کشمیر کی سڑکوں پر ماتم: خامنہ ای کی موت کے بعد اُمڈا عوامی سیلاب، دہائیوں پرانا ایران-کشمیر رشتہ پھر سرخیوں میں

امریکہ–اسرائیل کے مشترکہ حملے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کی تصدیق کے بعد کشمیر، خصوصی طور پر سری نگر میں وسیع پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ لال چوک پر ہزاروں افراد اکٹھا ہوئے، کالے جھنڈے لہرائے گئے اور بند کی اپیل کی گئی۔ یہ ردعمل ایران اور کشمیر کے گہرے تاریخی، مذہبی اور ثقافتی تعلقات کو بھی ظاہر کرتا ہے۔

امریکہ–اسرائیل کے مشترکہ حملے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کی تصدیق کے بعد کشمیر، خصوصی طور پر سری نگر میں وسیع پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ لال چوک پر ہزاروں افراد اکٹھا ہوئے، کالے جھنڈے لہرائے گئے اور بند کی اپیل کی گئی۔ یہ ردعمل ایران اور کشمیر کے گہرے تاریخی، مذہبی اور ثقافتی تعلقات کو بھی ظاہر کرتا ہے۔

بارہمولہ (جموں و کشمیر): امریکہ–اسرائیل حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد اتوار (1 مارچ 2026) کو احتجاجی مظاہرہ کے دوران لوگ۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

نئی دہلی: امریکہ–اسرائیل کے مشترکہ حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کی تصدیق ہوتے ہی جموں و کشمیر، خصوصی طور پر سری نگر اور وادی کے دیگر حصوں میں غیر معمولی ردعمل دیکھنے کو ملا۔ اتوار (1 مارچ) کی صبح سے ہی پرانے سری نگر کی کھڑکیوں پر سیاہ جھنڈے آویزاں کر دیے گئے، گلیوں میں خامنہ ای کی تصویر اٹھائے لوگ نعرے لگاتے ہوئے نکلے اور لال چوک میں ہزاروں افراد جمع ہو گئے۔

مقامی خبروں کے مطابق، مظاہروں کے دوران وادی کے کئی علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ سروس سست یا محدود کر دی گئی۔ بعض صارفین نے سوشل میڈیا پر شکایت کی کہ موبائل ڈیٹا کی اسپیڈ کم کر دی گئی ہے۔

این ڈی ٹی وی کے مطابق، انتظامیہ نے سری نگر میں احتیاطاً موبائل انٹرنیٹ سروس معطل کر دی ہے۔ حکومت نے اسکولوں اور کالجوں کو دو دن کے لیے بند رکھنے کا اعلان  کیا ہے۔

لال چوک میں گریہ و زاری اور نعروں کی گونج

ایران کی جانب سے اتوار کی صبح خامنہ ای کی موت کی تصدیق کے بعد سری نگر کی سڑکوں پر ہزاروں افراد نکل آئے۔ بڑی تعداد میں شیعہ برادری کے لوگ، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے، گھنٹہ گھر کے قریب جمع ہوئے۔ مظاہرین کی آنکھوں میں آنسو تھے اور وہ خامنہ ای کی حمایت  میں اور امریکہ- اسرائیل کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔

تاہم یہ احتجاج صرف شیعہ برادری تک محدود نہیں رہا۔ کئی سنی مسلمان بھی سڑکوں پر نکل آئے۔

 کشمیر ٹائمز کے مطابق، مظاہرہ  میں شامل ایک شخص نے کہا، ’ انہیں امریکہ اور اسرائیل نے بے رحمی سے مار ڈالا۔ یہ ہم سب کے لیے ایک صدمے کی گھڑی ہے۔ ‘

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے اسے ’ تاریخ کا افسوسناک اور شرمناک لمحہ‘قرار دیا۔

ادھر کشمیر کے ممتاز مذہبی رہنما اور متحدہ مجلسِ علماء کے سربراہ میرواعظ عمر فاروق نے سوموار  (2 مارچ) کو مکمل ہڑتال کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ ’ جموں و کشمیر کے لوگ اس بربریت کی اجتماعی طور پر مذمت کرتے ہیں‘اور عوام سے اتحاد، وقار اور مکمل امن کے ساتھ ہڑتال پر عمل کرنے کی درخواست کی۔

جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی شدیدتشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام برادریوں سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ سوگوار لوگوں کو پُرامن طریقے سے اپنے غم کا اظہار کرنے دیا جائے اور انتظامیہ تحمل کا مظاہرہ کرے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ ریاستی حکومت وزارت خارجہ کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ ایران میں موجود جموں و کشمیر کے طلبہ اور شہریوں کی سلامتی یقینی بنائی جا سکے۔

اسی کا وہ دورہ، جس نے تاریخ کو بدل دیا

خامنہ ای کی موت پر کشمیر میں سامنے آنے والا یہ عوامی ردعمل اچانک نہیں ہے۔ اس کے پس منظر میں سات صدیوں پرانا ثقافتی اور روحانی رشتہ ہے، جسے 1980 کے ایک تاریخی دورے نے مزید مضبوط کیا تھا۔

ایرانی اسلامی انقلاب کے ایک سال بعد، 1980 کے اواخر یا 1981 کے اوائل میں، اُس وقت نسبتاً کم معروف ایرانی عالم علی خامنہ ای کشمیر آئے تھے۔ انہوں نے سری نگر کی جامع مسجد میں اس وقت کے میرواعظ مولوی محمد فاروق کی دعوت پر خطاب کیا تھا۔

عینی شاہدین کے مطابق، یہ خطاب محض 15- 20 منٹ کا تھا، لیکن اس کے اثرات دور رس ثابت ہوئے۔ اُس وقت وادی میں شیعہ–سنی تقرقہ نمایاں تھا۔ تاہم، خامنہ ای نے جامع مسجد (جو سنی مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے) میں کھڑے ہو کر نماز ادا کی اور اتحاد کا پیغام دیا۔ بعد میں کئی مقامی علماء نے لکھا کہ اس خطاب کے بعد دونوں برادریوں کے درمیان مذہبی روابط میں نمایاں تبدیلی آئی۔

ایران-کشمیر: سیاست سے الگ  روحانی رشتہ

کشمیر اور ایران کا تعلق محض جدید سیاست کا نتیجہ نہیں ہے۔ چودہویں صدی سے فارسی صوفی بزرگوں کی کشمیر آمد اس رشتے کی بنیاد رہی ہے۔ سید شرف الدین بلبل شاہ، میر سید علی ہمدانی (شاہ ہمدان) اور میر سید شمس الدین عراقی جیسے بزرگوں نے وادی کی مذہبی اور ثقافتی شناخت پر گہرا اثر ڈالا۔

فارسی زبان 19ویں صدی کے آخر تک کشمیر کے دربار کی زبان رہی۔ وادی میں پائے جانے والے خاندانی نام (سرنیم) جیسے ہمدانی، کاشانی، سبزواری اور کرمانی ایرانی شہروں سے جڑے ہوئے ہیں۔ سری نگر کی تاریخی مساجد کی چھتوں کی نقاشی ، شاہ ہمدان مسجد کی طرزتعمیر اور عالمی شہرت یافتہ پیپر ماشی فن کی جڑیں بھی فارس سے ملتی ہیں۔

آج بھی بڈگام اور سری نگر کے بعض علاقوں میں آباد شیعہ برادری مذہبی رہنمائی کے لیے ایران کی اعلیٰ مذہبی قیادت کی طرف رجوع کرتی ہے۔ ان کے لیے خامنہ ای محض ایک سیاسی رہنما نہیں تھے بلکہ ولی فقیہ (اعلیٰ ترین مذہبی اتھارٹی) تھے۔ اس تناظر میں ان کی وفات کو بہت سے لوگ ذاتی نقصان کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

پیچیدہ سیاسی توازن

اگرچہ یہ جذباتی رشتہ گہرا ہے، لیکن ایران کی سرکاری پالیسی ہمیشہ متوازن رہی ہے۔ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد ایران نے کشمیر کے مسلمانوں کے لیے اخلاقی حمایت کا اظہار کیا، مگر کھل کر پاکستان کے حق میں کھل کر نہیں آیا۔ 1994 میں ایران نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن میں ہندوستان کے خلاف پیش کیے گئے ایک قرارداد کو روکنے میں کردار ادا کیا تھا۔

اس کے باوجود خامنہ ای نے متعدد مواقع پر اپنی تقاریر میں کشمیر کا ذکر کیا۔ 2017 میں انہوں نے کشمیر کو یمن اور بحرین کے ساتھ ‘مسلم دنیا کے زخم’ کے طور پر تعبیر کیا تھا۔ 2019 میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد بھی انہوں نےہندوستان سے کشمیریوں کے ساتھ منصفانہ سلوک کی اپیل کی تھی۔

تعلیم اور انسانی روابط

گزشتہ برسوں میں ایران کشمیری طلبہ، خصوصی ظور پر میڈیکل کی تعلیم کے لیے، ایک اہم مرکز بن کر ابھرا ہے۔ تہران یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز اور قم کے مذہبی تعلیمی اداروں میں سینکڑوں طلبہ زیر تعلیم ہیں۔

علاقے میں بدامنی بڑھنے کی صورت میں ہندوستانی حکومت کو وقتاً فوقتاً ان طلبہ کی سلامتی یقینی بنانی پڑی ہے۔

تاریخ، عقیدہ اور حال

خامنہ ای کی ہلاکت کی خبر نے کشمیر میں جو جذباتی لہر پیدا کی ہے، وہ محض ایک بین الاقوامی واقعے پر ردعمل نہیں بلکہ تاریخ، عقیدے، ثقافتی یادداشت اور سیاسی تجربات کا امتزاج ہے۔

لال چوک میں جمع ہونے والا ہجوم، جامع مسجد کی تاریخی یادیں، فارسی وراثٹ اور آج کی جغرافیائی و سیاسی پیچیدگیاں-یہ سب مل کر کشمیر اور ایران کے اس تعلق کو نمایاں کرتے ہیں جو سرحدوں اور حکومتوں سے بالاتر لوگوں کے دلوں میں بس چکا ہے۔