سنبھل تشدد کے دوران فائرنگ میں زخمی ہونے والے ایک نوجوان کے والد کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے چندوسی کی عدالت نے اس وقت کے سی او انج چودھری سمیت 12 پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا ہے۔ تاہم، سنبھل پولیس نے اس حکم نامے کو’ غیر قانونی’ قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف اپیل دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔
شاہی جامع مسجد، سنبھل (تصویر: شروتی شرما/ دی وائر)
نئی دہلی: سنبھل ضلع کے چندوسی کی ایک عدالت نے 2024 کے سنبھل تشدد کیس میں پولیس افسران کے کردار کو لے کر ایک اہم آرڈر جاری کیا ہے۔
چیف جوڈیشل مجسٹریٹ وبھانشو سدھیر نے سابق سنبھل سرکل آفیسر (سی او) انج چودھری، اس وقت کے سنبھل کوتوالی انچارج انج تومر اور 10 نامعلوم پولیس والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا ہے۔
تاہم، سنبھل پولیس نے ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کر دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ عدالت کے اس حکم کے خلاف اپیل کرے گی۔
سنبھل کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) کرشن کمار بشنوئی نے
ٹائمز آف انڈیا کو بتایا کہ یہ حکم غیر قانونی ہے اور عدالت کی ہدایت پر ہم ایف آئی آر درج نہیں کریں گے۔ پولیس کی کارروائی کو برقرار رکھتے ہوئے سنبھل تشدد کی عدالتی انکوائری پہلے ہی مکمل ہو چکی ہے۔ ہم اس حکم کے خلاف مناسب فورم پر اپیل کریں گے۔
عدالت کا یہ حکم 9 جنوری کو یامین نامی شخص کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کے بعد دیا گیا۔ یامین کا الزام ہے کہ اس کے 24 سالہ بیٹے عالم کو 24 نومبر 2024 کو سنبھل میں تشدد کے دوران پولیس کی فائرنگ میں گولی لگی تھی۔ یامین کے مطابق، ان کا بیٹا اس دن صبح اپنے گھر سے ٹھیلے پرپاپڑ اور بسکٹ بیچنے کے لیے نکلا تھا۔ صبح 8:45 کے قریب جب وہ شاہی جامع مسجد کے علاقے کے پاس پہنچا تو وہاں پہلے سے ہی بھاری بھیڑ موجود تھی۔
درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ اس وقت کے سی او انج چودھری، کوتوالی انچارج انج تومر اور جائے وقوعہ پر موجود 15-20 دیگر پولیس والوں نے بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے گولی چلائی۔ اس دوران عالم کو پیٹھ میں دو اور ہاتھ میں ایک گولی لگی، جس سے وہ موقع پر ہی گر گئے۔
یامین کا کہنا ہے کہ گولی لگنے کے بعد ان کے بیٹے کو مقامی لوگ تشویشناک حالت میں گھر لے کرآئے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اپنے بیٹے کو سنبھل کے کئی اسپتالوں میں علاج کے لیے لے گئے، لیکن سب نے علاج سے انکار کردیا۔
یامین نے پولیس پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ پولیس کے ڈر کی وجہ سے وہ اپنے بیٹے کو تین دن تک گھر میں ہی رکھے رہے ۔ اس کے بعد وہ اسے مراد آباد اور علی گڑھ کے کئی اسپتالوں میں علاج کے لیے لے گئے، لیکن مبینہ طور پر پولیس کے دباؤ کی وجہ سے اسے داخل کرنے سے انکار کر دیا گیا۔ یامین کے مطابق، ہسپتالوں نے انہیں بتایا کہ پولیس انتظامیہ نے سنبھل تشدد کے متاثرین کو داخل کرنے سے منع کر دیا ہے۔ آخر کار عالم کو پہچان چھپا کر میرٹھ کے ایک پرائیویٹ اسپتال میں داخل کرایا گیا، جہاں اس کی سرجری کی گئی اور اس کے جسم سے گولی نکال دی گئی۔
درخواست کے مطابق، یامین نے 31 دسمبر 2024 اور یکم جنوری 2025 کو وزیر اعلیٰ، پولیس کے ڈائریکٹر جنرل، ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس، اور سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سمیت کئی حکام کو اس واقعے کی شکایات بھیجیں، لیکن کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی۔ اس کے بعد اس نے عدالت سے رجوع کیا۔
عالم کوہی ملزم نامزد کیا گیا
عالم کے والد نے یہ درخواست 4 فروری 2025 کو دائر کی تھی۔ اس کے بعد عالم کو فسادات کے مقدمے میں ملزم نامزد کیا گیا ۔ عالم کے بہنوئی شاہنواز نے دی وائر سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اہل خانہ کی جانب سے درخواست دائر ہونے کے بعد ہی عالم کو فسادات کے مقدمات میں ملزم نامزد کیا گیا۔
سنبھل فسادات کے معاملات میں کئی ملزمین کی نمائندگی کر رہے ایڈوکیٹ قمر حسین نے دی وائر کو بتایا کہ عالم کیس نمبر 333/24 میں نامزد ہیں، جو سنبھل تشدد سے متعلق ہے۔
سماعت کے دوران عدالت نے پولیس رپورٹس، میڈیکل ریکارڈ اور فرانزک رپورٹس کا جائزہ لیا۔ پولیس نے عدالت کو بتایا کہ عالم کے جسم سے برآمد گولی .32 کیلیبر کی تھی جو پولیس کے ہتھیاروں میں استعمال نہیں ہوتی۔ تاہم، عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ میڈیکل ریکارڈ نے اس چوٹ کو ‘گن شاٹ ونڈ’ اور’دنگے کے دوران پولیس کی فائرنگ سے متعلق’ بتایا گیا ہے، جس سے کیس مشکوک معلوم ہوتا ہے۔
عدالت نے اپنے آرڈر میں سپریم کورٹ کے کئی اہم فیصلوں اور رہنما خطوط کا حوالہ دیا، جن میں کہا گیا ہے کہ اگر قابل شناخت جرم کی اطلاع دی جاتی ہے تو پولیس ایف آئی آر درج کرنے کی پابند ہے۔
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ پولیس اہلکاروں کے مبینہ غیر قانونی کام کو سرکاری ڈیوٹی کا حصہ نہیں سمجھا جا سکتا اور ایسے معاملات میں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 197 کے تحت پیشگی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔
چیف جوڈیشل مجسٹریٹ نے کہا کہ پہلی نظر میں یہ معاملہ سنگین قابلِ سماعت جرم لگتا ہے اور اس کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی ضرورت ہے۔ اس کی بنیاد پر عدالت نے سنبھل پولیس اسٹیشن کو درخواست میں بیان کے مطابق مقدمہ درج کرنے اور تحقیقات کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے پولیس کو ایف آئی آر کے اندراج سے متعلق معلومات سات دن میں عدالت میں جمع کرانے کی بھی ہدایت کی۔
عالم کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ 24 نومبر کو لگنے والی گولی سے ابھی تک صحت یاب نہیں ہوئے ہیں اور ان کا علاج جاری ہے۔
واضح ہو کہ 24 نومبر 2024 کو عدالتی حکم پرسنبھل میں مغلیہ دور کی شاہی جامع مسجد کے سروے کے دوسرے دن تشدد بھڑک اٹھا تھا ،جس کے نتیجے میں پانچ افراد کی موت ہو گئی تھی۔ سنبھل تب سے سرخیوں میں ہے۔
قابل ذکر ہے کہ 19 نومبر 2024کو
شاہی جامع مسجد کے سروے کے لیے درخواست دائر کی گئی ، اسی دن عدالت نے سروے کی اجازت بھی دے دی اور رات کی تاریکی میں مسجد کا سروے بھی ہو گیا تھا۔ لیکن 24 نومبر کو سروے کے دوسرے دن،سروے کی مخالفت کرنے والے مظاہرین اور پولیس کے درمیان پرتشدد جھڑپیں ہوئیں۔ تاہم پولیس اس بات سے انکار کرتی ہے کہ ان کی فائرنگ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
درخواست گزاروں کا دعویٰ ہے کہ شاہی جامع مسجد مغلیہ دور میں ‘ہری ہر مندرکو منہدم کرنے کے بعد بنائی’ گئی تھی۔ ہندو فریق کا مطالبہ ہے کہ اس جگہ پر دوبارہ مندر تعمیر کی جائے۔
قابل ذکر ہےکہ تشدد کے بعد اس وقت کے سی او انج چودھری کو ایک ‘سخت ‘ اور ‘سپر کاپ’ کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے۔ انہوں نے گزشتہ سال ہولی کے دوران بھی سرخیاں حاصل کی تھیں، جب ہولی اور جمعہ کی نماز کے ایک ہی دن ہونے پر انہوں نے مسلمانوں کو
گھر کے اندر رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا تھاکہ جمعہ سال میں 52 بار آتا ہے اور ہولی صرف ایک بار ۔ اور اگر کسی کو ہولی سے کوئی مسئلہ ہو تو وہ اس دن گھر میں ہی رہیں۔
پیشہ ور پہلوان رہے چودھری فی الحال فیروز آباد کے اے ایس پی (رورل) ہیں۔ سنبھل تشدد کیس کے بعد انہیں ترقی دی گئی تھی۔
ایڈوکیٹ قمر حسین نے دی وائر سے بات کرتے ہوئے عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ اس کیس میں ایک سال سے زیادہ کا عرصہ گزر جانے کے بعد انصاف کی امید نظر آئی ہے۔
سنبھل ایس پی کے ایف آئی آر درج کرنے سے انکار پر جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا،’پولیس ایسا نہیں کر سکتی، انہیں مقدمہ درج کرنا ہی ہوگا۔ یہ عدالت کی طرف سے پاس کردہ ایک انٹرلوکیوٹری آرڈر ہے، یعنی عدالت نے ابھی کے لیے صرف تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ یہ اس کیس میں حتمی فیصلہ نہیں ہے۔’
انہوں نے مزید کہا،’اگر ایف آئی آر درج نہیں کی جاتی ہے، تو یہ توہین عدالت تصور کی جائے گی۔ یہ دلیل کہ تشدد کی عدالتی انکوائری پہلے ہی مکمل ہو چکی ہے، جس نے پولیس کی کارروائی کو برقرار رکھا، اور اس لیے ایف آئی آر درج نہیں کی جائے گی، قانونی طور پر قابل عمل نہیں ہے۔’