امریکی حکومت کی جانب سے ہندوستان کو روسی تیل خریدنے کے لیے 30 دنوں کی چھوٹ دینے کے اعلان کے بعد اپوزیشن نے پوچھا کہ کیا نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان ایک خودمختار ملک ہے یا امریکہ پر ’منحصر ریاست‘ بن گیا ہے۔ اپوزیشن نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم مودی ٹرمپ کے سامنے جھک گئے ہیں اور ملکی مفادات کو امریکی مفادات کے سامنے رہن رکھ دیا ہے۔

فائل فوٹو:فروری 2020 میں احمد آباد میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ہمراہ وزیر اعظم نریندر مودی۔ (تصویر: وہائٹ ہاؤس/فلکر/پبلک ڈومین)
نئی دہلی: امریکی حکومت کی جانب سے یہ اعلان کیے جانے کے بعد کہ اس نے ہندوستان کو 30 دنوں کی مدت کے لیے روسی تیل خریدنے کی ’اجازت‘دی ہے، کانگریس سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں نے اس اعلان کی زبان پر سوال اٹھائے ہیں۔ اپوزیشن نے پوچھا ہے کہ کیا نریندر مودی کی سربراہی میں ہندوستان ایک خودمختار ملک ہے یا امریکہ پر’منحصر ریاست ‘بن گیا ہے۔
اپوزیشن نے یہ بھی الزام لگایا کہ وزیر اعظم مودی امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے سامنے جھک گئے ہیں اور ملکی مفادات کو امریکی مفادات کے سامنے رہن رکھ دیا ہے۔
ایک بیان میں امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ،
’عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی جاری رکھنے کے لیے ٹریژری ڈپارٹمنٹ ہندوستانی ریفائنریوں کو روسی تیل خریدنے کی اجازت دینے کے لیے 30 دنوں کی عارضی چھوٹ جاری کر رہا ہے۔‘
کانگریس نے اپنے بیان میں کہا،’نریندر مودی کی سربراہی والی ہندوستانی حکومت نے ملک کو ایسی پوزیشن میں پہنچا دیا ہے جہاں اب یہ امریکہ طے کر رہا ہے کہ ہندوستان تیل کہاں سے خرید سکتا ہے اور کہاں سے نہیں۔‘
کانگریس نے کہا،’ یہ فیصلہ وزیر اعظم مودی یا ہندوستانی حکومت نہیں لے رہی۔ آج ملک کے شہری پوچھ رہے ہیں کہ امریکہ کون ہوتا ہے ہندوستان کو تیل خریدنے کی ’اجازت‘ دینے والا؟ ہم کسی ملک کے غلام نہیں ہیں؛ ہم ایک خودمختار اور آزاد ملک ہیں۔ لیکن نریندر مودی امریکہ سے یہ سوال نہیں پوچھ سکتے، کیونکہ وہ پوری طرح سمجھوتہ کر چکے ہیں اور ملک کو امریکی مفادات کے سامنے رہن رکھ چکے ہیں۔‘
اس سے پہلے جمعرات کو اسکاٹ بیسنٹ نے سوشل میڈیا پر کہا تھا کہ یہ ایک ’قلیل مدتی تدبیر‘ہے۔
انہوں نے لکھا،’صدر ٹرمپ کی توانائی پالیسی کے باعث تیل اور گیس کی پیداوار اب تک کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی برقرار رکھنے کے لیے ٹریژری ڈپارٹمنٹ ہندوستانی ریفائنریوں کو روسی تیل خریدنے کی اجازت دینے کے لیے 30 دنوں کی عارضی چھوٹ دے رہا ہے۔ یہ جان بوجھ کر کیا گیا شارٹ-ٹرم قدم ہے اور اس سے روس کو کوئی بڑا معاشی فائدہ نہیں ہوگا، کیونکہ یہ صرف سمندر میں پہلے سے پھنسی ہوئی تیل کی کھیپ سے متعلق لین دین کو ہی منظوری دیتا ہے۔‘
لوک سبھا میں اپوزیشن کے رہنما راہل گاندھی نے کہا کہ ہندوستان کی خارجہ پالیسی اب ’ایک سمجھوتہ کر چکے شخص کے استحصال کا نتیجہ‘بن گئی ہے۔
انہوں نے کہا،’ ہندوستان کی خارجہ پالیسی ہمارے عوام کی اجتماعی خواہش سے نکلنی چاہیے۔ یہ ہماری تاریخ، ہماری جغرافیائی صورتحال اور سچائی و عدم تشدد پر مبنی ہماری روحانی روایت سے وابستہ ہونی چاہیے۔ لیکن آج جو ہم دیکھ رہے ہیں وہ کوئی پالیسی نہیں بلکہ ایک سمجھوتہ کر چکے شخص کے استحصال کا نتیجہ ہے۔ ‘
دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے مودی کے استعفے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ہندوستان کی قیادت پہلے کبھی اتنی کمزور نہیں رہی۔
انہوں نے کہا،’امریکہ کون ہوتا ہے ہندوستان کو روس سے تیل خریدنے کی اجازت دینے والا؟ ہندوستان کو امریکہ سے اجازت کی ضرورت کیوں ہے؟ پچھلے کچھ مہینوں میں ملک کے لوگوں نے بڑی تکلیف کے ساتھ دیکھا ہے کہ کس طرح آپ ہر قدم پر ٹرمپ کے سامنے جھک گئے اور آپ میں ان کے سامنے بولنے تک کی ہمت نہیں ہوئی۔ ‘
انہوں نے مزید کہا،’ مودی جی، آخر آپ کی ایسی کون سی مجبوری ہے جس کی وجہ سے آپ ٹرمپ کے سامنے جھک گئے ہیں؟‘
انہوں نے کہا،’ اگر واقعی کوئی ایسی مجبوری ہے جس کا ٹرمپ فائدہ اٹھا رہے ہیں، تو ہندوستان اور ہندوستانی مفادات کے لیے براہِ کرم استعفیٰ دے دیجیے۔ لیکن اس طرح ہندوستان کا سر مت جھکائیے۔ پورا ملک غمزدہ ہے۔‘
اپوزیشن رہنماؤں نے یہ بھی الزام لگایا کہ مودی حکومت نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے سامنے خود سپردگی کر دی ہے۔ انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ کیا اس معاملے کا تعلق مرکزی وزیر پیٹرولیم ہردیپ سنگھ پوری کے نام کے جیفری ایپسٹین سے متعلق ای-میل تبادلوں میں بار بار آنے سے ہے۔
سی پی آئی (ایم) کے جنرل سیکریٹری ایم اے بے بی نے کہا،’آخر کب سے ہندوستان کو اپنے فیصلے لینے کے لیے کسی دوسرے ملک کی اجازت کی ضرورت پڑنے لگی؟ یہ شرمناک ہے۔ آزاد ہندوستان کی تاریخ میں ہمیں عالمی سطح پر کبھی اس طرح ذلیل نہیں کیا گیا۔ ‘
انہوں نے کہا،’نریندر مودی کو فوراً قوم سے خطاب کر کے واضح کرنا چاہیے کہ کیا ہم اب بھی ایک خودمختار قوم ہیں یا امریکہ کی تابع ریاست بن چکے ہیں۔ کیا مرکزی وزیر پیٹرولیم ہردیپ پوری کے پاس اس پر کچھ کہنے کے لیے ہے، یا پھر ’ایپسٹین فائلز‘ کے انکشافات کی وجہ سے ان کی اور بی جے پی حکومت کی خاموشی خرید لی گئی ہے؟‘
تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے کہا کہ بی جے پی حکومت ہندوستان کی طویل عرصے سے چلی آ رہی اسٹریٹجک خودمختاری اور آزاد خارجہ پالیسی کی روایت پر پوری طرح سمجھوتہ کرتی نظر آ رہی ہے۔
انہوں نے کہا،’ہندوستان کو اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کسی دوسرے ملک کی اجازت کیوں لینی چاہیے؟ اتنا ہی تشویش ناک یہ بھی ہے کہ ہندوستان کی جانب سے وشاکھاپٹنم میں منعقد بین الاقوامی بحری مشق ’انٹرنیشنل فلیٹ ریویو 2026‘ میں شرکت کے فوراً بعد امریکہ نے غیر مسلح ایرانی جنگی جہاز آئرس ڈینا کو ڈبو دیا۔ جب کسی کثیر ملکی فوجی مشق کے تحت ہندوستان آنے والے جہاز کے ساتھ ایسا ہوتا ہے تو ہندوستان کو خاموش نہیں رہنا چاہیے یا غیر فعال نظر نہیں آنا چاہیے۔‘
ڈی ایم کے کے رکن پارلیامنٹ پی ولسن نے بھی الزام لگایا کہ مودی ٹرمپ کے سامنے اتنے جھک گئے ہیں کہ امریکہ کے وزیر خزانہ ہندوستام کو’اجازت‘ دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا،’یہ ہندوستان اور ہندوستانیوں کے لیے بے حد شرمناک ہے – وزیر اعظم مودی ٹرمپ کے سامنے اتنے جھک گئے ہیں کہ ان کا ٹریژری سکریٹری (جو وہاں کے وزیر مالیات کے برابر ہوتا ہے) ہندوستان کو روسی تیل خریدنے کی اجازت دے رہا ہے۔ یہ ٹرمپ کے سامنے پوری طرح سے سرینڈر کے مترادف ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کیوں۔‘
دریں اثنا،کیرالہ کے وزیر اعلیٰ پِنرائی وجین نے وزیر اعظم مودی کو ایک خط لکھ کر خلیجی ممالک میں رہنے والے ہندوستانی شہریوں کی مشکلات کی جانب توجہ مبذول کرائی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پروازوں کی کمی اور فضائی حدود بند ہونے کی وجہ سے ہندوستانی متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے مرکزی حکومت سے ہوائی کرایہ میں اضافے کو روکنے اور ہندوستانی شہروں کے لیے پروازوں کی تعداد بڑھانے کے لیے مداخلت کرنے کی اپیل کی ہے۔