اتر پردیش: ہاسپٹل نے مسلمان مریضوں پر لگائی پابندی، کہا-کورونا جانچ نگیٹو آئی ہو تبھی آئیں

مغربی اتر پردیش کے کینسر ہاسپٹل کے ذریعے اٹھایا گیا یہ قدم نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن کے ہدایات کی خلاف ورزی ہے جس کے تحت کسی بھی مریض کو اس کے مذہب یا بیماری کی بنیادی پر علاج سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے۔

مغربی  اتر پردیش کے کینسر ہاسپٹل کے ذریعے اٹھایا گیا یہ قدم نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن کے ہدایات کی خلاف ورزی ہے جس کے تحت کسی بھی مریض کو اس کے مذہب یا بیماری کی بنیادی  پر علاج سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے۔

علامتی تصویر بہ شکریہ: Hush Naidoo on Unsplash

علامتی تصویر بہ شکریہ: Hush Naidoo on Unsplash

نئی دہلی: اتر پردیش کے میرٹھ کے ایک کینسر ہاسپٹل نے دینک جاگرن میں ایک اشتہار شائع کروایا  ہے کہ وہ اب نئے مسلمان مریضوں کو قبول نہیں کرےگا، جب تک کہ مریض اور اس کا کیئرٹیکر کووڈ 19 کی نگیٹو ٹیسٹ رزلٹ نہیں لاتے ہیں۔ یہ 50 بیڈ کا کینسر ہاسپٹل ہے اور یہاں پر میرٹھ، سردھنا اور مظفرنگر سمیت میرٹھ کے آس پاس کے لوگ علاج کرانے آتے ہیں۔

ہاسپٹل نے 17 مارچ کو دیے اپنےاشتہارمیں کہا، ‘ہمارے یہاں بھی کئی مسلم مریض ضابطوں اورہدایات(جیسے ماسک لگانا، ایک مریض کے ساتھ ایک تیماردار، صفائی  کا دھیان رکھنا وغیرہ )پرعمل نہیں کر رہے ہیں وہ  اسٹاف کے ساتھ بدسلوکی کر رہے ہیں۔ ہاسپٹل کے اسٹاف اور مریضوں کے تحفظ کے لیے ہاسپٹل انتظامیہ  علاج کے لیے  آنے والے نئے مسلمان مریضوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ خوداور ایک تیماردار کی کو رونا وائرس انفیکشن (کووڈ 19) کی جانچ کراکر اور رپورٹ نگیٹو آنے پر ہی آئیں۔ کو رونا وباکے جاری رہنے تک یہ اصول مؤثررہےگا۔’

کینسر ہاسپٹل کے ذریعے دیا گیا اشتہار۔

کینسر ہاسپٹل کے ذریعے دیا گیا اشتہار۔

اشتہارمیں آگے لکھا گیا، ‘ہاسپٹل انتظامیہ سمجھتی ہے کہ صرف چند مسلمان  بھائیوں کی جہالت اوربدنیتی  کی وجہ سے ہمارے تمام  مسلمان بھائیوں کو کچھ وقت کے لیے پریشانی کا سامناکرنا پڑ رہا ہے۔لیکن عوامی مفاداورخود مسلمان  بھائیوں کے مفاد میں یہ ضروری  ہے۔ ہمارے ہزاروں مسلمان  بھائی بہن جن کا ہم نے علاج  کیا ہے او ر کینسر سے نجات پا چکے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ شروعات سے ہی ہماری طبی خدمات اور لگن میں کوئی امتیازنہیں رہا ہے اور ہمارے ان کے ساتھ گھریلو رشتےبھی بن گئے ہیں۔’

ہاسپٹل کے ذریعے اس طرح کا اشتہاردینا نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن  کے مریضوں کے حقوق  کے چارٹر کی خلاف ورزی ہے جس کو مرکزی وزارت صحت کے ذریعے اپنایا گیا تھا اور مارچ 2019 میں متعلقہ محکموں  میں بھیجا گیا تھا۔ چارٹر کے پوائنٹ 8 کے مطابق، کسی بھی مریض کو اس کے مذہب یا بیماری کی بنیاد پر علاج سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے۔

چارٹر کے مطابق، ‘ہر مریض کو اپنی بیماریوں یا حالت کی بنیاد پر کسی بھی امتیاز کے بغیر علاج حاصل  کرنے کا حق  ہے، جس میں ایچ آئی وی یا دوسری بیماریاں، مذہب، کمیونٹی،جنس، عمر،زبان یاجغرافیہ/ سماجی بنیاد شامل ہیں۔ ہاسپٹل انتظامیہ کی ذمہ داری  ہے کہ وہ یقینی بنائے کہ ہاسپٹل کی دیکھ ریکھ میں کسی بھی شخص کے ساتھ کسی بھی طرح کا امتیازی سلوک  نہ ہو۔ ہاسپٹل انتظامیہ کو باقاعدگی سے اپنے سبھی ڈاکٹروں اور اہلکاروں  کو اس کے بارے میں ہدایت دینی چاہیے۔’

ہاسپٹل انتظامیہ  کا دعویٰ ہے کہ تبلیغی جماعت سے جڑے لوگوں کی وجہ سے کو روناانفیکشن  میں غیر متوقع اضافہ ہوا ہے اور مرنے والوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔

ہاسپٹل کی انتظامیہ ٹیم کے ممبر اور ریڈی ایشن آنکولاجسٹ ڈاکٹر امت جین نے کہا، ‘میرٹھ میں تبلیغی جماعت سے جڑے دو معاملے سامنے آئے ہیں۔’

حالانکہ یہ دعویٰ صحیح  نہیں ہے۔ صحت سے متعلق خدمات کے ڈائریکٹوریٹ،، لکھنؤ کے ذریعے18 اپریل کی شام کو جاری اطلاع کے مطابق، میرٹھ میں کووڈ 19 کے 70 مریض ہیں اور ان میں سے 46 لوگ تبلیغی جماعت سے جڑے تھے۔

ویلینٹس کینسر ہاسپٹل نے اپنے اشتہارمیں کہا ہے کہ تبلیغی جماعت سے جڑے لوگوں کی جانکاری اور جانچ کرنے گئے میڈیکل پیشہ وروں اور پولیس سے میرٹھ میں بھی عدم تعاون اور بدسلوکی کی جا رہی ہے او رپتھر پھینک کر بھگایا جا رہا ہے۔ ان وجہوں  سے سبھی ہاسپٹل کے ڈاکٹر، نرس اورا سٹاف بھی خوف زدہ  ہیں اور ان کا حوصلہ پست ہے۔

حالانکہ ہاسپٹل نے یہ بھی کہا کہ جن مریضوں کو ہاسپٹل میں فوراًبھرتی کیے جانے کی ضرورت ہے، ان کا فوراًعلاج کیا جائےگا۔ لیکن ان کو مریض او رایک تیماردار کے کو رونا انفیکشن  جانچ کی رقم کی ادائیگی  انہیں کرنی ہوگی۔

جین نے کہا، ‘یہ صاف ہے کہ میرٹھ میں سبھی کو رونا کے معاملے مسلم اکثریت علاقوں سے آ رہے ہیں۔ اس لیے  ان کی پہچان کرنا آسان ہے۔ اگر یہاں کے لوگ بنا ٹیسٹ کرائے ہاسپٹل میں آتے ہیں تو اس سے ڈاکٹروں اور مریضوں کو خطرہ  ہوگا۔’

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ کو رونا ٹیسٹ کرانے کی شرط مسلم اکثریت علاقوں  میں رہ رہے دوسری کمیونٹی  کے لوگوں کے ساتھ نہیں ہے۔ جین نے کہا، ‘ان علاقوں میں دوسری کمیونٹی  کے لوگ بہت کم ہیں۔ میں یہ نہیں کہہ رہا ہے کہ دوسرے مذہب  کے لوگوں کو بیماری نہیں ہو سکتی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ مسلم اکثریت علاقوں  میں زیادہ  مریض مسلمان ہیں۔’