فرقہ وارانہ منافرت سے تباہ حال ملک میں دیپک کی جرأت خوش خبری کی طرح ہے

11:17 AM Feb 10, 2026 | کرشن پرتاپ سنگھ

آئینی ادارے نفرت سے مقابلہ نہیں کر رہے، محض دکھاوے کی کارروائی کرتے ہیں یا اکثر نفرت کرنے والی بھیڑ کے ساتھ کھڑے رہ جاتے ہیں۔ اس بھیڑ کے سامنے معاشرے کی خاموشی بتاتی ہے کہ یہ معاشرہ بھی اس تشدد میں ملوث ہے۔ دیپک نے اس خاموشی کو توڑ دیا ہے۔

امتیازی سلوک کے لیے مذہبی شناخت پر حد درجہ اصرار کے برعکس یہ باور کرانے کی اشد ضرورت ہے کہ انسانیت کسی ایک شناخت کی محتاج نہیں ہوتی۔ (تصویر: ارینجمنٹ/السٹریشن: پری پلب چکرورتی/دی وائر)

’نام کیا ہےتمہارا ؟‘

’ آزاد ‘

’ والد کا نام؟ ‘

’آزادی‘

’ کرتےکیا ہو؟‘

’مادر وطن  کو آزاد کرانے کی جدوجہد۔‘

’اور رہتے کہاں ہو؟ ‘

’ جیل میں۔‘

مہاتما گاندھی کے 1921 میں عدم تعاون کی تحریک کے اعلان کے بعد پولیس نے 15 سالہ چندر شیکھر تیواری  (جو بعد میں انقلابیوں کی ہندوستان سوشلسٹ ریپبلکن ایسوسی ایشن کے کمانڈر ان چیف بنے، چندر شیکھر آزاد کے نام سے مشہور ہوئے اور زندہ رہتے انگریزوں کے ہاتھ نہ لگنے کے اپنے عہد کو نبھاتے ہوئے27 فروری، 1931 کو الہ آباد کےالفریڈ پارک میں شہیدہو گئے۔) کو اس میں حصہ لینے کے ‘جرم’  میں گرفتار کرنے کے بعد مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا، تو سوال و جواب کے اس سلسلے کے بعدمجسٹریٹ نے انہیں پندرہ بید لگانے کے بعد چھوڑنے کی  سزا سنائی ۔

‘وندے ماترم’ کا نعرہ لگاتے اور ‘مہاتما گاندھی کی جئے بولتے ہوئے وہ یہ سزا بھگت کر نکلے تو ملک کو لگا کہ انہوں نے آزاد ہونے کی اہلیت کا امتحان پاس کر لیا ہے۔

یہاں اس واقعہ سے بات شروع کرنے کا ایک خاص مقصد ہے-  جو اتراکھنڈ  کے کوٹ دوارمیں بجرنگ دل کے خود ساختہ ‘سورماؤں’ کے ذریعے وکیل احمد نامی مسلمان ٹیکسٹائل تاجر کو اس کی دکان کے نام پر ہراساں کرنے کے معاملے سے متعلق ہے۔ جب یہ ‘سورما’ اپنے نام نہاد مذہبی عقائد کے نام پر اسے ڈرا-دھمکا کر اپنی دکان کا نام تبدیل کرنے پر مجبور کر رہے تھے، تب وہیں ایک جم چلانے والے نوجوان دیپک کمار کشیپ نے موقع  پر پہنچ کر معاملے میں مداخلت کی اور ‘سورماؤں’کو روک دیا۔

جیسا کہ بالکل فطری تھا، اس سے ناراض ‘سورماؤں’ تم کون ہو،دال-بھات میں مسور چند ؟’  کے اندازمیں ان کا نام ہوچھا تو انہوں نے بتایا، ‘محمد دیپک’۔

بتانے کا انداز کچھ ایسا تھا کہ اگر تمہارا سوال اس تنگ نظری پر مبنی ہے کہ میں ہندو ہونے کے بعد بھی مسلمان وکیل احمد کی طرف سے یا اس کے حق میں کیوں بول رہا ہوں، تو لو ،میں اس تقسیم کو ختم کر کے ‘محمد دیپک’ بن جاتا ہوں۔

بعد میں سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو میں دیپک نے یہ کہتے ہوئے کہ ’سب سے پہلے میں انسان ہوں،‘یہ سوال بھی پوچھاکہ ہم انسان ایک دوسرے کو دشمن سمجھیں گے تو ملک ترقی کیسے کرے گا؟ پولیس نے  ان کو اس کا صلہ ان کے خلاف سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے دیا  تو بھی وہ نہ پریشان ہوئے اور نہ ہی ڈرے۔

یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ ہم چندر شیکھر آزاد اور دیپک کا موازنہ نہیں کر رہے ہیں۔ ان کے درمیان موازنےکا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ آزاد کے ذکر کا مقصد صرف اس بات پر زور دینا ہے کہ دیپک نے (جیسا کہ انہوں نے بی بی سی ہندی کو ایک انٹرویو میں کہا) اس لمحے کی ضرورت کے حساب سے اپنے نام کا جیسا استعمال کیا، اس ملک میں اس کی ایک دیرینہ روایت ہے۔

شیکسپیئر نےکبھی لکھا ہوگا کہ نام میں کیا رکھاہے، ہمارے ہیرو ناانصافی اور جبر کے خلاف اپنی جدوجہد میں اپنے ناموں کا استعمال  کرکے یا ان میں ہیر پھیر کرکے یکجہتی اوراتحاد کا عظیم پیغام دیتے رہے ہیں۔

مذہبی اور فرقہ وارانہ منافرت

یہ یقینی طور پر اسی روایت کا نتیجہ ہے کہ مذہبی اور فرقہ وارانہ منافرت کے ’کھلاڑیوں‘کوجھیلتے-جھیلتے بے حال ہوچکے اس  ملک نے اس معاملے میں دیپک کی مداخلت کو بہت بڑی خوش خبری  کے طور پر لیا۔ گویا یہ کہناچاہتا ہو کہ بہت ہوا ، اب پانی سروں سے اوپر ہو چلاہےاور چونکہ اس میں چپ چاپ ڈوبنا ہمیں گوارہ نہیں،اس لیے مقابلے میں اترنا ہوگا۔’

اس سلسلےمیں، شیلا نیگی (نینی تال میں مالیٹل چیمبر آف کامرس کے اس وقت کے صدر کی بیٹی، جو پچھلے سال ایک نابالغ کے ساتھ مبینہ عصمت دری  کے واقعہ کو فرقہ وارانہ بنا رہے تشدد پرآمادہ  ہجوم کے سامنے کھڑی ہوگئی تھیں) کو یاد کرتے ہوئے سینئر صحافی رویش کمار بجا طور پر کہتے ہیں کہ دیپک نے نفرت کرنے والی بھیڑ کے سامنے کھڑے ہو کر (اس مقابلے کا) ایک راستہ دکھایا ہے۔  (کیونکہ اس سے پہلےتو ہم یہی دیکھتے آرہے تھے کہ بھیڑ کسی بھی  بے قصور کو دوسرے مذہب کا ہونے کی وجہ سے بے خوف ہو کر پیٹ ڈالتی تھی اور کوئی اسے بچانے نہیں آتا تھا۔)

بقول رویش کمار؛ سیاست نے جس چالاکی سے نفرت کو عوام کے درمیان بانٹ دیا ہے اور جس کے اثرسے عوام ہجوم میں تبدیل ہو کر اپنے آپ سڑکوں پر ہنگامہ برپا کر رہے ہیں، اس کے پیش نظر یہ ضروری ہے کہ اسی عوام  کے درمیان  سے نفرت کا جواب تیار ہو۔

یہ اس لیے اور ضروری ہےکہ آئینی ادارے نفرت کا مقابلہ نہیں کر رہے ہیں۔ وہ دکھاوے کی کارروائی کرتے ہیں یا اکثر نفرت کرنے والے ہجوم کے ساتھ کھڑے رہ جاتے ہیں۔ اس ہجوم کے سامنے معاشرے کی خاموشی بتاتی ہے کہ یہ معاشرہ بھی اس تشدد میں ملوث ہے۔ دیپک نے اس خاموشی کو توڑ دیا ہے۔

ہندوستان کا ہیرو

لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے دیپک کو ‘ہندوستان کا ہیرو’ قرار دیتے ہوئے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا ہے کہ ‘دیپک آئین اور انسانیت کے لیے لڑ رہے ہیں – اس آئین  کے لیے جسے بی جے پی اور سنگھ پریوار روزانہ پامال کرنے کی سازشیں کر رہے ہیں۔ وہ نفرت کے بازار میں محبت کی دکان کی زندہ علامت ہیں اور یہی بات اقتدار کو سب سے زیادہ ناگوار لگتی ہے۔’ انہوں نے ‘ڈرو مت’کہہ کر بھی دیپک کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

دوسری طرف راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملیکارجن کھڑگے اور ان کی پارٹی کے رکن پارلیامنٹ عمران پرتاپ گڑھی نے راجیہ سبھا میں صدر کے خطاب پر بحث کے دوران اپنی تقریروں میں دیپک کا تذکرہ ایک ایسے نڈر نوجوان کے طور پر کیا، جس نے سماج میں محبت کی روشنی پھیلائی اور نفرت پھیلانے والوں کے سامنے خیر سگالی کی ڈھال بنا۔

اسی سلسلے میں آل انڈیا مسلم اتحاد المسلمین کے رہنما اسد الدین اویسی نے دیپک کو سچا ہندوستانی قرار دیا اور کہا کہ وہ اس بہادر نوجوان کو سلام پیش کرتے ہیں، جس نے 70 سالہ وکیل احمد کا ساتھ دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہی وہ ہندوستان ہے، جسے آئین نے بنایا  ہےاور جسے کچھ لوگ تباہ کرنا چاہتے ہیں۔

اتر پردیش کے نگینہ لوک سبھا حلقہ سے رکن پارلیامنٹ اور بھیم آرمی کے سربراہ چندر شیکھر آزاد ‘راون’ نے تودیپک کے خلاف احتجاج کرنے والے بجرنگ دل کے اراکین کو یہ اشارہ  بھی دیا ہے کہ اگر دیپک کو کھروچ بھی آئی، تو ان کی آرمی سخت جواب دے گی۔ ان کے حامیوں نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ دیپک اب تنہا نہیں ہیں اور وہ ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔

لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ ان سطور کے لکھنے تک بھارتیہ جنتا پارٹی (جو مرکز اور اتراکھنڈ دونوں میں اقتدار میں ہے) نے دیپک کے لیے حوصلہ افزائی کے چند الفاظ بھی کہنے کی زحمت نہیں کی ہے۔ اتراکھنڈ پولیس نے توان کے خلاف مقدمہ درج کرکے ہی ان کا ‘استقبال’ کیا ہے۔

انسانیت کسی ایک پہچان کی محتاج نہیں

جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا ہے، دیپک کا کہنا ہے کہ انہوں نے کسی حکمت عملی کے تحت نہیں بلکہ اس لمحے کی ضرورت (یا نزاکت) کے لحاظ سے اپنا نام دیپک کمار کے بجائے محمد دیپک بتایا۔ تاکہ وہاں امتیازی سلوک  کرنے کے کے لیے  مذہبی شناخت پر زور دیے جانے کے برعکس یہ بتاسکیں کہ انسانیت کسی ایک پہچان کی محتاج نہیں ہوتی۔

بھلے ہی انہوں نے حکمت عملی کے بجائے اس لمحےکی نزاکت کے لحاظ سےاپنے آپ کو محمد دیپک بتایا ہو، اب وہ اس روایت کا حصہ یا کارندہ بن چکے ہیں، جس کے تحت جدوجہد آزادی کے دوران ہمارے ہیروز نے ہم پر طرح طرح کی ناانصافی اور ظلم ڈھا نے والے انگریزوں کے خلاف اظہار یکجہتی کے لیے اپنے ناموں کے ساتھ ایسے’تجربات’ کیے  اور اس طرح کیے کہ دشمن سے کچھ کہتے یا کرتے نہیں بنا۔

یاد کیجیے کہ شاعر انقلاب جوش ملیح آبادی نے بڑے فخر سے کہا تھا؛

کام ہے میرا تغیر نام ہے میرا شباب

 میرا نعرہ انقلاب و انقلاب و انقلاب

یہاں جوش جس جوانی کی بات کرتے ہیں، دیپک بلاشبہ اسی کی نمائندگی کرتے ہیں ۔

اور ہاں، یہ روایت چندر شیکھر آزاد، جوش یا دیپک تک محدود نہیں ہے۔ پچھلی صدی کی چوتھی اور پانچویں دہائی میں اتر پردیش کے بستی ضلع میں کسانوں کی طرف سے اپنی زمین کی ملکیت حاصل کرنے کے لیے شروع کی گئی ‘نزائی بول تحریک’ کے دوران بھی  ایک کسان رہنما نے یکجہتی ظاہر کرنے کے لیےاپنا نام  رام محمد سنگھ رکھ لیا تھا ۔

تحریک شروع ہونے کے چند سال بعد رام محمد اچانک رام محمد سنگھ کی صورت میں دم دار سیارے کی طرح سرگرم ہوئے اور پہلی بار اکتوبر 1944 میں اس وقت بڑے پیمانے پر توجہ کا مرکز بنے، جب ان کے پیروکار، تقریباً 500 مسلح کسان جنگجوؤں نے تقریباً 1500 عام کسان مردوں، عورتوں اور بچوں کے ساتھ ایک استحصالی زمیندار کی حویلی کو گھیر لیا تھا۔

واقف کاروں کے مطابق، رام محمد سنگھ پہلے نیتا جی سبھاش چندر بوس کی آزاد ہند فوج میں سپاہی تھے اور برما (موجودہ میانمار) میں اس کے جھنڈے تلے کئی جنگیں لڑ چکے تھے۔ ملک واپس لوٹے تو بستی میں کسانوں کی تحریک میں سرگرم ہو گئے اور انہوں نے  وہاں کسانوں کی ایک انقلابی پارٹی بھی بنا لی تھی۔

جب انہوں نے مشاہدہ کیا  کہ مذہبی اور فرقہ وارانہ تقسیم کسانوں کے اتحاد میں رکاوٹ بن رہی ہے، تو انہوں نے ان اختلافات کو ختم کرنے کے لیے اپنے نام میں ہندو بھگوان رام کے ساتھ پیغمبراسلام  محمد کا نام بھی جوڑ لیا۔ اس سے انہیں ان اختلافات کو ختم کرنے میں بھرپور مدد ملی اور وہ تقریباً پانچ سو گاؤں میں کسانوں کی ایک مضبوط تنظیم بنانے میں کامیاب ہو ئے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کی انقلابی پارٹی کا دفتر ایک مندر سے چلتا تھا۔ لیکن بعد میں رام محمد سنگھ کے ساتھ کیا ہوا، ٹھیک سے کچھ پتہ نہیں چلتا۔ کہا جاتا ہے کہ کسانوں کی کارروائیوں کے ایک سلسلے کے بعد (جس میں دونوں طرف سے جانوں کا نقصان بھی شامل ہے)، پولیس اچانک حملہ آور ہو گئی۔ ان سے بچنے کے لیے، رام محمد سنگھ انڈر گراؤنڈ ہوگے اور پھر کبھی عوامی طور پر نہیں دیکھے گئے۔

آخر میں دیپک کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے میں اپنے شہر کے شاعر آنجہانی کنور نارائن کے لفظوں میں یہ کہنے سے باز نہیں آ سکتاکہ؛

کوئی دکھ

منشیہ کے ساہس سے  بڑا نہیں

وہی ہارا

جو لڑا نہیں

(کرشن پرتاپ سنگھ سینئر صحافی ہیں۔)