
جے ڈی یو سپریمو اور بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو لکھے خط میں پارٹی کے سینئر لیڈر محمد قاسم انصاری نے گہری مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وقف بل پر پارٹی کے موقف نے لاکھوں مسلمانوں کے بھروسے کو توڑا ہے، جن کا ماننا تھا کہ پارٹی سیکولر اقدار پر قائم رہے گی۔ اس بل پر پارٹی لیڈر محمد اشرف انصاری نے بھی استعفیٰ دے دیا ہے۔
نئی دہلی: جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) کے دو سینئر لیڈر محمد قاسم انصاری اور محمد اشرف انصاری نے جمعرات کو پارٹی اور پارٹی میں اپنے تمام عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
ان کا یہ استعفیٰ وقف ترمیمی بل پر اپارٹی کی حمایت کے بعد آیا ہے۔ انہوں نے اس بل کی حمایت کرنے پر اپنی پارٹی کو تنقید کا بھی نشانہ بنایا۔ بتادیں کہ بڑے پیمانے پر مخالفت کے باوجود یہ بل پارلیامنٹ کے دونوں ایوانوں میں پاس ہو چکا ہے۔
انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، جے ڈی (یو) کے سپریمو اور بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو لکھے خط میں انصاری نے گہری مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے موقف نے لاکھوں ہندوستانی مسلمانوں کے بھروسے کو توڑا ہے جن کا خیال تھا کہ پارٹی سیکولر اقدار پر قائم رہے گی ۔
انصاری مشرقی چمپارن ضلع میں پارٹی کے میڈیکل سیل کے ترجمان ہیں۔ نتیش کمار کو لکھے گئے اپنے خط میں انہوں نے کہا، ‘ہم جیسے لاکھوں ہندوستانی مسلمانوں کو یہ یقین تھا کہ آپ خالصتاً سیکولر نظریے کے علمبردار ہیں۔ لیکن اب یہ یقین ٹوٹ گیا ہے۔ وقف بل ترمیمی ایکٹ 2024 پر جے ڈی یو کے موقف نے لاکھوں ہندوستانی مسلمانوں اور ہم جیسے کارکنوں کو گہرا صدمہ پہنچایا ہے۔’
انہوں نے مزید کہا، ‘جس تیوراور انداز میں شری للن سنگھ نے لوک سبھا میں اپنا بیان دیا اور اس بل کی حمایت کی اس سے ہمیں بہت تکلیف ہوئی ہے۔ وقف بل ہم ہندوستانی مسلمانوں کے خلاف ہے۔ ہم اسے کسی بھی صورت میں قبول نہیں کر سکتے۔ یہ بل آئین کے کئی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے۔’
انہوں نے یہ بھی کہا، ‘اس بل کے ذریعے ہندوستانی مسلمانوں کی تذلیل اور توہین کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ یہ بل پسماندہ مخالف بھی ہے۔ جس کا نہ آپ کو احساس ہے اور نہ آپ کی پارٹی کو۔ مجھے اپنی زندگی کے کئی سال پارٹی کو دینے کا افسوس ہے۔’
استعفیٰ دینے والے دوسرے لیڈر محمد اشرف انصاری جے ڈی (یو) اقلیتی ونگ کے سربراہ ہیں۔ اپنے استعفیٰ میں انہوں نے کہا کہ لاکھوں ہندوستانی مسلمانوں کو پختہ یقین تھا کہ نتیش کمار مکمل طور پر سیکولر نظریے کے علمبردار ہیں لیکن اب یہ یقین ٹوٹ چکا ہے۔
انہوں نے اپنے خط میں یہ بھی لکھا کہ جے ڈی (یو) کے اس رویہ سے لاکھوں ہندوستانی مسلمان اور ہم جیسے کارکنان کو شدید دکھ پہنچا ہے۔
معلوم ہو کہ لوک سبھا میں پاس ہونے کے بعد یہ بل جمعہ (4 اپریل) کو راجیہ سبھا میں بھی پاس ہو گیا ہے ۔ راجیہ سبھا میں اس بل کی حمایت میں 128 اور مخالفت میں 95 ووٹ پڑے۔ یہ بل اب منظوری کے لیے صدرجمہوریہ کے پاس بھیجا جائے گا۔