مغربی ایشیا کے بحران کے درمیان ریلائنس کے پیٹرول پمپوں پر ایک بار میں 1,000 روپے کی خریداری کی حد طے: رپورٹ

03:46 PM Apr 10, 2026 | دی وائر اسٹاف

مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے باعث خام تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے درمیان ملک کی سب سے بڑی نجی شعبے کی آئل ریفائننگ کمپنی ریلائنس انڈسٹریز لمیٹڈ نے اپنے پیٹرول پمپوں پر ایندھن کی فروخت پر حد طے کر دی ہے۔ ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق، اب صارفین کو ایک بار میں 1,000 روپے تک ہی پیٹرول یا ڈیزل دیا جا رہا ہے۔ تاہم، کمپنی نے اس بارے میں کوئی باضابطہ فیصلہ جاری نہیں کیا ہے۔

گوہاٹی میں مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے دوران ایندھن کی کمی کی افواہوں کے بیچ ایک پیٹرول پمپ پر لگا نوٹس، جس پر لکھا ہے ’پیٹرول ختم‘۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

نئی دہلی: مغربی ایشیا میں جاری بحران کے دوران ملک کی سب سے بڑی نجی شعبے کی آئل ریفائننگ کمپنی ریلائنس انڈسٹریز لمیٹڈ نے اپنے پیٹرول پمپوں پر ایندھن کی فروخت پر حد مقرر کر دی ہے۔ اب صارفین کو ایک بار میں 1,000 روپے (تقریباً 11 ڈالر) تک ہی پیٹرول یا ڈیزل دیا جا رہا ہے۔

ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، کمپنی اپنے شراکت دار بی پی پی ایل سی کے ساتھ چلنے والے آؤٹ لیٹس پر یہ حد نافذ کر رہی ہے۔ ملک بھر میں اس جوائنٹ وینچر کے 2,000 سے زیادہ پیٹرول پمپ ہیں۔

حالاں کہ، اخبار کے مطابق، کمپنی نے کوئی باضابطہ فیصلہ جاری نہیں کیا ہے، لیکن جیو-بی پی پمپ چلانے والوں نے بڑھتی ہوئی طلب کے درمیان گھبراہٹ میں خریداری (پینک بائنگ) کو روکنے اور ایندھن ختم ہونے سے بچانے کے لیے یہ حد نافذ کرنا شروع کر دی ہے۔

یہ قدم ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب دنیا کا تیسرا سب سے بڑا تیل صارف ہندوستان آبنائے ہرمز کے طویل عرصے تک تقریباً بند رہنے کے اثرات سے نبرد آزما ہے۔ آبنائے  ہرمزخام تیل، پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی عالمی سپلائی کے لیے نہایت اہم راستہ ہے۔

حالاں کہ امریکہ اور ایران کے درمیان عارضی جنگ بندی نافذ ہے، لیکن ٹینکروں کی آمد و رفت اب بھی متاثر ہے اور انشورنس کمپنیاں اس خطے کو زیادہ جوکھم والا قرار دے رہی ہیں۔

ہندوستان میں ایک لاکھ سے زیادہ پیٹرول پمپوں میں ریلائنس کی حصہ داری  تقریباً 2 فیصد ہے، لیکن قیمت بڑھانے کے بجائے براہ راست سپلائی محدود کرنے کا یہ پہلا بڑا قدم ہے، جو توانائی کے بازار میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کو ظاہر کرتا ہے۔

اخبار کے مطابق، ریلائنس کے ترجمان نے کہا کہ صارفین کے لیے ایندھن کی خرید پر کوئی سرکاری حد مقرر نہیں کی گئی، تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ کچھ مقامات پر ’مقامی سطح‘پر ایسی صورتحال ہو سکتی ہے۔

سرکاری کمپنیاں-انڈین آئل کارپوریشن، بھارت پیٹرولیم کارپوریشن اور ہندوستان پیٹرولیم کارپوریشن نے نہ تو باضابطہ طور پر قیمتیں بڑھائی ہیں اور نہ ہی کوئی حد مقرر کی ہے، اگرچہ کچھ پیٹرول پمپوں پر 1,000 روپے کی حد نافذ ہونے کی خبریں سامنے آئی ہیں۔

تاہم، ان سرکاری آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے 2 اپریل کو صنعتی ڈیزل کی قیمت میں 28.22 روپے فی لیٹر اضافہ کیا تھا، جو ان کی قیمتوں کا 25 فیصد سے زیادہ تھا۔ نئی قیمت 137.81 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔

نجی سیکٹر کی ایک اور کمپنی نایرا انرجی نے گزشتہ ماہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھائی تھیں، تاکہ خوردہ فروخت میں ہونے والے نقصان کو کم کیا جا سکے اور کھپت کو قابو میں رکھا جا سکے۔

ہندوستان اپنی 90 فیصد سے زیادہ تیل کی ضروریات درآمد کرتا ہے، اس لیے خلیجی ممالک میں کسی بھی طرح کی بے یقینی ہندوستان کو شدید طور پرمتاثر کر سکتی ہے۔