امریکی دباؤ اور ایران امن گیس پائپ لائن کی کہانی

ہندوستان کے توانائی منصوبہ سازوں اور پالیسی سازوں کے لیے، ادھوری پائپ لائن اور تشنہ ایٹمی ری ایکٹرز ایک دائمی سبق ہیں کہ تزویراتی فیصلے جب زمینی حقائق اور علاقائی ضرورتوں کے بجائے بیرونی دباؤ اور عارضی سفارتی فوائد کے تحت کیے جائیں، تو قومیں اکثر منزل کے بجائے ایک لامتناہی منجدھار میں پھنس جاتی ہیں۔آج گیس سلنڈروں کی قطاروں میں کھڑے لاکھوں ہندوستانی شہری اور پاکستانی ایندھن کی ہوشربا قیمتیں  دراصل حکومتوں کی اسٹریٹجک غلطی کا خمیازہ  ہیں۔

ہندوستان کے توانائی منصوبہ سازوں اور پالیسی سازوں کے لیے، ادھوری پائپ لائن اور تشنہ ایٹمی ری ایکٹرز ایک دائمی سبق ہیں کہ تزویراتی فیصلے جب زمینی حقائق اور علاقائی ضرورتوں کے بجائے بیرونی دباؤ اور عارضی سفارتی فوائد کے تحت کیے جائیں، تو قومیں اکثر منزل کے بجائے ایک لامتناہی منجدھار میں پھنس جاتی ہیں۔آج گیس سلنڈروں کی قطاروں میں کھڑے لاکھوں ہندوستانی شہری اور پاکستانی ایندھن کی ہوشربا قیمتیں  دراصل حکومتوں کی اسٹریٹجک غلطی کا خمیازہ  ہیں۔

جئے پور، اتوار، 15 مارچ 2026 کو، سپلائی کے بحران کے درمیان لوگ ایل پی جی سلنڈروں کے ساتھ قطار میں۔ تصویر: پی ٹی آئی۔

ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ نے آبنائے ہرمز کے راستے بحری مال برداری میں پیدا ہونے والے تعطل نے جنوبی ایشیائی ممالک خاص طور پر ہندوستان اور پاکستان کی توانائی کی سلامتی کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

پاکستان میں ایندھن کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ اور ہندوستان کے شہروں اور قصبوں میں ایل پی جی ڈسٹری بیوشن سینٹرز کے باہر لگی طویل قطاریں توانائی کے بحران کی گواہی دے رہے ہیں۔

ہندوستانی  دارالحکومت دہلی کے مکین اپنے سمارٹ فونز پر بار بار ڈیلیوری کے پیغامات کو اس امید میں ری فریش کر رہے ہیں کہ   شاید اگلا ٹرک ان کے گھر کے چولہے جلانے کا سامان لے آئے۔ گیس ڈپوکے باہر کا یہ منظر دراصل ہندوستان کے مجموعی توانائی کے ڈھانچے میں موجود اس گہری دراڑ کا خاموش نوحہ ہے جسے گزشتہ دو دہائیوں کی غلط ترجیحات نے جنم دیا ہے۔

آج ہندوستان اپنی ضرورت کا 85 فیصد سے زائد خام تیل اور قدرتی گیس کا ایک بہت بڑا حصہ درآمد کرنے پر مجبور ہے۔ اس گیس کا بڑا حصہ مائع حالت (ایل این جی) میں قطر، آسٹریلیا اور اب تیزی سے امریکہ سے بحری راستوں کے ذریعے پہنچ رہا ہے، جو اکثر عالمی منڈی کی ان اتار چڑھاؤ والی قیمتوں پر خریدا جاتا ہے جو ہر جغرافیائی و سیاسی جھٹکے کے ساتھ بدلتی رہتی ہیں۔

اس معاشی اور تزویراتی بے یقینی سے بچنے کے لیے کبھی ہندوستان اور پاکستان کے پاس ایک نہایت معتبر، سستا اور پائیدار متبادل موجود تھا۔

نوے کی دہائی کے اوائل میں دونوں ملکوں کے ایوانوں میں ایک ایسی پائپ لائن کے نقشے زیر بحث تھے جو سرحدوں کی لکیروں کو مٹا کر توانائی کے رشتوں کو جوڑ سکتی تھی۔ ایران-پاکستان-انڈیا یعنی آئی پی آئی نامی یہ پائپ لائن ایک خواب تھا جو حقیقت بننے کے قریب تھا، لیکن اسے عالمی سیاست کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔

اس تزویراتی سفر کا آغاز 1989 میں ہوا تھا، جب ایران کے وزیر خارجہ علی اکبر ولایتی نے نئی دہلی کے دورے کے دوران طویل فاصلے کی ایک گیس پائپ لائن کی تجویز پیش کی تھی۔

یہ وہ دور تھا جب دنیا میں سرد جنگ اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہی تھی اور ایشیا میں علاقائی تعاون کے نئے چراغ روشن ہو رہے تھے۔مگر اس پر باقاعدہ مذاکرات کا آغاز 1994 میں ہوا۔

مارچ 1994 کو جب ہندوستان کوجنیوا میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن میں  اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی طرف سے کشمیر پر انسانی حقوق کے حوالے سے ایک سخت مذمتی قرارداد کا سامنا تھا، تو وزیر اعظم نرسمہا راؤ نے اپنے شدید علیل وزیر خارجہ دنیش سنگھ کو ایک خصوصی طیارے میں، جس میں تمام طبی سہولیات موجود تھیں، ایک خفیہ مشن پر تہران بھیجاتھا۔

ایران نے اس وقت ہندوستان کی لاج رکھی اور قرارداد پر اتفاقِ رائے نہ ہونے دیا، جس سے ہندوستان عالمی سطح پر تنہا ہونے سے بچ گیا۔

اس کے بدلے میں ایران کو کئی یقینی دہانیاں کرائی گئی تھیں۔ جن میں کشمیر پر بامعنی مذاکرات کے علاوہ نرسمہا راؤ نے تہران سے گیس پائپ لائن میں سرمایہ کاری اور تعاون کا پکا وعدہ کیا تھا۔ نئی دہلی میں دی انرجی انسٹی ٹیوٹ کے ڈاکٹرراجندر پچوری کو اس کے خد و خال طے کرنے کے لیے کہا گیا۔

چونکہ یہ پائپ لائن ہندوستان-پاکستان اور ایران کی مشترکہ کاوش تھی، اس لیے مبصرین نے اس کو امن پائپ لائن کا خوبصورت نام دیا۔ ان کا فلسفہ یہ تھا کہ جب دو ایٹمی پڑوسی، ہندوستان اور پاکستان، ایک ہی پائپ لائن سے توانائی حاصل کریں گے، تو ان کے معاشی مفادات اس قدر ایک دوسرے میں پیوست ہو جائیں گے کہ جنگ کا تصور ہی محال ہو جائے گا۔

اس کے ایک سال بعد یعنی1995 میں ایک  بڑی پیش رفت کے طور پر ایران اور پاکستان کے درمیان ساؤتھ پارس فیلڈ سے کراچی تک گیس پہنچانے کا ابتدائی معاہدہ طے پایا۔ ایران نے  اس منصوبے کو ہندوستان تک وسعت دینے کی تجویز دی، کیونکہ ہندوستان کی بڑی منڈی کے بغیر یہ منصوبہ تجارتی طور پر اتنا پرکشش نہیں ہوسکتا تھا۔

سال 1999 میں ہندوستان نے اس منصوبے میں باقاعدہ شمولیت کا اعلان کیا اور تہران کے ساتھ ایک ابتدائی یادداشت پر دستخط کیے۔ 2000 کے سال سے ایران، پاکستان اور ہندوستان کے درمیان قیمتوں، فزیبلٹی اور پائپ لائن کے راستے پر سہ فریقی مذاکرات شروع ہوئے جنہیں عالمی میڈیا میں جنوبی ایشیا کی تقدیر بدلنے والے مذاکرات سے موسوم کیا گیا۔

یہ وہ دور تھا جب ہندوستان کی معیشت سالانہ آٹھ سے نو فیصد کی شرح سے نمو پا رہی تھی۔ اس لیے اس پائپ لائن کی اہمیت تزویراتی سے بڑھ کر بقا کا مسئلہ بن گئی تھی۔

تکنیکی ماہرین کے مطابق یہ پائپ لائن ہندوستان کی صنعتوں اور بجلی گھروں کو روزانہ 60 ملین سٹینڈرڈ کیوبک میٹر گیس فراہم کر سکتی تھی۔ اس مقصد کے لیے ایک سہ فریقی ‘جوائنٹ ورکنگ گروپ’ بنایا گیا جس نے قیمتوں اور ٹرانزٹ فیس جیسے پیچیدہ مسائل پر دن رات کام کیا۔

اس منصوبے کے سب سے بڑے علمبردار منی شنکر ایر تھے، جو 2004 سے 2006 کے درمیان ہندوستان کے وزیر پیٹرولیم کے طور پر کام کر رہے تھے۔ ان کا نظریہ تھا کہ اقتصادی باہمی انحصار دہلی اور اسلام آباد کے درمیان تعلقات کی برف کوپگھلا سکتا ہے۔ وہ اکثر کہا کرتے تھے؛


پائپ لائن محض گیس لے جانے والی اسٹیل کی نالی نہیں، بلکہ یہ تعاون کی ایک ایسی شاہراہ ہے جس پر امن کا قافلہ چلے گا۔


 دریاؤں کا پانی ہندوستان سے پاکستان کی طرف جاتا ہے، گیس کی ترسیل چونکہ پاکستان سے ہندوستان کی طرف ہونی تھی، اس لیے بتایا گیا کہ اس سے وسائل کی ترسیل میں بھی ایک توزن قائم ہوجائےگا۔

سفارت کار تلمیذ احمد، جو اس دور میں مذاکرات کی میز پر ہندوستان کی نمائندگی کر رہے تھے، بتاتے ہیں کہ قدرتی گیس کا حصول اس وقت ہندوستان کی سفارت کاری کے لیے اہم حیثیت رکھتا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ گیس پر مبنی معیشت کوئلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ سستی اور ماحول دوست ہوتی ہے۔ فروری 2007 میں اس وقت ایک تاریخی کامیابی ملی جب ہندوستان اور پاکستان گیس کی قیمت تقریباً 4.93 ڈالر فی بی ٹی یو ملین  پر اصولی طور پر متفق ہو گئے۔ ایک اور پائپ لائن ترکمنستان، افغانستان، پاکستان ہندوستان  پر بھی گفت شنید شروع ہوگئی۔

بتایا جاتا تھا کہ ملتان کے پاس دونوں پائپ لائن کا ایک گرڈ بن جائےگا، جہاں سے یہ گیس پاکستان کے دیگر علاقوں اور سرحد پار ہندوستان کو مہیا کرائی جائےگی۔ لیکن بدقسمتی سے، جہاں خطے میں امن کی امیدیں روشن ہو رہی تھیں، وہیں واشنگٹن کے ایوانوں میں اس منصوبے کے خلاف سازشیں بننا شروع ہو گئی تھیں۔

جس وقت جنوبی ایشیا کے پالیسی ساز ‘امن پائپ لائن’ کے خواب کو آخری شکل دے رہے تھے، اسی وقت نئی دہلی اور واشنگٹن کے درمیان ایک ایسا سودا طے پا رہا تھا جس نے ہندوستان کی ترجیحات کو یکسر بدل دیا۔ 18 جولائی 2005 کو وزیر اعظم منموہن سنگھ اور امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے واشنگٹن میں ایک ‘سول نیوکلیئر معاہدے’ کا اعلان کیا۔

یہ معاہدہ ہندوستان کی تاریخ کا ایک بڑا موڑ تھا، جس کا مقصد ہندوستان پر 1974 کے پہلے ایٹمی تجربے کے بعد سے لگی عالمی پابندیوں کا خاتمہ کرنا اور اسے ایٹمی ٹکنالوجی فراہم کرنا تھا۔

مارچ 2006 میں صدر بش نے ہندوستان کا دورہ کیا۔ اس دورے میں دونوں ممالک نے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جس میں ایٹمی تعاون کے عزم کو دہرایا گیا۔ 26 جولائی 2006 کو امریکی ایوان نمائندگان نے ہنری جے ہائیڈ ایکٹ منظور کیا، جس نے این پی ٹی پر دستخط نہ کرنے کے باوجود ہندوستان کے لیے عالمی جوہری تجارت کا راستہ صاف کر دیا۔ 18 دسمبر 2006 کو صدر بش نے اس پر دستخط کر کے اسے قانونی شکل دے دی۔

لیکن اس ایٹمی قربت کی ایک بھاری قیمت ایران کے ساتھ تعلقات کی قربانی تھی۔ امریکی حکام پائپ لائن منصوبے کے حوالے سے نہایت معاندانہ رویہ رکھتے تھے۔

ان کا واضح موقف تھا کہ یہ پائپ لائن ایران کو معاشی طور پر مستحکم کرے گی، جبکہ امریکہ اسے اس کے ایٹمی پروگرام کی پاداش میں دنیا بھر میں تنہا کرنا چاہتا تھا۔ 3 اگست 2007 کو ہندوستان اور امریکہ نے ایٹمی تعاون کے معاہدے کا متن جاری کیا۔ ہندوستان کے اندر اس پر شدید سیاسی بحران پیدا ہوا اور 8 جولائی 2008 کو بائیں بازو کی پارٹیوں نے منموہن سنگھ کی حکومت سے حمایت واپس لے لی۔

حکومت گرنے کے قریب تھی، مگر دہلی نے واشنگٹن کا ہاتھ تھامے رکھا۔

اگست 2008 میں انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی نے ہندوستان کے لیے مخصوص سیف گارڈز کی منظوری دی اور پھر 4 سے 6 ستمبر 2008 کے درمیان طویل مذاکرات کے بعد ‘نیوکلیئر سپلائرز گروپ’ (این ایس جی)نے ہندوستان کو وہ تاریخی استثنیٰ دے دیا جس نے ہندوستان کی ایٹمی تنہائی کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا۔ 27 ستمبر 2008 کو امریکی ایوانِ نمائندگان اور پھر 8 اکتوبر 2008 کو صدر بش نے حتمی قانون پر دستخط کر کے اس تاریخی سودے پر مہر ثبت کر دی۔

اس ایٹمی کامیابی کے سائے میں، جون 2009 میں ہندوستان نے قیمتوں اور سلامتی کا بہانہ بنا کر پائپ لائن سے باقاعدہ علیحدگی اختیار کر لی۔ یہ ہندوستان کی توانائی کی تاریخ کا ایک ایسا فیصلہ تھا جس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔

ہندوستان کو یہ خواب دکھایا گیا تھا کہ ایٹمی معاہدے سے اسے وہ توانائی ملے گی جو پائپ لائن نہیں دے سکتی ہے۔ ویسٹنگ ہاؤس اور جی ای ہٹاچی جیسی امریکی کمپنیوں سے دسیوں ہزار میگاواٹ بجلی کی پیداوار کے وعدے کیے گئے۔ 8 جون 2016 کو ہندوستان کی نیوکلیئر پاور کارپوریشن اور ویسٹنگ ہاؤس کے درمیان چھ ایٹمی ری ایکٹرز کی تعمیر کا معاہدہ بھی ہوا، مگر یہ سب کاغذوں تک محدود رہا۔

ان کمپنیوں نے  ہندوستان کے 2010 کا ‘نیوکلیئر لائبلٹی ایکٹ کو بہانہ بنایا، جس کی رو سے ان کو کسی بھی حادثے کی صورت میں قانونی ذمہ داری اٹھا نی تھی اور ہرجانہ دینا تھا۔ ایٹمی معاہدے کے بیس سال مکمل ہونے کے باوجود آج تک زمین پر ایک بھی امریکی ری ایکٹر نہیں لگ سکا۔

اگرچہ حال ہی میں 16 جنوری 2025 کو امریکہ نے ہندوستانی ایٹمی اداروں پر سے کچھ برآمدی پابندیاں ختم کیں اور اگست 2025 میں ہندوستانی پارلیامنٹ نے ‘نیوکلیئر لائبلٹی فریم ورک’ میں ترامیم بھی کیں تاکہ غیر ملکی سپلائرز کو دوبارہ راغب کیا جا سکے، مگر عملی طور پر ہندوستان ابھی تک اس ایٹمی انقلاب کے ثمر سے محروم ہے جس کا ڈھنڈورا بیس سال پہلے پیٹا گیا تھا۔

دوسری جانب، 2010 میں ہندوستان کی علیحدگی کے بعد ایران اور پاکستان نے دوطرفہ طور پر منصوبے کو آگے بڑھانے کی کوشش کی۔ 2013 میں ایران نے اپنے حصے کی تعمیر مکمل کرنے کا دعویٰ کیا، مگر عالمی پابندیوں اور امریکی دباؤ نے پاکستان کے ہاتھ بھی  باندھ دیے۔ 2016 میں جے سی پی او اے کے تحت پابندیوں میں عارضی نرمی کے بعد ہندوستان میں متبادل راستوں اور سمندر کے نیچے سے پائپ لائن لانے کی تجویز پر بھی بات ہوئی، مگر وہ بھی جغرافیائی سیاست کی بے رحم موجوں کی نذر ہو گئی۔

اسی دوران ایران سے تین الگ پائپ لائنزترکیہ، عراق اور آرمیناء  و گیس پہنچانے کے لیے وجود میں آئی اور وہ اس وقت ان ممالک کی انرجی کی ضروریات پوری کرتی ہیں۔

سوال ہے کہ اگر عراق، اور ترکیہ جیسے امریکی حلیف اور ایک نسبتاً کمزور ملک آرمیناء امریکی دباؤ کو نظر انداز کرکے ان پائپ لائنوں کی تکمیل کرسکے، تو ہندوستان اور پاکستان نے مل کر امریکہ کے سامنے کیوں گھٹنے ٹیک دیے؟

آج دو دہائیوں کے سفر کے بعد جب ہم ہندوستان اور پاکستان کے توانائی کے نقشے پر نظر ڈالتے ہیں، تو ایک افسوسناک تصویر سامنے آتی ہے۔ درآمدی توانائی پر انحصار کم ہونے کے بجائے بڑھ چکا ہے۔ ایٹمی معاہدے نے بلاشبہ ہندوستان کو ایک ایٹمی قوت کے طور پر عالمی سطح پر تسلیم کرایا اور اس کا سفارتی قد بلند کیا، مگر توانائی کی سستی اور بلا تعطل فراہمی کا جو بنیادی مقصد تھا، وہ تشنہ رہا۔

ہندوستان نے اس وقت ایرانی گیس پائپ لائن سے ناطہ توڑا جب وہ واشنگٹن کی دہلیز پر ایٹمی وصال کی امید لگائے بیٹھا تھا۔ آج ایندھن کی عدم موجودگی کی وجہ سے ہندوستان کی صنعت سازی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ آج کی صورتحال اس شعر کی عملی تفسیر ہے ؛

نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم نہ ادھر کے ہوئے نہ ادھر کے ہوئے

نہ امریکی ری ایکٹر ملا نہ گیس پائپ لائن کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکا۔ ہندوستان کے توانائی منصوبہ سازوں اور پالیسی سازوں کے لیے، یہ ادھوری پائپ لائن اور تشنہ ایٹمی ری ایکٹرز ایک دائمی سبق ہیں کہ تزویراتی فیصلے جب زمینی حقائق اور علاقائی ضرورتوں کے بجائے بیرونی دباؤ اور عارضی سفارتی فوائد کے تحت کیے جائیں، تو قومیں اکثر منزل کے بجائے ایک لامتناہی منجدھار میں پھنس جاتی ہیں۔

آج گیس سلنڈروں کی قطاروں میں کھڑے لاکھوں ہندوستانی شہری اور پاکستانی ایندھن کی ہوشربا قیمتیں  دراصل حکومتوں کی اسی اسٹریٹجک غلطی کا خمیازہ  ہیں۔