ہیلی لیونگ کو خاموش کرانے کی کوششیں باعث تشویش کیوں ہیں؟

میڈیا کا کام حکومت کی طے شدہ باتوں کو من وعن دہرانا نہیں، بلکہ سوال پوچھنا ہے۔ حکومت کی باتوں کا پروپیگنڈہ کرنا اس کے ترجمانوں کا کام ہے۔ اس معاملے میں ہیلی لیونگ حق بجانب ہیں کہ، ’صحافت بعض اوقات تصادم پر مبنی ہوتی ہے۔‘ اگر شہریوں کو بھیڑوں میں تبدیل نہیں ہونے دینا ہے یا ہمیشہ کے لیے خاموش نہیں کرنا ہے، تو سوال ضروری ہیں۔

میڈیا کا کام حکومت کی طے شدہ باتوں کو من وعن دہرانا نہیں، بلکہ سوال پوچھنا ہے۔ حکومت کی باتوں کا پروپیگنڈہ کرنا اس کے ترجمانوں کا کام ہے۔ اس معاملے میں ہیلی لیونگ حق بجانب ہیں کہ، ’صحافت بعض اوقات تصادم پر مبنی ہوتی ہے۔‘ اگر شہریوں کو بھیڑوں میں تبدیل نہیں ہونے دینا ہے یا ہمیشہ کے لیے خاموش نہیں کرنا ہے، تو سوال ضروری ہیں۔

ویڈیو اسکرین گریب: ایکس/ ہیلی لیونگ سوینڈس

سوالوں سے فرار اختیار کرنے کے رجحان میں مبتلا حکومت کے بارہ  سال مکمل ہونے کے بعد مسلسل ہندوستانی میڈیا کی آواز کو دبانے کا عمل اب ایک عام صورتحال  کی طرح ہے۔کبھی اعداد و شمار کی کھلی تردیدکی جاتی ہے،اور کبھی انہیں عوامی سطح پر دستیاب نہ کرکے سوالوں سےگریز کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس رجحان کی انتہا یہ ہے کہ وزیر اعظم نے اب تک کوئی پریس کانفرنس نہیں کی ہے-جو آزاد ہندوستان کی تاریخ میں ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔

لیکن کچھ لمحے ایسے بھی آتے ہیں، جب یہ صورتحال اچانک زیادہ  واضح طور پرسامنے آتی ہے اور اس ماحول کا بھرم ٹوٹتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ ایسا اکثر ان جمہوریتوں میں ہوتا ہے،جہاں پریس کوحدودکو چیلنج کرنے اور اقتدار سے مشکل سوال پوچھنے کی ہمت ہوتی ہے۔

ناروے کے اخبار دگساویسن کی کالم نگار اور صحافی ہیلی لیونگ نے وزیر اعظم نریندر مودی سے سوال پوچھنے کی کوشش کی۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مودی اور ان کے ساتھ موجود لوگوں نے ان کے سوال سنے، لیکن انہیں پوری طرح سے نظر انداز کر دیا۔

ایسے وزیر اعظم کے لیے، جو کم و بیش  13 سال سے اعلیٰ ترین منصب پر ہونے کے باوجود ایک بھی پریس کانفرنس نہیں کر سکے، لیونگ کے سوالوں کا جواب دینا تقریباًمحال تھا۔ یہ اس وقت ہے، جب انہیں ایک انتہائی مقبول رہنما کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور وہ ایسے رہنما سمجھے جاتے ہیں جو عوامی مینڈیٹ کی بنیاد پر اقتدار میں واپسی کرتے ہیں۔

لیونگ نے کہا کہ انہوں نے سوال اس لیے پوچھا کہ،’ناروے میں جب غیر ملکی رہنما آتے ہیں تو عام طور پر میڈیا کو سوال پوچھنے کا موقع دیا جاتا ہے۔ بہت زیادہ نہیں، لیکن کچھ سوال ضرور کیے جا سکتے ہیں۔ مودی کے معاملے میں آج ایسا نہیں ہوا اور کل بھی نہیں ہوگا۔ ‘

بعد میں ہندوستانی سفارت خانے نے سوشل میڈیا پر عوامی طور پر لیونگ کو سفارتی بریفنگ میں مدعو کیا۔ تاہم یہ وزیر اعظم کی پریس کانفرنس سے بالکل مختلف چیز تھی۔ لیونگ وہاں پہنچیں اور جب انہوں نے پوچھا کہ انسانی حقوق کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے ناروےہندوستان پر بھروسہ کیوں کرے، تو انہیں حیران کن جواب ملا کہ ہندوستان یوگا کی سرزمین ہے، اس نے کووڈ بحران سے خوبی کے ساتھ پارپایاہے اور وہ دنیا کو ویکسین اور ادویات برآمد کرتا ہے۔

اپنے طویل جواب میں سفارت کار نے لیونگ کے دوسرے سوال کا کوئی جواب نہیں دیا۔ ان کا دوسرا سوال تھا، ’ کیا مستقبل میں کبھی وزیر اعظم ہندوستانی میڈیا کے تنقیدی سوالوں کے جواب دینا شروع کریں گے؟‘

یہ کیوں اہم ہے؟

مودی کا ان عام جمہوری طریقوں اور عمل سے گریز  کرنا، مثلاً کسی دوسرے ملک کے سربراہ  مملکت کے ساتھ پریس سے بات کرنا، اب ہندوستان میں تقریباً معمول بن چکا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وزیر اعظم سے سوال پوچھنے کے مواقع تقریباً ختم ہو چکے ہیں۔ تصویریں اور عوامی تقریبات انتہائی احتیاط سے ترتیب دی جاتی ہیں، لیکن مکالمہ اور سوال و جواب غائب رہتے ہیں۔

لیونگ کے سوال کے جواب میں سفارت کار نے کہا تھا کہ ہندوستان نے جی-20 سربراہی اجلاس کی میزبانی کی تھی۔ لیکن یہاں بھی ستم ظریفی یہ ہے کہ جب اس وقت کے امریکی صدر جو بائیڈن مودی کے گھر آئے تھے، تو امریکی صحافیوں کو ایک معمول کا سوال و جواب سیشن، جسے’ پول اسپرے‘کہا جاتا ہے، کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔

یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہندوستان کا میڈیا ماحول ان جمہوری معیاروں سے کتنا مختلف ہوتا جا رہا ہے جن کاہندوستان خود دعویٰ کرتا ہے، خصوصی طور پر جب بیرون ملک اس کے نمائندے ملک کو ’زندہ جمہوریت‘ قرار دیتے ہیں۔

اگر صحافی سوال نہیں پوچھ سکیں گے تو آہستہ آہستہ معلومات تک رسائی، واقعات کو سمجھنے، اور خدشات و اعتراضات کو سامنے لانے کے راستے مسدود ہو جائیں گے۔

جمہوریت صرف ایک بار ووٹ ڈالنے اور پھر خاموش ہو جانے کا نام نہیں ہے۔ یہ ایک مسلسل چلنے والا عمل ہے جو کسی بھی حکومت کی مدت کار کے دوران برقرار رہتا ہے۔

صحافت کو ان سوالوں کو ملک کے اعلیٰ ترین عہدوں تک پہنچانے کا وسیلہ سمجھا جاتا ہے۔ یہی میڈیا کا رول ہے اور اسے اپنا کام کرنے کی اجازت ملنی چاہیے۔

سوال لینا (خواہ ان کے جواب نہ دیے جائیں) اس بات کو واضح کرے گا اور یقینی بنائے گا کہ اس قدر سینٹرلائزڈحکومت چلانے والے وزیراعظم جوابدہ بنے  رہیں۔

حال ہی میں بنگال کے انتخابات تک انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ لوگوں کا ووٹ براہ راست ان کے لیے تھا۔ اقتدار کے لطف کے ساتھ بڑی ذمہ داری بھی وابستہ ہوتی ہیں – اسپائیڈر مین کے مشہور قول کو یاد کریں۔ وزیراعظم کو سوالوں سے جو بے چینی  محسوس ہوتی ہے، وہ اس لیے بھی ہے  کہ یہ ان کے خودکو ’نان بایولوجیکل‘ کہنے یا اپنے منصب کو کسی غیر مرئی قوت سے جوڑنے والے بیانیے سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ سوال موجودہ اور حقیقی حالات سے جڑے ہوتے ہیں۔ ان سے گریز یا عدم دستیابی، خود کو بحث اور جوابدہی سے بالاتر سمجھنے کے مترادف ہے۔

جمہوری اداروں کے سامنے جوابدہی کے بغیر کوئی نظام کیسا ہوگا؟ انتظامیہ براہ راست پارلیامنٹ کے سامنے جوابدہ ہوتی ہے، لیکن ایک صحت مند جمہوریت میں اسے کئی آزاد اداروں کے سامنے بھی جوابدہ ہونا پڑتا ہے-جن میں میڈیا بھی شامل ہے، جس کا کام سوال پوچھنا اور جواب طلب کرنا ہے۔ اگر یہ حق چھین لیا جائے تو اس کا مطلب انتظامیہ کو بغیر کسی روک ٹوک کے کام کرنے کی آزادی دینا ہوگا۔

میڈیا کا کام حکومت کی طے شدہ باتوں کومن و عن دہرانا نہیں بلکہ سوال پوچھنا ہے۔ حکومت کی باتوں کا پروپیگنڈا کرنا اس کے ترجمانوں کا کام ہے۔ اس معاملے میں ہیلی لیونگ حق بجانب ہیں کہ،’صحافت بعض اوقات تصادم پر مبنی ہوتی ہے۔ ہم جواب تلاش کرتے ہیں۔ اگر کوئی شخص، خاص طور پر اقتدار میں بیٹھا شخص، میرے سوال کا جواب نہیں دیتا تو میں اسے روک کر زیادہ واضح اور ٹھوس جواب لینے کی کوشش کروں گی۔ یہی میرا کام اور ذمہ داری ہے۔ مجھے جواب چاہیے، صرف طے شدہ بیانات نہیں۔‘

اگر میڈیا صرف پروپیگنڈے کا وسیلہ بن جائے تو شہری اپنے فیصلے کیسے کریں گے؟ اگر شہریوں کو بھیڑوں میں تبدیل نہیں کرنا یا ہمیشہ کے لیے خاموش نہیں کرنا تو سوال ضروری ہیں۔ وزیراعظم اور حکومتوں کو سوالوں کا سامنا کرنا چاہیے۔ اس میں ہماری حکومت بھی شامل ہے۔

آخر میں، جس طرح حکومت کے حامیوں اور ان لوگوں کی طرف سے جو بغیر پریس کانفرنس والی طرز حکمرانی کی حمایت کرتے ہیں، ہیلی لیونگ کو ذاتی طور پر ٹرول کیا جا رہا ہے، وہ گویا اسی بات کا عین ثبوت ہے۔ 2023 میں بھی ایسا ہوا تھا جب ایک امریکی خاتون صحافی نے مودی سے اقلیتوں کے بارے میں ان کی حکومت کے رویے پر سوال کیا تھا۔ اس کے بعد ہندوستان کے بدنام زمانہ، فحش اور غیر مہذب ٹرولز نے ان کے خلاف حملے شروع کر دیے تھے، اور صورتحال یہاں تک پہنچی کہ وہائٹ ہاؤس کو ان کے دفاع میں سامنے آنا پڑا۔ صرف یہی واقعہ ہندوستان کے عوامی ڈسکورس کے سنگین مسائل کو ظاہر کرنے کے لیے کافی تھا۔

یہاں ٹرول صرف ٹرول نہیں ہیں بلکہ ان میں سے کئی کو ملک کے بڑے رہنماؤں کی سرپرستی اور حمایت بھی حاصل ہے، اور ان کے خیالات کئی منتخب نمائندوں کی سوچ سے ہم آہنگ ہیں۔ یہی اصل مسئلہ ہے۔

صورتحال کو مزید سنگین بنانے والی بات یہ ہے کہ ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میں ناروے پہلے نمبر پر ہے جبکہ ہندوستان 180 ممالک میں 157ویں نمبر پر ہے۔

انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔