امریکی کمیشن کی آر ایس ایس اور را پر پابندی کی سفارش، کانگریس نے کہا – ہمارے خدشات کی تصدیق

مذہبی آزادی سے متعلق امریکی کمیشن نے اپنی 2026 کی سالانہ رپورٹ میں ہندوستان کی خفیہ ایجنسی را اور آر ایس ایس پر مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں میں مبینہ کردار کے لیے ہدفی پابندیاں لگانے کی سفارش کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی لگاتار ساتویں سال ہندوستان کو ’خصوصی تشویش والا ملک‘ قرار دینے کا مطالبہ بھی دہرایا۔ ہندوستان نے اس رپورٹ کو ’من گھڑت اور جانبدارانہ‘ قرار دیا ہے۔

مذہبی آزادی سے متعلق امریکی کمیشن نے اپنی 2026 کی سالانہ رپورٹ میں ہندوستان کی خفیہ ایجنسی را اور آر ایس ایس پر مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں میں مبینہ کردار کے لیے ہدفی پابندیاں لگانے کی سفارش کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی لگاتار ساتویں سال ہندوستان کو ’خصوصی تشویش والا ملک‘ قرار دینے کا مطالبہ بھی دہرایا۔ ہندوستان نے اس رپورٹ کو ’من گھڑت اور جانبدارانہ‘ قرار دیا ہے۔

السٹریشن : پری پلب چکرورتی

نئی دہلی: امریکہ کی ایک وفاقی مشاورتی تنظیم نے ہندوستان کی بیرونی خفیہ ایجنسی را اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) پر مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں میں مبینہ کردار کے لیے ہدفی پابندیاں لگانے کی سفارش کی ہے۔

کانگریس پارٹی نے اس کو بنیاد بنا کر کہا کہ آر ایس ایس قومی یکجہتی کے لیے خطرہ ہے۔

مذہبی آزادی پر یونائیٹڈ اسٹیٹس کمیشن آن انٹرنیشنل ریلیجس فریڈم (یو ایس سی آئی آر ایف) نے 4 مارچ کو جاری اپنی 2026 کی سالانہ رپورٹ میں یہ سفارشات پیش کی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی مسلسل ساتویں سال ہندوستان کو ’خصوصی تشویش والا ملک‘قرار دینے کا مطالبہ دہرایا ہے۔

تاہم، امریکی محکمہ خارجہ نے اب تک کسی بھی سال اس طرح کی درجہ بندی پر عمل نہیں کیا ہے۔

رپورٹ میں امریکی حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ ہندوستان کے ریسرچ اینڈ اینالیسس ونگ (را) اور آر ایس ایس پر ’مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزیوں کے لیے ان کی جوابدہی یقینی بنانے اور انہیں برداشت نہ کرنے‘کے لیے پابندیاں عائد کرے۔ کمیشن کی 2025 کی رپورٹ میں بھی را اور اس کے سابق افسر وکاس یادو پر پابندی کی سفارش کی گئی تھی، جنہیں 2023 میں نیویارک میں ایک امریکی شہری کے قتل کی مبینہ کوشش سے جوڑا گیا تھا۔

کانگریس کا سنگھ پر حملہ

کمیشن کی سفارش کا حوالہ دیتے ہوئے اپوزیشن جماعت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ یہ کمیشن’امریکی حکومت کی سرکاری تنظیم‘ ہے، جس نے خبردار کیا ہے کہ ’آر ایس ایس لوگوں کی مذہبی آزادی کے لیے خطرہ ہے۔‘

مہاتما گاندھی کے قتل کے بعد سردار پٹیل کی جانب سے آر ایس ایس پر لگائی گئی پابندی کا ذکر کرتے ہوئے کانگریس نے کہا کہ یہ تنظیم’آئین کی مخالفت کرتی ہے اور ملک کو منوسمرتی کے مطابق چلانے کی وکالت کرتی ہے‘اور’اس ملک کی یکجہتی اور بھائی چارے کے لیے زہر کے مترادف ہے۔‘

کمیشن نے امریکی حکومت سے یہ بھی کہا کہ وہ ہندوستان کو دی جانے والی مستقبل کی سکیورٹی امداد اور دوطرفہ تجارتی پالیسیوں کو مذہبی آزادی میں بہتری سے مشروط کرے۔ اس کے علاوہ اس نے امریکی کانگریس سے اسلحہ برآمد کنٹرول قانون کی دفعہ 6 نافذ کر کے ہندوستان کو ہتھیاروں کی فروخت روکنے کی اپیل کی-یہ کہتے ہوئے کہ’امریکی شہریوں اور مذہبی اقلیتوں کے خلاف دھمکی اور ہراسانی کے واقعات جاری ہیں۔‘

ہندوستان کا کمیشن کی رپورٹ پر اعتراض، امریکہ میں ہندو مندروں پر حملوں پر غور کرنے کی اپیل

اس کے بعد ہندوستانی میڈیا کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ دراصل کمیشن کو امریکہ میں ہندو مندروں پر ہونے والی توڑ پھوڑ اور حملوں، ہندوستان کو چنندہ طریقےسے نشانہ بنانے اور امریکہ میں ہندوستانی کمیونٹی کے افراد کے خلاف عدم برداشت میں اضافہ  اور ڈرانے -دھمکانے کے معاملے پر توجہ دینی چاہیے۔

انہوں نے کہا،’حکومت نے اس رپورٹ کا نوٹس لیا ہے اور ہم مذہبی آزادی کے حوالے سے ہندوستان کے بارے میں اس کے من گھڑت اور جانبدارانہ تاثر کو بالکلیہ مسترد کرتے ہیں۔ ‘

جیسوال نے یہ بھی کہا کہ کمیشن کئی برسوں سے’ہندوستان کی مسخ شدہ اور منتخب تصویر‘پیش کر رہا ہے اور’غیر جانبدارانہ حقائق کے بجائے مشتبہ ذرائع اور نظریاتی بیانیے‘پر مبنی ہے۔

کئی برسوں سے ہندوستان کو’خصوصی تشویش والا ملک‘قرار دے رہا ہے کمیشن

قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال کی رپورٹ میں ہتھیاروں کی فروخت روکنے کے بجائے اس کا جائزہ لینے کی بات کہی گئی تھی۔ کمیشن نے امریکی حکومت سے یہ بھی اپیل کی کہ وہ ہندوستان پر دباؤ ڈالے تاکہ وہ کمیشن اور امریکی محکمہ خارجہ کو ملک کے اندر جائزہ لینے کی اجازت دے۔

حالیہ نتائج ہندوستان کے حوالے سے کمیشن کی کئی حالیہ مداخلتوں کے بعد سامنے آئے ہیں۔

نومبر 2025 کی ایک اپڈیٹ میں کمیشن نے کہا تھا کہ حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس کے درمیان ’باہمی تعلق‘نے ایسے قوانین بنانے اور نافذ کرنے میں مدد کی، جنہیں اس نے مذہبی اقلیتوں کے خلاف امتیازی قرار دیا۔ اس میں شہریت ترمیمی قانون، تبدیلی مذہب مخالف قوانین اور گئو کشی سے متعلق قوانین کا ذکر کیا گیا۔

اس اپڈیٹ میں آر ایس ایس کو’ہندو قوم پرست گروہ‘قرار دیا گیا، جس کا بنیادی مقصد’ہندو راشٹر‘کا قیام بتایا گیا، اور کہا گیا کہ یہ’ہندوستان کو ایک ہندو ریاست ماننے کے نظریے کو فروغ دیتا ہے، جس میں مسلمانوں، عیسائیوں، یہودیوں، بدھ مت کے پیروکاروں، پارسیوں اور دیگر مذہبی اقلیتوں کوباہر رکھا  جاتا ہے۔‘

حالاں کہ، آر ایس ایس براہ راست انتخابات میں امیدوار کھڑے نہیں کرتا، لیکن یہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیے مہم چلانے کے لیے  سویم سیوک فراہم کرتا ہے۔ اس میں وزیر اعظم مودی بھی شامل رہے ہیں، جو 2001 سے 2014 تک گجرات کے وزیر اعلیٰ رہنے سے پہلے سنگھ کے پرچارک تھے۔

اس سال 6 فروری کو جاری ایک بیان میں کمیشن نے’عیسائیوں کو نشانہ بنا کر ہندو قوم پرست ہجوم کی جانب سے کیے گئے پرتشدد حملوں‘پر تشویش ظاہر کی اور کہا کہ ایسے حملے ہندوستان کو’خصوصی تشویش والے ملک‘قرار دینے کے اس کے مطالبے کو مزید مضبوط کرتے ہیں۔

کمیشن کی تازہ سالانہ رپورٹ کے مطابق، 2025 میں ہندوستان میں’مذہبی آزادی کی صورتحال مسلسل خراب ہوتی رہی‘، کیونکہ حکام نے ایسے قوانین نافذ کیے جو اقلیتی برادریوں اور ان کی عبادت گاہوں کو نشانہ بناتے ہیں۔

رپورٹ میں گزشتہ سال مئی میں منظور کیے گئے وقف بل کا ذکر کیا گیا، جس میں وقف املاک کا بندوبست کرنے والے بورڈز میں غیر مسلموں کو شامل کرنے کی شق موجود ہے۔ ان املاک میں مساجد، مدارس اور قبرستان شامل ہیں۔ اس بل کے خلاف مغربی بنگال میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں تین افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

ستمبر 2025 میں سپریم کورٹ نے اس بل کی کچھ اہم شقوں پر روک لگا دی، جن میں وہ شق بھی شامل تھی جو حکومت کو یہ طے کرنے کی اجازت دیتی تھی کہ کوئی متنازعہ جائیداد وقف ہے یا نہیں۔ اس کے ساتھ ہی مرکزی بورڈ میں غیر مسلم اراکین کی تعداد زیادہ سے زیادہ چار تک محدود کر دی گئی۔

اسی ماہ، اتراکھنڈ کی اسمبلی نے ریاستی اقلیتی تعلیمی اتھارٹی ایکٹ منظور کیا تھا، جس کے تحت مدرسہ بورڈ کو ختم کر دیا گیا اور سکھ، بدھ، جین، پارسی اور عیسائی برادریوں کے مدارس اور دیگر تعلیمی اداروں کو ریاست کے کنٹرول میں لے لیا گیا۔

رپورٹ میں اپریل میں کشمیر کے پہلگام میں ہونے والے حملے کا بھی ذکر کیا گیا، جس میں مسلح افراد نے ہندو سیاحوں کے ایک گروہ پر حملہ کر کے 26 افراد کو ہلاک کر دیا۔ کمیشن کے مطابق، حملہ آوروں نے مبینہ طور پر متاثرین سے ایک اسلامی کلمہ پڑھنے کو کہا اور جو ایسا نہ کر سکے، انہیں قتل کر دیا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ہندوستانی حکومت نے ’اس حملے کے بعد کی صورتحال کو ان مذہبی اقلیتوں کو بے دخل کرنے کے جواز کے طور پر استعمال کیا، جنہیں وہ’غیر قانونی‘ مہاجرین سمجھتی ہے۔‘

کمیشن نے یہ بھی ذکر کیا کہ ہندوستانی حکام نے آسام سے سینکڑوں بنگالی بولنے والے مسلمانوں کو بنگلہ دیش بھیج دیا، حالانکہ وہ ہندوستانی شہری تھے۔ کمیشن کے مطابق، گزشتہ سال ستمبر میں ہندوستان کی حکومت نے غیر ملکی شہری قانون کے تحت نئے قواعد نافذ کیے، جس سے غیر ملکی ٹریبونلز کو گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنے اور مشتبہ غیر ملکی افراد کو مناسب قانونی کارروائی کے بغیر حراست میں لینے کے اختیارات میں توسیع ہوئی۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ 2020 میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ہوئے مظاہروں کے دوران گرفتار کیے گئے عمر خالد اور شرجیل امام سمیت کئی افراد بغیر مقدمے کے پانچویں سال بھی جیل میں ہیں۔

برطانوی سکھ شہری جگتار سنگھ جوہل، جنہیں 2017 میں گرفتار کیا گیا تھا، مارچ میں ضلع عدالت کی جانب سے سازش اور دہشت گرد تنظیم کی رکنیت کے الزامات سے بری کیے جانے کے باوجود آٹھ دیگر الزامات کے تحت قید تنہائی میں ہیں۔

اشوکا یونیورسٹی کے پروفیسر علی خان محمودآباد کو گزشتہ سال ہریانہ میں کشمیر حملے اور اس کے بعد ہندوستان میں مسلمانوں کی صورتحال پر سوشل میڈیا پر تبصرہ کرنے کی وجہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ اسی سوموارکو ہریانہ حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ وہ ان کے خلاف مقدمہ چلانے کی اجازت نہیں دے گی۔

کمیشن نے یہ بھی کہا کہ فروری 2025 میں وزیر اعظم نریندر مودی کے واشنگٹن کے دورے اور چند ماہ بعد اپریل میں امریکی نائب صدر کے ہندوستان کے دورے کے دوران عوامی مباحثے میں مذہبی آزادی کا مسئلہ شامل نہیں تھا۔

کمیشن کی 2025 کی سالانہ رپورٹ کے بعد وزارت خارجہ نے اس کے تبصرے کو ’متعصبانہ اور سیاسی طور پر محرک‘قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ درحقیقت اسی کمیشن کو’تشویش کا موضوع‘قرار دیا جانا چاہیے۔