وشو ہندو پریشد کو امید، ایودھیا میں رام جنم بھومی ٹرسٹ کے ڈیزائن کے مطابق ہوگی مندر کی تعمیر

09:56 PM Nov 10, 2019 | دی وائر اسٹاف

ایودھیا معاملے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کاشی اور متھرا کے مذہبی مقامات کو لے کر وشوہندو پریشد کے آئندےمنصوبے کے بارے میں پوچھے جانے پروشو ہندو پریشد کے انٹرنیشنل صدر وشنو سداشیو کوکجے نے کہا کہ باقی موضوعات  پر سماج کے رخ کو رام مندر کی تعمیر کے بعد دیکھا جائےگا۔ اس سے پہلے فیصلے پر اپنے ردعمل  میں سنگھ چیف موہن بھاگوت نے کہا تھا کہ سنگھ آندولن نہیں کرتا۔

فوٹو: رائٹرس

نئی دہلی: معاملے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو متوازن قرار دیتے ہوئے وشو ہندو پریشد کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے سنیچر کو اس کا خیرمقدم کیا۔ اس کے ساتھ ہی امید ظاہر کی  کہ آئینی بنچ کی ہدایت پر بننے والا ٹرسٹ رام جنم بھومی پر عظیم الشان مندر کی تعمیر رام جنم بھومی ٹرسٹ کے اس ڈیزائن کے مطابق ہی کرائےگا جس کے تحت پچھلی  تین دہائی سے پتھر تراشے جا رہے ہیں۔

وشو ہندو پریشد  کے انٹرنیشنل  صدروشنو سداشیو کوکجے نے کہا، ‘ایودھیا معاملے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب کسی بھی فریق  کی ہار یا جیت کا سوال نہیں ہے، کیونکہ عدالت نے متوازن  فیصلہ سناتے ہوئے صدیوں پرانے مسئلے کو اچھی طرح سے حل کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ قابل ستائش  ہے، کیونکہ اس کے تحت انصاف کیا گیا ہے۔’

کوکجے نے کہا، ‘اس فیصلے کی روشنی میں ہم سمجھ رہے ہیں کہ ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے لیے ضروری فیصلے عدالت کی ہدایت پر سرکار کے ذریعےبنائے جانے والے ٹرسٹ کی نگرانی میں ہی ہونے ہیں۔ حالانکہ، ہم امید کر رہے ہیں کہ رام جنم بھومی پر اسی ڈیزائن کے مطابق عظیم الشان  مندر کی تعمیر  کی جائےگی، جو رام جنم بھومی ٹرسٹ نے پہلے سے تیار کر رکھا ہے۔اس ڈیزائن کو اپنایا جانا (مجوزہ)ٹرسٹ کو آسانی فراہم کرےگا۔’

ایودھیا معاملے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کاشی اور متھرا کے مذہبی مقامات کو لے کر وشو ہندو پریشدکے آئندہ منصوبے کے بارے میں پوچھے جانے پر کوکجے نےسوال کو ٹال دیا۔ انہوں نے متعلقہ سوال پر کہا، ‘فی الحال ہم ایودھیا میں عظیم الشان  رام مندر کی  تعمیر پر پوری توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔ باقی موضوعات  پر سماج کے رخ کو رام مندرکی تعمیر  کے بعد دیکھا جائےگا۔’

اس سے پہلےایودھیا کے بعد کاشی اور متھرا میں ممکنہ منصوبے کے بارے میں پوچھے گئے سوال پرسنگھ چیف موہن بھاگوت نے کہا تھا کہ سنگھ آندولن نہیں کرتا، سنگھ کا کام انسان بنانا ہے۔ انہوں نے کہا، ‘آگے ہم انسان کو بنانے میں جڑ جائیں گے۔آندولن کے موضوع  ہمارے موضوع نہیں رہتے تو ہم اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔’

مدھیہ پردیش اور راجستھان کے ہائی کورٹ  کے سابق جسٹس کوکجے نے کہا، ‘رام جنم بھومی ٹرسٹ نے مندر کی تعمیر کے لیے کافی تیاری کر رکھی ہے۔ مندر کا ڈیزائن تیار ہے اور اس کے مطابق بڑے پیمانے پر پتھر بھی تراش لیے گئے ہیں۔’

غورطلب ہے کہ وشو ہندو پریشد نے ‘رام مندر نرمان کاریہ شالہ’ میں 1990 میں ایودھیا میں رام مندر کے لیے پتھروں کو تراشنا شروع کیا تھا۔ رام جنم بھومی ٹرسٹ وشو ہندو پریشد کے ممبروں کا قائم کردہ  ٹرسٹ ہے۔ اس ٹرسٹ کا قیام ایودھیا میں رام جنم بھومی پر عظیم الشان مندر کی تعمیر کے مقصد سے 18 دسمبر 1985 کو کیا گیا تھا۔ چیف جسٹس رنجن گگوئی کی صدارت والی پانچ رکنی  آئینی بنچ نے سنیچر کو سنائے اپنے فیصلے میں کہا کہ ایودھیا میں اس مقام  پر مندر بنانے کے لیے تین مہینے کے اندر ایک ٹرسٹ بنایا جانا چاہیے جس کے تئیں  ہندوؤں کی عقیدت ہے کہ بھگوان رام کا جنم وہیں ہوا تھا۔

وشو ہندو پریشد کے صدرنے کہا کہ ان کی تنظیم کویہ امید بھی ہے کہ بھگوان رام کے تئیں  ‘بھکتی بھاؤ’ رکھنے والے ہندوؤں کو ہی مجوزہ  ٹرسٹ میں شامل کیا جائےگا۔

ہماچل پردیش کے سابق گورنر کوکجے نے زور دےکر کہا، ‘ایودھیا میں رام جنم بھومی کے تنازعہ کو آر ایس ایس یا وشو ہندو پریشد نے پیدا نہیں کیا تھا۔ رام جنم بھومی پر مندرکی تعمیر کو لےکر عوام نے آندولن شروع کیا تھا اور ہم لوگ اس میں شامل ہوئے تھے۔’

(خبررساں ایجنسی بھاشا کے ان پٹ کے ساتھ)