خامنہ ای کے قتل پر ہندوستان کی خاموشی غیر جانبداری نہیں، بلکہ ذمہ داری سے فرار اختیار کرنا ہے: سونیا گاندھی

سابق کانگریس صدر اور راجیہ سبھا ایم پی سونیا گاندھی نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ‌ ای کے ہدفی قتل پر مودی حکومت کی خاموشی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جب کسی غیر ملکی رہنما کی ٹارگٹڈ ہلاکت پر ہندوستان خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کا واضح دفاع نہیں کرتا، تو یہ  خارجہ پالیسی کی ساکھ پر سوالیہ نشان لگاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے میں خاموشی غیر جانبداری نہیں ہے۔

سابق کانگریس صدر اور راجیہ سبھا ایم پی سونیا گاندھی نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ‌ ای کے ہدفی قتل پر مودی حکومت کی خاموشی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جب کسی غیر ملکی رہنما کی ٹارگٹڈ ہلاکت پر ہندوستان خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کا واضح دفاع نہیں کرتا، تو یہ  خارجہ پالیسی کی ساکھ پر سوالیہ نشان لگاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے میں خاموشی غیر جانبداری نہیں ہے۔

سونیا گاندھی۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

نئی دہلی: کانگریس رہنما سونیا گاندھی نے منگل (3 مارچ) کو مودی حکومت کو شدیدتنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ‌ای کی ہدفی ہلاکت پر ہندوستان کی خاموشی غیر جانبداری نہیں بلکہ ذمہ داری سے فرار اختیار کرنا ہے۔ انہوں نے کہا اس سے ہندوستان کی خارجہ پالیسی کے موقف اور ساکھ پر سنگین سوال کھڑے ہوتے ہیں۔

سابق کانگریس صدر نے مطالبہ کیا کہ پارلیامنٹ کے بجٹ اجلاس کے دوسرے مرحلے میں بین الاقوامی نظام کے ٹوٹنے اوربکھرنے پر حکومت کی ‘تشویشناک خاموشی’  پر کھلی اور واضح بحث ہونی چاہیے۔

انڈین ایکسپریس میں شائع ایک مضمون میں گاندھی نے کہا کہ ہندوستان کو اپنی اخلاقی قوت کو پھر سے پہچاننے اور اسے وضاحت اور عزم کے ساتھ ظاہر کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے لکھا کہ 1 مارچ کو ایران نے تصدیق کی کہ اس کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ‌ای ایک دن پہلے امریکہ اور اسرائیل کے ہدفی حملوں میں ہلاک کر دیے گئے۔ جاری مذاکرات کے دوران کسی موجودہ سربراہ مملکت کا قتل معاصر بین الاقوامی تعلقات میں ایک سنگین دراڑ کی نشاندہی کرتا ہے۔

گاندھی نے کہا کہ اس واقعہ کے جھٹکے سے ہٹ کر جو بات اتنی ہی نمایاں ہے وہ نئی دہلی کی خاموشی ہے۔ ہندوستانی حکومت نے نہ تو اس قتل کی مذمت کی اور نہ ہی ایران کی خودمختاری کی خلاف ورزی پر کوئی واضح موقف اختیار کیا۔

انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ابتدا میں امریکی-اسرائیلی حملوں کو نظرانداز کرتے ہوئے صرف متحدہ عرب امارات پر ایران کی جوابی کارروائی کی مذمت کی، جبکہ اس سے پہلے کے واقعات پر کچھ نہیں کہا۔ بعد میں انہوں نے ‘گہری تشویش’ اور ‘مکالمے اور سفارت کاری’ کی بات کہی، حالانکہ یہ عمل تو حملوں سے پہلے جاری تھا۔

گاندھی نے کہا کہ جب کسی غیر ملکی رہنما کی ہدفی ہلاکت پر ہندوستان خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کا واضح دفاع نہیں کرتا تو یہ خارجہ پالیسی کی ساکھ پر سوالیہ نشان لگاتا ہے۔ انہوں نے کہا،’اس معاملے میں خاموشی غیر جانبداری نہیں ہے۔’

انہوں نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 2(4) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی ریاست کی علاقائی سالمیت یا سیاسی آزادی کے خلاف طاقت کا استعمال یا اس کی دھمکی ممنوع ہے، اور کسی برسراقتدار سربراہ مملکت کی ہدفی ہلاکت ان اصولوں پر براہ راست حملہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر اس طرح کے اقدامات دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی جانب سے اصولی اعتراض کے بغیر قبول کر لیے جاتے ہیں، تو بین الاقوامی معیارات کے زوال کو معمول بنانا آسان ہو جاتا ہے۔

گاندھی نے یہ بھی کہا کہ یہ قتل ایسے وقت میں ہوا جب وزیر اعظم اسرائیل کے دورے سے واپس آئے تھے، جہاں انہوں نے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی حکومت کے تئیں حمایت کا اعادہ کیا تھا، جبکہ غزہ تنازعہ میں عام شہریوں کی موت، جن میں خواتین اور بچوں تھے – کی وجہ سے دنیا بھر میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے وقت میں، جب گلوبل ساؤتھ کے کئی ممالک، بڑی طاقتیں اور برکس میں ہندوستان کے شراکت دار — جیسے روس اور چین — فاصلہ اختیار کیے ہوئے ہیں، ہندوستان کی جانب سے بغیر اخلاقی وضاحت کے اعلیٰ سطحی سیاسی حمایت ایک واضح اور تشویشناک تبدیلی ہے۔

گاندھی نے کہا کہ کانگریس نے ایران کی سرزمین پر بمباری اور ہدفی ہلاکتوں کی واضح مذمت کی ہے اور اسے علاقائی و عالمی امن کے لیے خطرناک قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا، ‘ہم نے ایران کے عوام اور دنیا بھر کی شیعہ برادریوں سے تعزیت کا اظہار کیا ہے اور یہ اعادہ کیا ہے کہ ہندوستان کی خارجہ پالیسی تنازعات کے پرامن حل پر مبنی ہے، جیسا کہ ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 51 میں درج ہے۔ خودمختار مساوات، عدم مداخلت اور امن کے فروغ کے یہ اصول تاریخی طور پر ہندوستان کی سفارتی شناخت کا لازمی حصہ رہے ہیں۔ اس لیے موجودہ خاموشی محض حکمت عملی نہیں لگتی، بلکہ ہمارے اعلان کردہ اصولوں کے برعکس محسوس ہوتی ہے۔’

انہوں نے یاد دلایا کہ اپریل 2001 میں اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے تہران کے دورے کے دوران ہندوستان-ایران کے گہرے تاریخی اور تہذیبی روابط کی توثیق کی تھی، جو موجودہ حکومت کی پالیسی میں نظر نہیں آتی۔

گاندھی نے مزید کہا کہ اسرائیل کے ساتھ دفاع، زراعت اور ٹکنالوجی کے شعبوں میں تعلقات میں وسعت آئی ہے، لیکن چونکہ ہندوستان کےپاس  تہران اور تل ابیب دونوں سے تعلقات ہونے کی وجہ سےتحمل کی اپیل کرنے کی سفارتی گنجائش موجود ہے ۔ تاہم، یہ گنجائش ساکھ پر منحصر ہوتی ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ خلیجی ممالک میں تقریباً ایک کروڑ بھارتی  رہتےہیں اور کام کرتے ہیں، اور ماضی کے بحرانوں – خلیجی جنگ، یمن، عراق اور شام- میں ہندوستان کی آزادانہ شبیہ نے ہی اپنے شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے میں مدد دی تھی۔

گاندھی نے کہا کہ اگر آج ہندوستان خودمختاری کے اصول کے دفاع میں ہچکچاہٹ دکھاتا ہے تو مستقبل میں گلوبل ساؤتھ کے ممالک اس پر کیسے اعتماد کریں گے؟

گاندھی نے کہا،’اس اختلاف کو سلجھانے کا صحیح فورم پارلیامنٹ ہے۔ جب یہ دوبارہ اجلاس کرے، تو بین الاقوامی نظام کے ٹوٹنے پر اس تشویشناک خاموشی پر کھل کر اور ٹال مٹول کے بغیر بحث ہونی چاہیے۔’

انہوں نے زور دیا کہ کسی غیر ملکی سربراہ مملکت کی ہدفی ہلاکت، بین الاقوامی معیارات کا زوال اور مغربی ایشیا میں بڑھتے عدم استحکام ہندوستان کے اسٹریٹجک مفادات اور اخلاقی ذمہ داریوں سے براہ راست جڑے ہیں۔ گاندھی نے کہا، ‘واضح پالیسی کی تشریح اب دیر سے ہو رہی ہے۔ جمہوری احتساب اس کا تقاضہ کرتا ہے اور اسٹریٹجک وضاحت اس کی ضرورت ہے۔’

انہوں نے’وسودھیو کٹمبکم’ کے نظریے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ محض سفارتی نعرہ نہیں، بلکہ انصاف، تحمل اور مکالمے کے تئیں عزم کی علامت ہے۔

گاندھی نے کہا، ‘جب اصول پر مبنی بین الاقوامی نظام دباؤ میں ہو، تو خاموشی ذمہ داری سے فرار اختیار کرناہے۔ ہندوستان کو اپنی اخلاقی قوت کو دوبارہ تلاش کرکے اسے وضاحت اور عزم کے ساتھ ظاہر کرنا چاہیے۔’

واضح ہو کہ ہندوستان نے امریکہ-اسرائیل حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ‌ای کی ہلاکت پر اب تک کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے، البتہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) پر ایران کے میزائل حملوں کی مذمت کی ہے۔