آروگیہ سیتو ایپ پر کیوں اٹھ رہے ہیں سوال

ملک میں بڑھتے کو روناانفیکشن کے معاملوں کے بیچ مرکزی حکومت نے آروگیہ سیتو موبائل ایپ لانچ کیا ہے، جس کو وزیر اعظم نریندر مودی نے کووڈ 19 خلاف لڑائی میں ایک اہم قدم بتایا ہے۔ حالانکہ ایپ کی صلاحیت کو لے کر ماہرین کی رائے سرکار کے دعووں کے برعکس ہے۔

ملک میں بڑھتے کو روناانفیکشن کے معاملوں کے بیچ مرکزی حکومت نے آروگیہ سیتو موبائل ایپ لانچ کیا ہے، جس کو وزیر اعظم  نریندر مودی نے کووڈ 19 خلاف لڑائی میں ایک اہم  قدم بتایا ہے۔ حالانکہ ایپ کی صلاحیت  کو لے کر ماہرین  کی رائے سرکار کے دعووں کے برعکس  ہے۔

Aarogya-Setu-Collage

کوروناوائرس کے بڑھتےانفیکشن کے بیچ اس مہینے کی شروعات میں مرکزی حکومت نے‘آروگیہ سیتو’ ایپ لانچ کیا تھا۔ لانچ کے 2 ہفتے بعد اب تک اس ایپ کو 1.5 کروڑ سے زیادہ بار ڈاؤن لوڈ کیا جا چکا ہے۔8 اپریل کو وزیر اعظم  نریندر مودی نے لوگوں سے اس موبائل ایپلی کیشن کو ڈاؤن لوڈ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ کووڈ 19 خلاف ملک  کی لڑائی میں ایک اہم  قدم ہے۔

منگل کوملک گیر لاک ڈاؤن کی مدت کو بڑھاتے ہوئے انہوں نے اپنی اس اپیل کو دوہرایا۔ایسا بتایا جا رہا ہے کہ انفیکشن کے پھیلاؤ کو روکنے میں مدد کے علاوہ بلوٹوتھ والے  اس ایپ کو جلد ہی شہریوں کی آمدورفت کے لیے ای -پاس کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، سرکاری حکام  کا کہنا کہ کوروناوائرس کےانفیکشن کو لےکرشہریوں کومحتاط کرنے کے مقصد سے بنائے گئے اس ایپ کی مدد سے کووڈ 19انفیکشن سے آزادافراد کو آنے جانے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔آئی ٹی منسٹری  کے ایک ترجمان  کا کہنا ہے، ‘ایسے مشورے ملے ہیں کہ آروگیہ ایپ کو اس طرح سے کام کرنے کے لیے تیار کیا جا سکتا ہے یہ اچھا خیال  ہے اور اس کے تکنیکی امکانات پر کام کیا جا رہا ہے۔’

انہوں نے یہ بھی جوڑا کہ اس کے بارے میں حتمی فیصلہ  لاجسٹکس کے لیے بنے ایک ایمپاورڈ گروپ  کے ذریعے لیا جائےگا۔اس ایپ کے لانچ ہونے کے بعد سے ہی سائبر سکیورٹی  اور قانون سے جڑے ماہرین نے ایپ کے ڈیٹا اور پرائیویسی پالیسی کو لےکر تشویش کا اظہار کیاتھا۔

اب ملک میں کووڈ 19 کے پھیلاؤ کو قابو کرنے کے ارادے سے لوگوں کی آمدورفت کو اس کی مدد سے کنٹرول  کرنے کا سرکار کا ممکنہ  قدم ان ماہرین  کی تشویش  کو اور بڑھا رہا ہے۔

کیسے کام کرتا ہے آروگیہ ایپ

اینڈرائیڈ اور آئی فون دونوں پر ہی دستیاب  یہ ایپ صارفین  سے اس کی لوکیشن کی جانکاری اور کچھ سوالوں کی بنیاد پر اس شخص کے آس پاس موجودانفیکشن کے خطرے اور امکانات کا پتہ لگانے میں مدد کرتا ہے۔ایپ ہندی اور انگریزی سمیت 11 زبانوں  میں ہے اور ڈاؤن لوڈ کئے جانے کے بعدصارفین  سے اس کا موبائل نمبر اور کچھ دوسری  جانکاریاں مانگتا ہے۔

ایپ صحت سے متعلق  سوال پوچھےگا، جیسے کیا آپ کو کھانسی یا بخار ہے، یا سانس سے متعلق  کوئی تکلیف تو نہیں ہو رہی ہے۔اس طرح کے سوالوں کی بنیاد پر یہ صحت مند آدمی  کو گرین زون میں رکھےگا۔ خطرے کے امکانات کی بنیاد پر ریڈ اوریلوزون بھی بنائے گئے ہیں۔

اس کے بعد اگرآپ کسی متاثریا ممکنہ انفیکشن کے پاس گئے تو یہ لوکیشن کی بنیاد پر اس کی جانکاری آپ کو دےگا اور محتاط رہنے کو کہے گا۔ایپ کے استعمال کے لیے فون کا بلوٹوتھ اور لوکیشن آن رکھنا ہوگا۔ ایپ لوگوں کے ‘دوسروں سے ملنے جلنے’ کو ٹریک کرےگا اور صارف کے کسی انفیکشن کے رابطہ میں آنے یا اس کے شک کی بنیاد پر اتھارٹی کو بتائے گا۔

(فوٹو بہ شکریہ : فیس بک/MyGovIndia)

(فوٹو بہ شکریہ : فیس بک/MyGovIndia)

کیا ہےماہرین  کی تشویش

ایک بار کسی اسمارٹ فون میں انسٹال کئے جانے کے بعد یہ ایپ اس کے آس پاس آنے والی ہر ایسی  ڈیوائس کو ڈھونڈ سکتا ہے، جس میں یہ ایپ ہوگا۔ اس کے بعد یہ کئی سوالوں سے ملی جانکاری کے بنیاد پرانفیکشن کے جوکھم کا اندازہ  کرےگا۔سائبر سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بارے میں بےحد کم وضاحت ہے کہ مرکز انہیں کیسے ٹریک کر سکےگا، کیونکہ ایپ تبھی کام کر سکتا ہے، جب متاثرہ شخص کے فون میں بھی یہ ایپ ہو۔

چنئی کے ایک ماہر بتاتے ہیں،‘ایپ کے مؤثر ڈھنگ سے کام کرنے کے لیے تین شرطوں کا پورا ہونا ضروری  ہے۔ پہلا یہ ہے کہ پورے ملک میں بڑی تعداد میں ٹیسٹ کئے گئے ہوں۔ پھر ان مریضوں کے پاس اسمارٹ فون ہوں، جس میں یہ ایپ ہو۔ صرف تبھی انٹر موبائل کمیونی کیشن کا ایک گروپ  بنایا جا سکتا ہے۔’

جیسا کہ ایپ میں بلوٹوتھ اور لوکیشن یعنی جی پی ایس ہمیشہ کام کرتے ہوئے رہنا چاہیے، یہ پریشانی  کی وجہ بن سکتے ہیں۔پرائیویسی کی شرط پر ایک ماہر نے بتایا،‘یہ ایک تکنیکی مسئلہ  ہے، جسے ‘سگنل انٹرفیرینس’ کہتے ہیں۔ بلوٹوتھ 2.4 گیگاہرٹز پر چلتا ہے۔ جب کئی بلوٹوتھ ڈیوائس وائی فائی راؤٹر وغیرہ جیسی اسی فریکوئنسی پر کام کرنے والی دوسری ڈیوائس کے آس پاس ہوں گی، تب ‘انٹرفیرینس’ ہو سکتا ہے۔’

اس کے لانچ کے وقت سے ہی اس کو لے کر پرائیویسی سے جڑے سوال اٹھے ہیں، جس کے بعد کم سے کم سے کم نوتنظیموں اور 11 لوگوں نے اس کے استعمال اور لوگوں کے نجی ڈیٹا کے استعمال کو لے کرمرکزی حکومت  کو لکھا ہے۔اسی طرح وکیلوں اور قانون کے جانکاروں نے یہ سوال بھی اٹھائے ہیں کہ کیا لوگوں کو اس کے استعمال کے لیے مجبور کرنا اور اس سے ہونے والے فائدے کے تناسب  میں ہیں۔

مرکز کو بھیجے گئے خط پر دستخط کرنے والوں میں ایک سافٹ ویئرفریڈم آل سینٹر (ایس ایف ایس ایل سی) بھی ہے۔ سینٹر کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایپ کاتجزیہ  کیا ہے اور انہیں اس میں کئی خامیاں ملی ہیں۔ان کےمطابق ان میں سے ایک ایپ کی پرائیویسی پالیسی سے جڑا کلاز ہے، جو سرکار کو یہ اختیار دیتا ہے کہ ‘وہ ضروری طبی  اور انتظامی دخل اندازی  کے لیے کلاؤڈ پر اپ لوڈ کی گئی نجی جانکاری کو دوسرے ضروری  اور مناسب لوگوں کے ساتھ شیئر کر سکتے ہیں۔’

سینٹر کا کہنا ہے، ‘یہاں مسئلہ ہے کیونکہ موٹے طور پر یہ غیر واضح  کلاز کسی کے بھی جسے سرکار چاہتی ہے اس کے ساتھ ڈیٹا شیئر کرنے کی اجازت دیتی ہے۔ ہندوستان میں نجی ڈیٹاپروٹیکشن[personal data protection] سے جڑا کوئی قانون نہیں ہے، جو ڈیٹا اکٹھا کرنے اور اس کے استعمال کومحدود کرے۔

ماہرین  کے مطابق اس کے علاوہ ایک مسئلہ  ایپ کی ‘محدود ذمہ داری’ (لایبلٹی) سے جڑا کلاز ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ اگر غلط جانکاری دی جاتی ہے، تو اس کے لیے سرکار ذمہ دار نہیں ہوگی۔

ایک دوسرے ماہر کہتے ہیں،‘ایک طرف اس کامطلب  یہ ہے کہ اگر جانکاری سہی نہیں ہے تو اس کلاز کے مطابق سرکار کو اس کا قصورنہیں دیا جا سکتا، وہیں اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ اگر کبھی مستقبل  میں صارف سے لی گئی نجی  جانکاری لیک بھی ہوتی ہے، تو سرکار کی کوئی ذمہ داری نہیں ہوگی۔’

(فوٹوبہ شکریہ: فیس بک/MyGovIndia)

(فوٹوبہ شکریہ: فیس بک/MyGovIndia)

پرسنا ایس دہلی کے رہنے والے وکیل ہیں اور سپریم کورٹ میں ‘پرائیویسی کا حق ’ معاملے میں عرضی گزاروں  کے وکیل رہ چکے ہیں۔ ان کی تشویش بھی ایپ کے ذریعے اکٹھا کی جا رہی جانکاری سے جڑی ہے۔وہ  کہتے ہیں،‘اس بارے میں خاطر خواہ  جانکاری نہیں ہے کہ ،کیاجو ڈیٹا لیا جائےگا، اسے کب تک رکھا جائےگا اور اس کا کیا استعمال ہوگا۔ ڈیٹا حکومت ہند سے شیئرکیا جا رہا ہے، تو وہ اسے کس لئے استعمال کر سکتی ہے، یہ بتایا جانا چاہیئے۔ ورنہ یہ پرائیویسی سے جڑے ‘نوٹس اینڈ کنسینٹ‘ کے ضابطے  کی خلاف ورزی  ہوگی۔’

نکھل پاہوا ٹیک ایکسپرٹ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آروگیہ سیتو ایپ کے ڈیزائن کو آؤٹ سورس کیا جانا چاہیے، جس سے کہ اس کی پرائیویسی سے جڑی کمزوریوں کو جانچا جا سکے۔ پاہوا کا کہنا ہے کہ سنگاپور سرکار نے اپنے سرکاری ایپ کے ساتھ ایسا ہی کیا ہے۔ایک سوال یہ بھی ہے کہ لاک ڈاؤن کے وقت یہ ایپ کتنا کارگر ہوگا، ساتھ ہی اس وقفہ  کو لےکر بھی مسئلہ  ہے جس میں کسی شخص کو کووڈ 19 کی جانچ میں  پازیٹو پایا جاتا ہے اور اس کا الرٹ ایپ پر بھیجا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ جی پی ایس اور بلوٹوتھ تکنیک کی صلاحیت سے بھی جڑے ہیں۔ اور کیا اس کا استعمال لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی  کرنے والوں کو ٹریک کرنے یا کوارنٹائن کئے گئے لوگوں کی نگرانی، جس کے لیے کچھ قدم اٹھائے گئے ہیں، کے لیے بھی کیا جا سکتا ہے۔

سماج پر ٹکنالوجی کے اثرات  کا مطالعہ کرنے والے محقق شری نواس کوڈالی کہتے ہیں، ‘آروگیہ سیتو کے ساتھ سب سے بڑی پریشانی یہ ہے کہ سرکار لوگوں کو صحت سے متعلق  عادتوں کے بارے میں بتانے کے بجائے اس آبادی کے بارے میں تفصیلی جانکاری اکٹھا کر رہی ہے۔ ویکسین کی بجائے ہمیں ایپ دیا جا رہا ہے، جس کا کوئی استعمال  نہیں ہے۔ اگر ایپ ہی ہر پریشانی  کاحل  ہے تو ہمیں سرکار کی ضرورت ہی کیا ہے، اس کی جگہ ایپ لے آتے ہیں۔’

کیا کہتی ہے سرکار

لگاتار ایپ کے ذریعے نگرانی (Surveillance) کو لے کر اٹھ رہے سوالوں کے بعد سرکار کی طرف سےصفائی دی گئی کہ ایسا نہیں ہے۔پریس انفارمیشن بیورو کی جانب سے کئے گئے ٹوئٹ میں کہا گیا کہ ایپ صارف کی لوکیشن اور کسی حساس نجی جانکاری کے ڈیٹا کو لنک نہیں کرتا ہے، ساتھ ہی اس سے ہیکنگ کا بھی کوئی جوکھم نہیں ہے۔

حالانکہ ڈیٹا کو وزارت صحت کے ذریعے اور کسی محکمہ یا وزارت  سے شیئرکیا جائےگا یا اس کے استعمال کو لیکر جڑے ماہرین  کے سوالوں کا جواب نہیں دیا گیا ہے۔