بہار : چمکی بخار سے بچوں کی موت کے خلاف مظاہرہ کرنے والے 39 لوگوں پر مقدمہ درج

گزشتہ18 جون کو وزیراعلی نتیش کمار کے مظفرپور دورے پر جانے کے دوران ہری ونش پور گاؤں کے لوگوں نے چمکی بخار سے بچوں کی موت اور پانی کی کمی کو لےکر سڑک کا گھیراؤ کیا تھا، جس کی وجہ سے پولیس نے ایف آئی آر درج کی ہے۔ نامزدلوگوں میں تقریباً آدھے درجن وہ لوگ ہیں جن کے بچوں کی موت چمکی بخار سے ہوئی ہے۔

گزشتہ18 جون کو وزیراعلی نتیش کمار کے مظفرپور دورے پر جانے کے دوران ہری ونش پور گاؤں کے لوگوں نے چمکی بخار سے بچوں کی موت اور پانی کی کمی کو لےکر سڑک کا گھیراؤ کیا تھا، جس کی وجہ سے پولیس نے ایف آئی آر درج کی ہے۔ نامزدلوگوں  میں تقریباً آدھے درجن وہ لوگ ہیں جن کے بچوں کی موت چمکی بخار سے ہوئی ہے۔

بہار کے ہری ونش پور گاؤں میں گرفتار کئے گئے لوگوں کے رشتہ دار (فوٹو بہ شکریہ: اے این آئی)

بہار کے ہری ونش پور گاؤں میں گرفتار کئے گئے لوگوں کے رشتہ دار (فوٹو بہ شکریہ: اے این آئی)

نئی دہلی: بہار کے ویشالی ضلع کے  ہری ونش پور میں چمکی بخار اور پانی کی سپلائی کو لےکے مظاہرہ کرنے والے 39 لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کر لیا گیا ہے۔خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق، جن لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کیا گیا ہے، ‘ان کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ ہمارے بچےمر گئے۔ ہم نے سڑکوں کا گھیراؤ کیا لیکن ہمارے خلاف ہی ایف آئی آر درج کر لیا گیا۔ جن کے خلاف ایف آئی آر درج کیا گیا وہ گاؤں چھوڑ‌کر چلے گئے۔ وہ اپنے گھروں میں واحد کمانے والے تھے۔ ‘قابل ذکر ہے کہ وزیراعلی نتیش کمار 18 جون کو دماغی بخار کے مریضوں کا حال جاننے کے لئے مظفرپور کے شری کرشن میڈیکل کالج ہاسپٹل گئے تھے۔

وزیراعلی نتیش کمار این ایچ-22 سے ہوکر جائیں‌گے اسی کو دیکھتے ہوئے سڑک کنارے واقع ہری ونش پور گاؤں کے لوگوں نے اس سڑک کا گھیراؤ کر دیا تھا۔ گاؤں والوں نے پینے کے پانی، بخار سے علاج کے نظام کی مانگ کے ساتھ احتجاج کیا تھا۔پولیس نے سڑک کے گھیراؤ کی وجہ سے ہی 19 نامزد اور 20 دیگر کے خلاف ایف آئی آر درج کیا ہے۔ نامزدوں میں تقریباً آدھے درجن وہ لوگ ہیں جن کے بچوں کی موت بخار سے ہوئی ہے۔

سریش سہنی کے دو بھتیجوں پرنس کمار اور چھوٹو کمار کی آٹھ جون کو اس بیماری سے موت ہو گئی۔ پولیس نے ان کے اوپر بھی ایف آئی آر درج کیا ہے۔سریش کہتے ہیں،’ہم لوگ تو پہلے سے متاثر ہیں جبکہ پولیس کہتی ہے کہ ہم نے روڈ جام کیا۔ اس لئے مقدمہ کیا گیا ہے۔ ہم کیا کریں! کوئی تو ہمیں دیکھنے آتا نہیں ہے۔ ہم لوگوں نے سوچا کہ وزیراعلیٰ اس راستے سے جائیں‌گے تو ان کو روک‌کر اپنا حال سنائیں‌گے۔ لیکن وہ ہیلی کاپٹر سے گئے۔ ‘

پولیس نے راجیش سہنی، رام دیو سہنی، امیش مانجھی اور للو سہنی کو نامزد ملزم بنایا ہے۔ ان کے بچوں کی موت بھی دماغی بخار سے ہوئی ہے۔ کئی لوگ پولیس کے ڈر سے گاؤں کے باہر رہ رہے ہیں۔ایف آئی آر میں 65 سالہ ایک بزرگ شتروگھن سہنی کا بھی نام ہے۔ شتروگھن سہنی کافی پہلے مفلوج ہو گئے تھے۔ اس کی وجہ سے نہ تو وہ صحیح سے چل پھر پاتے ہیں اور نہ بول پاتے ہیں۔دماغی بخار میں اپنے دو بیٹوں کو کھونے والے چتوری سہنی کہتے ہیں،’ ایم پی آئے تو تھے۔ لیکن کیا ہوا، پتہ نہیں۔ ‘

چتوری کے دو ہی بیٹے تھے، دونوں نہیں رہے۔ وہ کہتے ہیں،’ایک ہی دن دونوں چلے گئے۔ اسی میں 95 ہزار خرچ ہو گیا۔ کسی طرح گاؤں والوں نے کچھ چندہ کرکے دے دیا۔ باقی قرض ہو گیا ہے۔ اب چکانا ہے۔ ‘بھگوان پور بلاک  ہاسپٹل کے میڈیکل کیمپ میں اپنے پانچ سالہ بیٹے روہت کو دکھانے آئے دیویندر سہنی کا کہنا ہے کہ رات میں کوئی کیمپ میں نہیں تھا، اس لئے دکھا نہیں پائے تھے۔ صبح پتہ چلا کہ روہت کو 100 ڈگری بخار ہے۔