’چوکیدار‘ رگھوبر داس کے جھارکھنڈ میں 10000 چوکیداروں کو 4 مہینے سے نہیں ملی تنخواہ

02:27 PM Mar 23, 2019 | دی وائر اسٹاف

 ہرایک چوکیدار ایک تھانہ کے تحت 10 گاؤں کی نگرانی کرتا ہے۔ ہر چوکیدار کو 20000 روپے  تنخواہ ملتی ہے۔

(فوٹو بشکریہ : ٹوئٹر)

نئی دہلی: ایک طرف جہاں وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی ‘میں بھی چوکیدار’ مہم میں جٹی ہوئی ہے اور پارٹی رہنما اپنے ٹوئٹر پروفائل میں چوکیدار لفظ جوڑ رہے ہیں، وہیں دوسری طرف جھارکھنڈ حکومت کے 10000 اصل چوکیداروں کو تنخواہ نہ ملنے کی وجہ سے سنگین پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔دی ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق، پچھلے چار مہینوں سے 24 ضلعوں کے ان چوکیداروں کو ان کی تنخواہ کی ادائیگی نہیں کی گئی ہے۔ اس میں سے ہرایک چوکیدار ایک تھانہ کے تحت 10 گاؤں کی نگرانی کرتا ہے۔ ہر چوکیدار کو 20000 روپے  تنخواہ ملتی ہے۔

سال 1870 میں گرام چوکیدار قانون نافذ ہونے کے بعد چوکیدار برٹش کے وقت سے ہندوستان میں پولیس انتظامیہ کا حصہ رہے ہیں۔ یہ لوگ اپنے سینئر دفعداروں کو رپورٹ کرتے ہیں۔ جھارکھنڈ حکومت نے ان کے لئے ایک الگ کیڈر وقف کیا ہے۔10000 چوکیداروں کے علاوہ، تقریباً 200 دفعدار ہیں، جن کو ہر مہینے 22000 روپے ملتے ہیں۔

 یہاں تک کہ ان کو بھی چار مہینے سے تنخواہ نہیں دی گئی ہے۔ گزشتہ منگل کو 11.30 بجے سے ایک گھنٹے کے خاموش مظاہرہ کے تحت 20 چوکیدار راتوپولیس اسٹیشن پہنچے تھے۔بوکارو ضلع کے جھارکھنڈ ریاست دفعدار چوکیدار پنچایت کے صدر کرشن دیال سنگھ نے کہا کہ ریاست کے چوکیداروں کو چار مہینے سے ان کی تنخواہ نہیں ملی ہے، جبکہ پورا ملک میں بھی چوکیدار مہم کے بارے میں بات کر رہا ہے۔

سنگھ نے کہا، ‘ جب وزیر اعظم نریندر مودی نے خود کو چوکیدار کہا اور بعد میں، میں بھی چوکیدار مہم شروع کی، تو ہمیں فخر محسوس ہوا کہ کسی نے انتظامیہ کے اس نظرانداز طبقے کو پہچانا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہماری تنخواہ میں ہمیشہ دیری ہوتی ہے۔ ہم ہی ہمیشہ کیوں متاثر ہوں؟ میں جاننا چاہتا ہوں کہ کیا وزیراعلیٰ رگھوبر داس، چیف سکریٹری سدھیر ترپاٹھی اور دیگر تمام افسروں کی تنخواہ کبھی ایک دن کی تاخیرسے آئی ہے۔ ‘

انہوں نے کہا کہ چوکیدار اور دفعدار پولیس انتظامیہ کی ریڑھ تھے کیونکہ انہوں نے زمین پر خفیہ جانکاری جمع کی، غیرسماجی عناصر پر نظر رکھی اور پولیس کی جرم روکنے میں مدد کی۔ انہوں نے کہا، ‘ ہم ہمیشہ سے ہی خطروں کا سامنا کرتے آئے ہیں کیونکہ ہماری پہچان واضح ہے۔ ‘

رانچی کے ایک دیگر چوکیدار رام کشن گوپ نے کہا کہ ان کا کام اپنے علاقوں میں سرگرمیوں پر نظر رکھنا اور پولیس کو مطلع کرنے کے لئے زمین سے خفیہ رپورٹ اکٹھا کرنا تھا۔ حالانکہ ان کو اکثر سینئر افسروں کے گھروں میں اٹینڈینٹ کے طور پر کام کرنے کے لئے مجبور کیا جاتا تھا۔انھوں نے کہا،’آج کل احترام کی کمی ہے۔’