اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے نماز کے مسئلے کو انتظامی زبان میں پیش کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ’سڑکیں لوگوں کے لیے ہیں‘ اور ’قانون کی حکمرانی‘ جیسے لفظ استعمال کیے۔ لیکن بار بار صرف نماز ہی کا ذکر کیا گیا۔ کسی اور عوامی تجاوزات یا مذہبی اجتماعات – مثلاً کانوڑ یاترا – کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا، حالانکہ ان کا وسیع دائرہ اور فرقہ وارانہ رجحان بارہا خبروں کی سرخیوں میں رہا ہے۔
یوگی آدتیہ ناتھ۔ (تصویر: پی ٹی آئی)
نئی دہلی: اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے سوموار (18 مئی) کو اپنے ایکس اکاؤنٹ پر تقریباً دو منٹ کا ایک ویڈیو کلپ شیئر کیا۔ اس ویڈیو میں انہوں نے عوامی مقامات پر نماز ادا کرنے کا ذکر کیا، لیکن ایک بار بھی لفظ’مسلمان‘ کااستعمال نہیں کیا۔
آدتیہ ناتھ نے اس پوسٹ کے ساتھ لکھا،’نماز پڑھنی ہے،آپ شفٹ میں پڑھیے… پیار سے مانیں گے تو ٹھیک ہے،نہیں مانیں گے تو دوسرا طریقہ اپنائیں گے…‘
ان کے ایکس اکاؤنٹ پر 3.2 کروڑ سے زیادہ فالوورز ہیں۔ اب تک اس پوسٹ کو 3.8 لاکھ سے زیادہ مرتبہ شیئر کیا جا چکا ہے، تاہم یہ کہنا مشکل ہے کہ اسے زیادہ شیئر کرنے والے ناقدین ہیں یا ان کے حامی۔
یہاں ان کے بیان اور اس کےپیغام پر
ایک نظر ڈالتے ہیں، جسے سامعین نے نظرانداز نہیں کیا- جب بھی انہوں نے ہندوتوا یا قوم پرستی سے متعلق موضوعات کا ذکر کیا، تالیوں کا شور بلند ہوا۔
’لا اینڈ آرڈر‘ کی زبان میں مسلمانوں کو نشانہ بنانا
آدتیہ ناتھ نے نماز کے مسئلے کو غیر جانبدار انتظامی زبان میں پیش کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے ’سڑکیں لوگوں کے لیے ہیں‘اور’قانون کی حکمرانی‘جیسے لفظ استعمال کیے۔ لیکن پوری تقریر میں بار بار صرف نماز ہی کا ذکر کیا گیا۔ کسی اورعوامی تجاوزات یا مذہبی اجتماعات،مثلاً کانوڑ یاترا، کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا، حالانکہ ان کے وسیع دائرے اور فرقہ وارانہ رجحانات بارہا خبروں کی سرخیوں میں رہے ہیں۔
انہوں نے کہا،’ لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں،کیا آپ کے یوپی میں واقعی سڑکوں پر نماز نہیں ہوتی؟ اور میں ان سے کہتا ہوں، قطعی نہیں ہوتی ہے۔ آپ خود جا کر دیکھ لو۔ ‘
اس بات پر سامعین تالیاں بجاتے ہیں اور نماز بند کروا دیے جانے کے ان کے دعوے پر پورےجوش کے ساتھ ردعمل دیتے ہیں۔
پھر آدتیہ ناتھ بلند آواز میں کہتے ہیں،’ارے، انہیں (مسلمانوں کو) سڑک روکنے کا کیا حق ہے؟ کس حق سے کوئی بھی آنے جانے کا راستہ روک سکتا ہے؟ اس کے لیے جو جگہ مقرر ہے، (مسلمانوں کو) وہیں جا کر یہ کرنا چاہیے۔‘
انہوں نے مزید کہا،’ان لوگوں (مسلمانوں) نے مجھ سے کہا،یہ کیسے ممکن ہوگا، ہماری تعداد زیادہ ہے۔ ہم نے کہا شفٹ میں کر لو۔ اگر تمہارے گھر میں رہنے کی جگہ نہیں ہے تو اپنی تعداد کو کنٹرول کرو۔ ‘
اس بات پر پھر تالیاں بجتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ سامعین اس کے پیچھے چھپے فرقہ وارانہ مطلب کو سمجھ گئے تھے – یعنی مسلمانوں کو’مسئلہ پیدا کرنے والی آبادی‘کے طور پر پیش کرنا۔ جب مسلمانوں کی آبادی کا ذکر آیا تو تالیاں اور بھی زور سے بجیں، جو واضح کرتا ہے کہ لوگ سڑک پر نماز کے مسئلے کو صرف شہری سہولت کا معاملہ نہیں سمجھ رہے تھے۔
آبادی پر قابو اور فرقہ وارانہ اشارے
ہندوتوا سیاست میں ایک طویل عرصے سے یہ تاثر دیا جاتا رہا ہے کہ مسلمان ملک کے آبادیاتی توازن کے لیے خطرہ ہیں۔ اسی لیے جب آدتیہ ناتھ نے کہا،’اگر تمہارے گھر میں جگہ نہیں ہے تو اپنی تعداد کو کنٹرول کرو۔‘تو انہوں نے ایک عام شہری مسئلے کو اس تصور سے جوڑ دیا کہ مسلمانوں کا ہندوستان سے تعلق شک کے دائرے میں ہے- اور یہ سب کچھ’مسلمان‘لفظ کااستعمال کیے بغیر کیا گیا۔
انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ مصروف سڑکوں پر یا تہواروں کے دوران ہجوم کو قابو میں رکھنے کے لیے ان کی حکومت کون سے انتظامی اقدامات یا منصوبے بنا رہی ہے۔ اور نہ ہی انہوں نے
نجی طور پر – یہاں تک کہ گھروں میں بھی- نماز ادا کرنے میں پیش آنے والی رکاوٹوں کا ذکر کیا۔
ایک بار پھر تالیاں بج اٹھیں، گویا لوگ فوراً ہی اس کے پیچھے چھپے فرقہ وارانہ مفہوم کو سمجھ گئے ہوں کہ وزیر اعلیٰ آبادیاتی سائنس کی بات نہیں کر رہے، بلکہ ایک خاص برادری کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
شہریت سے ’مشروط قبولیت‘ تک
ملک کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست کے وزیر اعلیٰ، جہاں تقریباً 20 فیصد آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے، نے کہا،’اگر آپ کو سسٹم کے اندر رہنا ہے… تو قاعدہ -قانون کو ماننا شروع کریں۔‘
انہوں نے مزید کہا،’اگر نماز ادا کرنا ضروری ہے، تو آپ شفٹ میں پڑھیے، ہم اسے روکیں گے نہیں، لیکن سڑک پر نہیں۔ سڑک عام لوگوں کے لیے ہے، بیماروں کے لیے ہے (تاکہ وہ اسپتال پہنچ سکیں)، مزدوروں، کاریگروں اور تاجروں کے لیے ہے، اور ہم سڑک کو بند نہیں ہونے دیں گے۔ حکومت کا قانون آفاقی ہے، سب پر یکساں طور پر لاگو ہوتا ہے۔‘
’سسٹم کے اندر رہنے’ والی ان کی بات کا مطلب یہاں یہ تھا کہ شہریوں کا ایک طبقہ- یعنی وہ مسلمان جو مبینہ طور پر سڑکوں پر نماز پڑھتے ہیں اور جنہیں ٹریفک اور معاشی سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈالنے والا بتایا جاتا ہے – انہیں مسلسل اپنی فرماں برداری اور وفاداری ثابت کرنی ہوگی۔
انہوں نے ’تماشا‘،’بدنظمی ‘اور’سڑک جام‘جیسے لفظ استعمال کرکے مسلمانوں کے مذہبی اعمال کو سماجی اور معاشی زندگی کے لیے فطری طور پر رکاوٹ پیدا کرنے والا قرار دیا۔ انہوں نے نماز کا موازنہ’مزدوروں، کاریگروں اور تاجروں‘سے کیا، گویا مسلمان مہذب شہری کی تعریف میں نہیں آتے۔
دھمکی یا حکمرانی؟
آدتیہ ناتھ نے کہا،’اگر وہ پیار سے مان جائیں، تو ٹھیک ہے، ورنہ ہم دوسرا طریقہ اختیار کریں گے۔‘
انہوں نے اس تنبیہ کو بریلی کی مثال سے جوڑتے ہوئے کہا کہ وہاں’انہوں نے ہماری طاقت دیکھ لی۔‘یہاں انہوں نے کھلے عام ہندوؤں کو ’ہم‘ اور مسلمانوں کو ’دوسرے‘ یعنی بیرونی افراد کے طور پر پیش کیا۔
غور طلب ہے کہ گزشتہ سال دسمبر میں بریلی میں’آئی لو محمد‘ تنازعہ سے متعلق احتجاجی مظاہرے پرتشدد ہو جانے کے بعد کئی مسلمانوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔ اسی مہینے اسی شہر میں ایک ریستوراں میں سالگرہ کی تقریب بھی اس لیے روک دی گئی تھی کہ چھ مہمانوں میں دو مسلم نوجوان شامل تھے۔
وزیر اعلیٰ کی جانب سے’طاقت‘کا ذکر کرتے ہی ایک بار پھر تالیاں گونج اٹھیں۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو وزیر اعلیٰ کے بیان کو صرف ٹریفک یا ہجوم کے انتظام کا مسئلہ سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے۔
ستم ظریفی
ان سب کے درمیان ستم ظریفی یہ ہے کہ ایک طرف وزیر اعلیٰ نظم و ضبط، سسٹم اور بعض شہریوں کو اپنی حد میں رہنے کی بات کرتے ہیں، جبکہ دوسری طرف اسی دن اتر پردیش کے دارالحکومت لکھنؤ میں اساتذہ گھٹنوں کے بل رینگتے ہوئے احتجاج کر رہے تھے۔
خبروں کے مطابق، اساتذہ نے احتجاج کا یہ طریقہ — اپنی مانگوں کے سلسلے میں ریاست کے وزیر تعلیم کی رہائش گاہ تک رینگتے ہوئے جانا — اس لیے اختیار کیا کیونکہ حکومت ان کے ساتھ ’کیڑے مکوڑوں جیسا‘سلوک کرتی ہے۔ ریاست میں تقریباً 70,000 اساتذہ اس وقت تقرری کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ان کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے۔