اتر پردیش ایس آئی آر: حتمی اعداد و شمار جاری، رائے دہندگان کی تعداد میں اضافہ

اتر پردیش کے چیف الیکشن کمشنر نے ریاست میں ایس آئی آر کی مہم شروع ہونے کے پانچ ماہ سے زیادہ کے بعد حتمی اعداد و شمار جاری کیے، جن میں رائے دہندگان  کی تعداد میں  84 لاکھ سے زیادہ کا اضافہ درج کیا گیا ہے۔ ریاست میں اگلے سال اسمبلی انتخابات ہوں گے۔

اتر پردیش کے چیف الیکشن کمشنر نے ریاست میں ایس آئی آر کی مہم شروع ہونے کے پانچ ماہ سے زیادہ کے بعد حتمی اعداد و شمار جاری کیے، جن میں رائے دہندگان  کی تعداد میں  84 لاکھ سے زیادہ کا اضافہ درج کیا گیا ہے۔ ریاست میں اگلے سال اسمبلی انتخابات ہوں گے۔

پریاگ راج میں فروری کے مہینے میں ایس آئی آر کے تحت ووٹر لسٹ کی سماعت کے دوران لوگ اپنے دستاویزوں کی تصدیق کرواتے ہوئے۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

نئی دہلی: اتر پردیش میں اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) کی مہم شروع ہونے کے پانچ ماہ سے زیادہ کے بعد، ریاست کے چیف الیکٹورل آفیسر نے 10 اپریل (جمعہ) کو حتمی اعداد و شمار جاری کیے، جن میں رائے دہندگان کی تعداد میں  84 لاکھ سے زیادہ  کا اضافہ درج کیا گیا ہے۔

حالاں کہ، نظرثانی کا یہ عمل سیاسی الزام تراشیوں اور شفافیت سے متعلق اٹھنے والے سوالوں کے درمیان  مکمل ہوا، تاہم حکام مسلسل یہ کہتے رہے کہ تمام ناموں کو ہٹانے کی کارروائی طے شدہ عمل کے مطابق کی گئی ہے۔

قابل ذکر  ہے کہ10 اپریل 2026 کو لکھنؤ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اتر پردیش کے چیف الیکٹورل آفیسر نو دیپ رنوا نے صحافیوں کو بتایا، ’پہلا مرحلہ 4 نومبر 2025 کو شروع ہوا تھا اور اسے گنتی کا مرحلہ کہا گیا۔ ہر ووٹر کو ایک فارم دیا گیا تھا اور یہ مرحلہ 26 دسمبر 2025 کو مکمل ہوا۔‘

اتر پردیش ان 12 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں شامل تھا، جہاں گزشتہ سال چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے بہار میں کیے گئے اسی طرح کے عمل پر سیاسی مخالفت کے درمیان ایس آئی آر کے دوسرے  مرحلہ اعلان کیا تھا۔

ترمیم شدہ ووٹر لسٹ جاری ہونے پر ردعمل دیتے ہوئے سماجوادی پارٹی کے ترجمان عباس حیدر نے دی وائر سے بات کرتے ہوئے کہا،’کچھ خامیاں ہیں۔ ہمیں کچھ شکایات بھی موصول ہو رہی ہیں اور ہم ابھی فہرست کا جائزہ لے رہے ہیں۔‘

سماجوادی پارٹی کے الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے اتر پردیش بی جے پی کے ترجمان منیش شکلا نے کہا،’ووٹر لسٹ کی نظرثانی الیکشن کمیشن کی جانب سے ایک مشن کے طور پر مسلسل جاری رہنے والا عمل ہے۔ صرف انہی لوگوں کے نام ہٹائے گئے ہیں جو منتقل ہو چکے ہیں، اب زندہ نہیں ہیں یا جن کے نام دہرائے گئے تھے۔‘

انہوں نے مزید کہا،’اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے جانے والے سوال یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اکھلیش یادو کو اتر پردیش کے صحیح ووٹروں پر بھروسہ نہیں ہے۔ جب بھی آزادانہ اور منصفانہ انتخابات ہوتے ہیں، سماجوادی پارٹی کو نقصان ہونے کا امکان رہتا ہے، اسی لیے وہ بے چین ہیں۔‘

اتر پردیش میں ایس آئی آر کے دوران شفافیت سے متعلق خدشات اس وقت سامنے آئے جب سدھارتھ نگر اور فتح پور جیسے اضلاع سے بوتھ لیول افسر (بی ایل او) اور بوتھ لیول ایجنٹ (بی ایل اے) کے ویڈیو سامنے آئے، جن میں الزام لگایا گیا کہ بڑی تعداد میں پہلے سے بھرے ہوئے فارم-7 نام ہٹانے کے لیے دیے گئے تھے۔

مراد آباد اور سیتا پور جیسے اضلاع میں بی ایل او کی جانب سے مبینہ طور پر کام کے دباؤ کے باعث خودکشی کی خبروں کے بعد یہ عمل تنازعہ کا شکار بھی رہا۔

تقریباً29منٹ کی پریس کانفرنس میں رنوا نے ’ 18,026 بی ایل او سپروائزرز اور 1,77,516 بی ایل او کی محنت اور لگن‘کا ذکر کیا، جن کی وجہ سے یہ عمل مکمل ہو سکا۔ تاہم، انہوں نے اس عمل سے متعلق تنازعات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

سال2027 کے اسمبلی انتخابات سے پہلے اتر پردیش کی حتمی ایس آئی آر فہرست سے پانچ اہم نکات درج ذیل ہیں؛

نئے ناموں کا اضافہ

گزشتہ6جنوری 2026 کو شائع مسودہ ووٹر لسٹ میں 12,55,56,025 (تقریباً 12 کروڑ) ووٹر تھے۔ 10 اپریل 2026 کو جاری حتمی فہرست میں 13,39,84,792 (تقریباً 13 کروڑ) درست ووٹرز درج کیے گئے، یعنی 84,28,767 (تقریباً 84 لاکھ) کا اضافہ۔

دسمبر 2025 میں مسودہ فہرست جاری ہونے سے چند ہفتے پہلے ایک ویڈیو سامنے آیا تھا، جس میں اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ پارٹی کارکنوں سے’ایس آئی آر پر توجہ دینے‘اور’ہر بوتھ پر نظر رکھنے‘کو کہتے نظر آئے تھے۔

انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق، مسودہ فہرست جاری ہونے کے بعد بی جے پی کارکنوں کو دعوے اور اعتراضات کے مرحلے کے دوران’ہر بوتھ پر 200 ووٹرجوڑنے کا ہدف‘دیا گیا تھا۔

بی جے پی ترجمان منیش شکلا نے کہا،’جب کوئی شخص ووٹر بنتا ہے تو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ کس پارٹی کو ووٹ دے گا۔ ووٹر لسٹ کو منظم رکھنا اور تمام صحیح ووٹروں کو شامل کرنا نہ صرف الیکشن کمیشن بلکہ سیاسی جماعتوں کی بھی اخلاقی ذمہ داری ہے۔ اسی جذبے کے تحت بی جے پی نے ایس آئی آر کےعمل میں حصہ لیا۔‘

چیف الیکشن آفیسر کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ پریس نوٹ کے مطابق، جن پانچ اضلاع میں سب سے زیادہ نئے نام شامل ہوئے، وہ ہیں- پریاگ راج (3,29,421)، لکھنؤ (2,85,961)، بریلی (2,57,920)، غازی آباد (2,43,666) اور جونپور (2,37,590)۔

ناموں کا حذف کیا جانا

اتر پردیش کے چیف الیکشن آفیسر نو دیپ رنوا نے کہا،’ایس آئی آر میں طےشدہ عمل کے بغیر کوئی بھی نام نہیں ہٹایا گیا ہے۔‘

جنوری 2026 میں مسودہ فہرست جاری ہونے پر مجوزہ طور پر 2.89 کروڑ (کل ووٹروں کا 18.70 فیصد) نام ہٹانے کی بات سامنے آئی تھی۔ اس میں اے ایس ڈی (غیر حاضر، منتقل شدہ، ڈپلیکیٹ یا فوت شدہ) زمرے کے ووٹر شامل تھے۔

گزشتہ10 اپریل کو جاری حتمی اعداد و شمار کے مطابق، 1.04 کروڑ’ان-میپڈ‘ووٹروں اور 2.22 کروڑ’منطقی تضادات‘والے ووٹروں کو نوٹس جاری کیا گیا۔ ان افراد کو دعوے اور اعتراضات کے مرحلے میں ضروری دستاویز جمع کر کے فارم-6 کے ذریعے اپنا نام شامل کرانے کا موقع دیا گیا۔

’منطقی تضاد‘کے زمرے میں وہ ووٹر شامل تھے ،جن میں والدین اور بچوں کی عمر میں غیر معمولی فرق پایا گیا۔’ان -میپڈ‘زمرے میں وہ افراد شامل تھے، جن کے والدین یا دادا دادی کا نام 2003 کی ووٹر لسٹ میں تھا، لیکن ان کا اپنا نام متعلقہ فہرست میں شامل نہیں تھا۔

رنوا نے کہا،’6 جنوری 2026 سے 10 اپریل 2026 کے درمیان مختلف زمروں میں کل 8,15,996 نام ہٹائے گئے۔‘

خواتین ووٹر

جنوری میں مسودہ فہرست جاری ہونے کے بعد خواتین ووٹروں کی تعداد میں کمی کی خبریں آئی تھیں، لیکن حتمی فہرست میں یہ تشویش کسی حد تک دور ہوتی نظر آتی ہے۔

حتمی فہرست میں 42,00,778 خواتین ووٹروں کا اضافہ درج کیا گیا، اور صنفی تناسب 824 سے بڑھ کر 834 ہو گیا۔

وارانسی میں بی جے پی کے جنرل سکریٹری اور ضلع سطح پر ایس آئی آر کے انچارج سنجے سونکر نے’دی وائر‘سے کہا،’اگر کسی اہل شخص کے پاس ضروری 13 درست دستاویزوں میں سے کوئی ایک بھی ہے، تو اسے ووٹر بننے سے کوئی نہیں روک رہا ہے۔ الیکشن کمیشن نے بھی کسی سیاسی جماعت کو اس عمل میں حصہ لینے سے نہیں روکا ہے۔‘

اپیل کا اختیار

چیف الیکشن آفیسر کے جاری کردہ پریس نوٹ کے مطابق، اگر کوئی شخص الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر (ای آر او) کے حتمی فیصلے سے مطمئن نہیں ہے، تو وہ 15 دن کے اندر ضلع مجسٹریٹ کے پاس پہلی اپیل کر سکتا ہے۔

یہ سہولت عوامی نمائندگی ایکٹ 1950 کی دفعہ 24 کے تحت دستیاب ہے۔ اگر ضلع مجسٹریٹ کے فیصلے سے بھی اطمینان نہ ہو، تو 30 دن کے اندر چیف الیکشن آفیسر کے پاس دوسری اپیل دائر کی جا سکتی ہے۔

رنوا نے کہا،’حتمی اشاعت کے بعد بھی فارم 6، 7 اور 8 جمع کیے جا سکتے ہیں تاکہ نام ووٹر لسٹ میں شامل کیا جا سکے۔ فکر کی کوئی بات نہیں ہے کیونکہ ووٹر لسٹ مسلسل اپڈیٹ ہوتی رہے گی۔‘

بی جے پی لیڈر سنجے سونکر نے بھی اس بات سے اتفاق کیا اور اسے ایک اصلاحی عمل قرار دیا۔ انہوں نے کہا،’الیکشن کمیشن کا کام قابل تعریف ہے۔ پہلے ووٹر لسٹ سال میں ایک بار اپڈیٹ ہوتی تھی، لیکن اب ہر چار ماہ میں اپڈیٹ ہوگی اور یہ فہرست رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کے ساتھ شیئر کی جائے گی۔‘

تضادات

کیا تمام تضادات دور ہو گئے ہیں، اور کیا حتمی ووٹر لسٹ، جو 2027 کے اسمبلی انتخابات کی بنیاد بنے گی، مکمل طور پر نقص سے پاک ہے؟

مکمل طور پر نہیں۔ ایک شہری سماجی گروپ سے وابستہ ایک وکیل، جو مسلم برادری کے لوگوں کو ایس آئی آر فارم بھرنے میں مدد کر رہے ہیں، نے’دی وائر‘سے کہا،’مجموعی طور پر تضادات پر تبصرہ کرنا ابھی جلد بازی ہوگی، لیکن لکھنؤ اور پریاگ راج کے علاقوں میں ابتدائی رجحانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ معاملات میں ڈپلیکیٹ ناموں جیسی غلطیاں اب بھی موجود ہیں۔‘

اکھلیش یادو نے چیف الیکشن آفیسر کو دیے گئے ایک میمورنڈم میں آن لائن اور آف لائن دونوں طریقوں سے اپیل دائر کرنے کے لیے ایک معیاری طریقہ کار (ایس او پی) جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

حتمی ووٹر لسٹ میں خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے اس میمورنڈم میں الہ آباد جنوبی اسمبلی حلقے کے بوتھ نمبر 389 کی مثال دی گئی ہے، جہاں ایک ووٹر شالینی سنگھ کے والد کا نام بنگلہ میں چھپا ہوا ہے۔

حتمی فہرست میں ڈپلیکیٹ اندراجات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے میمورنڈم میں کہا گیا ہے،’اسی طرح، غازی پور اسمبلی حلقہ کے بوتھ نمبر 102 پر ستیندر یادو (ہری ہر یادو کے بیٹے) کا نام سیریل نمبر 1047 اور 1056 دونوں پر درج ہے۔‘

انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔