کیا وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنے جھوٹ پر کبھی شرمندگی نہیں ہوتی؟

گزشتہ دنوں گوا میں ایک بیان میں وزیر اعظم مودی نے پرتگالی راج سےمتعلق غلط تاریخی حقائق پیش کیے تھے۔ ان کے اس بیان کی صداقت پر سوال اٹھنا لازمی تھا، لیکن لگتا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ وزیر اعظم کے منہ سے نکلی بات کی کوئی تحقیق نہیں کرتا۔

گزشتہ دنوں گوا میں ایک بیان میں وزیر اعظم مودی نے پرتگالی راج سےمتعلق غلط تاریخی حقائق پیش کیے تھے۔ ان کے اس بیان کی صداقت پر سوال اٹھنا لازمی تھا، لیکن لگتا ہے کہ انہیں  یقین ہے کہ وزیر اعظم کے منہ سے نکلی بات کی  کوئی تحقیق نہیں کرتا۔

وزیر اعظم نریندر مودی ۔ (فوٹو بہ شکریہ: پی آئی بی)

وزیر اعظم نریندر مودی ۔ (فوٹو بہ شکریہ: پی آئی بی)

‘اگرچہ یہ پاگل پن ہےالبتہ  اس میں ایک طریقہ کارہے۔’- ہیملٹ، شیکسپیئر

جب گوا میں پرتگالی راج قائم ہوا تب  کیا ہندوستان کےاہم حصوں میں مغلوں کی حکومت قائم ہوئی تھی؟ چھ سو سال قبل ہونے والی اس پیش رفت پر حالیہ دنوں میں مین اسٹریم میڈیا میں ایک چھوٹی سی بحث چھڑ گئی۔ اس بحث کا پس منظر وزیر اعظم مودی کا گوا کا حالیہ دورہ تھا، جہاں انہوں نے اپنی  تقریر میں ایسا ہی دعویٰ کیا تھا۔

ویسےاس معاملے کی صداقت کو پرکھنے کے لیےتاریخ کی نصابی کتابوں میں اس کے بارے میں درج تفصیلات کافی تھیں، جس میں یہ بتایا گیاتھاکہ آلفونسو دی البوکرک (1453-1515) جو ایک پرتگالی جنگجوتھے انہوں نے 1510 میں گوا کا کنٹرول سنبھالا، جبکہ بابر (1483-1530) نے پانی پت کی جنگ میں ابراہیم لودھی کو شکست دے کر ایک طرح سے مغلیہ سلطنت کی بنیاد ڈالی تھی۔

ممکن ہےاس بھونڈی  غلطی کو لے کرمودی کی تقریرلکھنے  والوں کے معیار پر نئے سرے سے سوال اٹھیں، جنہوں نے ممکنہ طور پراپنی سستی میں، حقائق کی صداقت کو پرکھنے کی زحمت بھی نہیں اٹھائی ،یا شاید رفتہ رفتہ انہیں یہ بھروسہ ہوگیا ہو کہ وزیر اعظم مودی کی زبان سے جو بھی نکلے، اس کی چھان بین کوئی نہیں کرتا۔

بات جو بھی ہو،سچائی سے بالکل پرے اس بیان نے 130 کروڑ کی آبادی والے وزیر اعظم کی امیج روشن تونہیں کی ہوگی، جب یہ خبر نہ صرف پرنٹ، الکٹرانک میڈیا بلکہ سوشل میڈیا کے ذریعے بھی باہر پہنچی ہوگی۔

بہرحال سولہ سال کا یہ وقفہ بہت معمولی لگ سکتا ہے، اگر ہم دو سال قبل کے وزیر اعظم مودی کے مگہر کے دورہ کی تفصیلات پر نظر ڈالیں۔یہاں دلادوں کہ مگہر یوپی کا شہر ہے، جہاں سنت کبیر نے آخری سانسیں لی تھی۔

مگہر کے اس دورہ  میں جناب مودی نے دراصل ایک اور بڑی چھلانگ لگائی جب انہوں نے تقریباً پانچ سو سال کےعرصہ کو ایک لمحے میں سمیٹ لیا۔ کبیر کے 620ویں یوم پیدائش پر وہاں پہنچے جناب وزیر اعظم نےیہ کہہ کر لوگوں کو تقریباً حیران کر دیا کہ ‘بابا گورکھ ناتھ (11ویں صدی)، کبیر(398-1518) اور نانک دیو (1469-1539)  تینوں  ایک ساتھ بیٹھ کر ‘روحانیت’پر تبادلہ خیال کیا کرتے تھے۔

وزیراعظم کے ہرجھوٹ کے لیے ہمیشہ ان کی تقریر لکھنے والوں کو موردِ الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ جبکہ ان کے اس طرح کے دعووں کی سرخیاں بنے اور اس طرح کے من گھڑت دعووں کا مذاق بھی اڑے۔

ماہرین بتا سکتے ہیں کہ ایسے بیان دینا، جو حقائق کی کسوٹی پر کھرے نہ اترتے ہوں ، کوئی نئی پیش رفت نہیں ہے، جو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے والے ہندوستان جیسے ملک کے وزیر اعظم بننے کے بعد سامنے آیا ہو۔

اگر کوئی چاہے تو ان کے وزیر اعلیٰ رہنے کے دوران کے ایسے بیان کی چھان بین کر سکتا ہے جہاں وہ ‘حقیقت سے دور غلط’باتیں کرتے نظر آتے ہیں۔

مثلاً،  ایک ہسپتال کے افتتاح کے موقع پر (2013)میں گجرات میں اپنی تقریر میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ ‘شیاما پرساد مکھرجی،’گجرات کے عظیم سپوت تھے اور جنہوں نے لندن میں انڈیا ہاؤس کی تعمیر کی تھی’۔ انہوں نے مزید کہا تھاکہ  گجرات کا یہ عظیم سپوت  وویکانند اور دیانند سرسوتی کے ساتھ مستقل رابطے میں تھا۔

ویسے حقیقت یہی تھی کہ یہاں وہ شیاما پرساد مکھرجی نہیں گجرات کے کچ مانڈوی کے رہنے والے شیام جی کرشن ورما (پیدائش- اکتوبر 1857)کی بات کر رہے تھے، جو ہندوستان کے انقلابی تھے، وکیل تھے، صحافی تھے اور وہ بعد میں یورپ میں رہائش پذیر ہوگئے تھےاور وہیں 1930 میں جنیوا میں انتقال کر گئے۔ لندن میں انہوں نے جو ‘انڈیا ہاؤس’ بنایا تھا وہ ہندوستان کے انقلابیوں کی پناہ گاہ بن گیا تھا۔

ممکن ہے کوئی مبصر اس فرق یا نام کی تبدیلی کے بارے میں یہ کہہ دے کہ زبان تو کسی کی بھی پھسل جاتی ہے اوراس کے بارے میں  کیا بات کی جائے!

اگر اس کو مان لیا جائے تو وہ مختلف اسمبلی اور کانفرنسوں میں ان کے اُن بیانات کے بارے میں کیا کہیں گے، جن میں ان کے ‘زریں خیالات’ بکھرےملتے ہیں، جو بعض اوقات صاف طور پر حقیقت سے پرے نظر آتے ہیں۔

مثال کے طور پر، پٹنہ ریلی (2013) میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ سکندر (356 قبل مسیح – 323قبل مسیح)بہار پہنچاتھا اور بہاریوں نے اسےشکست دی تھی-یہ الگ بات تھی  کہ سکندر  نے کبھی گنگا پار نہیں کیا تھا۔

اسی طرح اسی تقریر میں انہوں نے ٹیکسلا کو بہار واقع بتایا، جبکہ یہ پاکستان میں ہے۔اتنا ہی انہوں نےعظیم چندرگپت موریہ(عیسوی319-467) کا نام گپتا خاندان (قبل مسیح قبل مسیح321-297)کے ساتھ جوڑ دیا۔

یقینی طورپر جب کوئی شخص اکثر ایسی باتیں کہتا ہے جو حقائق سے مطابقت نہیں رکھتیں اور گودی میڈیا ان کی قصیدہ خوانی میں مصروف رہتا ہے تواس کا سلسلہ بڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔

ویسے ہم قطعی یہ نہیں کہہ سکتے کہ حقیقت سے دور ان کےہر بیان کو بھول جانے یا پھسلنے کے زمرے میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ آپ غور کریں گے کہ اپنے منتخب  الفاظ/ جملوں یا اپنی باتوں کے ذریعے وہ اپنے’ ایجنڈے’ سے متعلق باتوں کے لیے اتفاق رائے تیار کر رہے ہوتے ہیں۔

پہلی بار وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد پارلیامنٹ کے فلور پر ووٹ آف تھینکس کے نام پرانہوں نے جو بیانات  دیےاسی کو یاد کریں۔اس میں انہوں نے ‘بارہ سو سال کی غلامانہ ذہنیت’ کی بات کہی تھی۔

عام ہندوستانی بچپن سے یہ سنتا آیا تھا کہ ہندوستان ‘دو سو سال کی غلامی’ میں رہا ہے، جس سے مراد انگریزوں کے دو سو سال کا دور ہے۔ اب اس مدت کو 1200 سال تک بڑھاتے ہوئے جناب مودی تاریخ کو دیکھنے کے اپنے نقطہ نظر کو متاثر کرتے نظر آئےتھے۔

ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ سنگھ پریوار کے دانشوروں میں یا اس کی اپنی کتابوں میں پیش کی گئی یہ بات راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کی سوچ کا جزلاینفک ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ اس دوران آئے حملہ آور بادشاہوں میں سے تمام مسلم حکمراں تھے۔ 200 سال کے بجائےغلامی کو1200 سال تک بڑھاتا ہوا مودی کایہ  بیان اس حقیقت کو یکسر نظر انداز کرتا ہے کہ انگریزوں نے ہندوستان کو اپنا گھر نہیں بنایا، جبکہ اس سے پہلے باہر سےآنے والے تمام حملہ آوروں نے اس کو اپنا ملک بنایا، ملک کی ثقافت کی ترقی میں کردار ادا کیا؛جس نے ملک میں گنگا جمنی تہذیب کو جنم دیا۔

اسی طرح ان کےاس دعوے کو بھی دیکھیں کہ جواہر لعل نہرو نے سردار ولبھ بھائی پٹیل کی آخری رسومات میں شرکت نہیں کی(2013)، اس غلط بیانی کو لے کرکانگریسی لیڈروں کے ردعمل سےلے کراخبارات میں اتنا کچھ شائع ہوا، اتنے سارے شواہد پیش کیے گئے کہ انہیں اپنی بات پر افسوس کاا ظہار کرنا پڑا۔

کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ ان کے ایسے بیانات غلطی سےسرزد  ہو گئے ہوں گے، وہ اتنے بڑے تاریخی حقائق سے لاعلم ہوں گے یا اس کے پیچھے کوئی مقصد ہو گا؟ ظاہر ہے کہ نہرو کو پٹیل کی مخالفت میں کھڑا کرنے کی یہ سوچ نہ صرف حقائق سے پرے ہے بلکہ اس کے پیچھے خود سنگھ کے ایجنڈے کو ہی رفتہ رفتہ آگے بڑھانے کی کوشش  ہے۔

ویسےحقائق کیا کہتے ہیں؟

پٹیل نے خوداس بات کا اندازہ لگاتے ہوئے کہ مفاد پرستوں کے ذریعے ان کے اور نہرو کے درمیان دراڑ پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی، اپنی موت سے صرف تین ماہ قبل 2 اکتوبر 1950 کو کہا:

ہمارے لیڈر جواہر لال نہرو ہیں۔ باپو نے اپنی زندگی میں ہی انہیں اپنا وارث مقرر کیا اور اس کا اعلان بھی کیا۔ باپو کے سپاہیوں کا فرض ہے کہ وہ اس کو مانیں۔ جو کوئی اس کو دل سے نہیں مانے گا وہ خدا کے نزدیک گنہگار قرار پائے گا۔ میں بے وفا سپاہی نہیں ہوں۔ میرے لیے یہ اہم نہیں ہے کہ میری جگہ کہاں ہے، میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ میں اس جگہ پر ہوں جہاں کھڑا رہنے کے لیے باپو نے مجھے کہا تھا ۔

 (Translated from: Pyarelal, Purnahuti, Chaturth Khand, Navjeevan Prakashan, Ahmedabad, p. 465)

پنڈت نہرو کے ساٹھ سال مکمل ہونے پر تیار کی گئی کتاب ‘نہرو ابھینندن گرنتھ”اے برتھ ڈے بک’ (1949) میں اپنے مضمون میں انہوں نے ملک کے محبوب، عوام کے ہیرو اور ان کے رہنما کے طور پرنہرو کی اہمیت کے بارے میں بات کی تھی اور نہرو کو ایک ایسے شخص کے طور پرپیش کیا تھا، جو مفاد پرستوں  کی رائے کے برعکس لوگوں کی صلاح لینے کے لیے ہمیشہ تیار رہتے ہیں:

Contrary to the impressions created by some interested persons and eagerly accepted in credulous circles, we have worked together as lifelong friends and colleagues, adjusting ourselves to each other’s point of view as the occasion demanded and valuing each other’s advice as only those who have confidence in each other can

(…کچھ مفاد پرستوں کے ذریعے بنائی گئی رائے اور اس پر بھروسہ کرنے والے حلقوں کے برعکس ہم نے پوری زندگی دوست اور ساتھی طور پرایک ساتھ  کام کیا ہے،وقت کے تقاضوں کے مطابق خود کو ایک دوسرے کے نقطہ نظر کے ساتھ ڈھالاہے اورایک دوسرے کی صلاح کو اس طرح لیا ہے، جیسا آپس میں ایک دوسرے پر بھروسہ کرنے والے لوگ کرتے ہیں…)

غور کریں  گے کہ خواہ غلطی سے یا شعوری طور پرکہیں، واقعات، افراد، برادریوں کے بارے میں حقائق سے ہٹ کر بیان دینے کا یہ سلسلہ صرف قدیم یا قرون وسطی کے ماضی تک محدود نہیں ہے،  یہ سلسلہ ہمارے ماضی قریب اور حال کواجاگر کرتے نظر آتے ہیں۔

مثلاً کیا آج کوئی یہ یاد کرنا چاہے گا کہ جناب مودی نے نوٹ بندی کو کس طرح پیش کیا تھا، کس طرح انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ معیشت کے تمام بحرانوں کواس سے دور کیا جائے گا، کالا دھن ختم ہو جائے گا، کشمیر سے دہشت گردی کا خاتمہ ہو جائے گا، وغیرہ۔اور کیسے اس تغلقی فرمان نےمعیشت کو ہی زبردست جھٹکا دیا، جس پرنظرثانی کرنے کی بھی  ضرورت انہیں محسوس نہیں ہوتی۔

یا کس طرح جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے حق میں قوم کےنام اپنے خطاب میں انہوں نے بتایا تھا کہ کیسے اس دفعہ کا جاری رہنا ریاست کی ترقی میں رکاوٹ ہے- یہ  متنازعہ دعویٰ بھی کیاتھا جموں و کشمیر کس طرح صحت کے لحاظ سے اور تعلیم کے معاملے میں دوسری ریاستوں سے پسماندہ ہے، جبکہ حقیقت اس کے برعکس تھی۔

آپ کو یاد ہوگا کہ جب نیشنل رجسٹر آف سٹیزن  اور شہریت قانون (این آر سی اور سی اےاے) کو لے کر بڑے پیمانے پر احتجاج ہوا تھا تو ملک کے مختلف حصوں میں شاہین باغ کے متوازی دھرنے شروع ہوئے تھے – جس میں مسلم خواتین، طلبا، نوجوان اور جمہوری قوتوں کی زبردست  شمولیت دیکھنے کو ملی تھیں۔تب مودی نے دہلی میں ایک جلسہ عام میں اعلان کیا کہ ان کی کابینہ نے کبھی این آر سی وغیرہ کی بات نہیں کی، جبکہ اس بات کے تمام ثبوت موجود تھےکہ ان کے ساتھی امت شاہ اور دیگر نےپارلیامنٹ کے فلور پر کس طرح  اس معاملے کو آگے بڑھایا تھا؟

اسی قسم کا جناب مودی کا ایک اور دعویٰ تھا کہ الیکٹورل بانڈز شفافیت کو فروغ دیں گے جبکہ آج بالکل  برعکس تصویر سامنے ہے یا چین کی جانب سے ہندوستانی سرزمین پر قبضہ کرنے کے بارے میں حملہ کو لے کر- جس کے تمام ثبوت عوامی طور پر دستیاب ہیں- مودی آج  بھی مانتے ہیں کہ چین کہیں گھسا نہیں ہے۔

ویسےحقیقت سے پرےایسی تمام باتیں- جو 130 کروڑ سے زیادہ آبادی والے اس ملک کے وزیر اعظم کے منہ سے نکلتی ہیں، انہیں ہم کس  طرح دیکھ سکتے ہیں؟

کیا ہم یہ مان لیں کہ ہر سیاستدان عوام کے سامنے اسی انداز میں بات کرتا ہے یا ہم گزشتہ صدی کی تیس اور چالیس کی دہائیوں میں سامنے آنے والے آمرانہ تجربوں میں- جنہوں نے بڑے پیمانے پر تباہی کو انجام دیا-اس میں گوئبلز جیسی حکمت عملی کا اضافہ کرکے دیکھیں اور کہیں کس طرح بار بار دہرایاگیا  جھوٹ  سچ جیسا دکھنے لگتا ہے۔

لیکن میرے خیال میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ نہ صرف عام لوگ بلکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ کہے جانے والے لوگ بھی حقیقی صورتحال اور اس طرح کے دعووں کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو کس طرح خاموشی سے قبول کرتے جاتے ہیں،سوال پوچھے بغیرہضم کرجاتے ہیں۔ یہی نہیں فکشن کے زمرے میں شمار ایسی تمام باتوں کو اپنے دوستوں، اہل خانہ، ساتھیوں کے بیچ آسانی سے شیئر کر تے جاتے  ہیں،گویا یہ حب الوطنی کا کام ہو۔

یقیناً اس مسئلے  پر طرح طرح کے سروکار کے سوال اٹھ رہے ہیں، لوگ پوچھ رہے ہیں کہ ہندوستان کس طرح ‘جھوٹ کی آگ زنی ‘کا سامنا کر رہا ہے اور اس کے بارے میں کیا کیا جانا چاہیے؟

دراصل ہم امریکہ کے سابق صدر کے دور میں ہی اس بارے میں ہوئے مباحث کو نئے سرے سے دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح ناقدین نے ٹرمپ کے ہر بیان یا ہر سیڈو بیان کی تشریح کی ہے اور یہ سمجھا یاکہ آخرلوگ جھوٹ کو کتنی تیزی سے قبول کرلیتے ہیں۔

ہم پرانے اخباروں پر نظر ڈال سکتے ہیں کہ تجزیہ کاروں نے بھی ٹرمپ کے جھوٹ کی پیمائش کرنے کا ایک طریقہ تیار کیاتھااور ان کی مدت کے اختتام پر بتایا کہ انہوں نے ان چار سالوں میں 30573 بار جھوٹ بولا، جس کا مطلب ہے کہ وہ اوسطاً ہر روز21 بار غلط دعوے کرتے تھے۔

یہاں ہم ٹرمپ کے جھوٹ  کا ایک نمونہ پیش کررہے ہیں، جسے انہوں نے بڑی دلیری سے امریکی عوام کے سامنے پیش کیا:

‘…براک اوباما اسلامک اسٹیٹ کے بانی رہے ہیں۔ ٹیکساس کےگورنر ٹیڈ کروز کے والد جان ایف کینیڈی کےقتل کی سازش میں ملوث تھے؛ انہوں نے ہزاروں مسلمانوں کو نیو جرسی میں 9/11 کے دہشت گردانہ حملوں کا جشن مناتے دیکھا؛ یا وہ الیکشن جیتے(جبکہ وہ 25 لاکھ ووٹوں سے الیکشن ہار گئے تھے۔)

جانکار لوگ جنہوں نے ٹرمپ کے بیانات اور تقاریر کا جائزہ لیا ہے، انہوں  نے اس کی وضاحت اس طرح کی ہے۔

ان کے مطابق  اگر جھوٹ پر یقین کیا جانا ہے تو جھوٹ بولنے والے پر پہلے بھروسہ مضبوط ہونا چاہیے؛ آخر لوگ جھوٹ پر یقین کیوں کرتے ہیں؟ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ اسےسمجھنا آسان ہے۔

یہ اس وجہ سے ہوتا ہے کہ انسان قابو میں رہنا چاہتا ہے؛ تیسرے، لوگ جھوٹ پر تبھی یقین کرتے ہیں جب وہ اپنےآپ  کو نازک صورتحال میں پاتے ہیں؛ لوگوں کا اپنی زندگی پر جتنا کنٹرول کم ہوتا ہے، وہی وہ  دماغی کثرت کے ذریعے اسے بحال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور پھر ڈونالڈ ٹرمپ آتے ہیں، جو جھوٹ پھیلانے کے لیے بدنام ہیں، اس  نے تمام لوگوں کے تخیل پر قابو پالیا،  جو اپنے ماضی، حال اور مستقبل کے بارے میں خود کو ایک نازک پوزیشن میں پارہے تھے۔

کیا توقع کی جانی چاہیے کہ ہندوستان میں بھی ایسا سلسلہ تیز ہو گا، جو بغیر کسی ہچکچاہٹ یا ہچک کے ایسی متوازی تحقیقات شروع کر دے گا، جیسا کہ ٹرمپ کے دورِ اقتدار کے ابتدائی دور میں اخباروں وغیرہ نے کیا تھا۔

کہا جاتا ہے کہ ؛

The price of democracy is eternal vigilance

یعنی مسلسل نگرانی جمہوریت کی پیشگی شرط ہوتی ہے۔ آج اس کی اہمیت از سرنو موزوں ہو اٹھی  ہے۔

(مضمون نگار سماجی کارکن اور مفکر ہیں۔)