اترپردیش: نجی احاطے میں نماز پڑھنے سے روکنے پر پولیس اور ڈی ایم کو توہین عدالت کا نوٹس

11:37 AM Feb 19, 2026 | دی وائر اسٹاف

الٰہ آباد ہائی کورٹ نے جنوری میں دیے گئے اپنے فیصلے پرعمل نہ کرنے کے معاملے میں بریلی کے ضلع مجسٹریٹ اور سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرنے کی ہدایت دی ہے۔ ایک درخواست گزار نے رمضان کے پیش نظر اپنے نجی احاطے میں نماز ادا کرنے کی اجازت مانگی تھی، جسے انتظامیہ نے مسترد کر دیا تھا۔ ہائی کورٹ نے جنوری میں واضح کیا تھا کہ نجی احاطے میں مذہبی اجتماع کرنے کے لیے کسی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔

السٹریشن: پری پلب چکرورتی / دی وائر

نئی دہلی: الٰہ آباد ہائی کورٹ نے منگل (17 اکتوبر) کو بریلی کے ضلع مجسٹریٹ (ڈی ایم) اور سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرنے کی ہدایت دی ہے۔

عدالت نے کہا کہ اس کے جنوری کے فیصلے پر عمل نہیں کیا گیا، جس میں واضح کیا گیا تھا کہ نجی احاطے میں مذہبی اجتماع کرنے کے لیے کسی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔

نیو انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، یہ فیصلہ عدالت نے طارق خان کی جانب سے دائر درخواست کی شنوائی کے دوران دیا۔ درخواست میں ماہ رمضان کے پیش نظر اپنے نجی احاطے میں نماز ادا کرنے کی اجازت طلب کی گئی تھی۔

جب عدالت نے پوچھا کہ ایسی درخواست کیوں دائر کی گئی، تو درخواست گزار نے بتایا کہ گزشتہ ماہ پولیس نے اسی احاطے میں مبینہ طور پر نماز ادا کرنے کے الزام میں 12 افراد کو حراست میں لیا تھا۔

درخواست گزار کے وکیل راجیش کمار گوتم نے کہا کہ ان کے مؤکل نے ڈی ایم اور ایس ایس پی کی جانب سے نجی احاطے میں نماز کی اجازت سے متعلق درخواست مسترد کیے جانے کے فیصلے کو چیلنج کیا ہے۔

شنوائی کے بعد عدالت نے کنٹیمپٹ آف کورٹ ایکٹ 1971 کے تحت ڈی ایم اور ایس ایس پی کو نوٹس جاری کرنے کی ہدایت دی۔

جسٹس اتل شری دھرن اور جسٹس ایس اے سدھارتھ نندن کی بنچ نے کہا، ‘ریاست کے وکیل سے گزارش ہے کہ وہ اس معاملے میں ہدایات حاصل کریں… اگلی شنوائی کی تاریخ  تک درخواست گزار کے خلاف کوئی بھی تعزیری مؤخر رہے گی۔’

مقدمے کی اگلی سماعت 11 مارچ کو مقرر کی گئی ہے۔

گزشتہ 27 جنوری کو جاری اپنے آرڈر میں ہائی کورٹ ایک ایسی عرضی کی شنوائی کر رہی تھی، جس میں نجی ملکیت کے اندر مذہبی اجتماع منعقد کرنے کی اجازت طلب کی گئی تھی۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ حکام سے کئی بار درخواست کرنے کے باوجود اجازت نہیں دی گئی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ درخواست گزار کو اپنے نجی احاطے میں سہولت کے مطابق عبادت کرنے کا حق حاصل ہے اور اس کے لیے ریاستی حکومت سے کسی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔ البتہ اگر اجتماع عوامی سڑک یا سرکاری املاک تک پھیلتا ہے تو پولیس کو مطلع کر کے قانون کے مطابق اجازت لینا ضروری ہوگا۔

عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر سکیورٹی کی ضرورت ہو تو اسے کس طرح فراہم کیا جائے، یہ ریاست کی صوابدید پر منحصر ہوگا۔ عدالت نے کہاتھا،’لیکن ریاست کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ہر حال میں درخواست گزار کی ملکیت، حقوق اور جان کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ یہ کس طرح کیا جائے، یہ مکمل طور پر پولیس کی صوابدید پر  ہے۔’

واضح ہو کہ جنوری میں بریلی پولیس نے کہا تھا کہ اسے اطلاع ملی تھی کہ محمد گنج گاؤں میں ایک نجی احاطے میں اجتماعی  طور پر نماز ادا کی جا رہی ہے، جس کے بعد 12 افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔ وکیل گوتم نے دعویٰ کیا کہ ان افراد کے خلاف امن و امان میں خلل ڈالنے کے اندیشے کے تحت ضابطہ فوجداری کی دفعہ 151 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔

تاہم، مکان مالکن نے میڈیا کو بتایا تھا کہ ان کا گھر خالی پڑاتھا اور انہوں نے خود ہی مقامی لوگوں کو اپنے گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت دی تھی۔