نہتے اور ’خطرناک‘ نوجوانوں کی نئی کاکروچ جمہوریت

12:18 PM Jul 25, 2026 | ارندھتی رائے

کیا لوگوں کو ہمیشہ بے وقوف بنایا جا سکتا ہے؟ کیا کروڑوں کی آبادی والے اس ملک کے لوگ ہمیشہ مردہ بنے رہیں گے؟ ایسا نہیں ہو سکتا۔ کاکروچ ایک نئی شروعات کرتے ہوئے  نکل پڑے ہیں۔

تصویر: پی ٹی آئی

برسوں بعد اپنے ہندوستانی ہونے پر اس قدر فخر ہو رہا ہے۔ دراصل ،جب  لگا کہ اب کوئی امید نہیں بچی، وہ آ گئے۔ برسات کے ساتھ ننھے، جوان کاکروچ۔ وہ پیدا ہوئے ایک جج اور ایک لطیفے کے ملن سے۔

اب تک ہم سب اس کہانی سے واقف ہوچکے ہیں، مگر پھر بھی ریکارڈ کے لیے اسے یہاں درج کرنا ضروری ہے۔ ہندوستان کے چیف جسٹس سوریہ کانت کے متکبرانہ اور اس توہین آمیز تبصرے کہ ’کچھ بے روزگار ہندوستانی نوجوان کاکروچ اور طفیلی ہیں‘، کے جواب میں امریکہ کے بوسٹن میں رہنے والے طالبعلم ابھیجیت دیپکے نے سوشل میڈیا پر انگریزی میں لکھا؛’کیا ہواگر سارے کاکروچ ایک ساتھ آ جائیں ؟‘

لاکھوں لوگوں نے اس پر ردعمل ظاہر کیا، اور اس طرح’کاکروچ جنتا پارٹی‘وجود میں آ گئی۔

دیپکے اس کہانی کے بانسری نواز کی طرح آگے آگے چلے اور ان کے پیچھے پیچھے ہزاروں نوجوان شہری چل پڑے۔ پہلی مانگ اٹھی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کی ۔ وہی وزیر، جو ایک کرپٹ اور سڑ رہی وزارت کے سربراہ ہیں، جس کی نگہانی میں آئے دن الگ الگ امتحانات کے پیپر لیک ہورہے ہیں۔

اپوزیشن جماعتوں کے مطابق، سن 2014 سے اب تک تقریباً 152 بار پیپر لیک ہو ئے ہیں۔ پرچہ لیک کے ان واقعات نے ان لاکھوں نوجوانوں کی زندگی برباد کر دی ہے، جنہوں نے ان امتحانات کی تیاری میں کئی کئی سال صرف کیے۔ ان میں سے بعض کے والدین کو اپنے بچوں کی پڑھائی اور امتحان میں بیٹھنے کی فیس-جو ایک طرح کی قانونی وصولی ہے-بھرنے کے لیے اپنی زمین یا گھر تک فروخت کرنا پڑا۔ اسی سال مئی میں میڈیکل کورس میں داخلے کے لیے ہونے والے  نیشنل ایلیجیبلٹی کم انٹرنس ٹیسٹ (نیٹ)کا پیپر لیک ہونے کے بعد مایوسی کے عالم میں کم از کم 12 طلبہ کی خودکشی کی خبریں سامنے آئی ہیں۔

جب ’کاکروچوں‘کا غصہ ایک آن لائن سونامی میں تبدیل  ہورہا تھا، تبھی دیپکے نے وطن واپسی کا فیصلہ کیا۔ 6جون کو دہلی ایئرپورٹ سے وہ سیدھے جنتر منتر پہنچے۔ معروف سماجی کارکن سونم وانگچک بھی ان کی حمایت میں آگے آئے اور غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر بیٹھ گئے۔

اسی کے ساتھ آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن(آئیسا) کے چھ طلبہ-نہا بورا، منیش کمار، آمین امیتوش، دانش علی، رشی کیش اور دیپک-نے بھی بھوک ہڑتال کا اعلان کیا اور سونم وانگچک کے پاس ہی ایک کونے میں بیٹھ گئے۔ اس درمیان ملک کے دوسرے شہروں میں بھی احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے۔ جیسے جیسے بھوک ہڑتال پر بیٹھے لوگوں کی حالت تشویشناک ہوتی گئی، انٹرنیٹ پر سرگرم نوجوان سچ مچ جنتر منتر پہنچنے لگے۔

بھوک ہڑتال پر بیٹھےآئیساکے طلبہ۔ تصویر: اتل ہووالے/دی وائر

اسی دوران کاکروچ جنتا پارٹی نے اعلان کیا کہ وہ 20جولائی کو، یعنی پارلیامنٹ کے مانسون اجلاس کے آغاز سے ٹھیک ایک دن پہلے، پارلیامنٹ کی جانب مارچ کرے گی۔ لیکن اس مارچ سے دو دن قبل، 18 جولائی کی صبح دہلی پولیس نے سونم وانگچک کو اسٹیج سے زبردستی اٹھا لیا۔ پہلے انہیں ایک سرکاری اسپتال اور بعد میں ان کی اہلیہ کی درخواست پر این سی آر کے ایک نجی اسپتال میں حراست میں رکھا گیا۔ ان کی بھوک ہڑتال 23 جولائی کی دیررات ختم ہوئی۔ اس سے قبل 20 جولائی کو مارچ سے پہلےآئیساکے طلبہ نے بھی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی۔

اس کے بعد پورے شہر میں’کاکروچ‘ چھا گئے۔ وہ ٹرین، بس، فلائٹ اور میٹروہر ممکن ذرائع  سے آ رہے تھے، اور ہر گھنٹے ان کی تعداد بڑھتی ہی جا رہی تھی۔ دہلی کے آسمان کو سورج کی پہلی کرن نے ابھی چھوا بھی نہیں تھا کہ جنتر منتر پر صرف وہی تھے-ہزاروں ہزار۔

سورج نکلتے نکلتے یہ صاف ہوگیا تھا کہ مایوسی اور غصے سے ابل رہی یہ نسل، جس نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنا مستقبل کا شیرازہ  بکھرتے دیکھا ہے، اب وہ سب کچھ واپس لینےجا رہی تھی جو ان کے والدین اور دادا دادی کی نسلوں نے گنوایا تھا-ایک معاشرے اور ایک ملک کے طور پر ہمارےوقار، اور ایک جمہوری ملک کے شہری ہونے کے ناطے ہمارے حقوق۔

گزشتہ 20 جولائی کو جنتر منتر کے قریب مظاہرین۔( تصویر: پی ٹی آئی)

مظاہرین نے اپنی غیرمعمولی ہمت اور شائستگی سے اس زہریلے خوف کو دور کر دیا، جو اتنے برسوں میں ہم سب کی عادت کا حصہ بن چکا تھا۔ دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ انہوں نے یہ سب گویا مذاق ہی مذاق میں کر دکھایا۔ دن ڈھلتے ڈھلتے یہ بات بالکل واضح ہو گئی تھی کہ اب یہ تحریک ان سب باتوں سے کہیں بڑی ہو چکی تھی، جن کی مانگ احتجاج کی قیادت کرنے والے رہنما کر رہے تھے۔ دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ اب ایک چھوٹی بات ہے؛ اب بہت کچھ داؤ پر ہے۔ تمام سرکاری مشینری میں اوپر سے نیچے تک پھیلا تعفن صاف نظر آ رہا ہے، اور اس سے کسی سڑتی ہوئی لاش جیسی بدبو آ رہی ہے۔ یہاں آئے ہوئے چند بے حد چھوٹے ’کاکروچ‘، جن کی عمر محض سات یا آٹھ برس ہوگی، انہیں بھی اب یہ بات بخوبی سمجھ میں آنے لگی ہے۔

اس مارچ سے ذرا پہلے ہی شہر کے پولیس سربراہ کو تیزی سے اور تقریباً خاموشی کے ساتھ بدل دیا گیا تھا، اور ہمارے خوفناک مرکزی وزیر داخلہ کی خطرناک صلاحیتوں کے بارے میں بھی لوگوں کے دلوں میں دبی ہوئی تشویش موجود تھی۔ اس کے باوجود نہ پولیس اور نہ ہی وزارت داخلہ 20 جولائی کو دہلی پہنچنے والے عوامی سیلاب کے حقیقی پیمانے کا اندازہ لگا سکی۔ انہوں نے ہر ممکن کوشش کی-بسیں، سڑکیں اور میٹرو اسٹیشن بند کر دیے-مگر کوئی فائدہ نہ ہوا۔ انہوں نے انٹرنیٹ بند کرنے کی بھی کوشش کی، لیکن انٹرنیٹ ہی کے ماحول میں پروان چڑھی نوجوان نسل نے میم اور ویڈیو کی ایسی بھرمار کر دی کہ یہ کوشش بھی ناکام ہو گئی۔ ایسے میم اور ویڈیو جو بیک وقت آپ کو ہنساتے بھی ہیں اور رلاتے بھی۔

دہلی کی سکیورٹی صورتحال کسی سے پوشیدہ نہیں، مگر اس احتجاج میں شریک نوجوان خواتین کہہ رہی ہیں کہ انہوں نے ہجوم کے اندر بھی خود کو محفوظ محسوس کیا، اگرچہ کچھ نے پولیس کی جانب سے غلط طریقے سے چھونے کی بات بھی کہی۔ ہم نے مسلمانوں، ہندوؤں، عیسائیوں، سکھوں اور بدھ مت کے ماننے والوں کے ساتھ ساتھ ہر ذات اور ہر طبقے کے لوگوں کو ایک ساتھ، ایک دوسرے کی مدد کرتے اور پولیس کے سامنے ایک دوسرے کو بچاتے  ہوئے دیکھا۔ وعظ یا لمبی تقریر کرنے کے بجائے انہوں نے ہمیں اپنے خوابوں کے خوبصورت ہندوستان کی ایک جھلک دکھائی، بلکہ اسے حقیقت کا روپ دے کر بھی دکھایا۔

اس خطرے سے نمٹنے کے لیے پولیس نے اپنے پیلے بیریکیڈز کو ویلڈنگ کے ذریعے آپس میں جوڑ دیا، اور اپنا وہی پرانا آزمودہ حربہ اختیار کیا؛ پتھروں سے بھرا ٹرک احتجاجی مقام کے قریب لا کر کھڑا کر دیا گیا، پہلے سے ٹوٹی پھوٹی گاڑیاں وہاں لائی گئیں، اس امید پر کہ بعد میں یہ تاثر دیا جا سکے کہ نوجوان تشدد پر آمادہ ہو گئے تھے اور پولیس نے جو کارروائی کی، وہ محض اپنے دفاع میں کی۔ وہ سادہ لباس میں ملبوس غنڈوں کی ایک فوج بھی ساتھ لائے، جن کے ہاتھوں میں لاٹھیاں اور ڈنڈے تھے۔ کارروائی کی تیاری کے طور پر ریپڈ ایکشن فورس (آر اے ایف) کے اہلکاروں نے اپنی وردیوں سے اپنے ناموں کی پٹیاں بھی ہٹا دیں۔ وفادار گودی ٹی وی چینل جھوٹ پھیلانے کے لیے بالکل تیار تھے۔ (کچھ تو اتنے’ترکال درشی‘تھے کہ انہوں نے ان واقعات کی بھی خبریں بنا دیں جو سرے سے پیش ہی نہیں آئے تھے۔ ہندوستان میں خبریں گویا مستقبل کے بارے میں ہوتی ہیں، حال کے بارے میں نہیں۔) مگر ان میں سے کوئی تدبیر کارگر ثابت نہ ہوئی۔

فوٹو: پی ٹی آئی

پولیس اور آر اے ایف نے لاٹھیاں برسائیں، کئی بچوں کے سر پھوڑ دیے اور کئی کے ہاتھ پاؤں۔ آنسو گیس کے گولے بھی داغے گئے، مگر نوجوان آگے بڑھتے رہے، سیدھے پارلیامنٹ کی طرف، وہیں جہاں جانے کا انہوں نے اعلان کیا تھا۔ جیسے جیسے وہ آگے بڑھ رہے تھے، سکیورٹی اہلکار اپنی اپنی جگہ سنبھال رہے تھے، اور ان کے اے کے–47 کے نشانے پر نہتے طلبہ تھے۔ اس کے باوجود یہ ’کاکروچ‘ چلتے جا رہے تھے۔ اور اسی پیش قدمی کے دوران انہوں نے وہ پردہ ہٹا دیا، جس کے پیچھے یہ حکومت اپنی سفاکی کو چھپائے رکھتی ہے؛ ایک ایسی اقتدار پرست قوت جو سخت گیر اور ظالم ہے، ایک فاشسٹ حکومت۔ ایسے بے رحم اور سنگدل لوگوں کا گروہ، جو جس ملک پر حکومت کر رہے ہیں، اس کی تاریخ اور اس کے تنوع کو سمجھنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے۔ ایسے لوگ جو صرف نفرت کرنا جانتے ہیں؛ انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ محبت کیا ہوتی ہے، اور نہ ہی یہ  پتہ ہےکہ سوچنا  کیاہوتا ہے۔

جب یہ مظاہرین پارلیامنٹ کی جانب بڑھ رہے تھے، تو ہمارے بہادر، شیخی خور وزیر اعظم کو وہاں سے نکال لیا گیا۔ اراکین پارلیامنٹ کو پارلیامنٹ کی اُس نئی، چمچماتی عمارت سے باہر نکلنے سے روک دیا گیا، جس کا ارادہ ہی ہر نئے انداز میں آئین کی بنیادوں کو کمزور کرنا محسوس ہوتا ہے۔

شام تک پولیس نے احتجاجی مقام کا مرکزی اسٹیج توڑ ڈالا۔ تاہم رات ہوتے ہوتے پاش کی گھاس کی مانند یہ ’کاکروچ‘ دوبارہ وہاں اُگ آئے۔ جب پولیس اپنا کام نمٹا کر اُس رات واپس جا رہی تھی تو انہی کاکروچوں نے بچوں کو پیٹنے پر پولیس کے لیے’اسٹینڈنگ اوویشن‘ دیا۔ مودی جی واہ!

اس سے کسی بڑے سیاسی انقلاب یا تبدیلی کی توقع کرنا نادانی ہوگی، لیکن اسے محض ایک وقتی جوش یا جذباتی ردعمل سمجھ کر مسترد کر دینا بھی حماقت ہوگی۔ اس بات پر بھی حیرت نہیں ہونی چاہیے کہ نیوز چینل اور میڈیا میں غیر ملکی فنڈنگ، سی آئی اے یا بیرونی سازشوں سے متعلق قیاس آرائیاں اور سازشی نظریات کی باتیں چل رہی ہیں۔ خود پرناز کرنے والے ایک پرانے آندولن جیوی کی طور پر میں اعتراف کرتی ہوں کہ اس تحریک کے آغاز میں میں محتاط اور چوکس تھی۔ مجھے خدشہ تھا کہ کہیں ہم ایک اور انا تحریک کی طرف تو نہیں بڑھ رہے-یعنی 2011 کی وہ نام نہاد انسداد بدعنوانی عوامی تحریک، جس کی ابتدائی نیت خواہ کچھ بھی رہی ہو، لیکن آخرکار اس نے ہمیں ایک ایسی سیاسی جماعت کی حکومت دی جس نے ملک کے ہر ادارے کو تباہ کر دیا؛ ایسی جماعت جو اپنے آپ اور حکومت ہند میں کوئی فرق نہیں کرتی؛ ایسی جماعت جو نہ ملک کی عزت کرتی ہے اور نہ ہی اس کے شہریوں کی؛ ایسی جماعت جس نے نہ صرف عالمی سطح پر ہندوستان کو شرمندہ کیا ہے ،بلکہ اسے زوال کی گہرائیوں میں بھی دھکیل دیا ہے۔

لیکن کاکروچ جنتا پارٹی کے بارے میں میرے شکوک و شبہات اس وقت دور ہوگئے جب میں نے مرکزی دھارے کے میڈیا میں اس کے خلاف تلخی اور متعصبانہ رویہ دیکھا۔ میرے لیے یہ اعتماد کی علامت تھی۔ مجھے خوشی ہوئی کہ ابھیجیت دیپکے کا تعلق دلت برادری سے ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ خوشی اس بات کی تھی کہ کسی کی توجہ اس پہلو پر مرکوز ہی نہیں تھی۔ پھر میرے لیے سب کچھ اُس وقت بدل گیا جب میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا،’اگر میں خالد ہوتا یا مسلمان ہوتا تو میں جیل میں ہوتا۔‘

ان میں ہندوستان کے اس کریہہ سچ کو بیان کرنے کی ہمت تھی-یہ تسلیم کرنے کی جرأت کہ ہمارے ملک میں ہر چیز (یہاں تک کہ قانون بھی) سب کے لیے یکساں نہیں ہے۔ ہر چیز مکمل طور پر آپ کے مذہب، ذات، طبقے، نسل اور جنس پر منحصر ہے۔ یہ ایک بے حد گہری بات تھی، جسے انہوں نے انتہائی سادگی سے بیان کر دیا۔ ایسے وقت میں جب اپوزیشن جماعتوں کے رہنما بھی ’ہندو ردعمل‘کے خوف سے ’مسلمان‘ کہنے کے بجائے’اقلیتی برادری‘کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں، دیپکے کی اس بات نے مجھے فوراً جنتر منتر جانے پر مجبور کر دیا۔ مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ جب دیپکے نے’خالد‘کہا تو ان کا اشارہ جے این یو کے اسکالر عمر خالد کی طرف تھا، جو شرجیل امام اور کئی دوسروں کی طرح تقریباً چھ برس سے بغیر شنوائی کے جیل میں ہیں۔

اب پوچھیے عمر کا جرم کیا ہے؟ سال 2020 میں شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف ہونے والے احتجاج کے دوران مظاہرین سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کرنا، وہ بھی ایسے وقت میں جب دہلی آگ زنی، قتل اور مساجد کو نذر آتش کیے جانے کے ہولناک واقعات سے لرز رہی تھی۔ان واقعات کو ہندو بلوائیوں نے پولیس کی نگرانی میں انجام دیا تھا۔ وہی پولیس جو کبھی ان واقعات کی خاموش تماشائی بنی رہی اور کبھی خود بھی ان میں شریک نظر آئی۔ عمر کی ضمانت کی ایک کے بعد ایک درخواست ان ججوں نے مسترد کر دی جن میں شاید اب درست فیصلہ کرنے یا حق کو پہچاننے کا حوصلہ باقی نہیں رہا۔

جوں جوں کاکروچ آگے بڑھ رہے تھے اور ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا تھا، میں سوچنے لگی؛ شکر ہے کہ ان میں سے زیادہ تر مسلمان، سکھ، عیسائی یا آدی واسی نہیں ہیں، ورنہ انہیں کچل دیا جاتا، مار دیا جاتا، گولیاں مار دی جاتیں یا جیلوں میں ڈال دیا جاتا۔ شکر ہے کہ وہ کشمیری نہیں ہیں، ورنہ ان کی بینائی بھی چھین لی جاتی (اگرچہ 20 جولائی کے احتجاج کے بعد کچھ افراد کو پیلٹ گن جیسے ہتھیاروں سے لگنے والی چوٹ جیسی چوٹیں ضرور آئی ہیں)۔ شکر ہے کہ ان میں سے زیادہ تر ہندو ہیں۔ہندوستان کے لیے اس سے زیادہ افسوسناک حقیقت اور کیا ہوگی کہ آج یہ بات باعث اطمینان سمجھی جا رہی ہے۔ تاہم حالات ایک لمحے میں بدل سکتے ہیں۔ ایسی خبریں موصول ہو رہی ہیں کہ دیگر ریاستوں سے ہزاروں نیم فوجی اہلکار بلائے جا رہے ہیں۔ ہم نہیں جانتے کہ آنے والا وقت کیا منظر دکھائے گا۔

تو پھر ان سب کا حاصل کیا ہے؟ انا تحریک، جسے کارپوریٹ میڈیا میں تبدیل ہو چکے سینکڑوں ٹی وی چینلوں نے ہفتوں تک مسلسل چوبیس گھنٹے غیر معمولی کوریج دی تھی، کے برعکس کاکروچ جنتا پارٹی کے پاس اپنے علاوہ صرف انٹرنیٹ کا ہی سہارا ہے۔ انا تحریک میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) نے دراندازی کر کے اس پر قبضہ کر لیا تھا اور نریندر مودی کی قیادت والی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) ٹی وی چینلوں کے بنائے ہوئے اس ماحول سے انتخابی فائدہ اٹھانے کے لیے پوری طرح تیار کھڑی تھی۔ اس کے برعکس کاکروچوں کے معاملے میں کوئی منظم اپوزیشن جماعت اس انتظار میں نہیں بیٹھی کہ وہ اس تحریک کو اپنے سیاسی مفاد کے لیے اسی حد تک آگے لے جائے۔

اگر کوئی حقیقی سیاسی عمل شروع نہیں ہوتا، تو آج جو اچانک غصہ اور اشتعال نظر آ رہا ہے، وہ بتدریج ختم ہو جائے گا۔ جب تک بڑے رہنما اور اپوزیشن جماعتیں اپنی باہمی سیاسی کشمکش اور چھوٹے موٹے اختلافات کو ایک طرف رکھ کر اتحاد کا مظاہرہ نہیں کرتیں، صورتحال تبدیل نہیں ہوگی۔ حکومت بھی یہ جانتی ہے کہ ایسا ہونے کے امکانات کم ہیں۔ اسی لیے وہ مطمئن ہے، کیونکہ اسے یقین ہے کہ اسے صرف انتظار کرنا ہے۔ اقتدار کے پاس انتظار کرنے کی طاقت ہوتی ہے، عوام کے پاس نہیں۔

طلبہ کے مطالبات کی حمایت میں لوک سبھا میں قائدحزب اختلاف راہل گاندھی۔تصویر: آئی این سی ڈاٹ آئی این

یہ بھی غور طلب ہے کہ کاکروچوں کی یہ بغاوت اس وقت ہندوستان بھر میں جاری متعدد احتجاجی تحریکوں میں سے صرف ایک ہے۔ مدھیہ پردیش میں قبائلی برادریاں کین-بیتوا ندی جوڑو منصوبے کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں۔ اتراکھنڈ میں گاؤں والے بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔ گریٹ نکوبار جزائر کے ماحول کو نقصان پہنچانے کے خلاف بھی مزاحمت جاری ہے۔ منی پور گزشتہ تین برسوں سے تشدد کی آگ میں جل رہا ہے۔ روزگار نہیں ہے، مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے۔ عوامی غصہ بڑھتا جا رہا ہے، اور بی جے پی-آر ایس ایس کے ’بھگوان‘کے نام والا کھیل وہی دھوکہ ثابت ہو رہا ہے، جواصل میں تھا۔ گینگسٹروں کے ذریعے چلایا جا رہا منافع کمانے کا دھندہ ۔

ایودھیا میں رام مندر کے نام پر ہوئی لوٹ کسی خراب بالی ووڈ اسکرپٹ کی طرح ہے، جس کی حقیقت اب عوام کے سامنے آ چکی ہے: شاطر مذہبی پیشوا اور بدعنوان سیاستداں مل کر غریب اور سادہ لوح عوام کے مذہبی عقیدے سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ وہ ہوٹل بنا رہے ہیں، رئیل اسٹیٹ اور مختلف قسم کی جائیدادیں جمع کر رہے ہیں، اور بڑی بڑی لگژری گاڑیوں میں گھوم رہے ہیں۔ اس بدعنوانی اور دن دہاڑے ہونے والی لوٹ  کے روابط صرف نچلی سطح تک محدود نہیں بلکہ اس کی ڈور اقتدار کے اعلیٰ ترین حلقوں تک جاتی ہے۔

کیا یہ کاکروچ مل کر ہمیں اس گہرائی سے نکال سکتے ہیں؟ یہ آسان نہیں ہوگا۔ ہندوستان میں اب تک ہونے والی عوامی تحریکوں کے نتائج زیادہ حوصلہ افزا نہیں رہے ہیں۔ اگر انہیں ٹوٹے ہوئے خوابوں اور ادھوری امنگوں کی مختصر تاریخ کہا جائے تو شاید زیادہ درست ہوگا۔

ساٹھ اور ستر کی دہائی میں کئی تحریکوں، جن میں نکسل تحریک کی مسلح بغاوت بھی شامل تھی، نے دولت کی منصفانہ تقسیم اور کسانوں کو کھیتی کی زمین کی ملکیت دینے کا مطالبہ کیا تھا، مگر انہیں کچل دیا گیا۔ اسی طرح اسی اور نوے کی دہائی میں سماجی تحریکوں، جن میں سب سے قابل ذکر ’نرمدا بچاؤ آندولن‘ہے، اور بعد میں آندھرا پردیش، چھتیس گڑھ اور جھارکھنڈ میں ماؤ نواز تحریک نے کسانوں اور قبائلی برادریوں کو ان کی زمینوں سے بے دخل کیے جانے کے خلاف جدوجہد کی۔ ان کا مطالبہ صرف اتنا تھا کہ غریبوں کے پاس جو کچھ باقی ہے، وہ ان سے نہ چھینا جائے، مگر انہیں بھی کچل دیا گیا۔

سن 2000 کی دہائی تک آتے آتے امیدیں صرف ’قومی دیہی روزگار گارنٹی ایکٹ‘(منریگا) تک محدود ہو کر رہ گئیں۔ اس قانون کے تحت کم از کم ایک مقررہ اجرت پر تقریباً تین ماہ کے روزگار کا حق دیا گیا تھا، اگرچہ یہ اجرت شاید کسی بڑے شہر کے مہنگے ریستوران میں ایک وقت کے کھانے کے برابر ہی بنتی ہو۔ لیکن موجودہ حکومت نے اب اسے بھی تقریباً غیر مؤثر بنا دیا ہے اور اس کی جگہ صرف گزارے کے لیے راشن فراہم کیا جا رہا ہے، جو وزیر اعظم مودی کی تصویر والے تھیلوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ یہ تھیلے لوگوں کو اس انداز میں دیے جاتے ہیں جیسے چلتی گاڑی سے کسی بھکاری کی طرف خیرات پھینکی جا رہی ہو، تاکہ بدلے میں ان کا ووٹ حاصل کیا جا سکے اور وہ خود کو اس احسان کا مقروض سمجھیں۔ تاہم ملک کی ڈگمگاتی معیشت کو دیکھتے ہوئے اس نظام کا مستقبل بھی خطرے میں ہے۔

اب سال 2026 ہے اور حالات یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ شہریوں کو حق رائے دہی اور اپنی شہریت کے تحفظ کے لیے بھی جدوجہد کرنا پڑ رہی ہے۔ شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) اور این آر سی کا میل  نازی جرمنی کے1935 کے نیورمبرگ قوانین کا ایک  ’ہندو راشٹر‘والا ورژن ہے۔ ہٹلر کے دور میں انہی قوانین کے تحت جرمن شہریوں کی شہریت کا فیصلہ ان کے ’لیگیسی پیپرز‘(خاندانی یا موروثی دستاویز) کی بنیاد پر کیا جاتا تھا۔ (آج کی تاریخ میں تلاش کیا جائے تو ہندوستان کی کتنی آبادی کے پاس ایسے دستاویز ہوں گے؟)

سی اے اے اوراین آر سی کے خلاف تحریک اس وقت سست پڑ گئی، جب بڑے پیمانے پر احتجاج کے دوران متعدد مظاہرین  کی جان چلی گئی اور کارکنوں کو جیلوں میں ڈال دیا گیا۔ تاہم ان کا ایک اثر ضرور ہوا کہ حکومت کو ان نئے قوانین کے نفاذ کی رفتاردھیمی کرنی پڑی۔

لیکن اب یہی سی اے اے–این آر سی، جس کے بارے میں بہت سے لوگوں نے بالکل درست اندازہ لگایا تھا کہ اس کا بنیادی مقصد ملک کے مسلمانوں کو نشانہ بنانا تھا، ووٹر لسٹ کی اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) کی صورت میں دوبارہ واپس آ گیا ہے۔ کوئی بھی افسر آ کر یوں ہی بتا دیتا ہے کہ ہمارا پاسپورٹ بھی شہریت کا ثبوت نہیں ہے۔ لاکھوں لوگوں کے نام ووٹر لسٹوں سے خارج کیے جا رہے ہیں۔ پورا ملک گھبراہٹ کے عالم میں اپنے ’لیگیسی پیپرز‘تلاش کر رہا ہے۔ ہمیں معلوم ہی نہیں کہ ہم کیا ہیں – ہم قانونی شہری ہیں یا غیر قانونی؟ کیا ہمارے پاس کوئی حقوق ہیں؟ ہم میں سے کون ان بڑے بڑے ڈیٹینشن سینٹر میں لے جایا جائے گا جو حکومتیں ’مشکوک شہریوں‘کے لیے بنا رہی ہیں؟ کیا ہم ایک ٹریبونل سے دوسرے ٹریبونل تک دوڑتے ہوئے اپنی زندگی گزار دیں گے؟ فسطائی قوتوں کو ایسی افراتفری اور کنفیوژن  بہت محبوب ہے۔

تصویر: پی ٹی آئی

شاید ہماری اسی گھبراہٹ اور بے چینی کی وجہ سے ہم کاکروچوں کی تحریک سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہیں۔ کچھ لوگوں نے اس کا موازنہ بنگلہ دیش، نیپال اور سری لنکا میں اقتدار کا تختہ الٹ دینے والی نوجوانوں کی بغاوتوں سے کیا ہے، مگر ہندوستان اتنا بڑا ملک ہے کہ یہاں ایسا ہو پانا مشکل ہے۔ وہیں، کچھ لوگ اس کا موازنہ جئے پرکاش نارائن کی اس تحریک سے کرتے ہیں جس نے 1977 میں اندرا گاندھی کی حکومت کو اقتدار سے ہٹا دیا تھا۔ میرے خیال میں یہ دونوں موازنہ درست نہیں ہیں۔ کاکروچ جنتا پارٹی ان میں سے کچھ بھی نہیں ہے۔ اس کی اپنی ایک الگ اور منفرد شناخت ہے، جو اپنے ہی دور کے حالات سے پیدا ہوئی ہے۔ یہاں عام گھروں سے تعلق رکھنے والے نوجوان ایک ایسی بے رحم اور انتقام لینے والی  حکومت کے سامنے کھڑے ہیں، جو اپنے مخالفین کے ساتھ ذرہ برابر نرمی نہیں برتتی۔ یہ تو یقینی بات ہے کہ انتقامی کارروائیوں کی منصوبہ بندی ہو رہی ہوگی، اور آج نہیں تو کل، جنہیں بھی وہ اس تحریک کا محرک سمجھتے ہیں، انہیں کسی نہ کسی شکل میں اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔

سوچنے والی بات یہ بھی ہے کہ ایک ایسی حکومت، جو واضح طور پر غیر مقبول  ہوتی جارہی ہے، اسے اقتدار میں لانے والوں ہی پر حملہ کرنے کا اعتماد آخر کہاں سے آتا ہے؟ شاید اس لیے کہ اسے یقین ہے کہ انتخابی کھیل اب اس کی مٹھی میں ہے۔ انتخابی مشینری پر اس کا قبضہ ہے۔ الیکشن کمیشن کی تشکیل ہی میں خامی  ہے، اور اب اس کے غیر جانبدار ہونے پر ذرہ برابر بھی اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ الکٹرانک ووٹنگ مشینوں (ای وی ایم) میں مبینہ طور پر چھیڑ چھاڑ کی گئی، ووٹر لسٹوں سے لاکھوں شہریوں کے نام حذف کر دیے گئے، لاکھوں جعلی نام بھی شامل کیے گئے، انتخابات کرانے والے افسران پوری طرح اس عمل میں شریک نظر آتے ہیں، عدالتوں سے توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ ایسی سنگین بے ضابطگیوں پر یا تو تاخیر کریں گی یا پھر آنکھیں بند کر لیں گی، پولیس تو گویا غیر جانبداری کا مطلب ہی بھول چکی ہے، اور ذرائع ابلاغ اس حد تک اقتدار کے آگے جھکنے کو تیار ہیں کہ ایک اشارے پر رینگنے لگیں۔ انتخابی حلقوں کی حد بندیاں اس انداز سے تبدیل کی جا رہی ہیں کہ اس کا فائدہ صرف بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو پہنچے۔ ایسے میں برسراقتدار جماعت کو آخر کس بات کا ڈر ہے؟ وہ کسی کی بات کیوں سنے؟ وہ دنیا کی سب سے امیر سیاسی جماعت ہے، جسے دنیا کے چند امیر ترین صنعتکاروں کی حمایت حاصل ہے۔ وہ ہر چیز خرید سکتی ہے، ہر شخص کو خرید سکتی ہے ؛  یا یوں کہیے کہ کم از کم اسے تو یہی لگتا ہے۔

لیکن کیا یہ کھیل ہمیشہ چلتا رہے گا؟ کیا ہر وقت تمام لوگوں کو بے وقوف بنایا جا سکتا ہے؟ کیا کروڑوں کی آبادی والے اس ملک کے لوگ ہمیشہ بے مردہ بنے رہیں گے؟ ایسا نہیں ہو سکتا۔ کاکروچ نکل پڑے ہیں۔ اسی ہفتے ہندوستان-امریکہ تجارتی معاہدے کے خلاف کسان بھی دہلی کی جانب روانہ ہوئے تھے، تاہم یقین دہانیوں کے بعد واپس لوٹ گئے ہیں۔ کسانوں کے لیے تباہ کن قرار دیے جانے والے اس معاہدے پر ہندوستان کی حکومت نے کسانوں کی رضامندی کے بغیر، ان کی طرف سے دستخط کیے ہیں۔ ان کے آنے سے پہلے ہی شہر کی سرحدیں سیل کر دی گئی تھیں۔ شاید ہم سب کو کسانوں اور کاکروچوں سے یہ سیکھنا چاہیے کہ تھوڑا سا خطرناک کیسے بنیں۔ نوجوانوں نے ہمیں تحفہ دیا ہے، اب یہ ہم پر ہے کہ ہم ان کی اس کوشش کو کس طرح بامعنی اور کامیاب بناتے ہیں۔

جب کوئی وزیر اعظم سوالوں سے بچنے کے لیے ملک ہی سے باہر بھاگ جاتا ہے، تو جلد ہی اسے سیاسی طور پر بھی میدان چھوڑ کر بھاگنا پڑتا ہے۔ لیکن یہ حکومت آسانی سے نہیں جائے گی۔ یہ دارالحکومت کی سڑکوں پر اپنی بے عزتی  برداشت نہیں کرے گی۔ ہوسکتا ہے کہ ہمیں خون خرابہ دیکھنے کوملے۔ نوجوانوں کا غصہ بڑھتا جا رہا ہے۔ جوش و جذبے سے بھرپور اس نوجوان ہجوم میں کب کوئی شخص اپنا ضبط کھو بیٹھے اور پولیس کو فائرنگ کا بہانہ مل جائے، یہ کہنا مشکل ہے۔ وہ ہمیں توڑنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے؛ ہمیں بھی انہیں روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی ہوگی۔

(یہ مضمون 22 جولائی کو انگریزی میں شائع ہوا تھا، اور بعد میں پیش آنے والے واقعات کے پیش نظر اس کو اپڈیٹ کیا گیا ہے۔)