کانگریسی رہنما بولے-مغربی بنگال میں لاء اینڈ آرڈر کی حالت خراب، مرکز چاہے تو نافذ کرے صدر راج

لوک سبھا میں کانگریس کے رہنما ادھیر رنجن چودھری نے کہا ریاست کے بی جے پی رہنما مغربی بنگال میں صدر راج کے نفاذ کی دلیل دے رہے ہیں ،اگر ایسی حالت ہے تو یقینی طورپر صدر راج کا نفاذ ہونا چاہیے ، لیکن ہمارا سوال یہ ہے کہ کیا بی جے پی کے رہنما اس مدعے کو لے کر اتنے ہی سنجیدہ ہیں جتنا وہ باہر سے دکھا ئی دیتے ہیں۔

لوک سبھا میں کانگریس کے رہنما ادھیر رنجن چودھری نے کہا ریاست کے بی جے پی رہنما  مغربی بنگال میں صدر راج کے نفاذ کی دلیل دے رہے ہیں ،اگر ایسی حالت ہے تو یقینی طورپر صدر راج کا نفاذ ہونا چاہیے ، لیکن ہمارا سوال یہ ہے کہ کیا بی جے پی کے رہنما اس مدعے کو لے کر اتنے ہی سنجیدہ ہیں جتنا وہ باہر سے دکھا ئی دیتے ہیں۔

فوٹو: اے این آئی

فوٹو: اے این آئی

نئی دہلی:  لوک سبھا میں کانگریس کے رہنما ادھیر رنجن چودھری نے کہا  کہ مغربی بنگال میں لاء اینڈ آرڈر کی حالت بے حد خراب ہو گئی ہے۔ اگر مرکزی حکومت چاہے تو وہاں صدر  راج  لگا سکتی ہے۔انہوں نے بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ،اگر مرکز چاہتی ہے اور اس کو لگتا ہے کہ حالات صحیح معنوں میں بے حدخراب ہیں تو ان کو یہاں صدر راج نافذکرنا چاہیے۔انہوں نے سوال قائم کرتے ہوئے کہا کہ ، لیکن کیا بی جے پی اس کو لے کر سنجیدہ ہے۔

چودھری نے خبررساں ایجنسی اے این آئی کو بتایا کہ ، ریاست کے بی جے پی رہنما  مغربی بنگال میں صدر راج کے نفاذ کی دلیل دے رہے ہیں ،اگر ایسی حالت ہے تو یقینی طورپر صدر راج کا نفاذ ہونا چاہیے ، لیکن ہمارا سوال یہ ہے کہ کیا بی جے پی کے رہنما اس مدعے کو لے کر اتنے ہی سنجیدہ ہیں جتنا وہ باہر سے دکھا ئی دیتے ہیں۔انہوں نے کہا ، وزیر اعلیٰ ممتا بنر جی کی وزیر اعظم مودی سے ملاقات کے بعد پونجی گھوٹالے کی جانچ دھیمی ہوگئی ہے ۔ کیا مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ اور وزیر اعظم کے بیچ کوئی سمجھوتہ ہوا ہے ۔انہو ں نے کہا ریاستی حکومت  کے خلاف بی جے پی رہنماؤں کی سنجیدگی پر مجھے شک ہے۔

خبررساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق، کانگریسی رہنما نے الزام لگایا  کہ ریاست میں  بی جے پی صدر راج لگانے کی مانگ کرتی ہے لیکن دہلی میں وہ ٹی ایم سی کے ساتھ دوستانہ برتاؤ کرتی ہیں ۔کانگریسی رہنما کی طرف سے یہ بیان ٹی ایم سی کو ناگوار گزر سکتا ہے۔کیونکہ بھلے ہی لوک سبھا انتخاب میں دونوں پارٹیوں کے درمیان معاہدہ نہ ہو پایا ہو لیکن پارلیامنٹ میں کئی مدعوں پر دونوں پارٹیاں ساتھ کھڑی ہیں۔اب دیکھنے والی بات یہ ہوگی کہ ادھیر رنجن چودھری کے بیان پر ترنمول کانگریس یعنی ٹی ایم سی کی طرف سے کیابیان آتا ہے۔

غور طلب ہے کہ مغربی بنگال میں سیاسی کارکنوں کے قتل کی مسلسل خبریں آ رہی ہیں۔ گزشتہ روزمرشدآباد میں ایک فیملی کے  سبھی تین ممبر،جن میں آٹھ سالہ بچہ اور اس کی حاملہ ماں بھی شامل ہیں،کو دھار دار ہتھیاروں سے کاٹ ڈالاگیا  تھا۔ یہ جانکاری ایک سینئر پولیس افسر نے بدھ کو دی تھی ۔35 سالہ اسکول ٹیچر بندھو پرکاش پال،ا ن کی 30 سالہ بیوی بیوٹی اور آٹھ سالہ بیٹا آنگن کی لاش جیاگنج علاقے میں واقع ان کے گھر میں الگ- الگ جگہوں پر منگل کو برآمد ہوئےتھے۔گھر میں جگہ- جگہ خون پھیلا ہوا تھا۔

 ان قتل معاملوں نے اس وقت سیاسی رنگ لےلیا جب بی جے پی اور اس کےنظریاتی   سرپرست مانے جانے والے آر ایس ایس نے کہا کہ بندھوپرکاش پال آر ایس ایس کے کار کن تھے۔

بی جے پی ترجمان سنبت پاترا نے اس معاملے پر ٹوئٹ کرتےہوئے لکھا ہے کہ ،مندسور میں وشو ہندو پریشد ممبر یوراج سنگھ کی دن دہاڑے گولی مار دی جاتی ہے مرشد آبا دمیں آر ایس ایس کے بندھو پال کی فیملی کو موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے پھر بھی سب چپ ہیں ،کیوں ؟ کیا ان کا قصور صرف اتنا ہے کہ ان کا نام پہلو خان یا اخلاق نہیں ؟

انہوں نے  ایک ویڈیو ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا، اس نے میرے ضمیر کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ایک آر ایس ایس کارکن بندھو پرکاش پال، ان کی آٹھ مہینہ کی حاملہ بیوی اور ان کے بچے کو مغربی بنگال کے مرشدآبادمیں بے رحمی سے کاٹ ڈالا گیا۔لبرل لوگوں کی طرف سے ایک لفظ بھی نہیں کہاگیا۔59 لبرل لوگوں کی طرف سے ممتا بنرجی  کو ایک خط بھی نہیں ۔اس طرح  کچھ خاص واقعات پر ہی رد عمل دئے جانے سے مجھے گھن آتی ہے۔