یوپی: متھرا میں ڈوسا اسٹال پر فرقہ وارانہ حملے کے بعد مسلمان مزدوروں کو نوکری جانے کا اندیشہ

اتر پردیش کے متھرا کی وکاس مارکیٹ میں18اگست کو ہندوتوا کے کارکنوں نے ڈوسا بیچنے والے ایک مسلمان کے اسٹال پر توڑ پھوڑ کی تھی۔ حملہ آوروں کا الزام ہے کہ مسلمان ہوکر ڈوسا فروش نےدکان کا نام ہندو بھگوان شری ناتھ کے نام پر رکھا ہے۔ معاملے کا ویڈیو پولیس کے علم میں آنے کے بعد گزشتہ 28 اگست کو متھرا کے کوتوالی تھانے میں ایف آئی آر درج کی گئی۔

اتر پردیش کے متھرا کی وکاس مارکیٹ میں18اگست کو ہندوتوا کے کارکنوں نے ڈوسا بیچنے والے ایک مسلمان کے اسٹال پر توڑ پھوڑ کی تھی۔ حملہ آوروں کا الزام  ہے کہ مسلمان ہوکر ڈوسا فروش  نےدکان کا نام ہندو بھگوان شری ناتھ کے نام پر رکھا ہے۔ معاملے کا ویڈیو پولیس کے علم میں آنے کے بعد گزشتہ 28 اگست کو متھرا کے کوتوالی تھانے میں ایف آئی آر درج کی گئی۔

یتی نرسنہانند (بائیں)کے ساتھ متھرا میں مسلم ڈوسا فروش کے اسٹال پر حملہ کرنےکے ملزم  ہندوتواکارکن  دیوراج پنڈت (فوٹو بہ شکریہ : فیس بک)

یتی نرسنہانند (بائیں)کے ساتھ متھرا میں مسلم ڈوسا فروش کے اسٹال پر حملہ کرنےکے ملزم  ہندوتواکارکن  دیوراج پنڈت (فوٹو بہ شکریہ : فیس بک)

نئی دہلی:اتر پردیش میں متھرا شہر کے وکاس مارکیٹ میں18 اگست کو  ڈوسا بیچنے والے ایک مسلمان کے اسٹال پر توڑ پھوڑ کرنے کے لیےنامعلوم  لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے ایک دن بعد پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے معاملے میں کلیدی ملزم  کی پہچان کر لی ہے۔

متھرا(سٹی)کےسرکل آفیسر ورون کمار نے دی وائرکو بتایا کہ پولیس فی الحال توڑ پھوڑ کرنے والوں کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا، ‘ہم نے ملزمین کو پہچان لیا ہے اور جتنی جلدی ہو سکے، انہیں گرفتار کریں گے۔’

حالانکہ انہوں نے معاملے میں کلیدی مشتبہ کا نام اجاگر کرنے سے انکار کیا، لیکن  دیوراج پنڈت (پرکاش شرما) نام کے ایک ہندوتوا  کارکن  نے اپنے فیس بک پیج پر اس واقعے  کا ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے حملے کی ذمہ داری لی ہے۔

واقعہ  کا ویڈیو پولیس کےعلم  میں آنے کے بعدگزشتہ 28 اگست کو متھرا کے کوتوالی پولیس تھانے میں ایف آئی آر درج کی گئی۔

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں ہندوتوا کارکن کے ایک گروپ  کو مسلم ڈوسا فروش عرفان کو دھمکی دیتے  ہوئےدیکھا جا سکتا ہے۔ دراصل اس ڈوسا اسٹال کا نام ہندو دیوتا شری ناتھ کے نام پر رکھا ہے، جس کو  لےکراعتراض  ہے اور یہ ان کا اسٹال بھی نہیں ہے۔ عرفان صرف یہاں نوکری کرتے ہیں۔

اس ویڈیو میں حملہ آوروں میں سے ایک شخص متاثرہ  سے یہ کہہ رہا ہے کہ اس نے سٹال کا نام ‘شری ناتھ ڈوسا کارنر’کیوں رکھا ہے، جو ہندو بھائی یہاں کھانا نہیں چاہتے ہوں گے، وہ بھی ہندو نام پڑھ کر یہاں آکر کھائیں گے۔

اس واقعہ کو یاد کرتے ہوئے عرفان نے دی وائر کو بتایا کہ 18 اگست کو لگ بھگ 10 لوگ اچانک ان کے سٹال پر آئے اور اسٹال کے نام کو لےکراعتراض کرنے لگے۔

انہوں نے بتایا،‘انہوں نے (حملہ آوروں)مجھ سے کہا کہ شری ناتھ ہندو بھگوان کا نام ہے۔تمہیں اسٹال کا مسلم نام رکھنا چاہیے تھا۔ میں نے انہیں بتایا کہ اللہ اور بھگوان ایک سکے کے دو پہلو ہیں اور میں تمام  بھگوانوں میں عقیدت  رکھتا ہوں۔’

اس ویڈیو کو اپنے فیس بک پیج پر پوسٹ کرتے ہوئے دیوراج پنڈت نے لکھا، ‘آج ہم نے ایک کٹھ ملا  کو سبق سکھایا، جو متھرا کے وکاس مارکیٹ میں ہمارے ہندو بھگوان کے نام پر فوڈ اسٹال چلا رہا تھا۔

وہ آگے کہتے ہیں،‘میں آپ سب سے اپیل کرتا ہوں کہ اگر آپ کو اس طرح کی کوئی دکان ملے تو فوراً  اس کی مخالفت کریں۔ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ اگر آپ مسلم ہیں تو مسلم نام سے اپنا اسٹال چلائیں، آپ اپنے فائدے کے لیے ہمارے سناتن دھرم کا استعمال کیوں کر رہے ہیں۔’

اتنا ہی نہیں دیوراج پنڈت نے 19 اگست کو ایک چکن بریانی بیچنے والےکو دھمکاتے ہوئے کسی نامعلوم  ہندوتوا کارکن  کا ویڈیو پوسٹ کیا ہے۔

پنڈت نے 29 اگست کو فیس بک پر کہا کہ وہ مقدس  شہر متھرا میں چکن کی ایک بھی دکان کو چلنے نہیں دیں گے اور وہ یہ یقینی  بنانے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں۔

انہوں نے کہا، ‘مجھے صرف اپنے سناتن بھائیوں اور پولیس انتطامیہ  کے تعاون کی ضرورت ہے۔’

عرفان نے بتایا کہ وہ پچھلے چار سال سےاس اسٹال پر کام کر رہے ہیں۔ اس اسٹال کے موجودہ مالک راہل نے یہ اسٹال ان کے بڑے بھائی سے کچھ سال پہلے خریدا تھا۔ اب وہ یہاں400 روپے روزانہ کےمحنتانہ  پر کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا، ‘حالانکہ انہوں نے (حملہ آوروں)میرے ساتھ مارپیٹ نہیں کی، صرف ڈوسا اسٹال میں توڑ پھوڑ کی۔ میں بہت ڈر گیا تھا۔ ہم نے اسٹال کا نام بدل کر امریکہ ڈوسا کارنر کر دیا ہے۔ ان لوگوں کو مجھ سے پریشانی  تھی کہ ایک مسلمان،  ہندو نام کے ڈوسا اسٹال پر کام کر رہا ہے۔دو لوگ اور ہیں، جو اس اسٹال پر کام کرتے ہیں، لیکن انہوں نے میری وجہ سے اسٹال میں توڑ پھوڑ کی۔ اس کی وجہ سے میری نوکری جا سکتی ہے۔’

عرفان کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ حملہ آوروں کو ان کے کیے کی سزا ملے، لیکن اس کے ساتھ ہی وہ امن  کا ماحول بھی چاہتے ہیں، تاکہ وہ ڈوسا اسٹال پرسکون  سے اپنام کام کر سکیں۔

وہیں دیوراج پنڈت کے فیس بک پیج پر راشٹریہ یووا ہندو واہنی کا بینر لگا ہے، جو مغربی  اتر پردیش میں ہندوتواسسٹم کا حصہ ہے۔ پنڈت کی فیس بک ٹائم لائن میں بی جے پی رہنما کپل مشرا کے معاون  مانےجانے والے ہندوتوارہنما یتی نرسنہانندسرسوتی کی تعریف و توصیف  کے پوسٹ بھی ہیں۔

معاملے میں نامعلوم  لوگوں کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ427(پچاس روپے سے زیادہ  کا نقصان کرنا)، 506 (مجرمانہ طور پر دھمکی) کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی۔

ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ عرفان متھرا کے صدر بازار میں رہتے ہیں اور وکاس مارکیٹ میں شری ناتھ ڈوسا کارنر اسٹال چلاتے ہیں۔ یہ اسٹال راہل ٹھاکر نام کے شخص کا ہے، جو عرفان کو روزانہ 400 روپے محنتانہ دیتا ہے۔

ایف آئی آر میں عرفان کی شکایت کا بھی ذکر کرکے کہا گیا، ‘18 اگست دوپہر لگ بھگ 2:30 بجے میں ڈوسا بیچ رہا تھا کہ تبھی کچھ نامعلوم  لوگ اسٹال پر آئے اور میرا نام پوچھا۔ جب میں نے انہیں اپنا نام بتایا تو انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ اسٹال کے بینر میں شری ناتھ نام کیوں ہے۔ انہوں نے مجھے دھمکاتے ہوئے اسٹال کا نام بدلنے کو کہا اور بینر پھاڑ دیا۔’

یہ پوچھنے پر کہ کیا پولیس نے اس پوسٹ کے مالک کو پہچان لیا ہے؟

اس پر سرکل آفیسر ورون کمار نے کہا کہ وہ فی الحال ملزمین  کا نام بتانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ اس معاملے میں گزشتہ 30 اگست کو شری کانت شرما نام کے ایک شخص کو گرفتار کیا گیا ہے۔

(اس رپورٹ کو انگریزی میں پڑھنے کے لیےیہاں کلک کریں۔)