آزادی کے نعرے لگانا ملک سے غداری ہے، کریں گے سخت کارروائی: یوگی آدتیہ ناتھ

اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے شہریت ترمیم قانون کی حمایت میں منعقد ریلی کوخطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب تو ان لوگوں میں اتنی بھی ہمت نہیں رہی کہ خودتحریک کرنے کی حالت میں ہوں اس لیے اپنے گھر کی عورتوں کو چوراہے چوراہے پر بٹھاناشروع کر دیا ہے، بچوں کو بٹھاناشروع کر دیا ہے۔ اتنا بڑا جرم کہ مرد گھر میں سو رہا ہے رضائی اوڑھ کر اورعورتوں کو آگے کرکے چوراہے چوراہے پر بٹھایا جا رہا ہے۔

اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے شہریت ترمیم قانون کی حمایت میں منعقد ریلی کوخطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب تو ان لوگوں میں اتنی بھی ہمت نہیں رہی کہ خودتحریک کرنے کی حالت میں ہوں  اس لیے اپنے گھر کی عورتوں  کو چوراہے چوراہے پر بٹھاناشروع کر دیا ہے، بچوں کو بٹھاناشروع کر دیا ہے۔ اتنا بڑا جرم کہ مرد گھر میں سو رہا ہے رضائی اوڑھ کر اورعورتوں کو آگے کرکے چوراہے چوراہے پر بٹھایا جا رہا ہے۔

اتر پردیش کے وزیراعلی یوگی آدتیہ ناتھ (فوٹو : پی ٹی آئی)

اتر پردیش کے وزیراعلی یوگی آدتیہ ناتھ (فوٹو : پی ٹی آئی)

نئی دہلی: اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے شہریت ترمیم قانون (سی اے اے)مخالف مظاہرین  کے ذریعے لگائے جا رہے ‘آزادی’ کے نعرے کو ملک سے غداری  بتاتے ہوئے بدھ کو کہا کہ ان کی سرکار ایسے نعرے لگانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرےگی۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی دھرتی پر خاص طورپر اتر پردیش کی دھرتی پر میں یہ کہوں گا کہ دھرنا مظاہرہ  کے نام پر کشمیر میں جو نعرے کبھی آزادی کے لگتے تھے اگر اس طرح  کے نعرے لگانے کا کام کروگے تویہ  ملک سے غداری کے خانے میں آئےگا۔ پھر اس پر سخت  کارروائی کرنے کا کام  سرکار کرےگی۔ یہ منظور نہیں ہو سکتا ہے کہ بھارت کی دھرتی پر رہ کر بھارت کے خلاف سازش کرنے کی چھوٹ ہو۔

وہیں،سی اے اے  کے خلاف عورتوں کے احتجاج  پر یوگی آدتیہ ناتھ نے حملہ بولتے ہوئے بدھ کو کہا کہ کچھ لوگوں میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ خود تحریک کریں، اس لیے گھر کی عورتوں  اور بچوں کو چوراہوں پر بٹھا دیا ہے۔مرد گھر میں رضائی میں سو رہے ہیں اورعورتیں چوراہے پر ہیں۔کانپور کے ساکیت نگر واقع میدان میں بدھ کو سی اے اےکی حمایت میں منعقد ریلی کوخطاب کرتے ہوئے یوگی نے کہا کہ مظاہرہ کے نام پرتشدد کو برداش‍ت نہیں کیا جائےگا۔ انہوں نے کہا کہ اور اب تو ان لوگوں میں اتنی بھی ہمت نہیں رہی کہ یہ لوگ خودتحریک کرنے کی حالت میں ہو ں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ اگر یہ توڑ پھوڑ کریں گے تو انکی جائیداد ضبط کر لی جائےگی۔

انہوں نے کہا، ‘اپنے گھر کی عورتوں کو چوراہے چوراہے پر بٹھاناشروع کر دیا ہے، بچوں کو بٹھاناشروع کر دیا ہے۔ اتنا بڑا جرم کہ مرد گھر میں سو رہا ہے رضائی اوڑھ کر اور عورتوں کو آگے کرکے چوراہے چوراہے پر بٹھایا جا رہا ہے۔انہوں نے کانگریس، سماجوادی  پارٹی  اور لیفٹ پارٹیوں پر الزام لگایا کہ اپوزیشن محض سیاست کر رہی ہے اور احتجاج  کے لیے الگ الگ ہتھکنڈے اپنائے جا رہے ہیں۔ مخالفت کے نام پرعورتوں کو آگے کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا، ‘آپ جاکے پوچھیں ان سے کسی سے بھی کہ دھرنے پر کیوں بیٹھے ہیں تو کہتے ہیں کہ گھر کے مرد کہتے ہیں کہ ہم اتنے نااہل  ہو چکے ہیں کہ کچھ کر سکیں اس لیے تم دھرنے پر جاکر بیٹھ جاؤ۔ ان کے لیے ملک  اہم  نہیں ہے۔’وزیر اعلیٰ نے کہا، ‘میں پھر اس منچ سے کہوں گا کہ جمہوریت میں احتجاج اور مظاہرہ پرامن  طریقے سے میمورنڈم دینا سب کاحق ہے۔ لیکن، کوئی سرکاری املاک  کو، کاروباری اداروں  کو جلائےگا، توڑ پھوڑ کرےگا تو ہم اس کی جائیداد سے وصولی کرکے لے لیں گے اور آگے کے لیے ہم ان کو وہ سزا دیں گے کہ آنے والی پیڑھی انہیں یاد کرےگی کہ کیسے کام ہوتے ہیں۔سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کی قیمت کیا ہوتی ہے اس کے بارے میں ان کو 10 بار سوچنا پڑےگا۔’

(خبررساں ایجنسی  بھاشا کے ان پٹ کے ساتھ)