امت شاہ کے دعوے کے برعکس  وزارت داخلہ  نے کہا-بنگال میں بم بنانے کی فیکٹری کی کوئی جانکاری نہیں

اکتوبر 2020 میں ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا تھا کہ مغربی بنگال کے ہر ضلع میں بم بنانے والی فیکٹریاں ہیں۔ ایک آر ٹی آئی درخواست کے جواب میں وزارت داخلہ نے 3 مارچ 2021 کو بتایا کہ اس کے پاس ایسی کوئی جانکاری نہیں ہے۔

اکتوبر 2020 میں ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں وزیر داخلہ  امت شاہ نے کہا تھا کہ مغربی  بنگال کے ہر ضلع میں بم بنانے والی فیکٹریاں ہیں۔ ایک آر ٹی آئی درخواست کے جواب میں وزارت داخلہ  نے 3 مارچ 2021 کو بتایا کہ اس کے پاس ایسی کوئی جانکاری نہیں ہے۔

وزیر داخلہ امت شاہ۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

وزیر داخلہ امت شاہ۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

نئی دہلی: آر ٹی آئی کارکن ساکیت گوکھلے کی ایک آر ٹی آئی عرضی کے جواب میں وزارت داخلہ  نے انکشاف کیا ہے کہ اس کے پاس مغربی بنگال میں بم فیکٹریوں سے متعلق  کوئی جانکاری نہیں ہے۔اکتوبر 2020 میں ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں وزیر داخلہ  امت شاہ نے کہا تھا کہ وہاں ہر ضلع میں بم بنانے والی فیکٹریاں ہیں۔

سی این این نیوز18 پر کئی بی جے پی رہنماؤں نے شاہ کے اس دعوے کو دہرایا تھا۔بتا دیں کہ مغربی بنگال میں ممتا بنرجی کی قیادت والی ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی)اقتدار میں ہے اور آئندہ اسمبلی انتخاب میں بی جے پی اقتدار حاصل کرنے کے لیے سارے ہتھکنڈے اپنا رہی ہے۔

گوکھلے نے اکتوبر 2020 میں ایک آر ٹی آئی درخواست کےذریعےمغربی  بنگال میں بم فیکٹریوں کی ضلع وار تفصیلات مانگی تھی۔ اس میں انہوں نے پوچھا تھا کہ کیا وزارت داخلہ نے سرکاری  طور پر امت شاہ کو بم فیکٹریوں کے بارے میں جانکاری دی تھی، کیا شاہ کے تبصرےسرکاری  ریکارڈ پر مبنی تھے اور کیا مبینہ بم فیکٹریوں کی فہرست کو مغربی  بنگال پولیس کے ساتھ شیئر کیا گیا۔

Saket-Gokhale-RTI

گزشتہ 9 مارچ کو گوکھلے نے ٹوئٹ کیا کہ وزارت داخلہ  نے 3 مارچ، 2021 کو جواب دیا ہے اور کہا کہ اس کے پاس ایسی کوئی جانکاری نہیں ہے اور اس کے بجائے گوکھلے کو مغربی بنگال انتظامیہ  سے رابطہ  کرنے کی صلاح دی کیونکہ پولیس اورصحت عامہ ریاست  کےموضوع ہیں۔

Saket-Gokhale-RTI-2

گوکھلے نے ٹوئٹ کیا کہ وزارت  جانکاری کا انکشاف  کرنے کے لیے آگے نہیں آئی ۔ انہوں نے ٹوئٹ کیا،‘یہاں تک کہ (میری) پہلی اپیل کا جواب نہیں دیا گیا۔وزارت داخلہ کے ایک افسر نے مجھے فون کیا اور کہا، ہمیں اس کا جواب نہیں دینے کے لیے کہا گیا ہے۔’

گوکھلے نے کہا کہ جانکاری کا انکشاف  کرنے کے لیے سرکار کی مرضی  نیو انڈیا کا ایک حصہ تھی۔گوکھلے نے ٹوئٹ کا بنگالی ترجمہ کرنے کی بھی گزارش کی اور میڈیا پر انٹرویو کے دوران بڑےرہنماؤں سے فالواپ سوال نہیں پوچھنے کا الزام  لگایا۔

اس آر ٹی آئی جانکاری کے سامنے آنے کے بعد ٹی ایم سی ایم پی  مہوا موئترا نے بی جے پی  پرانتخابی  فائدے کے لیےمغربی  بنگال کی امیج  خراب کرنے کا الزام لگایا۔اکتوبر2020 میں شاہ کے دعوے کے بعدبی جےپی رہنما مغربی  بنگال کے مختلف  حصوں میں کچے خام دھماکہ خیز اشیا کو وزیرداخلہ  کے دعووں سے جوڑ نے لگے تھے۔

گزشتہ دنوں میں بنگال کا سیاسی  منظرنامہ پرتشدد رہا تھا اور اس کی تازہ ترین مثال فروری میں تب سامنے آئی  تھی جب مرشدآباد ضلع کے ایک ریلوے اسٹیشن پر ٹی ایم سی رہنما اور وزیر مملکت  ذاکر حسین پر بم پھینکا گیا، جس میں وہ شدید طور پر زخمی  ہو گئے تھے۔

وہیں، نومبر 2020 میں بی جے پی  کےریاستی صدر دلیپ گھوش نے کہا تھا، ‘بم سازی یہاں کی واحد صنعت ہے اور کہا کہ ممتا بنرجی نے بنگال کو دوسرے کشمیر میں بدل دیا ہے۔’

اس دوران بنرجی کے بھتیجے اور ڈائمنڈ ہاربر سے ٹی ایم سی ایم پی  ابھیشیک بنرجی نے کہا تھا کہ یہ المیہ  تھا کہ مرکز کی بی جے پی سرکار کے پاس بنگال میں بم بنانے والی اکائیوں کے اعدادوشمار تھے، لیکن مہاجر مزدوروں پر اعدادوشمار کے بارے میں جانکاری نہیں تھی۔

انہوں نے ٹوئٹ کرکے کہا تھا، ‘المیہ یہ ہے کہ امت شاہ کو بم کارخانوں کا ڈیٹا مل گیا، لیکن جب مزدوروں  پر ڈیٹا کی بات آتی ہےتو ان کی بی جے پی  سرکار کے پاس کوئی جانکاری نہیں ہوتی ہے۔ سماجی ہم آہنگی کو بگاڑنے کے لیے آپ نے بنگال کے لوگوں کوگورنر رول  کی دھمکی کیسے دی۔ نفرت انگیز ووٹنگ مہم ۔’