نرودا پاٹیا فساد معاملے میں مجرم بابو بجرنگی کو سپریم کورٹ نے دی ضمانت

سال 2002 میں گجرات کے گودھرا میں سابرمتی ایکسپریس میں آگ لگنے کے ایک دن بعد ریاست میں بھڑکے فسادات میں احمد آباد کے نرودا پاٹیا علاقے میں 28 فروری، 2002 کو بھیڑ نے 97 لوگوں کا قتل کر دیا تھا۔ اس حادثہ میں مارے گئے زیادہ تر لوگ اقلیتی کمیونٹی کے تھے۔ اس قتل معاملے میں مجرم قرار دیے جانے کے بعد سے بابو بجرنگی سابرمتی سینٹرل جیل میں بند تھے۔

سال 2002 میں گجرات کے گودھرا میں سابرمتی ایکسپریس میں آگ لگنے کے ایک دن بعد ریاست میں بھڑکے فسادات میں احمد آباد کے نرودا پاٹیا علاقے میں 28 فروری، 2002 کو بھیڑ نے  97 لوگوں کا قتل کر دیا تھا۔ اس حادثہ میں مارے گئے زیادہ تر لوگ اقلیتی کمیونٹی کے تھے۔ اس قتل معاملے میں مجرم قرار دیے جانے کے بعد سے  بابو بجرنگی سابرمتی سینٹرل جیل میں بند تھے۔

سپریم کورٹ (فوٹو : پی ٹی آئی)

سپریم کورٹ (فوٹو : پی ٹی آئی)

نئی دہلی:سال 2002 میں گجرات فسادات سے جڑے نرودا پاٹیا  فسادات معاملے میں سپریم کورٹ نے جمعرات کو مجرموں میں سے ایک بجرنگ دل کے رہنما  بابو بھائی پٹیل عرف بابو بجرنگی کو صحت  کی بنا پر ضمانت دے دی ہے۔ ضمات کے لیے بابو بجرنگی نے آنکھوں کی روشنی چلے جانے کا حوالہ دیا تھا۔بابو بجرنگی کو نچلی عدالت نے عمر قید کی سزا سنائی تھی مگر بعد میں گجرات ہائی کورٹ نے سزا کم کر کے 21 سال کر دی تھی۔

حالانکہ اس معاملے میں بجرنگی کی ایک اپیل سپریم کورٹ میں ابھی زیر  سماعت ہے۔انڈین ایکسپریس کی ایک خبر کے مطابق؛ 30 دیگر لوگوں کے ساتھ مجرم قرار دیے جانے کے بعد بابو بجرنگی  2012 سے سابرمتی سینٹرل جیل میں بند تھے۔این ڈی ٹی وی کی خبر کے مطابق؛نرودا پاٹیا قتل عام کے بعد 2007 میں ایک اسٹنگ کے دوران بجرنگی نے یہ قبول کیا تھا کہ اس نے لوگوں کا قتل کیا ہے۔اسٹنگ کا ویڈیو سامنے آنے کے بعد کافی ہنگامہ ہوا تھا۔

اس سے پہلے اس سال جنوری میں اسی کیس میں 4 مجرموں راجکمار،ہرشد، امیش بھائی بھار واڈ اور پرکاش بھائی راٹھور کو سپریم کورٹ نے ضمانت دے دی تھی۔

غور طلب ہے کہ سال 2002 میں گجرات کے گودھرا میں سابرمتی ایکسپریس میں آگ لگنے کے ایک دن بعد ریاست میں بھڑکے فسادات میں احمد آباد کے نرودا پاٹیا علاقے میں 28 فروری، 2002 کو بھیڑ نے 97 لوگوں کا قتل کر دیا تھا۔ اس حادثہ میں مارے گئے زیادہ تر لوگ اقلیتی کمیونٹی کے تھے۔

اس کے بعد 2008 میں سپریم کورٹ نے کہا  تھا کہ معاملے کی تفتیش پولیس کے بجائے کورٹ کی تشکیل کی گئی کمیٹی یعنی ایس آئی ٹی کرے۔ اس کے بعد اگست 2009 میں نرودا پاٹیا میں ہوئے فساد پر مقدمہ شروع ہوا اور 62 ملزمین کے خلاف الزامات درج کئے گئے۔ اس معاملے کی سماعت کے دوران 327 لوگوں کے بیانات درج کئے گئے۔ اگست 2012 کو کورٹ نے نرودا پاٹیا فسادات کے معاملے میں بابو بجرنگی اور مایا سمیت 32 لوگوں کو  مجرم قرار دیا ، جبکہ 29 لوگوں کو الزام سے بری کر دیا۔

نچلی عدالت نے گجرات حکومت کی سابق وزیر کوڈنانی کو 28 سال قید کی سزا سنائی تھی، جبکہ بابو بجرنگی کو عمر قید کی سزا اور باقی مجرموں  کو 21 سالوں کی سزا دی گئی۔ اس سال 20 اپریل 2018 کو گجرات ہائی کورٹ نے نچلی عدالت کے فیصلے کو پلٹتے ہوئے اس معاملے میں 29 ملزمین میں سے 12 کو مجرم  ٹھہرایا تھا۔ کورٹ نے سابق وزیر مایا کوڈنانی سمیت 18 لوگوں کو بری کر دیا تھا، جبکہ بجرنگ دل کے سابق رہنما بابو بجرنگی سمیت 13 لوگوں کو کورٹ نے مجرم  مانا تھا۔

(خبر رساں ایجنسی بھاشا کے ان پٹ کے ساتھ)