اپوزیشن جماعتوں نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کی مذمت کی، مرکزی حکومت کی خاموشی پر اٹھائے سوال

امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کی ہندوستان کی اپوزیشن جماعتوں نے سخت مذمت کی ہے۔ اپوزیشن نے مرکزی حکومت کی خارجہ پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دیرینہ ’دوست‘ رہے ایران پر مسلط کی گئی جنگ کے بارے میں حکومت کا ردعمل ہندوستان کی اقدار، اصولوں اور مفادات کے ساتھ ’غداری‘ کے مترادف ہے۔

امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کی ہندوستان کی اپوزیشن جماعتوں نے سخت مذمت کی ہے۔ اپوزیشن نے مرکزی حکومت کی خارجہ پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دیرینہ’دوست‘ رہے ایران پر مسلط کی گئی جنگ کے بارے میں حکومت کا ردعمل ہندوستان کی اقدار، اصولوں اور مفادات کے ساتھ ’غداری‘ کے مترادف ہے۔

حیدرآباد: امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے مشترکہ حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کے خلاف احتجاج کرتے لوگ۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

نئی دہلی: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں قتل کی ہندوستان کی اپوزیشن جماعتوں نے شدید مذمت کی ہے۔

اپوزیشن نے مرکزی حکومت کی خارجہ پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران جیسے دیرینہ ’دوست‘ ملک پر مسلط  کی گئی جنگ کے معاملے میں حکومت کا ردعمل ہندوستان کی اقدار، اصولوں اور قومی مفادات کے ساتھ ’غداری‘ ہے۔

کانگریس کی مذمت

کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے نے ’ایکس‘ پر پارٹی کا بیان شیئر کیاجس میں لکھا تھا،’ انڈین نیشنل کانگریس بغیر کسی باقاعدہ اعلان کے کیے گئے فوجی حملے میں ایران کے سپریم لیڈر علی حسینی خامنہ ای کی ٹارگٹڈ ہلاکت کی مذمت کرتی ہے۔ پارٹی اس غم کی گھڑی میں سپریم لیڈر کے اہل خانہ، ایران کی عوام اور دنیا بھر کی شیعہ برادری کے ساتھ تعزیت اور یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔ ہم غم کی اس ساعت میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ‘

بیان میں مزید کہا گیا،’ہندوستان کی خارجہ پالیسی تنازعات کے پُرامن حل، مکالمے اور بین الاقوامی قانون کے احترام کے لیے پرعزم ہے، جیسا کہ ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 51 میں درج ہے۔ ‘

کانگریس نے کہا، ’ہر ملک کے شہریوں کو اپنے سیاسی مستقبل کا تعین کرنے کا حق حاصل ہے۔ کسی بیرونی طاقت کو کسی ملک میں حکومت کی تبدیلی  کرانے یا اس کی قیادت طے کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ ایسے اقدامات سامراجیت کے زمرے میں آتے ہیں اور حقیقت میں قواعد پر مبنی بین الاقوامی نظام کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہیں۔‘

حکومت کی خاموشی پر سوال

سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے حکومت سے اس معاملے پر اپنا موقف واضح کرنے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے ’ایکس‘ پر لکھا  ،’ کسی ملک کے سب سے خاص سے لے کر عام شہریوں تک پر ہو رہے  جان لیوا حملوں اور جنگ جیسے حالات میں ہماری حکومت کو، اس بین الاقوامی معاملے پر اپنا موقف واضح کرنا چاہیے اور بتانا چاہیے کہ وہ جنگ کے ساتھ ہے یا امن کے ساتھ، اور ایک غیر جانبدار ملک ہونے کے ناطے جنگ روکنے اور امن کی بحالی کے لیے کیا سفارتی اقدامات کر رہی ہے۔ ‘

سی پی آئی کے رہنما ڈی راجہ نے کہا کہ امریکہ-اسرائیل اتحاد ’برائی کی سب سے برہنہ صورت‘  کی نمائندگی کرتا ہے۔

انہوں نے ’ایکس‘ پر لکھا، ’ کسی موجودہ سربراہ مملکت کا قتل نام نہاد قواعد پر مبنی نظام کے آخری پردے کو بھی ختم کر دیتا ہے۔ یہ واضح ہے کہ خودمختاری صرف انہی پر لاگو ہوتی ہے جو واشنگٹن کے ساتھ کھڑے  ہیں۔ ‘

انہوں نے مزید کہا، ’ ہندوستان کی حکومت اور وزیر اعظم مودی کی خاموشی تشویشناک ہے۔ ایران ایک آزمودہ دوست رہا ہے، جس نے کشمیر کے مسئلے پر حمایت کی اور او آئی سی میں متوازن کردار ادا کیا۔ پاکستان کو نظرانداز کرتے ہوئے افغانستان اور وسطی ایشیا تک رسائی کے لیے ہندوستان کی چابہار بندرگاہ میں اسٹریٹجک سرمایہ کاری ایران میں عدم استحکام کے باعث براہ راست خطرے میں ہے۔ ‘

وہیں،اے آئی ایم آئی ایم کے صدر اسدالدین اویسی نے اس قتل کو ’غیر اخلاقی اور غیر قانونی عمل‘ قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ مرکزی حکومت جنگ کو روکنے میں کردار ادا کرے گی۔

سی پی آئی (ایم) پولت بیورو نے بھی امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کی سخت مذمت کی اور کہا  ہےکہ یہ حملے ایران کی قومی خودمختاری، اقوام متحدہ کے چارٹر اور تمام بین الاقوامی معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

جموں و کشمیر میں بھی احتجاج

جموں و کشمیر میں برسراقتدار نیشنل کانفرنس سمیت کئی جماعتوں نے امریکہ-اسرائیل حملوں کی مذمت کی۔

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے ایران کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وسیع احتجاج کے درمیان امن برقرار رکھنے کی اپیل کی۔

ان کے دفتر نے ’ایکس‘ پر کہا، ’ وزیراعلیٰ نے ایران میں پیش آنے والے واقعات، جن میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کی خبریں شامل ہیں، پر تشویش ظاہر کی ہے اور تمام برادریوں سے امن و امان اور بھائی چارہ برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔ ‘

نیشنل کانفرنس کے سربراہ فاروق عبداللہ نے خامنہ ای کے قتل پر ’گہرے دکھ اور رنج‘ کا اظہار کرتے ہوئے انتظامیہ سے حساسیت اور دانشمندی کے ساتھ صورتحال سنبھالنے کی اپیل کی تاکہ جو لوگ تعزیت کرنا چاہتے ہیں وہ باوقار طریقے سے ایسا کر سکیں۔

پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے کہا کہ خامنہ ای کا قتل تاریخ کا ’نہایت افسوسناک اور شرمناک‘ لمحہ ہے۔

شیوسینا (یو بی ٹی) اور راشٹریہ جنتا دل کا ردعمل

شیوسینا (یو بی ٹی) کے رہنما سنجے راؤت نے ایران پر امریکہ-اسرائیل حملے کے بعد بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت کے موقف پر تنقید کرتے ہوئے کہا خارجہ پالیسی پر سوال اٹھائے۔صحافیوں سے بات چیت میں انہوں نے کہا ایران کا کمزور ہونا ہندوستان کے لیے بھی خطرناک ہے، کیونکہ اگر امریکہ اور اسرائیل مغربی ایشیائی ملک پر کنٹرول قائم کرتے ہیں تو ان کے قدم ہندوستان کی جانب بڑھ سکتے ہیں۔

راشٹریہ جنتا دل کے رکن پارلیامنٹ منوج جھا نے ’ایکس‘ پر لکھا،’ امریکہ-اسرائیل-ایران جنگ انتہائی شرمناک ہے اور یہ رکنے والی نہیں، اقوام متحدہ اب اپنی اہمیت کھو چکا ہے۔ ‘