بی جے پی کے جنرل سکریٹری پر مرکزی وزیر کے فرضی دستخط دکھاکر کروڑوں کی دھوکہ دھڑی کا الزام

حیدر آباد کے ایک کاروباری کا الزام ہے کہ بی جے پی جنرل سکریٹری پی مرلی دھر راؤ اور ان کے دوستوں نے 2.17 کروڑ روپے لےمنسٹری آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں پوسٹ آف پرافٹ دلانے کا وعدہ کیا تھا۔ ساتھ ہی اس وقت کی کامرس منسٹر نرملا سیتارمن کے جعلی دستخط والا ایک تقرری خط بھی دکھایا تھا۔

حیدر آباد کے ایک کاروباری کا الزام ہے کہ بی جے پی جنرل سکریٹری پی مرلی دھر راؤ اور ان کے دوستوں نے 2.17 کروڑ روپے لےمنسٹری آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں پوسٹ آف پرافٹ دلانے کا وعدہ کیا تھا۔ ساتھ ہی اس وقت کی کامرس منسٹر  نرملا سیتارمن کے جعلی دستخط والا ایک تقرری خط بھی دکھایا تھا۔

بی جے پی جنرل سکریٹری پی مرلی دھر راؤ (فوٹو: ٹوئٹر)

بی جے پی جنرل سکریٹری پی مرلی دھر راؤ (فوٹو: ٹوئٹر)

نئی دہلی: بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے جنرل سکریٹری پی مرلی دھر راؤ سمیت 8 دیگر لوگوں کے خلاف دھوکہ دھڑی اور جعل سازی کے الزام میں منگل کو حیدر آباد پولیس نے معاملہ درج کیا۔ٹائمس آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق، ان لوگوں پر وزیر دفاع نرملا سیتارمن کے فرضی دستخط دکھاکر ایک کاروباری سے کروڑوں روپے ٹھگنے کا الزام ہے۔

حیدر آباد کے ایک کاروباری مہی پال ریڈی کی بیوی ٹی پرورنا ریڈی (41) کی شکایت کی بنیاد پر سورج نگر پولیس تھانے میں مجرمانہ معاملہ درج کیا گیا۔الزام ہے کہ انہوں نے حیدر آباد کے ایک پراپرٹی ڈیلر کو مرکزی حکومت میں نامزد پوسٹ (لےمنسٹری آف کامرس اینڈ انڈسٹری  کے تحت آنے والی فارما ایگزائل کے صدر کا عہدہ) دلانے کے نام پر پیسے لئے۔

متاثرہ کا کہنا ہے کہ اس کو اس وقت کی کامرس منسٹر نرملا  سیتارمن کے دستخط والا تقرری خط دکھاکر پیسے لئے گئے تھے۔حالانکہ، راؤ نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا اس معاملے سے کوئی لینا-دینا نہیں ہے۔

انہوں نے ٹوئٹ کر کے کہا ہے، ‘ ایف آئی آر درج کی گئی ہے لیکن میرا اس موجودہ تنازعے سے کوئی لینا-دینا نہیں ہے۔ جس ایف آئی آر میں مجھے بار بار گھسیٹا جا رہا ہے، وہ اصل میں عدالت میں ایک نجی  شکایت کا ہی حصہ ہے، جس میں شکایت گزار خود بھی مجرمانہ معاملوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ ‘

پولیس نے تمام نو ملزمین کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 406 (مجرمانہ غداری)،420 (دھوکہ دھڑی)، 468 (دھوکہ دھڑی کے مقصدسے جعل سازی)، 471 (جعل سازی)، 506 (مجرمانہ سرگرمی) اور 120-بی (مجرمانہ سازش) اور سی آر پی سی کی دفعہ 156 (3) کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔

نیو انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق؛ ملزم نے تقرری خط دینے میں تاخیر کی، جس کے بعد مياں بيوی نے پیسے واپس مانگے، جس پر مرلی دھر راؤ نے ان کو مبینہ طور پر دھمکی دی۔اس کے بعد بی جے پی کے ایک رہنما نے مياں بيوی سے رابطہ کیا اور ان کو پیسے واپس کرنے کا وعدہ کیا اور ان کو دستخط کئے ہوئے چیک بھی سونپے لیکن پیسے ان کو نہیں ملے۔

دہلی کے سائبر کرائم برانچ نے معاملہ درج کیا ہے اور ستمبر 2016 میں متاثرین کے بیان ریکارڈ کیے تھے۔اب میاں بیوی نے رنگا ریڈی ضلع عدالت کا رخ کیا ہے۔