔ لوگ بالائی منزلوں پر پھنسے ہوئے تھے اور سیڑھیوں میں دھواں بھر گیا تھا۔‘
قابل ذکر ہے کہ ڈی ایف ایس نے حال ہی میں محکمہ داخلہ کو ایک تجویز بھیجی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ فائر ڈپارٹمنٹ میں اس وقت تقریباً 2,500 ملازمین ہیں، جو دہلی کے 71 فائر اسٹیشنوں پر کام کرتے ہیں، جبکہ یہاں 9,123 ملازمین کی ضرورت ہے۔
تاہم، حکام کا کہنا ہے کہ یہ ضرورت 24 گھنٹے کی شفٹ کے حساب سے بتائی گئی ہے۔ 8 گھنٹے کی شفٹ والے ماڈل کے مطابق یہ کمی 24,869 ملازمین (تقریباً 90.8 فیصد) کے برابر بنتی ہے۔
معلوم ہو کہ گیتانجلی اسٹیشن نے تین سے چار ماہ پہلے ہی کام کرناشروع کیا ہے اور یہ دہلی کے فائر نیٹ ورک کے سب سے نئے اسٹیشنوں میں سے ایک ہے۔
اس حوالے سے ڈی ایف ایس کے سابق ڈائریکٹر اتل گرگ نے کہا کہ آگ لگنے کے بعد کے ابتدائی چند منٹ اکثر بہت اہم ہوتے ہیں۔
گرگ نے اخبار سے کہا،’فائر فائٹرز انہیں’گولڈن منٹس‘کہتے ہیں۔ اس دوران فوری کارروائی سے آگ کو پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے، نقصان کم کیا جا سکتا ہے اور اندر پھنسے لوگوں کو بچانے کے امکانات کافی بڑھ جاتے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ آس پاس کے اسٹیشنوں سے فائر ٹینڈر بھیجنا ایک عام بات ہے، لیکن عملے کی کمی کے باعث دستیاب فائر گاڑی کو نہ بھیج پانا تشویش ناک ہے۔ انہوں نے کہا،’اگر سب سے قریبی فائر اسٹیشن پر فائر ٹینڈر موجود تھا، لیکن اسے اس لیے نہیں بھیجا جا سکا کہ اسے چلانے کے لیے فائر فائٹرز نہیں تھے، تو یہ ایک سنگین معاملہ ہے اور اس پر فوراً توجہ دینے کی ضرورت ہے۔‘
پچھلے سال کی شکایت پر کارروائی نہیں
اخبار نے اپنی خبر میں بتایا ہے کہ جس جگہ سے آگ لگنے کا خدشہ ہے—یعنی ریستوران کا کچن—وہ بدھ کی صبح 8:48 بجے (جب آگ کی پہلی خبر ملی) تک غیر قانونی اور بغیر لائسنس کے چل رہا تھا۔ اس سے بھی زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ ایم سی ڈی کے ایک جونیئر افسر نے گزشتہ سال اکتوبر میں ہی اس خلاف ورزی کی جانب توجہ مبذول کرائی تھی، لیکن اس شکایت پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔
ایم سی ڈی کے دو افسران نے اخبار سے اس کی تصدیق کی ہے۔
وہیں،اخبار نے 2025 میں لوکیش بجاج کو جاری چائے اور ناشتہ کے لائسنس اور بدھ کی صبح ان کی جانب سے دی گئی نئی درخواست کے دستاویز بھی دیکھے ہیں۔
اس حوالے سے ایم سی ڈی کے ترجمان انل یادو اور پبلک ہیلتھ ڈپارٹمنٹ (جو ایسے کاروبارکو ریگولیٹ کرتا ہے) کے سربراہ اشوک راوت نے مبینہ خلاف ورزیوں اور متعلقہ یونٹ کے خلاف کارروائی نہ ہونے سے متعلق سوالوں کا کوئی جواب نہیں دیا۔
معلوم ہو کہ یہ حادثہ—جو گزشتہ پانچ سالوں میں دہلی میں سب سے بھیانک تھا، پاس کے علاقے میں ایک غیر قانونی عمارت کے گرنے سے چھ لوگوں کی موت چار دن بعد سامنے آیا ہے ۔
ہوٹل کے مالک لوکیش بجاج نے سب سے پہلے 2024 میں اپنے نام سے ’چائے اور ناشتہ آؤٹ لیٹ‘کا لائسنس لینے کے لیے درخواست دی تھی، جسے اسی سال 29 مئی کو ایم سی ڈی کے پبلک ہیلتھ ڈپارٹمنٹ نے منظوری دے دی تھی۔ یہ لائسنس 31 مارچ 2025 تک کے لیے تھا، جسے 2025 میں ایک سال کے لیے یعنی 31 مارچ 2026 تک کے لیے رینیو کیا گیا تھا۔
میونسپل کارپوریشن کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ چائے اور ناشتہ کا لائسنس چھوٹی کیوسک (فوڈ اسٹال، اسٹینڈ) جیسی یونٹس کے لیے تھا، جن میں کھانا پکانے یا بیٹھنے کی جگہ نہیں ہوتی۔
افسر نے کہا،’یہ کیوسک جیسے نظام کے لیے ایک سروس اسپیس کی طرح ہے، جہاں پہلے سے پکا ہوا کھانا اور سینڈوچ اور چائے جیسے ہلکے اسنیکس پیش کیے جا سکتے ہیں۔ اس یونٹ میں کھانا پکانے کے چولہے یا ایل پی جی سلنڈر رکھنے کی اجازت نہیں ہے۔‘
اخبار کو پتہ چلا ہے کہ دراصل بجاج ایک مکمل ریستوراں’اسنیکس اینڈ بائٹس‘چلا رہے تھے، جس میں کئی ٹیبل اور کرسیاں تھیں اور مختلف قسم کا پکا ہوا کھانا پیش کیا جاتا تھا۔ اس کے کچن میں اسٹوو تھے اور اسٹاف تھا جو وہاں آنے والے مہمانوں اور باہر ی لوگوں، دونوں کو کھانا پیش کرتا تھا۔
پولیس کی جانچ میں یہ بھی سامنے آیا کہ گراؤنڈ فلور پر بغیر پائپڈ گیس کنکشن کے ایک ریستوراں چلایا جا رہا تھا۔
جوائنٹ کمشنر آف پولیس (سدرن رینج) وجئے کمار نے بتایا کہ وہاں چار گیس سلنڈر رکھے ہوئے ملے تھے، جبکہ ریستوراں کا اسٹاف فرار ہو گیا تھا۔
لائسنس 31 مارچ کو ختم ہو گیا تھا
غور طلب ہے کہ لوکیش بجاج کا چائے اور ناشتہ کا لائسنس بھی 31 مارچ کو ختم ہو گیا تھا۔ بدھ کو بجاج اور ان کے نمائندوں نے ایم سی ڈی پورٹل پر’اسنیکس اینڈ بائٹس‘نام کی دکان کے لیے ایک آن لائن درخواست جمع کرائی۔ اس میں بغیر بیٹھنے کی جگہ کے’چائے اور ناشتہ اسٹال‘کے طور پر لائسنس کی درخواست کی گئی تھی۔
اس حوالے سے افسر نے کہا،’عام طور پر یہ لائسنس فوراً دے دیے جاتے ہیں اور یہ بہت چھوٹے اداروں سے متعلق ہوتے ہیں، اور بعد میں رینڈم بنیادوں پر معائنہ کیا جاتا ہے۔ لیکن اس معاملے میں حادثے کے فوراً بعد درخواست کوخارج کر دیا گیا۔‘
انہوں نے مزید کہا،’اگر حادثے کی شدت اتنی زیادہ نہ ہوتی تو مالک یہ دلیل دے سکتا تھا کہ’ڈیمڈ اپرووڈ‘لائسنس پائپ لائن میں تھا۔‘
قابل ذکر ہے کہ کچن اور ریستوراں میں قواعد کی متعدد خلاف ورزیاں، جو پہلی بار سامنے آئی ہیں، دراصل قواعد کی خلاف ورزیوں اور ادارہ جاتی ناکامیوں کی ایک طویل کڑی کا حصہ ہیں۔
پولیس نے بتایا ہے کہ بی اینڈ بی کے پاس چھ کمروں کی اجازت تھی،تین پہلی منزل پر اور تین دوسری منزل پر،لیکن وہاں پانچ منزلیں، ایک بیسمنٹ اور چھت سمیت کم از کم 26 کمروں میں کاروبار چل رہا تھا۔ وہیں ، اس عمارت کا سامنے والا حصہ ڈھکا ہوا تھا، شاید پینل اور ٹفنڈ گلاس سے، اور وہاں آنے جانے کے لیے صرف ایک مرکزی راستہ تھا، جبکہ بیسمنٹ کے لیے الگ راستہ تھا۔ فائر ڈپارٹمنٹ نے بتایا کہ بیسمنٹ میں آنے جانے کا راستہ بند تھا۔
اخبار نے اسی سڑک پر کم از کم پانچ دیگر بی اینڈ بی یونٹس میں بھی اسی طرح کی خلاف ورزیوں کی رپورٹ دی ہے۔
ایم سی ڈی کے ایک دوسرے افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اخبار کو بتایا کہ بی اینڈ بی لائسنس صرف ایسی یونٹ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جو اصل میں رہائشی ہو۔ گزشتہ سال اکتوبر میں سائٹ کے معائنے کے بعد فیلڈ اسٹاف کے ایک رکن نے لائسنس کی خلاف ورزیوں کی بات اٹھائی تھی اور اس حوالے سے ایک فائل بھی تیار کی گئی تھی۔ یہ واضح طور پر ایک فرضی لائسنس استعمال کرکے ایٹنگ ہاؤس کے ساتھ ہوٹل چلانے کا معاملہ تھا۔ ان دونوں کے لیے سکیورٹی کے بنیادی اصول بالکل مختلف سطح کے ہوتے ہیں۔
اس حوالے سے مشترکہ ایم سی ڈی میں ورکس کمیٹی کے سابق چیئرمین اور اربن پلاننگ ایکسپرٹ جگدیش ممگائن نے کہا کہ ایسے غیر قانونی ادارے چلانے کے لیے لائسنسنگ سسٹم اور دہلی ماسٹر پلان کی خامیوں کا فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا، یہ ممکن نہیں ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر کوئی غیر قانونی ہوٹل رہائشی علاقے میں چل رہا ہو اور پولیس اور ایم سی ڈی حکام کو اس کی بھنک تک نہ ہو۔ اگر پچھلے سال جانچ کی گئی تھی تو لائسنس ردکیوں نہیں کیے گئے؟ حکام کو اس کے لیے جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔‘