آسام: سی ایم نے کہا – مدارس میں پڑھانے والے باہر کے اساتذہ کو باقاعدگی سے تھانوں میں حاضری دینی ہوگی

آسام کے وزیراعلیٰ ہمنتا بسوا شرما نے کہا ہے کہ ریاستی پولیس مدرسہ کی تعلیم کو منظم کرنے کے لیے مسلمانوں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ پولیس تعلیم کے تئیں مثبت رویہ رکھنے والے بعض بنگالی مسلمانوں کے ساتھ بھی رابطہ کر رہی ہے ۔ مدارس میں سائنس اور ریاضی کی تعلیم دی جائے گی اور اساتذہ کا ایک ڈیٹا بیس رکھا جائے گا۔

آسام کے وزیراعلیٰ ہمنتا بسوا شرما نے کہا ہے کہ ریاستی پولیس مدرسہ کی تعلیم کو منظم کرنے کے لیے مسلمانوں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ پولیس تعلیم کے تئیں مثبت رویہ رکھنے والے بعض بنگالی مسلمانوں کے ساتھ بھی رابطہ کر رہی ہے ۔ مدارس میں سائنس اور ریاضی کی تعلیم دی جائے گی اور اساتذہ کا ایک ڈیٹا بیس رکھا جائے گا۔

ہمنتا بسوا شرما(فوٹو : پی ٹی آئی)

ہمنتا بسوا شرما(فوٹو : پی ٹی آئی)

نئی دہلی: آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما نے اتوار (1 جنوری) کو کہا کہ ریاستی پولیس اسلامی مذہبی رہنماؤں کی جہادی سرگرمیوں میں مبینہ طور پرملوث ہونے کے بعد مدرسہ کی تعلیم کو منظم کرنے کے لیے مسلمانوں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔

نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ 2022 کے دوران آسام پولیس نے دہشت گرد تنظیموں انصارالبنگلہ ٹیم اور القاعدہ ان انڈین سب کانٹیننٹ (اے کیو آئی ایس ) کے آٹھ ماڈیول کا پردہ فاش کیا، جس میں51 افراد کو گرفتار کیا  گیااور کچھ نجی مدارس سے 9 بنگلہ دیشیوں کے براہ راست تعلق  کا انکشاف کیا۔

انہوں نے کہا کہ مدارس میں اچھا ماحول بنانے کے لیے پولیس تعلیم کے تئیں مثبت رویہ رکھنے والے بعض بنگالی مسلمانوں کے ساتھ بھی رابطہ کر رہی ہے ۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ مدارس میں سائنس اور ریاضی کی تعلیم دی  جائے گی، تعلیم کے حق کا احترام کیا جائے گا اور اساتذہ کا ایک ڈیٹا بیس رکھا جائے گا۔

اس کے علاوہ مدارس میں پڑھانے کے لیے آسام سے باہر سے آنے والے تمام اساتذہ کو وقتاً فوقتاً قریبی تھانوں میں حاضر ہونا ہوگا۔

وزیر اعلیٰ نے کہا،ڈائریکٹر جنرل آف پولیس بی جے مہنت کی ہدایت پر پولیس مدرسہ کی تعلیم کو منظم کرنے کے لیے مسلم کمیونٹی کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ ہم ان کو دشمن سمجھنے کے بجائے اسٹیک ہولڈر بنا رہے ہیں۔

ریاست کے محکمہ داخلہ کا چارج بھی سنبھال رہے ہمنتا بسوا شرما نے کہا کہ کچھ اضلاع میں بہت سے علاقے ایسے ہیں جہاں صرف بنگالی مسلمان ہیں اور انہیں اسٹیک ہولڈر بنانا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ مرکز اور ریاستی حکومت کے ساتھ ایک معاہدے کے بعد مختلف تنظیموں کے 7229 کیڈروں کے سرینڈرکرنے کے ساتھ 2022 میں ریاست میں قبائلی عسکریت پسندی کا خاتمہ بھی دیکھنے کو ملا۔

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق، ان کے مطابق، پولیس نے 757 جدید ترین ہتھیار، 5983 گولہ بارود، 131 گرینیڈ، 26 آئی ای ڈی اور 52 کلو گرام دھماکہ خیز مواد این ڈی ایف بی ، این ایل ایف ٹی،کاربی،ڈی ماسا اور قبائلی عسکریت پسندوں سے برآمد کیے گئے، لیکن رضاکارانہ طور پر اس سے کہیں زیادہ اسلحے برآمدکیے گئے ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاستی پولیس کی ایک اور بڑی کامیابی موسٹ وانٹینڈ ماؤنواز لیڈر ارون کمار بھٹاچاریہ عرف کنچن دا کی گرفتاری تھی، جس کے سر پر 3.40 کروڑ روپے کا انعام تھا۔ ان کی گرفتاری سے بائیں بازو کی انتہا پسندی کو شدیدجھٹکا لگا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بدعنوانی ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ گزشتہ سال کے دوران کل 1.12 کروڑ روپے کی  رشوت لیتے ہوئے  50 سرکاری ملازمین رنگے ہاتھوں پکڑے گئے۔

(خبر رساں ایجنسی بھاشا کے ان پٹ کے ساتھ)