اتر پردیش: چھ مہینوں میں گئو کشی اور اسمگلنگ  کے خلاف مہم  میں 3867 گرفتار

اتر پردیش کے ایڈیشنل چیف سکریٹری(داخلہ) نے بتایا کہ ایک جنوری 2020 سے آٹھ جون 2020 تک اتر پردیش انسداد گئو کشی ایکٹ کے تحت 867 معاملوں میں چارج شیٹ داخل کر دیےگئے ہیں، جبکہ 44 معاملوں میں این ایس اے اور 2197 معاملوں میں گینگسٹر ایکٹ اور 1823 معاملوں میں غنڈہ ایکٹ لگایا گیا ہے۔

اتر پردیش کے ایڈیشنل چیف سکریٹری(داخلہ) نے بتایا کہ ایک جنوری 2020 سے آٹھ جون 2020 تک اتر پردیش انسداد گئو کشی ایکٹ کے تحت 867 معاملوں میں چارج شیٹ  داخل کر دیےگئے ہیں، جبکہ 44 معاملوں میں این ایس اے اور 2197 معاملوں میں گینگسٹر ایکٹ اور 1823 معاملوں میں غنڈہ ایکٹ لگایا گیا ہے۔

علامتی تصویر، فوٹو: پی ٹی آئی

علامتی تصویر، فوٹو: پی ٹی آئی

نئی دہلی: اتر پردیش میں گزشتہ  چھ مہینے کے دوران گئو کشی اور اسمگلنگ کے خلاف پولیس کی طرف سے چلائی  گئی خصوصی مہم میں 3867 لوگوں کو گرفتار کیا گیا اور 2197 معاملوں میں گینگسٹر ایکٹ لگایا گیا ہے۔ایڈیشنل چیف سکریٹری(داخلہ)اونیش کمار اوستھی نے بتایا کہ ایک جنوری 2020 سے آٹھ جون 2020 تک پولیس نے خصوصی مہم  چلاکر 1324 مقدمے درج کیے۔ کل 4326 ملزمین کے نام سامنے آئے اور ان میں سے 3867 کو گرفتار کیا گیا۔

اوستھی نے بتایا کہ انسداد گئو کشی ایکٹ کے تحت 867 معاملوں میں چارج شیٹ  داخل کر دیے گئے ہیں، جبکہ 44 معاملوں میں نیشنل سکیورٹی ایکٹ(این ایس اے) اور 2197 معاملوں میں گینگسٹر ایکٹ لگایا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ 1823 معاملوں میں غنڈہ ایکٹ لگایا گیا ہے جبکہ 421 معاملوں میں ہسٹری شیٹ بھی کھولی گئی ہے۔ انسداد گئو کشی ایکٹ کے تحت ریاست میں سخت کارروائی چل رہی ہے اور ‘قطعی برداشت نہیں کرنے’ کا رخ اپناتے ہوئے کسی بھی مجرم کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائےگی۔

قابل ذکر ہے کہ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت  میں منگل کو ان کی رہائش کابینہ  کی میٹنگ میں اتر پردیش انسداد گئو کشی (ترمیم) ایکٹ، 2020 کے ڈرافٹ  کو منظوری دی گئی۔اس ایکٹ کونافذ کرائے جانے اور اس کی جگہ  پر ایکٹ اسمبلی میں پاس کرائے جانے کا فیصلہ بھی کابینہ  نے کیا۔

تر پردیش انسداد گئو کشی (ترمیم) ایکٹ، 2020 کے تحت پہلی بار جرم  کے لیے مجرم  کو ایک لاکھ سے لےکر تین لاکھ روپے تک کے جرما نے کے ساتھ ایک سے سات سال کی سخت سزا دی جا سکتی ہے۔وہیں، دوسری بار جرم  کرنے پرمجرم کو پانچ لاکھ روپے تک کے جرما نے کے ساتھ 10 سال قید بامشقت کی سزا دی جا سکتی ہے۔ نئے ایکٹ کے تحت گائے اوردیگر مویشیوں کے غیر قانونی نقل و حمل کے معاملے میں ڈرائیور، آپریٹر اورگاڑی  کے مالک پر الزام طے کیا جائےگا۔

گاڑی کے مالک سے ایک سال کی مدت یا گائے یا اس کی نسل کے دوسرے مویشی  کو چھوڑنے (جو بھی پہلے ہو)تک پکڑی گئی گایوں کے رکھ رکھاؤ پر ہونے والا خرچ وصول کیا جائےگا۔گائے کے تحفظ اور گئوکشی کے واقعات سے متعلق جرائم  کو کلی طور پرروکنے اور گئو کشی قانون کو اور زیادہ مؤثر بنانے کے مقصد سے 1955 کے اس قانون میں ترمیم  کی تجویز کو سرکار نے ہری جھنڈی دے دی ہے۔

ایڈیشنل چیف سکریٹری(داخلہ)اونیش کمار اوستھی نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ  یوگی آدتیہ ناتھ کی صدارت میں ان کی  سرکاری رہائش پر ہوئی کابینہ  کی میٹنگ میں یہ اہم  فیصلہ کیا گیا۔اوستھی نے بتایا کہ بنیادی قانون (ترمیم کے ساتھ)کی دفعہ 5 میں مویشیوں  کو جسمانی نقصان  پہنچاکر ان کی زندگی کو خطرے  میں ڈالنے یا ان کے جسم کا حصہ الگ کرنے اور ان  کی زندگی کو خطرے  میں ڈالنے والے حالات میں نقل وحمل کے لیے سزاکے اہتمام نہیں ہیں ۔

انہوں نے بتایا کہ بنیادی قانون میں دفعہ 5 بی کے طور پر اس اہتمام کو شامل کیا جائےگا اورکم سے کم  ایک سال کی سخت قیدکا اہتمام  رہے گا، جو سات سال تک ہو سکتی  ہے اور جرمانہ کم سے کم  ایک لاکھ روپے ہوگا، جو تین لاکھ روپے تک ہو سکتا ہے ۔اوستھی نے بتایا کہ آرڈیننس کا مقصد اتر پردیش انسدادگئو کشی قانون، 1955 کو اور زیادہ  منظم اور مؤثر بنانااورمویشیوں کے تحفظ  اور گئو کشی کے واقعات سے متعلق جرائم کو کلی طور پر روکنا ہے ۔

اوستھی نے کہا کہ آرڈیننس میں یہ اہتمام بھی کیا گیا ہے کہ ملزمین  کے بھاگنے کی حالت  میں افسر ان کی تصویریں آس پڑوس یا اہم عوامی مقامات  پر چسپاں  کر سکتے ہیں۔قابل ذکر ہے کہ اتر پردیش انسداد گئو کشی قانون، 1955 چھ جنوری 1956 کوریاست  میں نافذ ہوا تھا،سال1956 میں اس کاضابطہ بنا تھا۔سال1958،1961،1979 اور 2002 میں قانون میں ترمیمات  کی گئیں اورضابطےمیں  1964اور 1979 میں ترمیم  ہوا۔