جمعرات کو اندور میونسپل کارپوریشن کو سونپی گئی رپورٹ کے مطابق، شہر کے بھاگیرتھ پورہ علاقہ سے لیے گئے پانی کے نمونوں میں سےایک تہائی میں بیکٹیریل انفیکشن پایا گیا ہے۔ آلودہ پانی پینے کی وجہ سے تقریباً 2800 لوگ بیمار ہو چکے ہیں اور 272 کو ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ سرکاری طور پر مرنے والوں کی تعداد چار بتائی گئی ہے، لیکن مقامی خبروں اور لوگوں کا دعویٰ ہے کہ اب تک 14 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

جمعہ 2 جنوری 2026 کو اندور کے بھاگیرتھ پورہ میں آلودہ نل کے پانی کے بحران کے درمیان جمع لوگ ۔ (تصویر: پی ٹی آئی)
نئی دہلی: اندور میونسپل کارپوریشن کو جمعرات (1 جنوری) کو سونپی گئی رپورٹ کے مطابق، شہر کے بھاگیرتھ پورہ علاقے سے لیے گئے پانی کے نمونوں میں سےایک تہائی میں بیکٹیریل انفیکشن پایا گیا ہے۔
یہ جانچ مہاتما گاندھی میموریل (ایم جی ایم) میڈیکل کالج نے کی ہے۔
ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق، اندور کے چیف میڈیکل اینڈ ہیلتھ آفیسر (سی ایم ایچ او) ڈاکٹر مادھو پرساد حسانی نےبتایا کہ شہر کے ایک میڈیکل کالج کی طرف سے تیار کردہ رپورٹ میں پتہ چلا ہے کہ بھاگیرتھ پورہ سے لیے گئے پانی کے نمونے مین سپلائی پائپ لائن میں لیک ہونے کی وجہ سے آلودہ تھے۔ یہ علاقہ اس کے قہر کا مرکز بن گیا ہے ۔
ضلع کلکٹر شوم ورما نے کہا کہ ابتدائی لیبارٹری رپورٹوں میں پانی کے نمونے میں آلودگی کی تصدیق ہوئی ہے، حالانکہ حکام ابھی تک اس کے لیےذمہ دار مخصوص بیکٹیریا کی شناخت نہیں کر سکے ہیں۔
دریں اثنا، انتظامیہ نے واٹر سپلائی لائن کی صفائی اور مرمت کی تیاریاں شروع کر دی ہیں اورمؤخر نئی لائن پر بھی کام شروع کر دیا ہے۔
معلوم ہو کہ گزشتہ دس دنوں کے دوران پینے کے آلودہ پانی کی وجہ سے لگ بھگ 2800 افراد بیمار ہو چکے ہیں اور 272 کو ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ سرکاری طور پر مرنے والوں کی تعداد چار بتائی گئی ہے، لیکن مقامی رپورٹس اور لوگوں کا دعویٰ ہے کہ 14 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق، اندور کے میئر پشیامترا بھارگوا نے جمعہ (2 جنوری) کو بتایا کہ انہیں شہر کے بھاگیرتھ پورہ علاقے میں آلودہ پانی سے پھیلنے والے اسہال کی وجہ سے 10 لوگوں کی موت کی اطلاع ملی ہے۔
دی ہندو کے مطابق ، اندور کے ڈویژنل کمشنر سدام کھڑے نے بتایا کہ ایم جی ایم کالج کی رپورٹ میں پانی کے 26 نمونوں میں بیکٹیریل آلودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔ علاقے کے مختلف حصوں سے 70 سے زائد نمونے جمع کیے گئے تھے۔
نئی سپلائی لائن
کھڑے نے کہا، ‘پوری سپلائی لائن کو صاف کر دیا گیا ہے، لیک کی مرمت کر دی گئی ہے، اور آلودہ پانی کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔ علاقے میں کلورین کی گولیاں تقسیم کی گئی ہیں، اور لوگوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ پینے سے پہلے اپنا پانی ابال لیں۔’
انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اب او پی ڈی میں آنے والے مریضوں کی تعداد کم ہو رہی ہے۔
اخبار کے مطابق، اس علاقے میں پانی کی نئی لائن کا ٹینڈر اگست میں جاری کیا گیا تھا، لیکن چار ماہ سے کام تعطل کا شکار تھا۔ حکام نے اس لاپرواہی کو اس سانحے کی ایک بڑی وجہ قرار دیا۔
تاخیر پر جمعرات (1 جنوری) کو ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ میں تبادلہ خیال کیا گیا اور شہری ترقی کے وزیر کیلاش وجئے ورگیہ نے کہا کہ جمعہ (2 جنوری) تک ٹینڈر کو منظوری دے دی جائے گی اور کام شروع ہو جائے گا۔
انہوں نے کہا،’آج (جمعرات کو)، ہم نے ایک میٹنگ کی اور ٹینڈرز وغیرہ سے متعلق چھوٹی موٹی رکاوٹوں کو دور کیا۔ بھاگیرتھ پورہ علاقے کے لیے ٹینڈر کل تک صاف ہو جائے گا اور کام شروع ہو جائے گا۔’
میٹنگ میں ایڈیشنل چیف سکریٹری سنجے دوبے نے شہر کے مختلف مقامات سے پینے کے پانی کے نمونے جمع کرنے کی ہدایت دی، اور صورتحال سے بہتر طریقے سے نمٹنے اور مستقبل میں ایسے واقعات کو روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔ کھڑے نے بتایا،’اے سی ایس نے محکمہ صحت اور میونسپل کارپوریشن کے درمیان بہتر تال میل کی بھی ہدایت کی۔’
این ایچ آر سی کانوٹس
نئے سال کے پہلے دن قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آر سی) نے مدھیہ پردیش کے چیف سکریٹری انوراگ جین کو نوٹس جاری کیا اور دو ہفتےکے اندر تفصیلی رپورٹ طلب کی۔
میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے این ایچ آر سی نے اپنے نوٹس میں کہا،’اطلاعات کے مطابق، علاقے کے مکین کئی دنوں سے آلودہ پانی کی فراہمی کی شکایت کر رہے تھے، لیکن حکام نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ پینے کے پانی کی سپلائی کرنے والی مین پائپ لائن ایک عوامی بیت الخلا کے نیچے سے گزرتی ہے۔ پائپ لائن میں لیک ہونے کے نتیجے میں سیویج کا گندہ پانی پینے کے پانی میں مل گیا۔ اس کے علاوہ کئی سپلائی لائنیں ٹوٹی ہوئی بھی پائی گئیں ، جس کے نتیجے میں آلودہ پانی گھروں تک پہنچ رہا تھا۔’
چیف میڈیکل اینڈ ہیلتھ آفیسر کے ایک بیان کے مطابق، خطے میں اب تک 48,400 سے زائد افراد کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں، جن میں سے تقریباً 2,800 افراد میں علامات پائی گئی ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ’اب تک کل 272 مریضوں کو ہسپتالوں میں داخل کیا گیا ہے، جن میں سے 71 کو ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔ فی الحال، 201 مریض ہسپتال میں داخل ہیں، اور 32 آئی سی یومیں ہیں۔’