کورونا وائرس: ڈبلیو ایچ او کی وارننگ-حالات ابھی بد سے بدتر ہوں گے

ڈبلیو ایچ او نے متنبہ کیا ہے کہ کووڈ19کی صورت حال عالمی سطح پر مسلسل بگڑتی جارہی ہے اور اگرجلد ہی ٹھوس اور واضح اقدامات نہیں کیے گئے تو آنے والے دنوں میں حالات بد سے بدتر ہوجائیں گے۔

ڈبلیو ایچ او نے متنبہ کیا ہے کہ کووڈ19کی صورت حال عالمی سطح پر مسلسل بگڑتی جارہی ہے اور اگرجلد ہی ٹھوس اور واضح اقدامات نہیں کیے گئے تو آنے والے دنوں میں حالات بد سے بدتر ہوجائیں گے۔

ڈبلیو ایچ او کے سر براہ  ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈہنم گیبریاس(فوٹو: رائٹرس)

ڈبلیو ایچ او کے سر براہ  ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈہنم گیبریاس(فوٹو: رائٹرس)

ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈہانوم نے میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل قریب میں ایسا نہیں لگتا کہ سب کچھ پہلے کی طرح حسب معمول ہوجائے گا۔ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ گوکہ بالخصوص یورپ اور ایشیا میں بہت سے ممالک میں اس وبا پر قابو پالیا گیا ہے تاہم بہت سے ملکوں میں یہ وبا تیزی سے پھیلتی جارہی ہے۔

 انہوں نے تمام ممالک سے اس وبا پر قابو پانے کے لیے جامع لائحہ عمل اپنانے کی اپیل کی اور کہا کہ کورونا وائرس سے متاثرین کے نصف سے زائد نئے کیسیز اب امریکہ سے آرہے ہیں۔ انہوں نے کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ بہت سے سیاسی رہنما اس وبا کے متعلق ایسے بیانات دے رہے ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کا اعتماد متزلزل ہورہا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے جنیوا میں ورچوول پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے کئی ممالک کورونا سے نمٹنے کے معاملے میں غلط سمت میں جارہے ہیں۔ کورونا وائرس کے نئے کیسز مسلسل بڑھ رہے ہیں اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جن احتیاطی تدابیر اور اقدامات کی باتیں ہورہی ہیں ان پر عمل نہیں کیا جارہا ہے۔ ٹیڈ روس کا کہنا تھا”کورونا اب بھی لوگوں کا دشمن نمبر ایک ہے لیکن دنیا بھر کی کئی حکومتیں اس سلسلے میں جو قدم اٹھا رہی ہیں ان سے ایسا نہیں لگتا کہ وہ اس وبا کو سنجیدگی سے لے رہی ہیں۔“

ڈاکٹر ٹیڈ روس نے متنبہ کیا کہ مستقبل قریب میں ایسا نہیں لگتا کہ سب کچھ معمول کے مطابق ہوجائے گا۔ اگر بنیادی امور پر عمل نہیں کیا گیا تو اس کا انجام یہی ہوگا کہ کورونا رکے گا نہیں، وہ بڑھتا ہی جائے گا اور یہ بدسے بدتر ین ہوتا جائے گا۔“خیال رہے کہ جان ہاپکنس یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق  اس وقت دنیا میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد ایک کروڑ 30 لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے جبکہ پانچ لاکھ سے زائد متاثرین ہلاک ہوچکے ہیں۔

ڈاکٹر ٹیڈ روس کا کہنا تھا کہ ان کیسز میں سے 80 فیصد صرف دس ممالک سے تھے اور 50 فیصد محض دو ممالک میں رپورٹ ہوئے۔سب سے زیادہ متاثرہ امریکہ میں اب تک 33 لاکھ افراد کووڈ۔19 سے متاثر ہوچکے ہیں جبکہ ایک لاکھ 35 ہزار افراد موت کا شکار ہوچکے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او نے کہا ہے کہ یہ درست نہیں ہے کہ کچھ ماہ میں مؤثر ویکسین تیار ہوجائے گی۔ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ عالمی ادارہ صحت کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی طرف سے امریکہ کی دست برداری کا کوئی باقاعدہ نوٹس ابھی تک موصول نہیں ہوا ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ دنوں ٹرمپ انتظامیہ نے کہا تھا کہ امریکا عالمی ادارہ صحت سے دست بردار ہونے کے لیے نوٹس جاری کر رہا ہے۔ حالانکہ ڈبلیو ایچ او کے ضابطو ں کے مطابق نوٹس دینے کے ایک سال کے بعد ہی کوئی ملک ڈبلیو ایچ او سے پوری طرح تعلق ختم کرسکتا ہے۔

پریس کانفرنس میں موجود ڈبلیو ایچ او کی ایمرجنسی سروسز کے سربراہ مائیک ریان کا کہنا تھا کہ حالانکہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے ملکوں کو زبردست اقتصادی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے لیکن بعض خاص مقامات پر کورونا وائرس کے انفیکشن کو پھیلنے سے روکنے کے لیے لاک ڈاؤن نہایت ضروری ہے۔

مائیک ریان نے دنیا بھر کی حکومتوں سے اپیل کیا کہ وہ واضح اورٹھوس لائحہ عمل اختیار کریں۔ انہوں نے شہریوں سے بھی اس وبا کی سنگینی کو سمجھنے اور گائیڈ لائنس پر عمل کرنے کی اپیل کی۔انہوں نے مزید کہا کہ ”ہمیں یہ سیکھنا ہوگا کہ اس وائرس کے ساتھ ساتھ کیسے زندگی گزار سکتے ہیں۔ یہ امید کرنا کہ وائرس کو ختم کیا جاسکتا ہے یا کچھ ماہ میں مؤثر ویکسین تیار ہوجائے گی، یہ درست نہیں ہے۔“