اسرائیلی اور ہندوستانی فلمساز، صحافی، ماہرین تعلیم اور کارکنوں نے ایک خط میں ہندوستان کے سینٹرل فلم سرٹیفیکیشن بورڈ کی جانب سے فلم ’دی وائس آف ہند رجب‘ پر پابندی کو جائز ٹھہرانے کے لیے ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات کا حوالہ دینے کی سخت مذمت کی ہے۔ خط میں ہندوستان اور اسرائیل میں تکثیریت، جمہوریت اور اظہار رائے کی آزادی کو بنائے رکھنے کی اپیل بھی کی گئی ہے۔
دی وائس آف ہند رجب فلم کا ایک منظر۔ تصویر: اسکرین گریب/میڈمین فلمز۔
نئی دہلی: ہندوستان، اسرائیل اور دیگر ممالک کے 90 سے زائد فلمسازوں، صحافیوں، ماہرین تعلیم اور کارکنوں نے آسکر ایوارڈ یافتہ دستاویزی فلم ’
دی وائس آف ہند رجب‘پر ہندوستان میں لگائی گئی پابندی کی مذمت کرتے ہوئے ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ پابندی’فلسطینی اور ترقی پسند اسرائیلی آوازوں پر ہندوستانی سنسرشپ کے ایک تشویشناک رجحان کو آگے بڑھاتی ہے۔‘
اس بیان پر دستخط کرنے والوں میں ہندوستانی اداکار نصیرالدین شاہ اور رتنا پاٹھک شاہ، فلمساز میخال اویاد، پائل کپاڑیہ، ایلان زیو اور آنند پٹ وردھن، نیز ماہرین تعلیم عقیل بلگرامی، لن سیگل اور جے پی لو شامل ہیں۔
اس سے پہلے ہندوستانی پارلیامنٹ کے کچھ اراکین نے وزیر اطلاعات و نشریات اشونی ویشنو کو خط لکھ کر اس پابندی پر
سوال اٹھائے تھے۔ اراکین پارلیامنٹ نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری مداخلت کرے اور سی بی ایف سی کو ہدایت دے کہ فلم کا جائزہ اظہار رائے کی آزادی سے متعلق آئینی اصولوں کے مطابق لیا جائے۔
واضح ہو کہ یہ فلم ایک حقیقی واقعہ پر مبنی ہے، جس میں غزہ میں اسرائیلی فوج کے حملے کے دوران ایک کار میں پھنسی پانچ سالہ فلسطینی بچی کی موت ہو گئی تھی۔ فلم پر پابندی کے حوالے سے ہدایتکار سمیت کئی افراد نے ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات کی ’حساسیت‘ پر سوال اٹھائے ہیں۔
پورا بیان ذیل میں پیش ہے؛
§
فلم ’دی وائس آف ہند رجب‘ پر پابندی ہندوستان اور اسرائیل دونوں کی اظہار رائے کی آزادی کے لیے خطرہ ہے
ہم، الگ الگ پس منظر سے تعلق رکھنے والے اسرائیلی، ہندوستانی، فلمساز، صحافی، ماہرین تعلیم اور کارکنان ہیں۔ ہم ہندوستان اور اسرائیل میں تکثیریت، جمہوریت اور اظہار رائے کی آزادی کی حمایت میں یہ خط لکھ رہے ہیں۔ یہ حمایت یہودیوں اور فلسطینیوں دونوں کے لیے ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہم سینٹرل فلم سرٹیفیکیشن بورڈ (سی بی ایف سی) کی جانب سے فلم ’دی وائس آف ہند رجب‘ پر
پابندی کو جائز قرار دینے کے لیے ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات کا حوالہ دینے کی سخت مذمت کرتے ہیں۔
یہ پابندی فلسطینی اور ترقی پسند اسرائیلی آوازوں پر ہندوستانی سنسرشپ کے ایک تشویشناک رجحان کو آگے بڑھاتی ہے۔ جنوری میں اینات ویزمین اور ایک اسرائیلی تھیٹر گروپ کو کیرالہ کے بین الاقوامی تھیٹر فیسٹیول میں شرکت کے لیے ویزا دینے سے
انکار کر دیا گیا تھا۔ اور گزشتہ سال دسمبر میں، مرکزی حکومت نے کیرالہ انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں ’آل دیٹس لیفٹ آف یو‘ اور ’ونس اپان اے ٹائم ان غزہ‘ سمیت کئی فلسطین حامی فلموں پر
سنسرشپ نافذ کی۔ ہم اس پابندی کے اظہار رائے کی آزادی پر اثرات کے حوالے سے، نہ صرف ہندوستان بلکہ اسرائیل میں بھی، تین اہم نکات پیش کرنا چاہتے ہیں۔
اول، یہ پابندی اظہار رائے کی آزادی پر واضح طور پر ایک غیر قانونی حملہ ہے، جسے ہندوستان کے آئین کے
آرٹیکل 19 کے تحت تحفظ حاصل ہے۔ رام لیلا میدان معاملے میں سپریم کورٹ نے
کہا تھا کہ اظہار رائے کی آزادی پر پابندی صرف آرٹیکل 19 کے تحت ہی لگائی جا سکتی ہے، اور ایسی پابندی ’معقول‘ ہونی چاہیے، یعنی ’من مانی سے پاک‘، ’مقصد سے براہ راست متعلق‘ اور ’محدود کیے گئے حق اور سماجی ضرورت کے متناسب‘ ہونی چاہیے۔
بورڈ کا یہ دعویٰ کہ فلم کی نمائش ہندوستان اوراسرائیل تعلقات کو ’نقصان پہنچا‘ سکتی ہے، ان تینوں کسوٹی پر پورا نہیں اترتا۔ یہ من مانی ہے، بورڈ نے ’120 بہادر‘ یا ’دی بنگال فائلز‘ جیسی فلموں پر پابندی لگانے کی ضرورت محسوس نہیں کی، حالانکہ وہ بھی غیر ملکی تعلقات کو متاثر کر سکتی تھیں۔ اس کا کسی ایسے تعلق سے کوئی ’براہ راست‘ واسطہ نہیں، جو بنیادی طور پر معاشی، دفاعی اور تزویراتی بنیادوں پر قائم ہے۔ اور یہ سمجھنا مشکل ہے کہ فلموں کو سرٹیفیکیشن سے محروم کرنا کسی بھی ایسی خارجہ پالیسی کی ’سماجی ضرورت‘ کو حاصل کرنے کا متناسب ذریعہ کیسے ہو سکتا ہے، جسے حقیقت میں حاصل کیا جا سکے۔
دوم، سیلف سنسرشپ ایک شیطانی دائرہ ہے۔ یہ دوسروں کو بھی مستقبل میں اسی طرح کی سیلف سنسرشپ کی توقع رکھنے کے لیے تحریک دیتا ہے۔ ان واقعات سے پہلے، ممکنہ طور پر اسرائیل نے ہندوستان میں فلم سرٹیفیکیشن کے حوالے سے فکر کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی ہوگی۔ لیکن اب ہندوستان حکام نے یہ اشارہ دے دیا ہے کہ وہ غیر ملکی طاقتوں کے مفاد میں فلموں کو سنسر کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اگرچہ سیلف سنسرشپ اکثر شخصی سطح پر ہوتی ہے، لیکن ’پیشگی اطاعت‘ کی یہی منطق ریاستی تعلقات پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، وہ ریاستیں اور افراد جو اظہار رائے کی آزادی کے لیے اصولی وابستگی دکھاتے ہیں، بالآخر اپنے مفادات کا بھی تحفظ کرتے ہیں۔ اس سے دوسرے فریق یہ سمجھتے ہیں کہ اظہار رائے کی آزادی کے حدود کو عبور کرنے کی قیمت زیادہ ہے، اور اس لیے وہ ایسے مطالبات کرنے سے گریز کرتے ہیں۔
سوم، یہ پابندی نہ صرف ہندوستان بلکہ اسرائیل میں بھی اظہار رائے کی آزادی کو خطرے میں ڈالتی ہے۔ جو حکومتیں دیگر حکومتوں کے لیے غیر موافق مواد کو سنسر کرتی ہیں، وہ عموماً اسی طرح کی توقعات بھی رکھتی ہیں۔ اسرائیل کی عوام اور حکومت دونوں ہی ہندوستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو بہت اہمیت دیتی ہیں۔ ہندوستانی حکام نے یہ ظاہر کر دیا ہے کہ ان کی ’دوستی‘ کا تصور اقتدار میں موجود حکومت کو خوش رکھنے تک محدود ہے، یہاں تک کہ اس کے سنگین جرائم کو بے نقاب کرنے والی فلموں کو بھی سنسر کرنے تک۔ ایسا رویہ اسرائیل میں اظہار رائے کی آزادی کو کمزور کرے گا، جو پہلے ہی خطرے میں ہے، خاص طور پر فلسطینی شہریوں اور جنگ مخالف آوازوں پر پولیس کارروائیوں کے باعث۔
سات مارچ کو تل ابیب اور حیفہ میں جنگ مخالف مظاہرین پر پولیس نے
پرتشدد کارروائی کی۔ گزشتہ سال نومبر میں، رائفلوں سے لیس پولیس نے اسرائیل میں فلسطینیوں اور یہودیوں کے قبضے اور جنگ مخالف سب سے بڑی زمینی تحریک ’اسٹینڈنگ ٹوگیدر‘ کے قومی اجتماع پر
چھاپہ مارا۔ اسی ماہ، حکومت نے متحدہ عرب امارات کے سفارت خانے کے باہر سوڈانی کارکنوں کے مجوزہ مظاہرے پر پابندی کا دفاع اس بنیاد پر کیا کہ اس سے ’غیر ملکی تعلقات کو نقصان‘ پہنچ سکتا ہے۔ ہم دوطرفہ تعلقات کے اس ماڈل کو نہ صرف ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان بلکہ اصولی طور پر بھی مسترد کرتے ہیں۔ یہ بین الاقوامی تعاون یا دوستی کو فروغ دینے میں کوئی مثبت کردار ادا نہیں کرتا، بلکہ صرف رد عمل پسند حکومتوں کے مفادات کی تکمیل کرتا ہے، جو اپنے شہریوں کے سامنے سنسرشپ کو جائز نہیں ٹھہرا پاتیں اور اس لیے ’دوست ممالک‘ کی مبینہ حساسیت کا سہارا لیتی ہیں۔
فلمساز ڈیوڈ بورینسٹین نے اپنی ڈاکیومنٹری ’مسٹر نوبڈی اگینسٹ پوتن‘ کے لیے اکیڈمی ایوارڈ قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی فلم اس بارے میں ہے کہ چھوٹے چھوٹے سمجھوتوں کے ذریعے ’آپ اپنا ملک کیسے کھو دیتے ہیں‘۔ گزشتہ سال، بہترین ڈاکیومنٹری کا ایوارڈ جیتنے والی ’نو ادر لینڈ‘ بھی اسرائیلی تقسیم کاروں کے ذریعے عملی طور پر سنسرشپ کا شکار بنی۔ اور جب عوامی توجہ سوشل میڈیا کی فوری تسکین میں الجھ جاتی ہے، تو اختلافی آوازوں پر سنسرشپ اور بھی خطرناک ہو جاتی ہے۔
بدقسمتی سے، عالمی سطح پر ہندوستان اور اسرائیل دونوں جمہوری زوال کی اگلی صف میں کھڑے ہیں۔ اس صف میں شامل حکومتوں نے اپنے اپنے ممالک میں اختلاف کو دبانے کے لیے باہمی تعاون سیکھ لیا ہے۔ ہم اس خط کے ذریعے ایک مختلف قسم کی بین الاقوامی یکجہتی کو فروغ دینا چاہتے ہیں، جو حکومتوں کے درمیان نہیں بلکہ لوگوں کے درمیان ہو، اور جو آزادی، انصاف اور مساوات کے حق میں کھڑی ہو۔
OOO
پورا خط اور دستخط کنندگان کے نام ذیل میں پڑھے جا سکتے ہیں؛
The Voice of Hind Rajab Letter by
The Wire