اندور: دیر رات سپریم کورٹ کے جج کے کال کے بعد ہوئی منور فاروقی کی رہائی

منور فاروقی کو ضمانت ملنے کے بعدجیل انتظامیہ نے یوپی کی ایک عدالت کے پیشی وارنٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کی رہائی میں عذر کا اظہار کیا تھا۔ دیر رات سپریم کورٹ کے ایک جج نے اندور کے چیف جوڈیشیل مجسٹریٹ کو فون کرکے انہیں احکامات کے لیے ویب سائٹ دیکھنے اور اس پر عمل کرنے کوکہا۔

منور فاروقی کو ضمانت ملنے کے بعدجیل انتظامیہ نے یوپی کی ایک عدالت کے پیشی وارنٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کی رہائی میں عذر کا اظہار کیا تھا۔ دیر رات سپریم کورٹ کے ایک جج نے اندور کے چیف جوڈیشیل مجسٹریٹ کو فون کرکے انہیں احکامات کے لیے ویب سائٹ دیکھنے اور اس پر عمل  کرنے کوکہا۔

منور فاروقی۔ (فوٹوبہ شکریہ: فیس بک)

منور فاروقی۔ (فوٹوبہ شکریہ: فیس بک)

نئی دہلی: ہندو دیوی دیوتاؤں کو لےکرمبینہ قابل اعتراض تبصرے کے معاملے میں سپریم کورٹ سے عبوری  ضمانت ملنے کے بعد اسٹینڈ اپ کامیڈین منور فاروقی کو سنیچر کو دیر رات سینٹرل جیل اندورسے رہا کر دیا گیا۔ وہ پچھلے 35 دن سے عدالتی  حراست کے تحت اس جیل میں بند تھے۔

سینٹرل جیل انتظامیہ نے الہ آباد کی ایک عدالت کے پیشی وارنٹ کا حوالہ دیتے ہوئے فاروقی کی رہائی میں سنیچر  دیر شام کو عذر کا اظہار کیا تھا، لیکن بعد میں جیل کے ایک اہلکار نے کہا کہ معاملے میں سپریم کورٹ  کا فیصلہ  جیل  انتظامیہ کوصحیح ذرائع  سےحاصل ہوا جس کی بنیاد پرنوجوان کامیڈین  کو سنیچر  دیر رات کو رہا کر دیا گیا۔

انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، اندور سینٹرل جیل کے انسپکٹر راجیش بانگڈے نے کہا، ‘ہمیں پہلے یہ حکم نہیں ملا تھا، حالانکہ سپریم کورٹ کے ایک جج  نے اندور کے چیف جوڈیشیل مجسٹریٹ کو فون کیا اور انہیں اپ لوڈ کیے گئے احکامات کے لیے ویب سائٹ دیکھنے اور اگر اپ لوڈ ہو گیا ہےتو اس پر عمل  کرنے کے لیے کہا۔’

انہوں نے کہا، ‘ہم نے ویب سائٹ چیک کی وہ آرڈر اپ لوڈ ہو گیا تھا اس لیے انہیں11 بجے رہا کر دیا گیا۔’

اس آرڈر کے تحت سپریم کورٹ  نے فاروقی کو اندور میں درج معاملے میں عبوری  ضمانت دے دی تھی۔ اس کے ساتھ ہی مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے ہی الزام  میں ان کے خلاف پریاگ راج میں درج معاملے میں وہاں کی ایک نچلی عدالت کے جاری پیشی وارنٹ پر روک بھی لگا دی تھی۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ فاروقی کی رہائی کی جانکاری ملتے ہی سنیچر  دیر رات جیل کیمپس  میں میڈیااہلکار بھی جمع ہو گئے تھے، لیکن مذہبی اعتبار سےحساس  معاملے میں گرفتارکامیڈین  کو ان کی نظر سے بچاتے ہوئے خفیہ  طریقے سے جیل کیمپس سے باہر نکالا گیا۔

حالانکہ اپنی رہائی کے ٹھیک بعد فاروقی نے این ڈی ٹی وی کو بتایا کہ انہیں عدلیہ  میں پورا بھروسہ ہے اور انہوں نے آگے کوئی تبصرہ  کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد وہ ممبئی کے لیے روانہ ہو گئے۔

اندور میں ایک جنوری کی رات درج ایف آئی آر میں مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے کلیدی الزام کا سامنا کر رہے گجرات کے کامیڈین  کو عدالت نےجمعہ  کو عبوری  ضمانت دے دی تھی۔

منور کے وکیلوں نے اندور کی ضلع عدالت میں سنیچر کو عدالت  کا آرڈرپیش  کرکے ضمانت کی باضابطہ تکمیل  کی۔

مقامی عدالت نے 50000 روپے کی ضمانت اور اتنی ہی رقم  کے مچلکے پر فاروقی کوسینٹرل جیل  سے رہا کرنے کا آرڈر دیا۔

فاروقی کی رہائی سے پہلےسینٹرل جیل  کے ایک افسرنے سنیچر دیر شام کوکہا کہ الہ آباد کی ایک عدالت نے وہاں درج معاملے میں فاروقی کو 18 فروری کو پیش کیے جانے کا آرڈر دیا ہے۔

انہوں نے جیل کے دستورالعمل کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہیں فاروقی کو رہا کرنے کےلیے الہ آباد کی عدالت یا سرکار کے کسی قابل اختیار افسر سے آرڈرکی ضرورت ہے۔

ہندو دیوی دیوتاؤں پر مبینہ قابل اعتراض تبصرہ کے الزام میں ہی فاروقی کے خلاف الہ آباد کے جارج ٹاؤن پولیس تھانے میں پچھلے سال معاملہ درج کیا گیا تھا۔

حکام  نے بتایا کہ مدھیہ پردیش میں مقتدرہ بی جے پی کی مقامی ایل ایل اے مالنی لکشمن سنگھ گوڑ کے بیٹے ایکلویہ سنگھ گوڑ کی شکایت پر ایک جنوری کو گرفتاری کے بعد سے فاروقی اندور کے سینٹرل  جیل میں بند تھے۔

غورطلب ہے کہ ضلع عدالت اور اس کے بعد مدھیہ پردیش ہائی کورٹ  نے فاروقی کی ضمانت عرضیاں دونوں فریق  کی دلیلیں سننے کے بعد خارج کر دی تھیں۔ اس کے بعدکامیڈین نے ضمانت پر رہائی کے لیےسپریم کورٹ  کی پناہ  لی تھی۔

بتا دیں کہ اندور سے بی جے پی ایم ایل اے مالنی لکشمن سنگھ گوڑ کے بیٹے ایکلویہ سنگھ گوڑ کی شکایت کے بعد گزشتہ ایک جنوری کو اندور پولیس نے فاروقی اور پانچ دیگر نلن یادو، ایڈون انتھنی، پرکھر ویاس، پریم ویاس اور نلن یادو کو گرفتار کیا تھا۔

ایکلویہ سنگھ گوڑ نے معاملہ درج کراتے ہوئے الزام  لگایا تھا کہ اس شو میں ہندو دیوی دیوتاؤں اور وزیر داخلہ امت شاہ پر غیر مہذب تبصرے کیے گئے تھے۔

منور کومذہبی جذبات کو مجروح کرنے کے لیے ان کے مبینہ تبصرہ  کے لیے گرفتار کیا گیا تھا لیکن پولیس نے بعد میں قبول کیا کہ فاروقی نےاس طرح کا کوئی بیان نہیں دیا تھا۔

(خبررساں  ایجنسی بھاشاکے ان پٹ کے ساتھ)