اسمرتی ایرانی نے انتخابی حلف نامے میں قبول کیا کہ وہ گریجویٹ نہیں ہیں

یہ پہلی بار ہے جب اسمرتی ایرانی نے اپنے انتخابی حلف نامہ میں واضح کیا ہے کہ ان کا تین سال کا گریجویشن ڈگری کورس پورا نہیں ہوا تھا۔ کافی لمبے وقت سے ایرانی کی تعلیمی اہلیت کو لےکر تنازعہ ہے۔

یہ پہلی بار ہے جب اسمرتی ایرانی نے اپنے انتخابی حلف نامہ میں واضح کیا ہے کہ ان کا تین سال کا گریجویشن  ڈگری کورس پورا نہیں ہوا تھا۔ کافی لمبے وقت سے ایرانی کی  تعلیمی اہلیت کو لےکر تنازعہ  ہے۔

مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی(فائل فوٹو : پی ٹی آئی)

مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی(فائل فوٹو : پی ٹی آئی)

نئی دہلی: مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی نے گزشتہ  جمعرات کو انتخابی حلف نامہ دائر کر کہا کہ وہ گریجویٹ نہیں ہیں۔ ایرانی کانگریس صدر راہل گاندھی کے خلاف اتر پردیش کے امیٹھی سے بی جے پی امیدوار کے طور پر انتخاب لڑ رہی ہیں۔یہ پہلی بار ہے جب اسمرتی ایرانی نے اپنے انتخابی حلف نامہ میں واضح کیا ہے کہ ان کا تین سال کا ڈگری کورس پورا نہیں ہوا تھا۔ کافی لمبے وقت سے ایرانی تعلیمی اہلیت کو لےکر تنازعہ میں ہیں۔

ہائر ایجوکیشن کے زمرہ میں، اسمرتی ایرانی نے لکھا کہ انہوں نے سال 1994 میں دہلی یونیورسٹی کے اسکول آف اوپن لرننگ (فاصلاتی ذرائع تعلیم ) میں بیچلر آف کامرس پارٹ-1 میں داخلہ لیا تھا لیکن تین سال کا یہ ڈگری کورس پورا نہیں ہوا تھا۔

اسمرتی ایرانی کی تعلیمی اہلیت

اسمرتی ایرانی کی تعلیمی اہلیت

این ڈی ٹی وی کے مطابق،  2004 میں جب انہوں نے دہلی کے چاندنی چوک میں کانگریسی رہنما کپل سبل کے خلاف انتخاب لڑا تھا، تو ان کے حلف نامہ میں یہ لکھا تھا کہ انہوں نے 1996 میں دہلی یونیورسٹی کے School Of Correspondenceسے بی ایس کی ڈگری لی ہے۔اس کے علاوہ، اسمرتی ایرانی نے اپنے حلف نامے میں یہ بھی بتایا کہ ان کے پاس کل 4.71 کروڑ کی جائیداد ہے۔

کانگریس اور دیگر حزب مخالف جماعت یہ الزام لگاتے رہے ہیں کہ اسمرتی ایرانی اپنے انتخابی حلف نامے میں تعلیمی اہلیت کی غلط جانکاری دیتی رہی ہیں۔احمد خان نام کے ایک شخص نے اس کو لےکر ایک عرضی دائر کی تھی۔ حالانکہ دہلی کی ایک کورٹ نے  یہ کہہ‌کر اس عرضی کو خارج کر دیا تھا کہ یہ ان کو پریشان کرنے کی کوشش ہے۔عرضی گزار نے اس فیصلے کو دہلی ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا۔