جنتر منتر پر سی جے پی کا احتجاج جاری، راہل گاندھی بولے – لوک سبھا اسپیکر سے کی طلبہ کے مسائل پر بحث کی مانگ

جنتر منتر اور اس کے آس پاس نوجوانوں کے احتجاج کے دوران پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج اور جنتر منتر کو خالی کرائے جانے کے بعد بھی وہاں احتجاج جاری ہے۔ وہیں، کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ انہوں نے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا سے طلبہ پر ہوئی بربریت پر بحث کا مطالبہ کیا تھا، جس پر برلا نے کہا کہ اس کے لیے انہیں حکومت سے اجازت لینی ہوگی۔

جنتر منتر اور اس کے آس پاس نوجوانوں کے احتجاج کے دوران پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج اور جنتر منتر کو خالی کرائے جانے کے بعد بھی وہاں احتجاج جاری ہے۔ وہیں، کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ انہوں نے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا سے طلبہ پر ہوئی بربریت پر بحث کا مطالبہ کیا تھا، جس پر برلا نے کہا کہ اس کے لیے انہیں حکومت سے اجازت لینی ہوگی۔

21 جولائی کو جنتر منتر پر جمع لوگ۔ (تصویر: ارینجمنٹ)

نئی دہلی: پارلیامنٹ تک پہنچنے کی کوششوں اور پورے دن جاری رہنے والے واقعات کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کا احتجاج 20 جولائی کی رات دہلی کے جنتر منتر پرپھر سے شروع ہو گیا۔

پارلیامنٹ کے مانسون اجلاس کے پہلے دن ہونے والے اس احتجاج کے دوران دہلی پولیس نے بی این ایس ایس کی دفعہ 163 کے تحت امتناعی احکامات نافذ کر رکھے تھے۔ اس دوران پولیس نے مظاہرین پر شدید لاٹھی چارج کیا، آنسو گیس کے گولے داغے گئے اور سینٹرل دہلی میں انٹرنیٹ سروس مکمل طور پر بند کر دی گئی۔

اس سے پہلے دن میں سی جے پی کے سوربھ داس اور آشوتوش رانکا نے مرکزی وزیر جے پی نڈا سے ملاقات کی تھی، جس کے بعد مظاہرین اور حکومت کے درمیان بات چیت شروع ہوئی۔

تاہم، سی جے پی کی جانب سے جے پی نڈا کو پیش کیے گئے مطالبات پر حکومت کی طرف سے اب تک کسی جواب کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ وہیں دہلی میں جاری احتجاج کی حمایت میں ملک کے کئی شہروں میں مظاہرے کی خبریں ہیں۔ ہندوستان سے باہر لندن میں بھی احتجاج کیے جا رہے ہیں۔

سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے احتجاج کے دوران پولیس کی پٹائی کا شکار ہونے والے سی جے پی حامیوں سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ ’حکومت نے ہمارا وقت برباد کیا۔ آشوتوش رانکا اور سوربھ داس کو جے پی نڈا کی رہائش گاہ پر پانچ گھنٹے تک بٹھائے رکھا گیا۔‘

ادھر، ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کا بھوک ہڑتال منگل (21 جولائی) کو بھی فیصلہ کن مرحلے میں ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ان کی بھوک ہڑتال 24ویں دن بھی جاری رہے گی۔

وہیں،سوموار کو آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئیسا) کے تین طلبہ رہنماؤں نے اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی تھی، اور سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے بھی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی تھی۔

اسپیکرنے کہا کہ طلبہ پر پولیس کی بربریت سے متعلق بحث کے لیے حکومت کی اجازت چاہیے: راہل گاندھی

لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا،’آج ہم نے لوک سبھا اسپیکر سے ملاقات کی اور طلبہ سے متعلق مسائل پر پارلیامنٹ میں بحث کرانے کا مطالبہ کیا۔‘

انہوں نے صحافیوں سے کہا،’لیکن لوک سبھا اسپیکر نے کہا کہ بحث کرانے کے لیے انہیں حکومت سے ’اجازت‘ لینی ہوگی۔ یعنی آپ سمجھ سکتے ہیں… لوک سبھا اسپیکر ہمیں بتا رہے ہیں کہ پارلیامنٹ میں بحث کرانے کے لیے انہیں حکومت سے اجازت لینی پڑے گی۔‘

راہل گاندھی نے کہا،’وہ ہمیں یہ بات کھلےطور پر کہہ رہے ہیں۔‘

اس سے پہلے راہل گاندھی نے کہا تھا کہ طلبہ پر ہوئی بربریت پر پارلیامنٹ میں بحث ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا تھا،’طلبہ کو اپنے مستقبل سے متعلق جائز سوال پوچھنے پر پیٹا گیا۔ اگر پارلیامنٹ ہندوستان کے نوجوانوں کے مستقبل پر بحث نہیں کر سکتی تو پھر اس کا مقصد کیا ہے؟ اپوزیشن اس معاملے کو دبنے نہیں دے گی۔ ہم یقینی بنائیں گے کہ طلبہ کی آواز سڑک سے لے کر پارلیامنٹ تک سنی جائے۔ ‘

راہل گاندھی نے یہ بھی کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک دن پہلے پیش آنے والے ان واقعات پر اب تک معافی نہیں مانگی ہے۔

انہوں نے کہا،’یہ طلبہ کے مستقبل سے جڑا ایک سنگین مسئلہ ہے۔ طلبہ کو مارا پیٹا جا رہا ہے، ان کے ساتھ بدسلوکی کی جا رہی ہے، جو بالکل غلط ہے۔ یہ نوجوان ملک کے خراب تعلیمی نظام اور امتحانات کے نظام کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا،’وزیر اعظم خاموش کیوں ہیں؟ انہیں طلبہ سے معافی مانگنی چاہیے اور طلبہ کی پٹائی کا یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے۔‘

وہیں کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، ’ہمارے بچوں کے ساتھ جبر نہیں، انصاف کیا جانا چاہیے۔‘

صفدر جنگ اور ایمس کے ڈاکٹروں نے صدر کو خط لکھا

اس دوران وردھمان مہاویر میڈیکل کالج اور صفدر جنگ اسپتال کے ریزیڈنٹ ڈاکٹرس ایسوسی ایشن، جہاں سماجی کارکن سونم وانگچک اپنی بھوک ہڑتال کے 24ویں میں ہیں، نے صدر کو خط لکھ کر فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔

ڈاکٹروں نے خط میں وانگچک کے آئینی حقوق اور مریض کی خود مختاری کے تحفظ کو یقینی بنانے کی اپیل کی ہے۔

’ہر معاملے میں عدالت کو نہ گھسیٹیں‘: دہلی ہائی کورٹ

دہلی ہائی کورٹ نے منگل کو فریقین سے کہا کہ سی جے پی کے حکومت مخالف مظاہروں سے متعلق معاملوں میں عدالت کو غیر ضروری طور پر نہ گھسیٹا جائے۔

بار اینڈ بنچ کی رپورٹ کے مطابق، چیف جسٹس دیویندر کمار اپادھیائے نے یہ تبصرہ اس وقت کیا جب ایک درخواست گزار نے مظاہرین کے خلاف دہلی پولیس کی جانب سے مبینہ طور پر حد سے زیادہ طاقت کے استعمال کے معاملے میں دائر درخواست پر فوری سماعت کا مطالبہ کیا۔

جے پی نڈا نے آر ایم ایل اسپتال کے ڈاکٹروں کے ساتھ کی ملاقات

اس دوران ایک خبر رساں ایجنسی نے مرکزی وزیر جے پی نڈا کا ایک ویڈیو جاری کیا ہے، جس میں وہ رام منوہر لوہیا (آر ایم ایل) اسپتال کے ڈاکٹروں کے ساتھ ملاقات کرتے نظر آ رہے ہیں۔ اس اسپتال میں سی جے پی کے احتجاج کے دوران پولیس کارروائی میں زخمی ہونے والے لوگوں کا علاج چل ر ہا ہے۔

ٹیلی کام کمپنیوں کو کل  ہی  ملا تھاانٹرنیٹ بند کرنے کا حکم : رپورٹ

ایک رپورٹ کے مطابق، ٹیلی کام سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں نے تصدیق کی ہے کہ انہیں سوموار (20 جولائی) کو مرکزی حکومت کی جانب سے سینٹرل دہلی میں موبائل انٹرنیٹ سروس بند کرنے کا حکم ملا تھا۔

تاہم، حکومت کی جانب سے اب تک انٹرنیٹ سروس معطل کرنے کے حکم کی کوئی کاپی پبلک نہیں کی گئی ہے۔ سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق، ٹیلی کام سروسز روکنے والے ہر حکم کو شائع کیا جانا چاہیے۔